Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 31)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
ساوری کا نواں مہینہ شروع ہوچکا تھا۔ اسکی حالت اکثر بہت خراب رہنے لگی تھی۔ آج بھی حیدر اسکی حالت دیکھ کر آفس کے لیئے نکلنے کو تاخیر کرنے لگا۔ میڈ آئ تو وہ میڈ کو ضروری ہدایات دیتا آفس کے لیئے نکل گیا۔ ابھی اسے آفس آئے دو گھنٹے بہ مشکل ہوئے تھے۔ کہ میڈ کا فون آیا۔
” ہیلو ۔۔۔ جی کہیئے۔۔” حیدر نے موبائل کان سے لگایا۔ اور ساتھ ساتھ سامنے رکھے ڈوکومینٹس پہ بھی ایک نظر ڈالی۔
” سر۔۔۔ آپ پلیز۔۔۔ جلدی گھر آجائیں ، میم کی بلکل طبیعت ٹھیک نہی ہے۔” میڈ کی بوکھلائ آواز سنتا وہ فورا کال کاٹ کر اٹھا تھا۔ اور آدھے گھنٹے کا راستہ اسنے کوئ دس منٹ میں طے کیا تھا۔ جب وہ اوپر اپنے فلیٹ میں پہنچا۔ تو ساوری درد سے تڑپتی سسک رہی تھی۔ حیدر نے میڈ کو گھر پہ رہنے کو کہا۔ اور ساوری کو لیکر جلدی سے ہاسپٹل کے لیئے نکلا۔ ایمرجنسی میں اسے گائنی وارڈ لے جایا گیا۔ حیدر جلے پیر کی بلی کی مانند یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔ اسنے اپنی امی کو کال کرکے بتایا کہ وہ یہاں آجائیں۔ پر انہوں نے یہاں آنے سے انکار کردیا۔ اور جس ہاسپٹل میں وہ پیسے دے چکے تھے۔ وہاں در فشاں کو اسکی امی اور خالہ لے گئے۔ انکی اس حرکت پہ حیدر کا دل جل کر رہ گیا تھا۔ اسکا دل بند ہونے کو تھا۔ اور ان لوگوں کو بس اپنے مطلب کی پڑی تھی۔ دو گھنٹے ہوچکے تھے۔ پر کوئ خبر نہی ملی تھی۔ وہ سر تھامے بے چین سا بیٹھا تھا۔ جب اسکا فون بجا۔ اسنے اپنی ماں کا نام دیکھ کر کال اٹھائ۔
” کیا ہوا۔ بچہ نہی لیکر آئے تم ابھی تک۔۔۔؟؟” اسکی امی نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
” امی ساوری کی طبیعت بلکل ٹھیک نہی ، وہ بہت کریٹیکل کنڈیشن میں ہے۔” حیدر نے ہارے ہوئے انداز میں کہا۔
” اوہ ۔۔۔ اچھا۔ چلو جیسے ہی بچہ ہوجائے اسے لیکر آجانا۔۔۔” اسکی ماں نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی ، اور وہ بے یقین سا اپنے موبائل کی روشن اسکرین کو دیکھتا رہ گیا۔ کتنا آسان تھا۔ ان سب کے لیئے یہ سب ، مشکل میں تو بس دو ہی لوگ تھے۔ حیدر اور ساوری۔۔۔!!
