Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 28)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

شعلہ کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ میر عالم کی سنگت میں بتایا ہر پل اسکی بند آنکھوں کے گرد لہرایا تھا۔ وہ لب کچلتی اپنی سسکیاں دبا رہی تھی۔ ماضی کے خیال اسکے حواس سن کر رہے تھے۔ شعلہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا۔ اسکی آنکھیں بند ہوئ تھیں۔ اور وہ وہیں زینوں پہ بے ہوش پڑی تھی۔

” مما۔۔۔ اب کیا ہوگا۔” بیا نے اپنے دونوں بازو اپنی ماں کے گرد باندھ کر پوچھا۔

” کچھ نہی ہوگا۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ مصطفی ادھر آؤ۔۔” اسکی ماں نے اسے اپنے ساتھ لگا کر بٹھایا تھا۔

گھر کا دروازہ دھڑ دھڑا رہا تھا۔ مصطفی گھبرایا سا اپنی ماں کے پاس آیا تھا۔

” گھبراؤ مت ، تم دونوں ، بس سب ٹھیک ہوجائے گا۔” انکی ماں نے دونوں کے گرد اپنے بازو لپیٹے تھے۔

ان دونوں بچوں کی آنکھوں میں خوف ہلکورے لے رہا تھا۔ رنگت تو انکی ماں کی بھی زرد پڑی تھی۔ پر انہیں اپنے بچوں کی خاطر اپنے حواس سنبھالنے تھے۔

” مما بابا کے جانے کے بعد سے یہ سب ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔؟” مصطفی نے سہمے ہوئے لہجہ میں پوچھا۔ تیرہ سالہ مصطفی اپنی چھوٹی بہن بیا کے مقابلے میں کافی سمجھدار تھا۔

” تم دونوں ادھر بیسمنٹ میں چھپ جاؤ۔۔۔” انکی ماں نے آٹھ کر کمرے میں پڑا ایک صوفہ اپنی جگہ سے گھسیٹنا شروع کیا تھا۔ مصطفی بھی آٹھ کر اپنی ماں کی مدد کرنے لگا۔

” مما آپ نے بتایا نہی کہ یہ لوگ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔۔” مصطفی نے اپنی ماں کے ساتھ صوفہ گھسیٹتے اپنا سوال دوبارہ دہرایا۔

” شش۔۔۔ خاموش۔۔۔ بیا ادھر آؤ ، مصطفی بہن کو لیکر نیچے جاؤ میں صوفہ واپس اپنی جگہ پہ کر دونگی تاکہ کسی کو شک نا ہو کہ یہاں۔ نیچے تم دونوں چھپے ہو۔” انکی ماں نے انہیں نیچے جانے کو کہا۔

مصطفی نے سر نفی میں ہلایا تھا۔

” مما ۔۔ ہم اکیلے نیچے نہی جائیں گے آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گی۔۔۔” مصطفی نے ضدی لہجہ میں کہا۔

” مصطفی ۔۔۔۔!!

خاموشی سے دونوں نیچے جاؤ۔۔” انکی ماں نے ذرا سختی سے کہا۔

” پر ماما۔۔۔” مصطفی نے کچھ کہنا چاہا۔ باہر سے یکدم مین دروازہ کھلنے کی آواز آئ۔ اور بہت سے قدموں کی چاپ کمرے تک آنے لگی۔ انکا رنگ خوف سے زرد پڑا تھا۔

” مصطفی اب ایک لفظ نہی نیچے جاؤ جلدی۔۔۔ بیا۔۔۔” انکی ماں نے ان دونوں کو نیچے بیسمنٹ میں بند کر دیا تھا۔ اور صوفہ گھسیٹ کر ادھر بیسمنٹ کے چھوٹے سے دروازے پہ کر دیا تھا۔

وہ خوف کے زیر اثر ایک کونے میں جاکر کھڑی ہوگئ تھیں۔ اور موبائل کان سے لگایا تھا۔ مقابل نے جھٹ انکا کال ریسیو کیا تھا۔

