Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 19)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
حیدر اسے دفتر سے دور اتار کر خود سیدھا دفتر آیا تھا۔ وہ جیسے ہی اپنے آفس میں گھسا۔ سامنے اسکا دوست اسفندیار بیٹھا تھا۔
” تم کب آئے ۔۔۔؟” حیدر نے اسکے کندھے پہ مکا جڑ کے پوچھا۔
” ابھی بس تم سے تھوڑی دیر پہلے۔۔” اسفند نے مسکرا کر جوابا اسکے کندھے پہ مکا جڑا۔
” میں ترکی سے واپسی کا پوچھ رہا ہوں۔۔۔؟؟” حیدر نے اسے گھورا۔
” ہاں وہاں سے تو کب کا واپس آچکا ہوں۔ پر کچھ مصروفیت تھی۔ اس وجہ سے تمہارے پاس نہی آسکا۔” اسفند نے ریلیکس ہوکر بیٹھتے جواب دیا۔
” ایسی کونسی مصروفیت تھی تمہیں۔” حیدر نے تفتیشی انداز میں اسے تکا۔
” بس ہے ایک مصروفیت۔” وہ قہقہ لگا کر گویا ہوا۔
” تھی۔۔ بھی نہی۔۔ ہے۔۔۔!!” حیدر نے اچھنبے سے کہا۔
” ہاں اچھا چل چھوڑ تو اپنی بتا۔ اس دن کال پہ تو کچھ کانٹریکٹ میرج کا بتا رہا تھا۔” اسفند نے اپنی بات رفع دفع کی۔
” ہاں۔۔۔ کر لی میں نے کنٹریکٹ میرج۔۔۔” حیدر نے اپنا کوٹ اتار کر پیچھے ہینگ کیا۔
” سچ ۔۔۔۔!! کس سے کی۔۔۔؟” اسکا اشتیاق سے برا حال تھا۔
” ملواتا ہوں تھوڑی دیر صبر کرو۔۔۔” حیدر نے نرمی سے کہا۔
اس سے پہلے کہ اسفندیار کوئ اور سوال کرتا وہ آفس کا دروازہ کھول کر سہمی سہمی اندر آئ تھی۔ اسفند نے ایک نظر حیدر اور پھر ساوری کو اشتیاق سے تکا تھا۔ ساوری کسی اور کو آفس میں دیکھ سکون کا سانس لیتی اپنی جگہ پہ جاکر بیٹھی تھی۔ اور اپنے بیگ سے جلدی جلدی پلینر نکال کر اسپہ پین گھسیٹنے لگی تھی۔ اسفند نے حیدر کو تکا۔ جو آنکھوں میں نرم گرم سے تاثرات لیئے اسے تک رہا تھا۔ اسفند نے حیدر کو دیکھ کر بھنوئیں آچکائ تھیں۔
” اوئے ۔۔۔ مجنوں۔۔ یہی ہے وہ۔۔؟” اسفند نے اسکی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا کر کہا۔
حیدر نے سر دھیرے سے اثبات میں ہلایا۔
” یہ مان کیسے گئ کنٹریکٹ میرج کے لیئے۔۔؟”اسفند نے ساوری کو بغور دیکھ کر پوچھا۔
” یہ ایک لمبا قصہ ہے۔” حیدر نے پیپر وڈ گھما کر بتایا۔
” اوکے۔۔۔” اسفند نے سمجھنے والے انداز میں کہا۔
” ساوری۔۔۔” حیدر نے اسے مخاطب کیا تو ساوری نے بوکھلا کر اسے تکا۔
” جی۔۔۔!!” اسکی سہمی سی آواز برآمد ہوئ۔
” یہ میرا دوست اسفند ہے۔ اور یہ میری وائف ساوری۔۔” حیدر نے ساوری کو اسفند سے متعارف کروایا۔ اور اسفند کو ساوری سے۔ اسکے میری وائف کہنے پہ ساوری نے رخ واپس اپنے کام کی جانب مبذول کر لیا۔ نا ہی اسفند کو سلام کیا۔ نا ہی مزید کوئ بات۔ حیدر سر کو نفی میں جنبش دے کر رہ گیا تھا۔
” یہ تو در فشاں سے بھی زیادہ جلالی طبیعت کی مالک ہے۔” اسفند نے برا منا کر کہا۔
” ایسا کچھ نہی۔” حیدر اسکی بات پہ ہنسا تھا۔
