Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 43)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

شعلہ نے واپس آتے ہی الفت کو تمام بات سے آگاہی دی تھی۔ الفت پر سوچ سی بیٹھی تھی۔ بہت سوچنے کے بعد الفت نے شعلہ سے وعدہ کیا تھا۔ کہ وہ اسے اسکے بھائ اور کزن سے ملوا کر رہے گی۔ شعلہ کو الفت کے وعدے پہ پورا یقین تھا۔ کیونکہ وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی۔ کہ الفت وعدہ کرتی نہی پر جب کرتی ہے ، تو ہر حال میں اپنے وعدہ کی پاسداری رکھتی ہے۔

الفت کے وعدہ نے شعلہ کو ایک نئ امید کی کرن دکھائی تھی۔ الفت کے وعدہ کو ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا۔ پر اب تک کچھ نا ہوسکا تھا۔ ادھر سے بائ کا زور بہت بڑھ رہا تھا۔ کہ۔شعلہ کو اب ناچنے کے علاوہ بھی دھندے میں حصہ لینا چاہی۔ پر الفت اسے کچھ دن صبر کرنے کا کہہ کر ٹال جاتی۔ الفت نے بہت مشکل سے میر عالم کا نمبر نکلوایا تھا۔ وہ نمبر لیتے ہی بھاگتی دوڑتی اسکے کمرے میں آئ تھی۔

” شعلہ۔۔۔” الفت نے چہک کر اسے آواز دی۔

” ہاں۔۔۔” وہ واشروم سے نکل کر اسکے سامنے آئ تھی۔

” ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔۔”

“کیسی خوشخبری۔۔؟؟” شعلہ نے اسکے دمکتے چہرے کو اشتیاق سے تکا۔

” تمہارے کزن کا نمبر مل گیا۔۔۔” الفت نے مسکرا کر بتایا۔

” کیا سچ ۔۔۔ سچ۔۔ میں۔۔۔” اسکی آنکھیں نم ہوگئ تھیں۔

” ہاں سچ میں ، چلو میرے موبائل سے کال ملاتے ہیں۔۔” الفت نے موبائل نکالا۔ شعلہ نے حیرت سے اسے تکا۔

” یہ آپکے پاس کہاں سے آیا۔۔۔؟؟” شعلہ پوچھے بنا رہ نا سکی۔

” وہ سب چھوڑو تم ، یہ لو کال ملاؤ۔۔” انہوں نے اسے موبائل زبردستی تھمایا۔

” کال ملاؤ۔۔” الفت نے مسکا کر کہا۔

وہ کئ لمحے کبھی موبائل کو تکتی تو کبھی الفت کو آخر کار اسنے نمبر ملا ہی لیا۔ چند بیلوں کے بعد کال اٹھا لی گئ۔ شعلہ نے گہری سانس لی۔ دوسری جانب سے گھمبیر مردانہ آواز بر آمد ہوئ۔

” ہ۔۔ہیلو۔۔۔ میں ۔۔شعہ۔۔۔ نہی ۔۔۔ میں بیا ۔۔۔ میں بیا۔۔۔” وہ عالم کی آواز سن کر گھبرا ہی تو گئ تھی۔

” کون بیا۔۔۔؟؟” عالم نے نا سمجھی سے پوچھا۔

” میں بیا۔۔۔ آپکی۔۔۔ پھپھو کی بیٹی۔۔۔” وہ اپنا تعارف کراتے سسک پڑی تھی۔

” کیا۔۔۔؟؟” عالم کی صدمہ بھری آواز ابھری تھی۔

” کیا ہوا عالم بھائ۔۔۔ اب خیریت ہے۔۔۔؟؟” پیچھے سے مصطفی کی آواز بھی آئ تھی۔ شعلہ آنکھیں موند گئ تھی۔ اسکی آنکھوں سے گرم سیال روانی سے بہنے لگا تھا۔

” بیا کا فون ہے۔۔” عالم کی آواز ایک بار پھر بر آمد ہوئ۔

” بیا کا۔۔۔؟؟” حیرت بھری آواز۔

شعلا کا سانس اٹکا تھا۔ اور یکدم کال ہولڈ پہ ہوئ تھی۔ کچھ دیر بعد جب کال ہولڈ سے ہٹی تو میر عالم کی آواز ایک بار پھر بر آمد ہوئ۔ ۔