” عالم ۔۔۔۔ پلیز آجاؤ ، میرے بچوں کو بچا لو۔۔” انہوں نے جلدی سے کہہ کر کال کاٹ دی تھی۔

مصطفی نے نیچے جانے کے بجائے ، بیسمنٹ کے دروازے کو ہلکا سا کھولے رکھا۔ اور نیچے بیسمنٹ میں جاتے زینوں پہ کھڑا ، وہ جھری کی مانند کھڑے دروازے سے باہر کے تمام منظر دیکھ سکتا تھا۔

یکدم کمرے کا دروازہ زور دار آواز کے ساتھ کھلا تھا۔ انکی ماں نے اپنے چہرہ پہ دونوں ہاتھ دھرے تھے۔ اور خوف سے دیوار سے جاکر بلکل چپک کر کھڑی ہوگئ تھیں۔

اندر آنے والا شخص اپنی منچھوں کو تاؤ دیتا ، انکی ماں کے قریب آیا تھا۔

” کیا لگا تھا ، تجھے بچ جائے گی۔ تیرا شوہر جو مرنے سے پہلے میری ساری جائداد حکومت کے حوالے کر گیا۔ میرے سارے دھندے بند کروا دیئے۔ اب بدلہ لینے کا وقت آیا ہے۔ یہ چوہدری ایسا بدلہ لیگا۔ کہ سننے والوں کے وجود میری وحشت سے کانپ اٹھیں گے۔” وہ خونخوار لہجہ میں کہتا۔ ایک جناتی قہقہہ لگا گیا تھا۔ اسکے قہقہ کی آواز اس قدر بلند تھی کے کمرے کے در و دیوار کانپ اٹھے تھے۔

” دیکھو تمہیں خدا کا واسطہ ہے مجھے جانے دو۔۔۔” وہ سسکی تھیں۔

” ایسے کیسے جانے دوں۔۔۔ رانی ابھی تو تیرا شباب لوٹنا ہے۔۔۔۔اور۔۔۔” ایک زناٹے دار تھپڑ انکی ماں نے چوہدری کے دائیں گال پہ جڑا تھا۔

چوہدری خونخوار ہوتا۔ پے در پے انکی ماں کے کے رخسار پہ تھپڑ مڑنے لگا۔ مصطفی خوف آنکھیں مینچ گیا۔

” اب میں تجھے بتاؤں گا کہ چوہدری سے الجھنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ جیسے تیرے شوہر کو قبر میں اتارا تھا ناں۔۔۔ اس سے زیادہ بد تر موت تجھے دونگا۔” چوہدری نے آگے بڑھ کر انکی ماں کے جسم پہ پڑا لباس تار تار کر دیا تھا۔ انکی ماں اپنی عزت بچانے کو چلائ تھی۔ لوگوں کو اپنی مدد کے لیئے پکارا تھا۔ پر جیسے پورا گاؤں دن دہاڑے سو گیا تھا۔ یا پھر سب کا ضمیر ہی مر گیا تھا۔

” نہی۔۔۔ چوہدری۔۔۔۔ نہی خدا کا واسطہ ہے تجھے نہی۔۔۔” انکی ماں اپنے ارد گرد آپ نے بازو لپیٹتی سسکی تھی۔

” یہی۔۔۔ تڑپ ۔۔ یہی سسک مجھے چاہیئے تھی۔۔

” وہ سفاکی سے اونچی آواز میں کہتا۔ مزید اسکے آگے بڑھا تھا۔

اور پھر وہ ہوا۔ جو ہونا نہی چاہیئے تھا۔ چھوٹا سا مصطفی وہ تمام منظر دیکھتا۔ پھتر کا ہوگیا تھا۔ وہ اپنی ماں کے لیئے کچھ کر ہی نا سکا یہ ملال اسکے دل میں بس گیا۔