” ساوری ۔۔ دو کپ کافی۔۔” حیدر نے سنجیدگی سے اسے حکم صادر کیا۔ ساوری دھیرے سے سر ہلاتی کافی بنانے چلی گئ۔ کچھ دیر بعد کافی لیکر آئ۔ اور ان دونوں کو سرو کی۔ اور اپنی جگہ پہ جاکر بیٹھ گئ۔ اسفندیار کافی دیر بیٹھا حیدر سے باتیں کرتا رہا اور پھر تقریبا دو گھنٹے بعد آٹھ کر چلا گیا۔ تب تک ساوری اپنا کام بھی ختم کرچکی تھی۔ اور شکر کا سانس لیتی حیدر کے پاس پلینر لیکر آئ تھی۔
” آج کا شیڈول۔۔۔ ” ساوری نے بڑے کانفیڈینس سے کہا۔
” بتائیے۔۔!” حیدر نے بغور اسے تکتے کہا۔
ساوری جو پڑھنے ہی لگی تھی۔ اسکو خود کو تکتا پاکر رکی تھی۔
” آپ۔۔ پلیز ایسے مت دیکھیں۔” اسنے الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
” پھر کیسے دیکھوں۔۔؟؟” حیدر نے بھنوئیں آچکا کر استفسار کیا۔
” آپ ادھر ادھر دیکھ لیں۔ پر یوں مجھے نا دیکھیں۔” حیدر نے اسکی بات پہ اشتیاق سے اسے تکا تھا۔ اور پھر سر ہلاتا پیپر وڈ گھمانے لگا تھا۔ اور اپنی توجہ بھی اسی جانب مبذول کر لی تھی۔
وہ دھیرے دھیرے اسے تمام میٹینگز کے حوالے سے اسے آگاہ کرنے لگی تھی۔
” بس۔۔۔ آج ۔۔ کے لیئے اتنا ہی۔” ساوری نے پلینر بند کرتے گہری سانس لیکر کہا۔
” مہم ٹھیک ہے۔۔۔” حیدر نے اثبات میں سر ہلایا۔
” سنیئے۔۔۔” ساوری نے پلینر کو مضبوطی سے تھام کر حیدر کو پکارا۔
” سنائیے۔۔۔” حیدر مکمل طور پہ اسکی جانب گھوما تھا۔
” آج میں۔۔۔ اپنے گھر چلی جاؤں۔۔ کنٹریکٹ بھی تو پورا ہوگیا ناں۔۔” اسکے چہرے پہ چھائ معصومیت کو حیدر نے بغور تکا تھا۔
” کنٹریکٹ۔۔۔!! وہ کیسے۔۔؟؟” حیدر نے پوچھا۔
” ۔۔وہ ۔۔ کل رات۔۔ آپ۔۔۔ میں۔۔ اور آپ۔۔” وہ سرخ چہرے سمیت سٹپٹا کر گویا ہوئ۔
” ہاں۔۔ میں اور آپ ۔۔۔ کل رات میں۔۔ تمہاری بات سمجھ گیا۔ پر کنٹریکٹ میں لکھا تھا۔ بچہ ہونے کے بعد کنٹریکٹ ختم ہوگا۔” حیدر نے اس کم علم لڑکی کی لاعلمی پہ افسوس کیا۔
” ہاں۔۔۔ پر اب ۔۔۔ ہو جائے گا ۔۔۔ ناں بے بی۔۔” ساوری کے چہرے سے مانوں خون ٹپکتے کو تھا۔
” بہت ہی بھولی ہو۔۔۔ اتنا آسان تو نہی بے بی ہوجانا۔ اسکے لیئے ابھی ہم دونوں کو دل لگا کر بہت محنت کرنی پڑے گی۔ ایسے ہی تھوڑی ہوجاتا ہے بےبی۔۔۔ ہاں۔۔ اگر تمہارا لک اچھا ہوا تو شاید فرسٹ شاٹ میں ہی سکسسر لگ گیا ہو۔۔۔” حیدر نے اسکے چہرے پہ بکھرے رنگوں کو دیکھ شوخی سے کہا۔
ساوری کے گال تپنے لگے تھے۔ اب اتنی بھی بھولی اور بیوقوف نہی تھی کہ اسکی باتوں کا مطلب نا سمجھتی۔
” میں۔۔ کام ۔۔۔ کر لوں۔۔” وہ گھبرا کر اسکے پاس سے ہٹی تھی۔ اور اپنی جگہ پہ جا کر بیٹھی تھی۔
” ہاں۔۔۔ جاؤ جاؤ ۔۔ کام کرو۔۔۔ یہ باتیں آرام سے رات میں کریں گے۔” حیدر نے آنچ دیتے لہجہ میں کہا۔
ساوری کے ہاتھ پیر بے جان ہوئے تھے۔ وہ بوکھلائ بوکھلائ سی اپنا کام کرنے لگی تھی۔ اور حیدر اپنے کام کی جانب متوجہ ہوگیا تھا۔
