Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 18)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
مصطفی کی بات پہ ایک پل کو نازنین کا چہرہ زرد پڑا۔
” مجھے نہی پتہ تم کیا فضول بکواس کر رہے ہو۔” اسنے ہمت کرکے مضبوط لہجہ میں کہا۔
” اچھا۔۔۔۔” مصطفی نے اچھا کو طویل کھینچا۔
” اس شخص کو کیسے بھول سکتی ہو تم۔ نازنین۔۔ جو آدھی رات کو تمہارے کمرے کی کھڑکی سے کود کر۔تمہارے کمرے میں آتا ہے۔” مصطفی کا لہجہ پور پور زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔
” ت۔۔ تمہیں۔۔۔ کیسے پتہ۔۔ عیسی کے بارے میں۔۔۔؟” اسکے حلق سے گھٹی ہوئ سی آواز بر آمد ہوئ۔
” ہنہ۔۔۔ بےوقوف تو نہی ہوں میں۔ روز رات کو کوئ میرے کمرے کی بالکنی میں کود کر تمہاری کھڑکی سے۔ تم۔سے ملاقاتیں کرنے آئے اور مجھے خبر نا ہو۔” وہ چلتا ہوا اب کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا تھا۔
” مصطفی۔۔۔ پلیز۔۔ دیکھو یہ سب بھائ کو مت بتانا۔” نازنین نے منت کی۔
” اگر میں نا بتاؤں ۔۔۔ تو اس میں میرا کیا فائدہ۔؟” مصطفی سرد لہجہ میں مستفسر ہوا۔
نازنین نے پریشانی سے اپنے ماتھے کو چھوا تھا۔
” تم۔۔ جو کہو گے میں وہ کروں گی۔” اسنے بے چینی سے کہا۔
” ٹھیک ہے۔۔۔ پھر گھر واپس آجاؤ۔” اسکا سرد بے گانگی سے بھرا لہجہ۔ نازنین کے رونگٹے کھڑے کر گیا تھا۔
” ۔۔ میں۔۔۔ واپس۔۔۔ نہی آسکتی۔” اسنے اٹک اٹک کر کہا۔
” ٹھیک ہے۔ پھر میں۔ سر کو جا کر بتا دیتا ہوں۔ کہ۔۔۔تم۔۔” اسکے الفاظ نازنین کے اوسان خطا کر گئے تھے۔
” نہیں۔۔۔ پلیز ایسا مت کرنا ۔۔۔ بھائ مجھ پہ بہت بھروسہ کرتے ہیں۔ انکا اعتبار ٹوٹ جائے گا۔” اسکی بے چین سی آواز جب مصطفی کی سماعتوں سے ٹکرائ تو مصطفی کے لبوں پہ ایک زخمی سی مسکراہٹ کوندی تھی۔
” بھروسہ تو وہ مجھ پہ بھی بہت کرتے تھے۔ پر تم۔۔۔ نے سب کچھ برباد کر دیا۔” اسکی سرسراتی آواز نازنین کی جان ہوا کر گئ تھی۔
” میں۔۔۔ آجاؤں گی پر۔۔۔ تمہیں ایک۔۔ معاہدہ کرنا پڑے گا۔” اسنے کچھ سوچ کر ہامی بھری۔
” کیسا معاہدہ۔؟” مصطفی دیوار پہ ایک ہاتھ دھرتا۔ کھڑکی کی جانب جھکا تھا۔
” تم مجھ سے دور رہو گے۔ مجھے نا مینٹلی نا ۔۔۔ نا ہی فزکلی تکلیف دوگے۔” اسکے لہجہ سے واضح خوف ٹپک رہا تھا۔
مصطفی کے چہرہ پہ ایک پل میں پہاڑوں سی سختی آئ تھی۔
” جب وہ عیسی فزکلی ہرٹ کرتا ہے۔۔ تب کوئ مسئلہ نہی ہوتا۔؟” وہ اسکی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ گیا تھا۔ اسی لیئے زہر خند لہجہ میں کہتا۔ اسے چلانے پہ مجبور کر گیا تھا۔
” زبان سنمبھال کر بات کرو مصطفی۔۔” وہ تڑپی تھی۔
” زبان سنمبھال کر ہی بات کر رہا ہوں۔ خیر مجھے تمہارا معاہدہ منظور ہے۔ گھر آجاؤ واپس۔” وہ سرد لہجہ میں کہتا کال کاٹ چکا تھا۔ اور نازنین غصہ سے پاگل ہوتی اپنا موبائل بیڈ پہ اچھال گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