وہ چوہدری انکی ماں کی عزت انکی نظروں کے سامنے پامال کر گیا تھا۔ پر وہ دنوں کچھ نا کر سکے تھے۔ انکی ماں ایک کونے میں پڑی سسک رہی تھی۔ چوہدری نے انکی ماں کے بال مٹھی میں جکڑے اور اسے کسی سامان کی مانند گھسیٹنا شروع کیا۔ وہ چلا رہی تھیں۔ خوف سے کیونکہ وہ جانتی تھیں۔ کہ اب یہ شخص انہیں کس طرح زلیل کرنے والا ہے۔

” نہی مجھے یہاں سے باہر نا لیکر جاؤ ، تمہیں خدا کا واسطہ ہے مجھے اسقدر رسوا نا کرو کہ میری روح کو بھی چین نا آسکے۔۔” انکی ماں تڑپی تھی۔

” یہی تو میں چاہتا ہوں ، کہ عالمگیر کے پورے خاندان کو ، مرنے کے بعد بھی سکون میسر نا آئے۔” وہ شیطانی قہقہ لگاتا اسکے بال ایک جھٹکے سے چھوڑ گیا۔

انکی ماں کو چیل جیسی نظروں سے تکتا وہ شیطانیت سے مسکرایا۔ اور اپنی جیب سے پسٹل نکال کر ایک گولی انکی ماں کی ٹانگ پہ ماری ، بیا بھی زینوں پہ کھڑی اپنے بھائ کے ساتھ باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے کے خوف کے مارے وہ چیختی۔ مصطفی نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے چیخنے سے روکا۔

انکی ماں درد سے تڑپتی پیچھے کو سرک رہی تھی۔ انکے پیر سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ پوری فضا میں خون کی بدبو پھیل گئ تھی۔

وہ فرعونی قہقہہ لگاتا۔ ایک گولی انکے کندھے پہ مار گیا تھا۔ وہ چیخی تھیں۔ انکی چیخ دلسوز، دل دہلا دینے والی تھی۔

” خدا تمہیں غارت کرے ، تباہ ۔۔۔۔ ہوجاؤ تم۔۔۔” قرب کے باعث انکی زبان سے اس شیطان کے لیئے بد دعائیں نکلنے لگی تھیں۔

” کیا بتاؤں ، پہلے تمہارے شوہر کو ایسے تڑپتا دیکھا اب تمہیں۔۔۔ بتا نہی سکتا کتنی خوشی ، ہے مجھے۔ کس قدر برتری کا احساس میں محسوس کر رہا ہوں۔” وہ وقت کا فرعون بن گیا تھا۔

” نہی مجھے چھوڑ دو۔۔ ۔۔ اللہ۔۔” اسکی ماں زمین پہ سمندر کی مانند بہے خون پہ پیچھے سرک رہی تھی۔ پر جیسے ہی اسکی ماں کی پشت دیوار سے ٹکرائ۔ وہ بے ساختہ اپنے رب کو پکار گئیں۔

” اب تم کسی کو بھی پکار لو ، پر موت تمہارا مقدر ہے۔ اور تمہارے بعد تمہاری اولاد کی باری ہے۔ ایسے ہی تڑپا تڑپا کر تمہارے بچوں کو ماروں گا۔ اور تمہاری۔۔۔ بیٹی۔۔۔ اسکا مقدر تو تم سے بھی بدتر بنا دوں گا۔ سوچو جب وہ حسن کے بازار میں بک جائے گی۔ اور ہر شخص اسے منہ مار کر جھوٹا کر دے گا۔ وہ زندگی سے بیزار آجائے گی۔ موت کی بھیک مانگے گی۔ پر میں اسے موت نہی دونگا۔ وہ تڑپے گی۔ بلکل تمہاری طرح۔۔۔!!