☆☆☆☆☆
وہ سب ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔ جب نازنین اپنا سامان لیئے اندر داخل ہوئ تھی۔ میر عالم اسے اپنے گھر میں واپس دیکھ کر خوشی سے جھوم کر اٹھے تھے۔ اور اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
” میری گڑیا۔۔۔ واپس آگئ۔۔ مجھے یقین نہی آرہا۔” میر عالم نے اسکے ماتھے پہ عقیدت بھرا بوسہ دیا۔
” آپکی یاد آرہی تھی اسی لیئے واپس آگئ۔۔۔” نازنین نے نم آنکھوں سمیت اپنے عزیز از جان بھائ کے گرد بازو لپیٹے تھے۔
” میرا بچہ۔۔۔!!” وہ اسپہ نہال ہوئے تھے۔
” ناشتہ کیا ہے میری گڑیا نے۔۔؟” میر عالم نے اسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حالے میں گھیرے پوچھا۔
” جی ناشتہ تو مما کے ساتھ کر کے آئ ہوں۔” وہ مسکرائ تھی۔
” چلو پھر جاؤ اپنا سامان سیٹ کرواؤ واپس۔۔۔ ٹھیک ہے۔” میر عالم نے شفقت سے کہا۔
” ہمم۔” وہ دھیرے سے اثبات میں سر ہلاتی۔ مصطفی پہ بنا ایک نظر ڈالے اوپر چلی گئ تھی۔ شعلہ آج ڈائیننگ ٹیبل پہ موجود نہی تھی۔
” میں ناشتہ لیکر اوپر جا رہا ہوں۔ تم تھوڑی دیر میرا انتظار کرو۔۔ اوکے۔۔” میر عالم نے مصطفی کو ناشتہ کرتے دیکھ کہا۔ مصطفی نے دھیرے سے سر ہلایا۔ تو میر عالم ناشتے کی ٹرے تھامے اوپر آئے تھے۔ شعلہ کمبل ناک منہ تک لپیٹے سو رہی تھی۔ میر عالم نفی میں سر کو جنبش دیتے اسکے پاس آئے تھے۔
” شعلہ۔۔۔ تم ابھی تک ۔۔۔ سو رہی ہو۔۔؟؟”۔ حیدر نے اسکا کندھا ہلا کر اس سے پوچھا۔
” میری طبیعت بلکل ٹھیک نہی ہے۔ پلیز مجھے تنگ نا کرو۔۔!!”اسکی بھاری آواز کمبل سے برآمد ہوئ۔
میر عالم نے جھٹ اسکے اوپر سے کمبل ہٹایا تھا۔
” کیا ہوا درد ہو رہا ہے۔۔؟” میر نے اسکے ماتھے اور گال پہ ہاتھ دھر کر پوچھا۔
” نہی۔۔۔ مجھے درد نہی ہوتا۔۔” آواز آنسوؤں کی وجہ سے بھاری ہو رہی تھی۔
عالم نے اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا تھا۔ اور دھیرے دھیرے اسکے بال سہلانے لگا تھا۔
” اٹھو ناشتہ کرو۔ پھر میں تمہیں ٹیبلٹس دونگا تاکہ تم جلدی جلدی ٹھیک ہوجاؤ۔” عالم نے نرم سے لہجہ میں کہا۔
” نہی۔۔۔ مجھے ناشتہ نہی کرنا۔ نا ہی گولی کھانی ہے۔۔” وہ کسمسائ تھی۔ عالم اسکی نڈھال طبیعت دیکھ کر اچھا خاصہ پریشان ہوا تھا۔
” ناشتہ تو کرنا پڑے گا۔۔۔ اٹھو۔” میر نے اسے اٹھا کر تکیوں کے سہارے بٹھایا تھا۔
وہ سیدھی بیٹھتی میر عالم کے کندھے پہ سر رکھ کر اسکے بازو کے گرد اپنے دونوں ہاتھ لپیٹ گئ تھی۔
” دو منٹ کے لیئے اٹھنے دو۔ ٹیبل پہ سے ناشتہ اٹھا لوں۔۔۔” عالم نے اسکے بالوں سے اٹھتی مدہوش کن خوشبو کو اپنے اندر اتارا تھا۔
” نہی ۔۔۔ بس تم میرے پاس رہو۔۔” اسکا لہجہ ضدی تھا۔