کافی انتظار کے بعد رات آٹھ بجے کے قریب اللہ تعالی نے ساوری کو ایک بیٹی سے نوازا۔ اور اللہ کے کرم سے وہ آپریشن سے بھی بچ گئ۔ حیدر کی آنکھوں سے چند موتی شکر کے لڑکھے تھے۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر اسکی بیٹی کو لیکر آئ۔ اور اسکی۔گود میں دے دیا۔ وہ کئ لمحے تک اس پھول جیسی گلابی گڑیا کو تکتا رہا۔ وہ بلکل اپنی ماں جیسی تھی۔ حیدر سسکا تھا۔ اور پھر کچھ دیر بعد اسکی ماں کی کال آئ۔ اسنے انہیں سمجھانا چاہا۔ کہ ایک بار ساوری کو ہوش آجائے اور وہ اپنی بیٹی کو دیکھ لے پھر بھلے لے جائیں۔ پر انہوں نے اسکی ایک نا سنی۔ اور ناچار حیدر کو بچی کو انکے پاس پہنچانا پڑا۔ پوری رات ساوری دواؤں کے زیر اثر سوئ رہی۔ اور صبح اٹھتے ہی اسکا پہلا سوال اسکے بچے کے بارے میں تھا۔
” میرا۔۔۔ بچہ۔۔ کہاں ہے۔۔؟” اسنے نقاہت سے آٹھ کر پوچھا۔
” اسے جہاں ہونا چاہیئے تھا وہاں۔۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔
” کہاں ہے۔۔۔؟؟” اسکی آنکھوں سے واضح خوف جھلک رہا تھا۔
” در فشاں کے پاس۔۔۔” حیدر نے سرد لہجہ میں کہا۔
” آپ نے اسے در فشاں کو دے دیا۔ میں نے اسے ایک بار بھی۔۔۔ نہی دیکھا۔۔۔” وہ سسکی تھی۔
” ساوری۔۔۔ یہ سب تو ہونا تھا ناں۔۔۔!!” حیدر نے کرختگی سے کہا۔ اس وقت اگر وہ نرم پڑ بھی جاتا تو کیا کرتا آخر ، کچھ نہی کرسکتا تھا اسکے لیئے وہ۔
” مجھے میرا بچہ واپس چاہیئے۔” وہ تقریباً چلائ تھی۔
” میری بات سنو۔۔۔ دیکھو تمہارے لیئے اس وقت ایسے چیخنا چلانا درست نہیں۔” حیدر اسے کندھوں سے تھامتا دلاسہ دینے کی اپنی سی ایک کوشش کر رہا تھا۔
” میں نے سوچا تھا میں کر لوں گی یہ۔۔۔۔ پر بہت مشکل ہے میں نہیں کرپاؤں گی۔” وہ سسک رہی تھی۔
” پر تمہیں یہ کرنا ہوگا ۔۔۔۔ کانٹریکٹ میں جو تھا وہی ہے ایسی کوئ انہونی نہیں ہوئ۔” وہ رساں سے گویا ہوا۔
” اوہ ۔۔۔ میں ۔۔۔ ت۔۔۔تو بھول گئ تھی۔ ٹھیک ہے آپکا کنٹریکٹ پورا ہوگیا۔ اب مجھے آزادی دے دیں۔” اسنے چہرہ جھکا کر کہا۔
” نہیں ابھی کنٹریکٹ پورا نہیں ہوا۔ کنٹریکٹ کے مطابق بیٹا ہونے کے بعد تمہیں آزادی ملنی ہے اور کل رات تمہارے ہاں بیٹی پیدا ہوئ ہے۔۔۔۔” وہ کہتا خاموشی سے کمرے سے نکل گیا تھا۔
ساوری کی آنکھوں سے آنسو لڑھکنے لگے تھے۔ اسکا صدمہ سے برا حال تھا۔ قسمت نے بھی اسکے ساتھ کیسی گیم کھیلی تھی۔ حیدر باہر نکل کر اپنا سر تھام گیا تھا۔ بہت مشکل تھا اسکے لیئے ساوری کو اس حال میں دیکھنا۔ پر وہ کچھ بھی تو نہی کرسکتا تھا اسکے لیئے۔ وہ بے بسی کی انتہا پہ تھا۔
☆☆☆☆☆
شعلہ کے بھی بس آخر کے دن تھے۔ وہ اپنا بھاری وجود لیئے بستر پہ پڑی تھی۔ اسکا جسم مکمل طور پر سوج چکا تھا۔ میر عالم اب بلکل ٹھیک ہوچکا تھا۔ اسنے اور مصطفی نے ساتھ کام کرکے اپنی فروزن فوڈز کی کمپنی کو نمبر ون پہ لا کھڑا کیا تھا۔ پر میر عالم کی نفرت شعلہ کے لیئے اسی طرح تھی۔ اسمیں کمی تو نہی مگر زیادتی ضرور ہوگئ تھی۔ شعلہ بھی خود کو اس سے غافل کر گئ تھی۔
شعلہ دھیرے دھیرے نیچے آرہی تھی۔ جب مصطفی اور نازنین کے کمرے سے جھگڑنے کی اور سامان ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھی۔ اب تو یہ روز کا ہی معمول بن گیا تھا۔ وہ صوفہ پہ بیٹھے پریشان سے عالم کو دیکھ مسکرائ تھی۔ وہ یہی تو چاہتی تھی۔ کہ عالم کو سکون نا آئے۔ اب نازنین میں تو اسکی جان بستی تھی۔ مصطفی کو لگا تھا۔ کہ شعلا کو نہی پتہ عالم کے ہوش میں آنے کا ، پر اسے سب پتہ تھا۔ ہر بات کی خبر تھی۔ اسی لیئے یہاں آنے سے پہلے وہ اسکی بے سکونی کا مکمل انتظام کر چکی تھی۔