پر اسے موت جیسا تحفہ نہی ملے گا۔” وہ خباثت سے کہتا اپنی ہی بات پہ مسکرایا تھا۔

” تم تو کیا تمہارا سایہ بھی میری بیٹی یا۔۔۔۔ میرے بیٹے کو چھو نہی سکتا۔” وہ درد کی شدت سے آنکھیں مینچتیں کسی بھپری ہوئ شیرنی کی مانند غرائ تھیں۔

” بہت بول لیا۔ اب تمہارا دنیا میں وقت ختم ہوگیا ہے۔” وہ جارہیت سے کہتا۔ انکے سینے میں کئ گولیاں اتار گیا تھا۔

پے در پے گولیاں سینے پہ لگنے کے باعث خون کے چھینٹے انکے چہرے پہ بھی آکر گرے تھے۔ اور یکدم انکا وجود بے جان ہوگیا تھا۔ مصطفی اور بیا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ وہ دونوں اپنی سسکیاں دبائے اس ظالم شخص کو دیکھ رہے تھے۔

اس شخص نے اپنے آدمیوں کو ان دونوں کو ڈھونڈنے کے لیئے ، پورے گھر میں چھوڑ دیا تھا۔ جب وہ دنوں نا ملے تو وہ سب انکی ماں کی لاش کو وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔

مصطفی اور بیا خوف کے زیر اثر وہاں سے اب بھی نا نکلے تھے۔ جب قریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہاں میر عالم آیا۔ میر عالم نے وحشت ناک نظروں سے اپنی عزیز از جان پھپھو کا حال دیکھا تھا۔ اور انکا برہنہ وجود دیکھ نظریں جھکا گیا تھا۔ بیڈ پہ پڑی بیڈ شیٹ اٹھا کر اسنے ان پہ ڈالی تھی۔ اور مصطفی اور بیا کو پکارا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اسے صوفہ کے پاس سے کھٹکٹانے کی آواز آئ تھی۔ میر عالم نے آگے بڑھ کر صوفہ کھسکایا۔ اور بیسمنٹ کا دروازہ کھولا۔ میر عالم نے شکر کا سانس لیا۔ اور ان دونوں کو باہر نکالا۔

” تم ۔۔۔ تم دونوں ٹھیک ہو۔۔” عالم نے فکر مندی سے پوچھا۔

” ہاں ہم ٹھیک ہیں۔۔۔” مصطفی نے ہی ہمت کرکے کہا۔

بیا مصطفی کا بازو مضبوطی سے پکڑے اپنی ماں کو سہمی ہوئ نظروں سے تک رہی تھی۔ میر عالم نے پھپھو کا خون میں لپٹا وجود اٹھایا تھا۔ اور ان دونوں کو ساتھ لیتا گاڑی میں بٹھایا تھا۔ وہ جلد از جلد ان سب کو یہاں سے لیکر نکل جانا چاہتا تھا۔ اور وہ رش ڈرائیونگ کرتے وہاں سے نکل گئے تھے۔

میر عالم آج پھپھو کے گھر ہی آرہا تھا۔ جب راستے میں پھپھو کی کال آئ۔ اور وہ اپنی گاڑی کی اسپیڈ مزید تیز کرتا وہاں پہنچا تھا۔

تقریباً ایک گھنٹے سے وہ لوگ سفر پہ گامزن تھے۔ مصطفی نے میر عالم کو دیکھ کر گاڑی روکنے کو کہا۔

میر عالم نے پریشانی سے پوچھا۔

” مصطفی خیریت۔۔۔؟؟

ابھی ہم نہی رک سکتے ، اگر رکنا ضروری ہے تو رک جائیں گے۔ نہی تو رکنا درست نہی۔۔”

” مجھے واشروم آرہا ہے۔” مصطفی نے بیچارگی سے کہا۔

” اوکے میں آگے روک دیتا ہوں۔” میر عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

اور کچھ دیر بعد انہوں نے گاڑی روکی۔ مصطفی اور میر عالم واشروم جانے کے لیئے اترے تھے۔

” بیا۔۔۔ تمہیں واشروم جانا ہے۔۔” میر عالم نے کھڑکی میں جھک کر پوچھا۔

اسنے تھوک نگل کر سر نفی میں ہلایا۔

” اوکے پھر تم یہاں ، گاڑی سے مت نکلنا اوکے ہم جلدی آتے ہیں۔” میر عالم نے اسے گاڑی سے باہر نا نکلنے کی تاکید کی اور مصطفی اور عالم وہاں سے گزر گئے۔