” تم کہاں ہو بیا۔۔۔؟؟” عالم کا یہ سوال کرنے کی دیر تھی۔ کہ وہ سسکی۔

” میں۔۔۔۔ کوٹھے۔۔۔ پہ۔۔۔” اس سے آگے وہ کچھ کہنے کی ہمت نا جٹا پائ۔

” کون سے کوٹھے پہ۔۔؟؟” عالم نے پوچھا۔ بیا نے تمام تفصیلات بتائ اور کال کاٹ دی۔ الفت نے اسے گلے سے لگا کر تسلی دی تھی۔ اور شعلہ کے کمرے کے باہر کھڑے وجود کو تمام بات کی خبر لگ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

” بائ ۔۔ بائ۔۔” زرتار لباس میں ایک دبلی پتلی لڑکی بھاگتی ہوئ بائ کے کمرے میں گھسی تھی۔ بائ جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنا عکس نہار رہی تھی۔ اسکی اس مداخلت پہ غصہ سے سرخ چہرہ لیئے مڑی تھی۔

” کیا موت پڑ گئ ہے۔ جو ایسے اندھا دھند بھاگی چلی آرہی ہے۔۔” بائ نے دانت پیس کر کہا۔

” بائ ایسی خبر لائ ہوں کہ تو جھوم اٹھے گی۔ میری بات سن کر تو مجھے کچھ بھی دینے کو راضی ہوجائے گی۔ ایسی پتے کی خبر پے کہ نا پوچھ۔۔۔” وہ چہکتی ہوئ جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کرکے اندر آئ تھی۔

” ایسی کونسی خبر ہے۔ جس پہ تو اس قدر اٹھلا رہی ہے۔۔” بائ نے اشتیاق سے پوچھا۔

” بائ وہ شعلہ ، الفت کے پاس نجانے کہاں سے موبائل آگیا ہے۔ اور اسنے شعلا کے گھر کا نمبر نکال لیا ہے۔ اور تو اور شعلہ کی بات بھی کرا دی ہے۔ اور تو اور یہاں کا پتہ بھی بتا دیا ہے۔ بس کچھ ہی دیر میں پہنچتے ہونگے وہ لوگ۔۔۔”

” سچ کہہ رہی ہے تو ۔۔” بائ نے تصدیق کرنا چاہی۔

” ہاں سچ کہہ رہی ہوں۔ کوئ شک ہے تو جا ان سے خود جا کر پوچھ لے۔۔۔” وہ چہکی تھی۔

” ٹھیک ہے اب یہ تیری ذمےداری ہے۔ کہ شعلا کو ڈھونڈنے کوئ بھی آئے وہ پہلے سیدھا میرے پاس آئے۔” بائ نے بال کمر پہ جھٹک کر کہا۔

” ٹھیک ہے بائ۔۔۔” وہ چہک کر کہتی کمرے سے نکل گئ تھی۔

بائ کے ہونٹوں پہ شاطرانہ مسکراہٹ کوندی تھی۔ وہ زیر لب گناگناتی دوبارہ آئینے کی جانب مڑی تھی۔ اور خود کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔

کچھ دیر بعد پھر شنو بائ کے کمرے میں حاظر ہوئ تھی۔ بائ بیتابی سے اٹھ بیٹھی تھی۔

” آگئے کیا وہ لوگ۔۔۔؟؟”

” ارے نہی بائ۔ آئے نہی ہیں۔ پر انکے بارے میں کچھ معلومات ملی ہے۔۔۔” شنو نے رازداری سے کہا۔

” کیسی معلومات۔۔۔؟؟” بائ پوچھے بنا نا رہ سکی۔

” ارے اسکا بھائ اور کزن تو بڑے ہی مشہور لوگ ہیں۔۔” شنو نے پر اسراریت سے بتایا۔

” کون ہیں۔ ذرا ہمیں بھی تو پتہ چلے۔۔۔” بائ نے شنو کو ٹھوڑی سے تھام کر پوچھا۔

” بائ ۔۔۔ وہ میر عالم خان۔۔۔ وہ سیاستدان ۔۔۔ اور اسکا رائٹ ہینڈ ۔۔۔ مصطفی۔۔۔” اسنے جیسے ہی بتایا یکدم بائی کی آنکھوں میں روشنی کوند آئ تھی۔

” کیا کہہ رہی ہے تو۔۔۔ مطلب اتنی بڑی آسامی ہمارے کوٹھے پھدارنے والی ہے۔۔۔” بائ نے اپنی بات کے اختتام پہ خوشی کے باعث قہقہ لگایا تھا۔