” تنگ آگیا ہوں ، میں تم سے ۔۔۔” مصطفی کے چیخنے کی آواز باہر تک آئ تھی۔ عالم پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔ بے چینی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔
” تنگ تو میں آچکی ہوں ، تم جیسے جنگلی انسان کے ساتھ رہنا میرے لیئے اب عذاب بن کر رہ گیا ہے۔۔۔” نازنین بھی حلق کے بل چلائ تھی۔
شعلہ مسکراتی ہوئ باہر گارڈن میں چلی گئ تھی۔ اور عالم اپنے کیئے فیصلے پہ آج ہزارویں دفعہ پشتایا تھا۔
” تم نے مجھے جنگلی کہا۔۔۔ سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔” کمرے میں مصطفی نے نازنین کو کمر سے تھام کر اپنے قریب کیا۔ اور چلایا۔
” میں خود کو جو بھی سمجھوں تم ہو کیا۔ ایک غلام سے زیادہ تمہاری کوئ حیثیت نہی۔۔۔” نازنین چلا کر کہتی اسکی گردن کے گرد اپنے بازو باندھ گئ تھی۔
مصطفی اسکی کمر پہ اپنے ہاتھ سرکاتا ایک آئبرو آچکا کر مسکرایا تھا۔ اور پھر حلق کے بل چلایا۔
” تم بھی کہیں کی ملکہ نہی لگی۔ ارے شکل دیکھو اپنی ، اور بات دیکھو۔۔۔” وہ چلاتے ہی اسکے گالوں پہ بوسہ دینے لگا۔
” تم میری شکل تک کو بیچ میں لے آئے۔۔۔” وہ چلائ۔
” اب میرے منہ نا لگنا ، میں جا رہا ہوں نہانے ، دماغ تھوڑا ٹھنڈا کر لوں۔۔۔ نہی تو تم نفسیاتی عورت نے میری جان عذاب کر دی ہے۔۔۔” وہ چلایا تھا۔ اور نازنین کو ساتھ لیئے واشروم کا دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند کر گیا تھا۔ نازنین اسکی چیخنے کی ادا کاری پہ دلکشی سے مسکرائ تھی۔
” واہ ۔۔ پہلے سے کافی بہتر چلانے لگے ہو۔۔۔” وہ شرارت سے گویا ہوئ۔
” کبھی تم نے یہ نہی کہا کہ پہلے زیادہ اچھا رومینس کرنے لگے ہو۔ بس ہمیشہ ایسی فالتو چیزوں پہ ہی کمپلیمنٹ کرنا۔ مصطفی اسے اپنے ساتھ جھٹکے سے شاور کے نیچے لایا تھا۔ اور شاور آن کر دیا تھا۔ نازنین نے بوکھلا کر اس سے دور ہونا چاہا۔
” یہ کیا کر رہے ہو۔ پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ کیا۔۔۔” وہ اسکے حصار میں مچلی تھی۔ وہ مزید اسے خود سے قریب کر گیا تھا۔
” پاگل ہی تو ہوگیا ہوں ، تمہارے حسن ، عشق اور قربت نے پاگل بنا دیا ہے۔” وہ اپنا چہرہ اسکے چہرے کے قریب لاکر گویا ہوا۔
” مصطفی۔۔۔۔” اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی۔
” شش۔۔۔ کچھ لمحے خاموش رہنے میں کوئ برائ نہی۔۔” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسکی گردن کی پشت سے اسکا سر اونچا کر کے اپنے لب دھیرے سے اسکے گال پہ دھر گیا تھا۔ نازنین کا حلق سوکھا تھا۔ اسکی پلکیں لرزتی سجدہ ریز ہوگئ تھیں۔ نازنین کے لب پھڑپھڑانے لگے تھے۔ وہ تشنگی سے اسکے لبوں کو تکتا دھیرے سے اسکے نچلے لب پہ اپنا نرم سا لمس چھوڑتا اسکی ٹھوڑی پہ بوسہ دینے لگا۔ نازنین جی جان سے کپکپائی تھی۔ مصطفی ٹھوڑی پہ بوسہ دیتے اسکی گردن پہ آیا تھا۔ اپنی ناک اسکی گردن پہ رگڑتا اپنے دانت پوری شدت سے اسکی گردن پہ گاڑھ گیا تھا۔ ساوری اسکے لمس کی شدت پہ سسکی تھی۔ مصطفی نے اسکی گردن سے منہ نکال کر اسے تکا۔ اور پھر اسکے کپکپاتے بھیگے گلابی لبوں پہ پوری شدت و جنون کے ساتھ جھکا تھا۔ نازنین کے دل کی دھڑکن یکدم تیز سے تیز ہوگئ تھی۔ اسکے لمس میں اس قدر شدت تھی کے نازنین کو اپنا آپ فنا ہوتا محسوس ہوا۔ مصطفی نے نازنین کے بالوں کو اپنی گرفت سے آزاد کیا ، البتہ اسکے لب اب بھی مصطفی کی قید میں ہی تھے۔ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑتا وہ اسے دیوار سے چپکا گیا تھا۔ نازنین آنکھیں موندے اسکی شدتیں برداشت کر رہی تھی۔ مصطفی نے اسکے لبوں کو آزاد کیا۔ تو وہ گہری سانسیں لے رہی تھی۔ مصطفی نے خمار آلود نظروں سے اسے تکا۔ مصطفی کی آنکھوں میں ایک نشہ سا تھا۔ مصطفی نے اپنی شرٹ اتار کر پھینکی تھی۔ نازنین اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی ، اپنے اور اسکے درمیان ایک فاصلہ قائم کر گئ تھی۔
