Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 50) Last Episode (Part - 1)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 50) Last Episode (Part - 1)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” اچھا ۔۔۔ مجھے لگا میری وجہ سے نیچے آگئ ہو۔ اگر میری خاطر آئ ہو تو ، بہت غلط کیا ہے۔ تم جاؤ انجوائے کرو بس میں ابھی عالم کو کہنے ہی والی تھی۔ کہ مجھے گھر لے جائیں۔” شعلہ نے ساوری کے سجے سنورنے روپ کو تکا۔

” کھانا کھایا تم نے۔۔؟؟” ساوری نے فکر مندی سے پوچھا۔

” ہاں کھا لیا ہے۔ اب مجھے اجازت دو۔ میں اس وقت بہت لو فیل کر رہی ہوں۔” شعلہ نے کرسی پیچھے کھسکا کر اپنا بھاری وجود سنمبھال کر خود کو اٹھایا۔

” اچھا چلو میں عالم بھائ کو بلاتی ہوں۔” ساوری مسکرا کر اٹھی اور اوپر اسٹیج پہ حیدر کے ساتھ بیٹھے عالم کو شعلہ کا پیغام دیتی واپس عالم کو لیکر نیچے آئ تھی۔ عارض نازنین اور مصطفی کے ساتھ ہی رک گیا تھا۔ اسکا صبح ان دونوں کے ساتھ گھر آنے کا ارادہ تھا۔ ساوری شعلہ سے ملی اور ان کو رخصت کرکے واپس پلٹ گئ۔

عالم اور شعلہ اپنے گھر کہ جانب مبذول تھے۔ جب شعلہ کو اپنی حالت مزید بگڑتی ہوئ محسوس ہوئ۔ اس نے عالم کو ہاسپٹل چلنے کو کہا۔ جب وہ اسے ہاسپٹل لے کر گیا۔ اسے فوراً گائنی وارڈ میں شفٹ کیا گیا۔ اور تقریبا آدھے گھنٹے بعد شعلا کو اللہ تعالی نے بیٹے سے نوازا۔ عالم جو بیٹی کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ اسکا دل یکدم بجھ گیا۔ ایسا نہی تھا۔ کہ اسے بیٹا ہونے کی خوشی نہیں تھی۔ مگر اسے بیٹی چاہیئے تھی۔ عالم نے سب کو کال کرکے اس خوشخبری اور شعلہ کی حالت کے متعلق باخبر کیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سب وہاں موجود تھے۔ مگر ان سب کا آنا بے کار رہا۔ صبح چھے بجے تک ڈاکٹرز نے شعلہ کو ڈسچارج کردیا تھا۔ وہ لوگ شعلہ کو گھر لیکر آئے اس وقت عالم اور شعلہ کے کمرے میں وہ سب پڑے تھے۔ اور سب ابھی بچے کے نام پہ لڑ رہے تھے۔

” یار لڑنا بند کرو ، عالم بھائ آپ نے کوئ نام سوچا ہوگا۔ آپ وہ بتا دیں۔ ہم وہی نام رکھ دیتے ہیں۔ عالم جو بیڈ کی پائنتی کے پاس کہنی کے بل لیٹا تھا۔ ان سب کو ایک نظر دیکھ کر اسنے نام بتایا تو سب نے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔

” یہ لڑکوں کا نام نہیں ہے بھائ۔۔!!” نازنین نے حیرت سے کہا۔

” میں لڑکا ایکسپیکٹ کر بھی نہیں رہا تھا۔ مجھے بیٹی کی امید تھی اسی لیئے میں نے نام بھی لڑکیوں والا سوچ رکھا تھا۔” عالم نے منہ بنا کر بتایا۔

شعلہ نے اسکی بات پہ اسے ایک نظر گھورا تھا۔ وہ اسکی گھوری اپنی جانب دیکھ کر کندھے آچکا کر اپنا آپ کلیئر کرنے لگا۔

” دیکھو ایسا نہی ہے کہ میں نا شکریہ کر رہا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ اللہ نے ہمیں اپنی نعمت سے نوازا۔ پر اب دھچکا تو لگا ہے ناں مجھے۔۔۔!!

