Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 33)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

شعلہ اسکی بات سن کر بھڑکی تھی۔ اور طیش کے عالم میں اسکے مقابل آکر کھڑی ہوئ تھی۔

” Are you out of your mind…”

اسکے چلانے پہ میر عالم نے اسے ٹھنڈی نظروں سے تکا تھا۔ اور پر اسراریت سے مسکرایا تھا۔

” میں نے جو کہا ہے ، امید ہے کہ تم اسے سمجھ جاؤ گی۔۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

” میں تمہارا منہ توڑ دونگی۔ میرا بیٹا ہے وہ اور میں اپنے بیٹے کا خود خیال رکھ سکتی ہوں۔ اگر تمہیں اتنا ہی کسی آیا کو رکھوانے کا شوق ہے۔ تو اپنے لیئے رکھواؤ ، میرے بیٹے کے لیئے ابھی میں زندہ ہوں۔۔۔” وہ بھنا کر کہتی مڑی تھی۔ جب عالم نے اسے کہنی سے تھام کر کھینچا تھا۔ اور اسے دیوار سے لگایا تھا۔

” ہنہ میرا منہ توڑنا اتنا آسان نہی ہے۔ اور دوسری بات یہ میرا آخری فیصلہ ہے کہ میرے بیٹے کو تم نہی سنمبھالو گی۔” عالم نے اسکے چہرہ پہ جھک کر دہکتے لہجہ میں کہا۔ شعلہ کو اسکی گرم سانسوں سے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہوا۔

” عالم میں جانتی ہوں ، تم یہ اب مجھ سے بدلہ لینے کے لیئے کر رہے ہو۔ پر میرے بیٹے کو بیچ میں گھسیٹنے کی کوئ ضرورت نہی ہے۔ بدلہ لینا ہے ناں۔۔۔۔!!!

تو مرد بنو ، اور اپنے بل پہ بدلہ لو۔ ناکہ اپنے بدلہ میں میرے بیٹے کو استعمال کرو۔۔” شعلہ نے سلگ کر ایک ایک لفظ چبا کر کہا۔

” ہنہ ٹھیک ہے ایسا ہے تو ایسا ہی ٹھیک ہے۔ اب اگر میں مرد بن کر بدلہ لینے پہ آیا ناں تو تم برداشت نہی کر پاؤ گی۔ اور اب میں ویسا ہی کرونگا۔ پر ہاں میرا بیٹا آیا ہی سنمبھالے گی۔ تمہارا کیا بھروسہ کب دھوکہ دے کر چلی جاؤ۔ اور میں نہی چاہتا کہ میرا بیٹا تم سے ذرا بھی مانوس ہو۔۔۔” عالم کے الفاظ تھے۔ یہ تیز دھار آرا ، شعلہ کے دل پہ پڑے تھے۔

” اگر میں تمہیں دھوکہ دے کر جاؤں گی ناں۔۔۔!!

تو اپنا بیٹا تمہارے آسرے چھوڑ کر نہی جاؤں گی۔ بلکہ اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ لیکر جاؤں گی۔۔۔” وہ غرائ تھی۔

” یہی تو مسئلہ ہے تمہارا ، تمہارے لیئے کبھی میں اہمیت کا ہامل رہا ہی نہی۔ تم جیسی خودپرست لڑکی سے محبت کی ، پر دھوکہ ملا۔ تم پہ بھروسہ کیا ، پر دھوکہ ملا۔ تم نے کبھی میر عالم خان کو اہم جانا ہی نہی۔ وہ تو بس۔۔۔” عالم دیوار پہ مکا مارتا اسے اپنی گرفت سے آزاد کر گیا تھا۔ شعلہ نے آنکھیں مینچی تھیں۔

” سہی کہا تم نے میں نے بھی آج سے بہت سال پہلے بھروسہ کیا تھا۔ میر عالم خان پہ پر اسنے بھی میرا بھروسہ توڑ دیا۔ تو پھر کیوں آج وہی میر عالم خان چاہتا ہے کہ میں اسے دھوکہ نا دوں۔” وہ سسک کر کہتی۔ کمرے سے نکل گئ تھی۔ اور وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

” نازنین میری ٹائ باندھ دو۔۔۔” مصطفی نے اسے بیڈ شیٹ درست کرتے دیکھ کر کہا۔

” خود ہی باندھ لو۔” وہ منہ پھلا کر خفگی سے گویا ہوئ۔

” یار سوری ناں۔۔ اب کب تک ایسے ناراض رہو گی۔۔” مصطفی نے بیچارگی سے کہا۔

” مجھے نہی چاہیئے تمہارا سوری اپنے پاس رکھو اپنا سوری تم۔۔۔” نازنین نے تپے ہوئے انداز میں کہا۔