” مصطفی۔۔۔ پاگل ہوگئے ہو۔ باتھروم میں بھی تمہیں چین نہی۔۔۔” وہ اسپہ بھڑکی تھی۔
” تم چین آنے کہاں دیتی ہو۔۔” وہ اسکی تھائ پہ ہاتھ پھیرتا خماری سے گویا ہوا۔
” حد ہے۔۔۔ یار۔۔” وہ اسکا رومینٹک موڈ دیکھ کر چڑی تھی۔
” حد ہی تو نہی ہے کوئ میرے پیار کی۔۔۔” وہ اسکے سراپے کو سحر انگیز نظروں سے تک کر گویا ہوا۔
” مصطفی ۔۔۔ ہوش میں آؤ یار ، مجھے حیدر بھائ کی بیٹی بھی دیکھنے جانا ہے۔۔” وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے ہوش دلانے لگی۔
” ہاں بس تم لوگوں کی ہی بیٹیاں دیکھتی رہ جانا ، ہمارے اپنے بچے کب آئیں گے۔” وہ شرارت سے گویا ہوا۔
” انہیں جب آنا ہوگا تو آجائیں گے۔۔۔” نازنین نے اسے آنکھیں دکھا کر کہا۔
” ایسے کیسے آجائیں گے ، ہم محنت کریں گے ، تو وہ آئیں گے ناں۔۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی بنا اسکی مزید سنے اسکی دونوں ٹانگیں اپنے پیٹ کے گرد لپیٹتی تھیں۔ اور اسے گود میں اٹھاتا۔ ایک بار پھر اسکے لبوں پہ جھکا تھا۔ نازنین کو اب اسکی حرکت پہ تاؤ آیا تھا۔ نازنین نے اسکی مدہوشی کا فائدہ اٹھاتے اسکے ہونٹ پہ چاک کاٹا تھا۔ پر مصطفی بنا اثر لیئے اپنے عمل میں مزید شدت لے آیا تھا۔ وہ اسے لیئے واپس شاور کے نیچے آیا تھا۔ اسکی گردن ، ہونٹ ، چہرہ پہ جابجا اپنا پر شدت لمس چھوڑنے لگا۔ نازنین کو لیئے وہ باتھ ٹب میں آیا تھا۔ باتھ ٹب مکمل طور پہ جھاگ سے بھرا ہوا تھا۔
” مصطفی بعد میں کریں گے ناں۔۔۔ پلیز ابھی دیر ہورہی ہے۔۔۔” نازنین نے دانت کچکچا کر کہا۔
” جو کام آبھی ہوسکتا ہے ، اسے بعد پہ ڈالنا بےوقوفی ہے۔۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی اسکے کپڑے اسکے تن سے جدا کرنا شروع کیئے۔
اور اسکا وجود دھیرے سے باتھ ٹب کے اندر سرکایا۔ اور اپنی انگلیوں کا لمس جابجا چھوڑنے لگا۔ نازنین نے اسے جی بھر کر آنکھیں دکھائیں۔ پر وہ اپنی منمنائ سے باز نا آیا۔ شدت سے اسکی اور اپنی جان ایک کرتا وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا تھا۔ نازنین آنکھیں موند کر رہ گئ تھی۔ اور مصطفی مزید مدہوش ہونے لگا تھا۔
☆☆☆☆☆
ساوری گم صم سی پڑی چھت کو گھور رہی تھی۔ ساوری کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کردیا گیا تھا۔ حیدر اسے گھر لے جانے کے لیئے آیا تھا۔ وہ صبح گھر چلا گیا تھا۔ کیونکہ درفشاں کے اسٹار ہونے کی وجہ سے میڈیا گھر کے باہر خبر سنتے ہی جمع ہوگیا تھا۔ حیدر نے ساوری کو ہاتھ کا سہارا دینا چاہا پر وہ اسکی پھیلی ہتھیلی کو نظر انداز کرتی۔ خود ہی بیڈ سے اتری تھی۔
” مجھے بھائ بھابھی کے پاس چھوڑدیں۔ ایک ہفتے بعد واپس آجاؤں گی۔۔۔” ساوری نے سنجیدگی سے کہا۔
” اوکے۔۔۔” اسکی حالت کے مدنظر اسنے اسے اجازت دے دی۔
” وہ کیسی ہے۔۔۔؟؟” وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے۔ جب ساوری کی نم آواز حیدر کے کانوں میں پڑی۔ حیدر لب بھینچ کر رہ گیا۔
” بلکل تمہارے جیسی۔۔۔” حیدر نے مسکا کر بتایا۔
” اچھا۔۔۔!!