بیا تنہا گاڑی میں بیٹھی تھی۔ جب کسی آدمی نے کھڑکی بجائ۔ بیا نے خوفزدہ نظروں سے اس آدمی کو دیکھا۔

” وہ ایک آدمی اور لڑکا تمہارے ساتھ ہیں ناں ، وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔” بیا نے بلکل ذرا سا شیشہ نیچے کیا ، تو اس آدمی کی آواز اندر آئ۔

بیا نے اب بھی اسے خوفزدہ نظروں سے تکا۔

” وہ جو تمہارے ساتھ آدمی ہے۔ وہ کہہ رہا ہے یہاں خطرہ ہے چلو۔ وہ تمہیں بلا رہے ہیں۔۔” اس شخص بڑے ہی نرم لہجہ میں کہا۔

بیا خطرے کا سن کر بنا تامل کیئے دروازہ ان لاک کر گئ۔ وہ جیسے ہی اتری اس شخص نے اسکے سر اور چہرے پہ سیاہ کپڑا ڈالا۔ بیا چلائ۔ عالم کو بیا کی آواز آئ۔ تو وہ بھاگتے ہوئے وہاں آئے۔ مصطفی بھی انکے ساتھ تھا۔

پر کوئ شخص اسے کندھے پہ ڈالتا ، وہاں سے بھاگا تھا۔ عالم مصطفی کو لیکر جلدی۔سے گاڑی میں بیٹھا تھا۔ پر وہ لوگ بیا کو لیجا چکے تھے۔ عالم نے انکا بہت پیچھا کیا۔ پر وہ بیا کو بچانے میں ناکام رہے۔

اس دن پھپھو کی ضد پہ بیا اور عالم کا نکاح بھی ہوچکا تھا۔ عالم مصطفی کو لیکر گھر آگیا تھا۔ اور پھپھو کو پھپھا کی قبر کے برابر میں دفنا دیا تھا۔

سالوں پہ سال بیتتے جا رہے تھے۔ پر بیا کے ملنے کا کوئ نام و نشان نہی تھا۔

اب تو عالم اور مصطفی اسکے ملنے کی امید بھی چھوڑ گئے تھے۔ اور زندگی میں آگے بڑھنے لگے تھے۔

☆☆☆☆☆

” بیا کیا ہوا ۔۔۔؟؟

اٹھو آنکھیں کھولو۔۔۔ بیا ۔۔۔ بیا۔۔۔” شہلا بیا کے گال تھپتھپا رہی تھی۔

بیا نے مندی مندی آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائ۔ وہ جب بے ہوش ہوئ تھی تب وہ زینوں پہ پڑی تھی۔ اور اس وقت وہ اپنے کمرے میں اپنے بستر پہ تھی۔

” کیا ہوا تھا تمہیں۔۔؟؟” شہلا نے اسکا ہاتھ تھامتے فکر مندی سے پوچھا۔

” پتا نہی۔۔ بس ذرا سے چکر آگئے تھے۔ تو میں وہاں زینوں پہ بیٹھ گئ۔۔۔” بیا نے نقاہت سے کہا۔

” تم اپنا بلکل خیال نہی رکھتی۔ ایک تو میں بھی اپنے میں ہی لگ گئ تھی۔ اس وقت تمہیں توجہ کی ضرورت ہے۔ اور میں بس۔۔۔” شہلا کو افسوس ہوا۔

” اٹس اوکے شہلا ایسی حالت میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ اٹس اوکے۔۔۔!!” اسنے شہلا کو تسلی دی۔

شہلا اسکی بات پہ ہلکا سا مسکا کر رہ گئ تھی۔

” جوس بنوایا ہے ، تمہارے لیئے اٹھو اور پیو۔۔۔” شہلا نے کہتے ساتھ ہی سائڈ ٹیبل پہ پڑا جوس کا گلاس اٹھایا تھا۔ بیا منہ بناتی اٹھی تھی۔