شعلہ چینج کرکے جیسے ہی ڈریسنگ روم سے بر آمد ہوئ۔ عالم نے لپک کر اسے کلائ سے تھاما تھا۔ اور اسے کھینچتا ہوا بیڈ تک لایا تھا۔ اسے بیڈ پہ بٹھا کر خود اسکے قدموں میں بیٹھا تھا۔ شعلہ نے اسے اپنے قدموں میں بیٹھے دیکھا تو حیرت زدہ سی رہ گئ تھی۔
” پلیز مجھے بتاؤ تمہیں گولی کیسے لگی۔۔۔؟” بہت نرمی سے پوچھا گیا۔
” بتا تو دیا ہے۔” وہ جز بز ہوئ۔
” تم باز کیوں نہی آجاتی اپنی حرکتوں سے۔ جو تم چاہتی تھی۔ وہ سب تو تمہیں مل گیا ناں۔ نام شہرت دولت سب۔۔۔ اب یہ سب چھوڑ دو۔” وہ اسکے ہاتھ تھامتا منت کر رہا تھا۔
” مجھے اپنی زندگی سے کیا چاہیئے۔ مجھے خود نہی خبر۔ پر جو مجھے ابھی ملا ہے۔ کم از کم یہ تو میری منزل نہی۔ آپ میری منزل نہیں۔” اسنے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے نکالے تھے۔ عالم نے حیرت سے اسے تکا تھا۔
” جانتا ہوں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی منزل نہی ہیں۔ پر میں چاہتا ہوں تم جو کچھ کرتی ہو یہ سب چھوڑ دو۔ پلیز۔۔ اس سے میری ساکھ خراب ہوگی۔” وہ اسکے قدموں سے اٹھے تھے۔ شعلہ اسے سنجیدگی سے دیکھے جا رہی تھی۔
” آپ بے فکر رہیں میرے کسی عمل سے آپکی ساکھ پہ کوئ اثر نہی پڑے گا۔” اسکا لہجہ سرد تھا۔
” تم۔۔ سمجھ کیوں نہی رہی بات صرف میری ساکھ کی بھی نہی ہے۔” میر عالم نجانے اسے کیا سمجھانا چاہ رہے تھے۔
” میں سب سمجھ رہی ہوں۔” وہ بیڈ سے اٹھی تھی۔ میر عالم نے اسے بازو سے تھام کر بیڈ پہ بٹھایا تھا۔ اسکے سیاہ آستین پہ دھیرے سے ہاتھ پھیرا تو وہاں خون رس رہا تھا۔ میر عالم لب بھینچ کر رہ گئے۔ اسے چھوڑ کر وہ ڈریسنگ روم میں سے فرسٹ ایڈ باکس لائے تھے۔ فرسٹ ایڈ باکس کھول کر سب سے پہلے اس میں سے کھینچی نکالی۔
” یہ کیا کر رہے ہو۔؟” وہ اسکے ہاتھ میں کینچی دیکھ نا سمجھی سے مستفسر ہوئ۔
” خاموش نہی رہ سکتی تھوڑی دیر۔” انہوں نے اسے گھورا۔ اور کینچی اسکے کندھے کے پاس لے جاتے اسکے آستین کاٹ دیئے۔ وہ منہ کھول کر حیرت و صدمہ سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” میری کمیز پھاڑ دی تم نے۔۔؟؟” وہ صدمہ کی کیفیت میں چلائ تھی۔
میر عالم نے جارہانہ نگاہیں اٹھا کر اسے تکا۔
” آستین۔۔۔ پھاڑا ہے۔ نا کہ کمیز۔۔” انہوں نے اسے کمیز اور آستین کے درمیان فرق بخوبی باور کرایا۔
” واٹ ایور۔۔۔” وہ ناک بھوں چڑھا کر گویا ہوئ۔
میر عالم بغور اسکے زخم کا معائنہ کرنے لگے۔ کاٹن نکال کر اسکے زخم پہ سے خون صاف کیا۔ خون صاف ہوتے ہی اسکے زخم کی گہرائی واضح ہوئ تھی۔ عالم نے اسے اوپر دیکھ کر اسکے گال سہلائے۔
” ڈونٹ۔۔۔ وری۔۔۔ ٹھیک ہوجائے گا یہ۔” میر عالم کے محبت سے مزین لفظ شعلہ کے جلتے دل پہ کسی ٹھنڈی پھوار کی مانند پڑے تھے۔
وہ اسے یک ٹک تکے جا رہی تھی۔ وہ اسکے زخم پہ دوا لگاتے پھونک مار رہے تھے۔