” ہاں ہاں بائ بلکل سچ کہہ رہی ہوں۔۔” شنو نے اپنے نادیدہ کالر کھڑے کر کے کہا۔

” بس اب تو میری بات یاد رکھ غلطی بلکل نا ہو۔ نہی تو گچی مروڑ دوں گی تیری۔۔۔” بائ نے جارہیت سے کہا۔

” بائ ۔۔۔ ایسے تو مت بولو اتنی پتے کی بات بتائ آپکو پھر بھی آپ مجھے دھمکیاں دے رہی ہو۔۔۔” شنو نے منہ بنا کر کہا۔

” چل جا یہاں سے زیادہ نا بول۔۔۔” بائ نے اسے خود سے ذرا دور جھٹکا۔ شنو منہ بناتی بائ کے کمرے سے چلی گئ۔

☆☆☆☆

عالم اور مصطفی بیا کے بتائے ہوئے پتے پہ پہنچ چکے تھے۔ وہ دونوں اندر آئے تو ایک لڑکی بھاگتی ہوئ انکے پاس آئ تھی۔ اور رازداری سے جھک کر مستفسر ہوئ تھی۔

” آپ لوگ بیا سے ملنے آئے ہیں ناں۔۔؟؟”

عالم نے سر کو اثبات میں جنبش دی۔ تو وہ چہکی تھی۔

” اندر آئیے ، اندر آئیے۔۔۔” وہ انکو اندر لے آئ تھی۔ اور ادھر ادھر ٹرن لیئے بغیر ہی سیدھا ان دونوں کو بائ کے کمرے میں لے آئ تھی۔ بیا اور الفت ادھر ان دونوں کی کال کا انتظار کر رہے تھے۔ پر انہیں کال وغیرہ کرنے کا تو موقع ہی نا ملا۔

” ارے آگئے آپ لوگ ، خوش آمدید۔۔۔” بائ نے پلو درست کرکے انہیں صوفہ پہ بیٹھنے کو کہا۔

” جی بیا کو بلا دیں۔۔” ان دونوں نے یک زبان ہوکر کہا۔

” آجائے گی وہ پر اسکو یہاں سے میں ایک ہی شرط پہ جانے دونگی۔۔” بائ نے مسکرا کر کہا۔

” کیسی شرط۔۔۔؟؟” مصطفی نے بے چینی سے پوچھا۔

” شرط یہ ہے کہ میں نے سنا ہے تمہاری میر صاحب تمہاری ایک دلکش ، خوبصورت جوان بہن بھی ہے۔۔۔؟” ابے نے بات کو سوالیہ انداز میں ادھورا چھوڑا۔

عالم مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا تھا۔ اسنے گہری سانس لیکر بائ کوتکا۔

” تو۔۔۔؟؟” عالم نے آخر کار ہمت جٹا کر اسکا اصل مقصد پوچھ ہی لیا۔

” تو یہ کہ اسے یہاں چھوڑ جاؤ اور بیا کو ساتھ لے جاؤ۔۔۔” بائ نے شاطرانہ انداز لیئے کہا۔

” کیا بکواس کر رہی ہیں آپ۔۔۔؟؟” عالم اور مصطفی دونوں ایک ساتھ ہی بھڑک اٹھے تھے۔

” بکواس نہی ہے۔ بیا کے یہاں سے نکلنے کی قیمت ہے۔ اگر تم لوگوں نے یہ ادا کردی تو میں بیا کو آزاد کر دونگی۔” بائ مسکرائ تھی۔ مصطفی بھڑک اٹھا تھا۔ اس سے پہلے وہ جذباتیت سے کام لیتا کچھ الٹا سیدھا کہتا۔ عالم نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر اسے روکا تھا۔

” ٹھیک ہے ہم ، سوچ کر بتائیں گے۔ یہ بہت بڑا فیصلہ ہے یوں اچانک نہی لے سکتے۔۔۔” عالم نے کھڑے ہوتے کہا۔

” ٹھیک ہے۔ پر یہ بات یاد رکھنا کہ کسی بھی قسم کی چالاکی بیا کے لیئے فائدہ مند ثابت نہی ہوگی۔۔۔” وہ انکو دھمکی دینا تو بلکل نہی بھولی تھی۔

” ہم سمجھ گئے۔ پلیز اسے کوئ نقصان مت پہنچائیے گا۔۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔ اور مصطفی کو لیکر نکل گیا۔

بائ نے شنو کو لیا اور بیا کے کمرے کی جانب گئ۔