” یار دل نہی کر رہا میرا بلکل۔۔۔” بیا نے نخریلے پن سے کہا۔

” زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہی ، یہ میرے بھانجے اور بھانجی کے لیئے ہے۔۔۔” شہلا نے اسے گھورا۔

” ایک ہی بے بی ہے ، کوئ دو ، دو نہیں ہیں۔۔” بیا اسکی بات پہ مسکرائ تھی۔

” یار میں تو چاہتی ہوں۔ دو دو بے بیز ہوں۔ اور میں دونوں کے ساتھ خوب سارا کھیلوں۔۔” شہلا نے چہک کر کہا۔

” پاگل نا ہو تو۔۔۔” بیا نے اسکی بات پہ آنکھیں دکھا کر کہا۔ اور جوس کا گلاس تھامتی لبوں سے لگا گئ تھی۔

” شہلا ایک بات پوچھوں۔۔” بیا نے نگاہیں جھکا کر بڑے ہی پر سوچ انداز میں پوچھا۔

” اتنا تامل کیوں کھا رہی ہو۔ بلا جھجک پوچھو۔۔۔” شہلا نے بیڈ پہ گرتے کہا۔

” تم اسفند کو پسند کرتی ہو۔۔؟” بیا کے سوال پہ شہلا نے آنکھیں گھما کر اسے دیکھا تھا۔

” تمہیں لگتا ہے کہ میں اس میں دلچسپی لے سکتی ہوں۔۔۔؟؟” سوال پہ سوال داغا گیا۔

” ہاں ۔۔۔ اتنا بھی برا نہی۔۔ اگر انسانوں والے ہولیہ میں آئے تو ، قابل قبول ہے۔۔” بیا نے کندھے آچکا کر کہا۔

” پر مجھے نہی پسند وہ۔۔۔” شہلا نے منہ بنا کر کہا۔ لبوں کی تراش میں ایک شرمیلی سی مسکان مچلنے کو بے تاب تھی۔

اسکے ذکر پہ شہلا کے چہرہ کا رنگ ہلکا سا گلابی ہو گیا تھا۔ بیا نے اسے بغور دیکھا۔ اور سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا۔

” چلو تمہیں نہی پسند تو پھر کیا ، کیا جا سکتا ہے۔۔۔” بیا نے مصنوئ افسوس سے کہا۔

بیا کی بات پہ شہلا کا رنگ یکدم پھیکا پڑا تھا۔ اور وہ بیا کو آنکھیں موند کر سوتا دیکھ منہ بنا کر رہ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

مصطفی رات دو بجے کے قریب گھر واپس آیا ، اسکی چال میں سستی سی تھی۔ جب وہ کمرے میں آیا تو نازنین ٹی وی آن کیئے بیٹھی۔ کوئ ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔ مصطفی کو دیکھ کر وہ مسکرائ تھی۔ مصطفی بھی دھیمے سے مسکراتا اسکے بلکل قریب بیڈ پہ آکر ڈھے گیا تھا۔ نازنین نے اٹھنا چاہا۔ پر وہ اسکا ہاتھ تھامتا ، اپنے لبوں سے لگا گیا۔ نازنین نے لجا کر اسے تکا۔ اور پھر ٹی وی کی آواز بند کرتی اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اس سے مستفسر ہوئ۔

” کیا ہوا ، بھائ نے کیوں بلایا تھا؟؟” نازنین نے نرم سے لہجہ میں پوچھا۔

” شعلہ کا پتا چل گیا پے۔ اسی سے ملنے گئے تھے۔۔۔” مصطفی نے سر اٹھا کر نازنین کو تکا۔

” کیا سچ میں اسکا پتہ چل گیا ہے۔ کہاں ہے وہ۔ اور اسنے بھائ کے ساتھ ایسا کیوں کیا مصطفی۔۔۔؟؟” نازنین نے پے در پے کئ سوالات داغے۔