خواہش بیٹی کی تھی۔ اور اب بیٹا ہوگیا ہے۔ تو مجھے وقت لگے گا صدمے سے نکلنے میں۔”

” صدمہ۔۔۔ تم نا میری سمجھ سے بلکل باہر ہو۔۔۔” شعلہ کا انداز تپا ہوا تھا۔

” تو پھر بھائ کیا ہم آپ کے بیٹے کا نام لڑکیوں جیسا رکھیں گے مطلب ۔۔ ” نورے من۔۔” ہمم۔۔؟؟” نازنین نے شرارت سے پوچھا۔

” نہیں۔۔۔۔!!

یہ نام میری بیٹی کا ہے۔ اور میں اسی کا رکھوں گا۔ اسکا نام رکھ دو ۔۔۔ امم۔۔۔۔ بلال۔۔۔ اچھا نام ہے ناں۔۔” عالم نے سب کو تائید نگاہوں سے تکا۔

” ہاں۔۔۔ یہ نام درست ہے۔۔” حیدر نے بھٹ کہا۔

” نہیں نہیں ۔۔۔ کچھ اور رکھو۔ یہ نام مجھے نہیں پسند۔۔” نازنین نے منہ بنایا۔

” کیا برائ ہے اس نام میں اچھا تو ہے۔۔!!” عالم نے اسے گھورا۔

” نہیں کچھ اور سوچو۔۔” نازنین نے سر کو نفی میں ہمارے کہا۔

” شارق نام کیسا ہے۔۔۔؟؟” ساوری کی نرم سی آواز سن کر سب اسکی جانب متوجہ ہوئے۔

” بہت اچھا ہے۔ یہی نام رکھنا ہے اب ہم نے۔۔” اتنی دیر میں شعلہ پہلی بار بولی۔

” ہاں یہ نام اچھا ہے۔۔” نازنین نے بھی ہامی بھری۔

” چلو پھر تم سب کی جیسی مرضی۔۔۔ مجھے تو یار نیند آرہی ہے۔ بس اب تم سارے نکمے لوگ میرا کمرہ خالی کرو۔۔” عالم نے سب کو چلتا کرنا چاہا۔

” بھائ آپ دوسرے کمرے میں جا کر سوجائیں ناں۔۔!!

یہاں ہم سب باتیں کر رہے ہیں کتنا مزہ آرہا ہے۔۔” نازنین نے جھٹ مفت کا مشورہ دیا۔

” مجھے کہیں اور نیند نہیں آئے گی۔ چلو اٹھو اب اپنے کمرے میں جاکر باتیں کرو۔۔” عالم نے جھٹ کہا۔

سب منہ بناتے آٹھ کر اپنے کمروں میں چلے گئے تھے۔ عارض بیڈ کی ایک سائڈ پہ پڑا تھا۔ اور شارق شعلا کے بلکل قریب پڑا تھا۔ بیڈ کی پائنتی کے پاس عالم آڑا ترچھا پڑا تھا۔ کمرے میں مکمل طور پہ خاموشی چھائی تھی۔ شعلہ کے ماتھے پہ بل خاصے نمایاں تھے۔ عالم نے آنکھیں کھول کر اسے ایک نظر تکا۔ اور پھر گہری سانس لیکر اسے اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا۔

” شارق پیارا ہے کافی۔۔”

شعلہ نے طنزیہ نگاہ اس پہ ڈالی اور نگاہ پھیر لی۔

” بلکل تم پہ گیا ہے۔۔۔ اسی۔۔۔ لیئے بہت پیارا ہے۔۔” عالم نے ایک اور کوشش کی۔

شعلہ نے اپنا بازو اٹھا کر آنکھوں پہ دھر دیا تھا۔ عالم نے اسے گھورا۔

” سوری یار انسان ہوں۔ اب نو مہینے سے بیٹی کی آس لگائے بیٹھا تھا۔ مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا شاید اللہ نے بیٹا دے دیا۔ ایسا نہیں ہے کہ میں خوش نہیں ہوں۔ مگر عارض کی دفعہ بھی میں نے اتنی دعا کی تھی۔ کہ اللہ پاک مجھے پیاری سی بیٹی دے دیں۔ تب بھی بیٹا ہوا۔ اور پھر اب بھی۔ بس ذرا سا صدمہ میں ہوں۔ ٹھیک ہوجاؤں گا تھوڑی دیر میں۔۔” عالم نے منہ بنا کر اپنے دل کا حال اسے کہہ سنایا۔

” بکواس نا کرو۔۔۔!!!