” درد ہو رہا ہوگا ناں۔۔!!” اسکا لہجہ فکر مندی سے مزین تھا۔
” نہی مجھے درد نہی ہوتا۔” وہ لاپرواہی سے گویا ہوئ۔
” ہاں تم۔تو سپر وومن ہو ناں۔۔۔!!” میر عالم نے اسے گھورا۔
” سپر وومن نہی ہوں۔ تو اس سے کم بھی نہی۔۔۔” وہ خفا ہوئ۔
میر عالم نے بینڈیج لپیٹتے سر نفی میں ہلایا۔ اور افسوس بھری ایک نگاہ اسکے چہرے پہ ڈالی۔
بینڈیج باندھ کر میر عالم نے فرسٹ ایڈ باکس سے درد کی گولیاں نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمائیں۔ اور گلاس میں پانی بھر کر اسے دیتا اسکے برابر میں آکر بیٹھا تھا۔ شعلہ نے گولیاں نگل کر اسے تکا۔ میر عالم نے اس سے گلاس لے کر سائڈ پہ رکھا۔ بےساختگی کے عالم میں میر عالم اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا لمس چھوڑ کر پیچھے ہوئے تھے۔
شعلہ نے دھڑکنے دل کے ساتھ انکو دیکھا۔
” کھانا کھایا۔۔۔ ہے تم نے۔؟” وہ اسکی پشت پہ تکیہ رکھتا۔ اسے لٹاتے ہوئے مستفسر ہوا۔
” ہاں۔۔” وہ اسے بے خودی کے عالم میں یک ٹک تکتی دھیرے سے گویا ہوئ۔
” اوکے ۔۔۔ ریسٹ کرو۔” وہ گہری سانس لیکر اسے آرام کرنے کی ہدایت دیتے دوسری جانب آکر لیٹے تھے۔ پر تکیوں کی باڑ لگانا وہ آج بھی نہی بھولے تھے۔ وہ اب بھی میر عالم کو ویسے ہی مسلسل تکے جا رہی تھی۔
☆☆☆☆☆
سورج کی روشنی چھن کر آتی۔ ان دونوں کے چہرے پہ پڑ رہی تھی۔ ساوری نے سورج کی کرنوں سے خود کو چھپانے کے لیئے۔ حیدر کی آغوش میں پناہ لی۔ حیدر کا حصار جو ساوری کے گرد مضبوطی سے بندھا تھا۔ وہ مزید سخت ہوا تھا۔ حیدر کی آنکھ کھلی تو وہ کئ لمحے ویسے ہی پڑا رہا۔ دھیرے دھیرے حواس کام کرنے لگے۔ تو رات کا ایک ایک منظر اسکی آنکھوں کے پردے پہ دوڑ گیا۔ حیدر نے ساوری کو ایک نظر تکا۔ جو اسکی آغوش میں چھپی دنیا وما فیہا سے بیگانی پڑی تھی۔ حیدر نے دیوار پہ نصب گھڑی میں وقت دیکھا۔ تو صبح کے نو بج رہے تھے۔ حیدر نے ساوری کا بازو ہلایا۔
” ساوری اٹھو ہم آفس کے لیئے بہت لیٹ ہوچکے ہیں۔” حیدر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔ اور کمبل کو اپنے ارد گرد لپیٹا۔ حیدر بیڈ سے اٹھتا اسکی حرکت نظر انداز کرگیا تھا۔ ساوری نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر نگاہیں چرا گئ۔ وہ شرٹ لیس تھا۔ ساوری نے اسے دیکھنے سے احتراظ برتا۔
” جلدی اٹھ جاؤ کافی لیٹ ہوچکے ہیں ہم۔” وہ اسکے کپڑے اسکے قریب رکھتا اٹھ کر واشروم میں بند ہوگیا تھا۔ وہ گہری سانس لیتی اپنے کپڑے جھپٹتی چینج کرکے اپنے کمرے کیطرف بھاگی تھی۔ دونوں نہائے دھوئے تیار ہوکر باہر آئے تو۔ ساوری سر پہ حجاب باندھے۔ رائیل بلو کلر کا سوٹ پہنے تیار کھڑی تھی۔ لاؤنج کے ٹیبل پہ ایک کپ کافی رکھی تھی۔ اور بڑی خوبصورتی اور نفاست سے کٹے ابلے ہوئے انڈے رکھے تھے۔ حیدر نے ورسٹ واچ میں ٹائم دیکھا اور کافی پینے لگا۔ ساوری اپنا بیگ لیکر نکلنے لگی تھی۔ جب حیدر کی بات پہ وہ رکی تھی۔