” یار ۔۔۔۔ کب تک ایسے ناراض رہو گی۔۔۔” مصطفی اسکے سر پہ آکر کھڑا ہوا تھا۔

” جب تک میرا دل کرے گا۔۔” اسنے تڑخ کر کہا۔

” تو اپنے دل سے کہو ناں کہ ناراضگی ختم کرے۔” مصطفی نے اسے کندھے سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا۔

” اچھا ٹھیک ہے۔ سوری آج جلدی آؤں گا پکا۔۔۔” مصطفی نے اسکی ٹھوڑی کو اونچا کرکے پیار سے کہا۔

” مجھے تم پہ ذرا بھروسہ نہی۔ پچھلے ایک ہفتے سے یہ جھوٹے وعدے کر رہے ہو۔۔” نازنین کے شکوہ پہ مصطفی کے ماتھے پہ بل آئے تھے۔

” تو میں کیا کروں تم بتاؤ ، کام کتنا ہوتا ہے۔ جب فری ہوتا ہوں تو گھر ہی واپس آتا ہوں ناں۔ اپنے لیئے کوئ گرل فرینڈ تو نہی پال رکھی میں نے۔۔۔” مصطفی نے چڑ کر کہا۔

” بس فضول ہی ہانکنا ، تمہاری کوئ گرل فرینڈ ہوتی تو تم ابھی زندہ نا ہوتے۔۔۔” نازنین نے تڑخ کر کہا۔

” میں جا رہا ہوں دیر ہورہی ہے۔ اور آج آجاؤں گا جلدی۔۔۔” مصطفی نے کمرے سے نکلتے چلا کر کہا۔

اسکے چلانے پہ نازنین نے اسے آنکھیں دکھائیں۔

” آواز باہر چلی گئ ناں تو پھر لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اپنا یہ اسپیکر تو تھوڑا ہلکا رکھا کرو۔” نازنین نے اسے ڈپٹا۔

وہ خجل سا مسکراتا کمرے سے نکل گیا۔ تو وہ منہ بناتی مسکائ تھی۔

☆☆☆☆☆

ساوری نے چائے کا کپ اور ناشتہ کمرے میں ہی حیدر کو لاکر دیا تھا۔ حیدر اس بدلاؤ پہ مسکرایا تھا۔ آج پورے گیارہ ماہ بعد اسنے اسکے آگے ناشتہ رکھا تھا۔ یا اسکا کوئ کام کیا تھا۔ وہ تولیہ بیڈ پہ اچھالتا۔ اسکے پاس آیا تھا۔

” تمہارے لیئے ایک سرپرائز ہے۔۔۔” حیدر نے اسکے مکھڑے کو نرمی سے تکا۔

“۔۔ ک۔۔ کیسا۔۔ سرپرائز۔۔۔؟؟” ساوری نے بوکھلا کر پوچھا۔

” ابھی بتا دیا تو سرپرائز کیسا۔” حیدر اسکی سادگی پہ نثار ہوا تھا۔

” پھر بھی کوئ ہنٹ ہی دے دیں۔۔” ساوری نے لب دھیمے سے ہلائے۔

” ہنٹ۔۔۔ ہممم بس ایسا سرپرائز ہے کہ تم دیکھتے ہی خوشی سے جھوم اٹھو گی۔ اور مجھے ایک کس بھی دے ڈالو گی۔۔” حیدر نے شرارت سے کہا۔

” توبہ یہ کیسی ہنٹ ہوئ بھلا ، اور میں کیوں ایسی بے ہودہ حرکت کرنے لگی۔۔۔” ساوری کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوئ تھی۔ اسکا چہرہ ایسا ہو رہا تھا۔ جیسے مانوں ابھی خون چھلکا دے گا۔

” اہہ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ پر سرپرائز تمہیں بہت پسند آئے گا۔۔۔” حیدر نے اسکی ناک دبائ۔

” اچھا۔۔۔” اسنے دھیرے سے کہا۔ اور حیدر کے اسکی ناک دبانے پہ وہ ہلکا سا مسکائ تھی۔