میرے بیٹے کو تم کب سے نظر انداز کررہے ہو۔ تمہیں اندازہ ہے مجھے تمہاری اس حرکت پہ کتنی تپ چڑھی ہے۔ میرے بچے کو مسلسل اگنور کر رہے ہو تم۔” وہ آنکھوں پہ سے بازو لٹاتی اس پہ چڑھ دوڑی تھی۔

” اچھا ناں سوری یار۔۔۔ یہ دیکھو ابھی پیار کر دیتا ہوں۔۔” وہ ذرا سا آٹھ کر اسکے قریب آیا۔ اور اسکے برابر میں پڑے شارق کے گالوں پہ بوسہ دیا۔

” میں خوش ہوں۔ یہ بھی اچھا ہے۔۔ مگر۔۔ بیٹی۔۔” شعلہ کے تیور ایک بار پھر بگڑتے دیکھ عالم نے ہاتھ اوپر کرکے معافی مانگی۔ شعلہ نے دھیرے سے سر کو خم دیا جیسے کہہ رہی ہو جاؤ معاف کیا۔

” یار تم کتنی اچھی۔۔ ہو۔ ویسے ٹینشن کی کوئ بات نہیں۔ اگلی بار انشااللہ بیٹی ہی ہوگی۔” عالم نے کہتے ساتھ ہی شعلہ کے رخسار پہ جابجا بوسہ دیا۔ وہ محض اسے گھور کر رہ گئ۔

☆☆☆☆☆

نازنین نے رباب کو سلایا۔ اور اسے اسکے کوٹ میں ڈال کر وہ بستر پہ آئ ابھی وہ اپنی جگہ پہ لیٹی ہی تھی۔ جب مصطفی نے اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچا۔ وہ سیدھا اسکے سینے سے جا کر لگی تھی۔

” مصطفی۔۔۔ آرام سے۔۔” مصطفی نے اسے اپنی جانب کھینچتے ہی اسکی گردن پہ جابجا اپنا لمس چھوڑنا شروع کردیا تھا۔ وہ اتنے عرصہ بعد اسکا شادی کی پہلی رات جیسا جذباتی پن دیکھ گھبرا گئ تھی۔

” ڈرو مت ویسا کچھ نہیں کر رہا جیسا اس رات ہوا تھا۔۔” مصطفی نے اسکی گردن میں سے چہرہ نکال کر اسکے گلابی لبوں کو ہلکا سا چھو کر کہا۔

” نہیں۔۔ میں ڈر نہیں رہی ہوں۔۔” وہ۔گہری سانس لیکر گویا ہوئ۔

” اچھا۔۔۔ یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے۔۔” مصطفی ایک آنکھ دبا کر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑتا ایک بار پھر اسکی گردن پہ جھکا تھا۔

اسکی گردن پہ اپنے لب دھرتا وہ اسے بھی بے چین کر گیا تھا۔ وہ اسکی گردن پہ بوسہ دیتا دھیرے دھیرے اوپر اسکے لبوں کی جانب آیا تھا۔ اسکے نچلے لب کو اپنے دانتوں میں ہلکا سا دبایا۔ نازنین سسک اٹھی۔

” مصطفی۔۔۔!!” وہ مدہم سی آواز میں مصطفی کا نام لیتی آنکھیں موند گئ۔

نازنین اسکی قربت میں پگھلنے لگی تھی۔ مصطفی نازنین کی سانسیں الجھائے ہر فکر سے آزاد ہوچکا تھا۔

اسکے لبوں کو آزاد کرتا اسکے دہکتے سرخ رخسار چھو کر اس سے دور ہوا۔ اپنی شرٹ اتار کر مصطفی نے سائڈ پہ پھینکی اور ایک بار پھر کمفرٹر کھینچ کر اسکے اور اپنے وجود پہ ڈال گیا۔

☆☆☆☆☆

دیکھا ہے تجھ کو ہزاروں دفعہ۔۔۔

مصطفی نازنین کے چہرے پہ آئے اسکے بال ہٹاتا گنگنایا تھا۔ نازنین نے اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تھا۔ مصطفی اسکے گرد اپنے بازو باندھ کر مسکرایا تھا۔

” اٹھو یار اچھا سا ناشتہ بنا کر دو مجھے۔۔” مصطفی نے اسے خود میں بھینچ کر کہا۔

” روز بنا کر دیتی ہوں۔۔” نازنین منمنائ۔

” کیا بنا کر دیتی ہو۔ ایک کپ چائے اور وہ سڑے ہوئے ٹوسٹ۔۔۔!!