” اکیلے نہی جاؤ گی جیسے کل آئے تھے۔ آج ویسے ہی آفس جائیں گے۔”
وہ تھوک نگل کر سر ہلاتی صوفہ پہ بیٹھی تھی۔ حیدر کافی پیتے یا ابلے ہوئے انڈے کھاتے اسے ایک نظر دیکھ لیتا۔ پر وہ اسے نا دیکھنے کی قسم کھائے۔ کبھی اپنے ہاتھوں کو تکتی۔ تو کبھی دامن پہ بنے بیل بوٹوں کو۔ اور کبھی اپنے پرس پہ لگی کی چین سے کھیلنے لگتی۔
” آج کا شیڈول بتا دو ابھی سے۔ ویسے ہی کافی لیٹ ہوچکے ہیں۔” حیدر نے کافی کا گھونٹ بھرتے کہا۔ شاید وہ اس بے تکی خاموشی کو ختم کرنا چاہتا تھا۔
” ۔۔ وہ۔۔۔ میں نے تو۔۔۔ بنایا ہی نہی۔” وہ اڑی رنگت لیئے گویا ہوئ۔
” کیوں۔۔۔؟” حیدر کے ماتھے پہ بل آئے تھے۔
” ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ رات۔۔۔ میں۔۔ بناتی۔۔ ہوں۔۔۔ تو وقت ۔۔ نہی ملا۔” یہ بات کہتے ہوئے ساوری کو باقائدہ اپنا دل کانوں میں ڈھول کی مانند بجتا محسوس ہوا۔
” واٹ نانسینس۔۔۔ ایسا کیا کر لیا تم نے ساری رات جو تمہیں شیڈول بنانے کا ٹائم نہی ملا۔۔” وہ مصنوئ طور پہ بھڑکا تھا۔
” میں۔۔۔۔۔” وہ آنکھوں میں آنسو لیئے جز بز ہوئ۔
” کیا۔۔ میں۔۔۔ چلو اٹھو گاڑی میں بتاؤ۔۔ مجھے دیر ہورہی ہے۔” وہ اسے اٹھنے کا اشارہ کرتا سرد لہجہ میں گویا ہوا۔
ساوری کسی روبوٹ کی مانند جھٹ اٹھی۔ اور دروازے کی جانب مڑی تھی۔ جب حیدر نفی میں سر ہلاتا۔ اسکے پیچھے ہو لیا تھا۔ ساوری اور حیدر لفٹ کا بٹن دبا کر اندر گئے تھے۔ ساوری حیدر سے ذرا فاصلے پہ کھڑی ہوئ۔ حیدر نے اسے دیکھا۔ ساوری کی نگاہیں جھکی ہوئ تھیں۔ چہرہ پہ ہلکا ہلکا گلال چھلک رہا تھا۔ اپنے گلابی لب وہ بے دردی سے کچل رہی تھی۔ حیدر کو اسکے اس عمل سے الجھن ہوئ۔ وہ ناگواری سے سے رخ موڑ کر رہ گیا۔ پر جب دوبارہ نگاہیں اسکی سمت بھٹکی تو وہ تب بھی اپنے عمل سے باز نہیں آئ تھی۔ حیدر نے اسے کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا تھا۔ ساوری اسکی پیش رفت پہ بوکھلائ تھی۔ حیدر نے اسکے شاداب مکھڑے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا۔ اور اسکی لرزتی پلکوں سے بھٹکتا اسکے گلابی بھیگے لبوں پہ آکر رکا تھا۔ دھیرے سے اسکے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوتا وہ اسکے چہرے کو مزید سرخ کر گیا تھا۔ حیدر نے اسکے لبوں پہ ہلکا سا لمس چھوڑ کر اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تو وہ بے جان سی ہوتی پیچھے سہارا ڈھونڈنے لگی تھی۔ حیدر نے آگے بڑھ کر اسکے کندھوں کے گرد بازو لپیٹے تھے۔
ساوری کا پورا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا تھا۔ وہ بے حال سی ہوتی اسکی گرفت میں کھڑی رہی۔ اگر اس وقت وہ اسکا حصار توڑ کر دور ہونے کی کوشش کرتی تو سیدھا زمین بوس ہوتی۔
☆☆☆☆☆