” ویسے تمہیں ذرا بھی اندازہ نہی ہوا کہ میں کس سرپرائز کی بات کر رہا ہوں۔۔؟؟” حیدر نے نرمی سے پوچھا۔تو وہ محض سر کو دھیرے سے نفی میں ہلا کر رہ گئ۔ حیدر اسکی معصوم سی صورت دیکھ مسکرایا تھا۔

” تم اتنی ہی پیاری ہو جتنی مجھے لگتی ہو۔ یا پھر بس یہ میرے دیکھنے کا نظریہ ہے۔۔” یہ بات کہتے حیدر کے حلق کی گٹھلی ابھر کر معدوم ہوئ تھی۔

وہ اسکی بات پہ لب کچل کر رہ گئ تھی۔ بہت مشکل تھا۔ حیدر کے ساتھ اپنا محبت بھرا آشیانہ بنانا۔ اسے بھابھی کا مشورہ انتہائ فضول لگا۔ بات یہاں حیدر کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی تو تھی ہی نہی۔ وہ تو خود ہی دل و جان سے اس پہ نثار تھا۔ بات تھی ساوری کے جذبات کی۔ جو حیدر کے التفات بھرے انداز پہ بوجھل سے ہوجاتے۔ کسی اور کا حق چھیننے کا احساس شدت سے اس پہ حاوی ہوجاتا۔

” میں آتی ہوں۔۔” ساوری نے پھیکے سے لہجہ میں کہا۔ اور کمرے سے نکل گئ۔ حیدر گہری سانس لیکر رہ گیا۔

☆☆☆☆☆

شعلہ عارض کو گود میں لیئے لاؤنج میں بیٹھی تھی۔ جب آیا اندر آئ۔ اور شعلہ کو سلام کیا۔ نازنین بھی تب لاؤنج میں ہی بیٹھی تھی۔

” وعلیکم اسلام آنے میں بڑی دیر کر دی آپ نے بچہ تو اب گھر پہ نہی۔ کس کا خیال رکھیں گی آپ اب۔۔۔؟؟” شعلہ نے مسکرا کر بڑے پی نرم لب و لہجہ میں کہا۔

” میم ، سر نے تو یہ ہی ٹائم دیا تھا۔” آیا کا رنگ فق ہوا تھا۔ پہلے ہی دن نوکری پہ دیر سے پہنچنا نوکری سے ہاتھ دھونے کے برابر تھا۔

” اچھا۔۔۔ حیرت ہے ویسے ، غلط ٹائم دیا ہے انہوں نے آپکو اب آپ بیٹھیں بچے کے آنے کا انتظار کریں۔۔۔” شعلہ نے ایک بار پھر چاشنی سے لہجہ میں کہا۔

نازنین نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ کیونکہ عارض تو اسکی گود میں تھا۔ پھر وہ اس بیچاری آیا کے ساتھ ایسا کیوں کر رہی تھی۔ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔

” آپ آرام سے بیٹھئیے ۔۔۔ میں اوپر چلتی ہوں۔۔” شعلہ نے اپنی پوری کی پوری بتیسی کی نمائش کر کے کہا۔

” جی میم۔۔۔ پر۔۔۔” آیا نے کچھ کہنا چاہا۔

” آپ انتظار کیجیئے بچہ جیسے ہی آئے گا میں آکر آپ کو دے دوں گی۔۔” وہ آنکھیں گھما کر کہتی عارض کو اپنے سینے سے لگا اوپر چلی گئ۔

” آپ ویٹ کریئے ، بھابھی نے کہا ہے تو میں کچھ کر نہی سکتی۔۔” نازنین نے پھیکی سی ہنسی ہنس کر کہا۔

” ہمم۔۔” آیا نے پریشانی سے کہا۔

اور اپنا موبائل نکال کر عالم کو فون کیا۔ عالم کو تمام بات بتائ تو وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔ اور شعلہ کو کال ملائ۔

” تھوڑی دیر بعد کیا نیا بچہ پیدا کرنے والی ہو۔۔۔” چھوٹتے ہی عالم نے کہا۔

” نہی۔۔۔” اسنے عارض کو تھپکتے کہا۔

” عارض کو آیا کو دو۔ میرا دماغ مت خراب کرو شعلہ۔۔۔” عالم بھڑکا تھا۔

” ایک بار نہی ہزار بار تمہارا دماغ خراب ہو میرا بچہ میرے پاس ہی رہے گا۔ بس۔۔۔!!” وہ چٹخ کر کہتی کال کاٹ گئ تھی۔ عالم اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر رہ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