” ابھی کچھ پتا نہی۔ تم گھبراؤ مت ، سب ٹھیک ہوجائے گا۔” مصطفی نے اسے کھینچ کر اپنے بازو پہ لٹایا تھا۔

” مصطفی ۔۔۔ بھائ کب ٹھیک ہونگے۔۔۔” وہ اسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی اداسی سے مستفسر ہوئ۔

” بہت جلد ۔۔۔۔ تم بس انکے لیئے دعا کیا کرو۔۔” مصطفی نے اسکے ماتھے پہ لب دھر کر کہا۔

نازنین گہری سانس خارج کرتی پلکوں کو دھیرے سے اثبات میں جنبش دے گئ تھی۔ مصطفی اسکو دیکھ کر مسکرایا تھا۔

” تم جانتی ۔۔۔ ہو تمہارا چہرہ مجھے ساری زندگی میں کبھی اچھا نہی لگا۔۔۔” مصطفی مسکرا کر گویا ہوا۔

” اچھا تو پھر دور رہو ناں اتنا چپک کیوں رہے ہو۔۔۔” وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے دور دھکیلنے لگی تھی۔ اور وہ قہقہہ لگاتا اسکے گرد اپنے مضبوط بازوؤ کا حصار باندھ رہا تھا۔

” یار یہ تو میں ، تمہیں پہلے کی بات بتا رہا ہوں۔۔۔” مصطفی نے اسکے دونوں ہاتھ قابو کرکے کہا۔

” اب میں تمہیں کیسی لگتی ہوں۔؟؟” نازنین مصطفی کو خشگمین نظروں سے گھورتی مستفسر ہوئ۔

” اب ۔۔۔ تو تم مجھے اتنی پیاری لگتی ہو کہ۔۔۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے تمہیں کچا چبا جاؤں۔۔۔” مصطفی نے کہتے ساتھ ہی اپنے دانت ہلکے سے اسکی ٹھوڑی پہ دھرے تھے۔

وہ اسکے لمس پہ مسکرا کر آنکھیں موند گئ۔ پر شرارت کرنا وہ اب بھی نا بھولی تھی۔

” ہاں ویسے ہی ناں۔۔۔ جیسے شادی کی پہلی رات تمہارے مجھے کچا چبا کر کھا جانے کے ارادے تھے۔” وہ مزاقاً گویا ہوئ تھی۔

مصطفی اسکی ٹھوڑی پہ محبت بھرا لمس چھوڑتا پیچھے ہٹا تھا۔ اور خفگی بھری نظروں سے نازنین کو تک کر گویا ہوا۔

” میں اسکے لیئے شرمندہ ہوں۔۔۔” مصطفی کو سیریس ہوتا دیکھ ، وہ لب دبا کر مسکرائ تھی۔

” میں بھی سیریس ہوں۔ اور اب میں نے سوچ لیا ہے ہر بات کے بدلے لوں گی۔ اور گن گن کر لوں گی۔۔” نازنین نے کہتے ساتھ ہی لرزتی پلکوں سمیت اسکی گردن میں منہ دیتے اپنے دانت پوری شدت سے اسکی گردن پہ گاڑھے تھے۔ وہ بنا اف کیئے مسکرایا تھا۔

” اگر ایسے بدلے لوگی۔ تو اس بندہ نا چیز کے تو مزے لگ جائیں گے۔۔۔” وہ اسے خود میں بھینچتا مسکرایا تھا۔

” یہ تو صرف ٹریلر تھا ، میرے بدلے بہت خطر ناک ہوتے ہیں۔۔” وہ لب دبا کر گویا ہوئ۔

” مجھ سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے۔۔۔” مصطفی نے اپنی بھاری ٹانگ اسکے وجود پہ ڈال کر اسے مکمل طور پر اپنی قید میں لے لیا تھا۔ وہ آنکھیں موندے اسکی بات پہ کھلکھلائ تھی۔

☆☆☆☆☆