اگر دکھنے میں میرے جیسی ہے ، تو پھر ٹھیک ہے پر نصیب مجھ جیسے ناہوں۔۔۔” ساوری نے تمسخر سے کہا۔
” تصویر دیکھو گی۔۔۔؟؟” حیدر نے اسکا دیہاں بٹانے کو کہا۔
” نہی اگر اسکی تصویر دیکھ لی تو پھر خود کو روک نہی پاؤں گی۔۔۔” ساوری نے بھیگے لہجہ میں کہا۔
حیدر کی گرفت اسٹیئرنگ پہ سخت ہوئ تھی۔
” یہ کچھ پیسے رکھ لو۔۔۔” حیدر نے جیب سے چند پانچ پانچ ہزار کے نوٹ اسکے سامنے کیئے۔
” مجھے ضرورت نہی۔۔۔” اسنے سنجیدگی سے منع کیا۔
” خاموشی سے پیسے لو۔ میں ایک ہفتے بعد لینے آؤں گا۔ پھر بھی اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو کال کرکے بتا دینا۔” حیدر نے سنجیدگی سے کہا۔ اور پھر اسے اسکے بھائ کے گھر چھوڑ کر خود چلا گیا۔
☆☆☆☆☆
” امی آپ ساوری سے ملنے بھی نہی گئیں۔۔۔” نازنین کا حیرت سے برا حال تھا۔
” ہاں تو یہاں ہم اپنی خوشیاں منائیں ، یا اسکے پیچھے چکر کاٹیں۔۔” امی نے برا منایا۔
” امی یہ خوشی بھی آپکو اسی کی وجہ سے میسر آئ ہے۔۔۔” نازنین نے انہیں کچھ احساس دلانا چاہا۔
” تو پیسے دے دیئے ہیں نا اسے اور کیا چاہیئے۔۔۔” امی نے سر جھٹک کر کہا۔
” امی ، اس لڑکی نے اپنی اولاد دی ہے۔۔۔ کون کرتا ہے ایسا ، کون دیتا ہی کسی کو اپنے جسم کا حصہ۔۔۔” نازنین نے انہیں کچھ ہوش دلانا چاہا۔
” اپنی اولاد نہی دی ، حیدر کی اولاد ہے وہ۔” امی نے بگڑے تیوروں سمیت کہا۔
” امی آپ لوگوں کو تو سمجھانا ہی فضول ہے۔۔۔” نازنین نے افسوس سے کہا۔
” ہاں تو نا سمجھاؤ۔۔۔” انہیں اسکا ایسے پرائ لڑکی کے لیئے اسٹینڈ لینا برا لگ رہا تھا۔
” آئ تھنک مجھے چلنا چاہیئے۔۔۔” نازنین نے سنجیدگی سے کہا۔
” کھانا تو کھا کر جاؤ۔۔” وہ اسے خفا ہوکر جاتا دیکھ جھٹ پیار سے گویا ہوئیں۔
” نہی شکریہ اسکی کوئ ضرورت نہی ، چلتی ہوں میں۔۔” وہ اپنا بیگ کندھے پہ ڈالتی نکل گئ۔
اور وہ محض سر تھام کر رہ گئیں۔
☆☆☆☆☆