بھلا وہ بھی ناشتہ کہلاتا ہے۔۔” مصطفی نے بڑی شکل بنائ۔

” میری زبان میں تو اسے ناشتہ ہی کہتے ہیں۔” نازنین نے اپنا سر اسکے سینے سے نکال کر اسے تکا۔

” وہ ناشتہ نہیں ہوتا ، ظلم ہوتا ہے جو تم مجھ پہ روز کرتی ہو۔۔۔” مصطفی نے اسے گھور کر بتایا۔

” اتنی سی۔محبت ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔ ابھی سے طعنے دینے لگے تم مجھے۔۔۔” وہ خفا ہوتی بستر سے اتری تھی۔ وہ سیدھا ہو کر لیٹا اسے پر شوق نگاہوں سے تک رہا تھا۔

” طعنہ نہیں دے رہا بس کہہ رہا ہوں۔ کچھ نیا کچھ اچھا سا کھلاؤ آج مجھے۔۔” مصطفی نے انگڑائی لی۔

” بہت ہی کوئ ڈیش ہو۔۔۔” وہ مسکرا کر کہتی واشروم میں بند ہوئ تھی۔

نہا دھو کر وہ سیدھا کچھ میں آئ تھی۔ آج ناشتے میں اسنے پراٹھا اور آملیٹ بنایا تھا۔ وہ ابھی ناشتہ ٹیبل پہ لگا رہی تھی۔ جب مصطفی اور عالم دونوں ٹیبل پہ آکر بیٹھے تھے۔

” واہ نازنین آج تو اسپیشل ناشتہ بنایا ہے۔۔۔” عالم دونوں ہاتھ مسلتا ایک پراٹھا اپنی پلیٹ میں رکھ کر گرما گرم لقمہ اپنے معدے میں اتار گیا تھا۔ مصطفی بھی مسکرایا تھا۔

نازنین ان دونوں کو خوش دیکھ کر خود بھی ہولے سے مسکا دی تھی۔

” توبہ ۔۔۔۔ آپ دونوں کتنے چٹورے ہیں۔۔” وہ مزاقاً کہتی شعلہ کا ناشتہ لیکر اوپر آئ۔

” بھابھی اٹھ گئ ہیں آپ۔۔؟” نازنین کمرے کے دروازے پہ کھڑی اس سے مستفسر ہوئ۔

” ہاں جاگ گئ ہوں۔۔ آجاؤ تم اندر دروازے پہ کیوں کھڑی ہوجاتی ہو۔۔۔” شعلہ جو عارض کو کپڑے چینج کرا رہی تھی۔ اسے پیار سے ڈپٹتی واپس اپنے کام میں لگ گئ تھی۔

” سچ کہوں تو آج بھی آپ سے تھوڑا ، تھوڑا ڈر لگتا ہے۔ کہیں کسی بات کا بڑا ہی نا مان جائیں۔۔” نازنین چہل کر کہتی اندر آئ تھی۔

” پھو پھو۔۔۔۔ناتہ لائ ایں۔۔” ( پھپھو ناشتہ لائ ہیں۔) عارض نے تالیاں بجا کر کہا۔

” ہاں پھو پھو اپنے چھوٹے سے بےبی کے لیئے ناشتہ لائ ہیں۔ میرا بےبی ناشتہ کرے گا۔۔۔؟؟” وہ عارض کو چہچہاتا دیکھ ناشتہ کی ٹرے ٹیبل پہ رکھ کر اسکے پاس آئ تھی۔ وہ کپڑے پہن چکا تھا۔ نازنین نے اسے اپنی گود میں لیا۔

” ویسے تمہیں مجھ سے ڈر کش بات کا لگتا ہے۔۔؟؟” شعلہ نے اسے خشگمین نگاہوں سے گھورا۔

” ہہ۔۔۔ ارے مذاق کر رہی تھی بھابھی۔۔ گستاخی معاف۔۔۔” نازنین نے شرارت سے مسکرا کر کہا۔

” بڑی شرارتی ہو تم۔۔۔” شعلہ اسکی بات پہ مسکائ تھی۔ اب شعلہ کا رخ اسکے چھوٹے سپوت کی جانب تھا۔

” میرا بچہ۔۔۔” شعلا نے اسے گود میں اٹھا کر پیار کیا اور پھر اسے مدر فیڈ کرانے لگی۔

” پھو پھو ۔۔۔ پاٹا۔۔۔” عارض کو نازنین ٹیبل کے پاس لائ۔ پراٹھا دیکھ کر عارض کی خوشی مزید دہری ہوگئ تھی۔