” میں تمہارے پاس ہی ہوں۔ بس ادھر سے ناشتہ اٹھا کر ادھر بیڈ پہ تمہارے پاس لانے تک کتنا ٹائم لگے گا۔ سیکنڈ بھی نہی لگے گا۔” عالم نے اسے پچکارا۔
” نہی۔۔۔۔” وہ ضدی لہجہ میں کہتی اسکے بازو پہ اپنی گرفت مزید سخت کر گئ تھی۔
عالم نے نفی میں سر ہلاتے انٹرکام کیا تھا۔ کچن کے اسٹاف نے کال اٹھائ تھی۔
” ذرا اوپر آئیے۔ اور مصطفی سر سے کہیئے کے وہ بھی ذرا اوپر آجائیں۔۔” میر عالم نے کہتے ساتھ ہی وائر لیس انٹر کام کو سائڈ ٹیبل پہ واپس دھرا تھا۔
” تم آج کہیں نہی جاؤ گے۔” وہ اسکے بازو پہ سر ٹکائے نحیف سی آواز میں حکم صادر کر رہی تھی۔
” جو حکم آپکا ملکہ عالیہ۔۔” عالم نے اپنا بازو اسکی ہاتھوں کی گرفت سے نکل کر اسکے گرد اپنا بازو باندھا تھا۔ وہ اسکے سینے پہ سر رکھتی مزید اسکی آغوش میں چھپی تھی۔
کمرے کا دروازہ ناک ہوا تو۔ مصطفی اور کچن اسٹاف کا ایک ممبر نمودار ہوا۔
” مصطفی سامنے کا منظر دیکھ ایک پل کو پزل ہوا۔ اس سے پہلے کے وہ نکل کر واپس چلا جاتا۔ عالم نے اسے مخاطب کیا۔
مصطفی پلیز سب سے پہلے ہمارے فیملی ڈاکٹر کو بلاؤ۔۔۔ پھر پارٹی کے دفتر میسج کردو کہ آج شیرازی۔۔۔ اور خوشحال سارا سب کچھ اکیلے ہی سنمبھال لیں۔” عالم کے حکم پہ مصطفی نے دھیرے سے سر کو اثبات میں جنبش دی تھی۔ اور کمرے سے نکل کر زینوں کے پاس کھڑے ہوکر کال ملائ۔
” آپ ذرا ناشتہ وہاں سے اٹھا کر ادھر لے آئیں۔۔ ” اسنے کچن اسٹاف ممبر سے کہا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی۔ ناشتہ کی ٹرے انکے پاس بستر پہ دھر گئ تھی۔ میر عالم نے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتی وہاں چلی گئ۔
” چلو بس سیدھے ہو کر بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔” میر عالم نے اسے سیدھا بٹھایا۔
شعلہ کا چہرہ تکلیف کے باعث زرد پڑ رہا تھا۔
” جوس۔۔” عالم نے جوس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگایا۔ اسنے ذرا سا پیا۔ اور نقاہت سے واپس اسکے سینے پہ سر دھر گئ۔
” تھوڑا سا اور پی لو۔۔” عالم نے اسکا سر اٹھا کر کہا۔
وہ نفی میں سر ہلاتی واپس ویسے ہی اسکے سینے پہ سر رکھ کر اسکے گرد اپنے بازو باندھ گئ تھی۔ میر عالم کے ہونٹوں پہ آسودہ سی مسکراہٹ در آئ تھی۔
وہ بھی اپنے بازو اسکے گرد چاہت سے باندھ گئےتھے۔
☆☆☆☆☆
مصطفی سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا۔ موبائل کان سے لگائے وہ پارٹی آفس کے کسی میمبر سے بات کر رہا تھا۔ بات کرتے کرتے وہ دھیرے دھیرے زینے اترنے لگا تھا۔ جب نیچے سے اوپر کی جانب آتی نازنین سے اسکا زبردست تصادم ہوا۔ اس سے پہلے کے نازنین اپنا آپ نا سنبھالتے ہوئے زینوں پہ ڈولتی ہوئ زمین بوس ہوتی۔ مصطفی نے اسے کمر سے تھام کر گرنے سے بچایا تھا۔ وہ اسکی بانہوں میں قید خوف سے مصطفی کو تک رہی تھی۔ اسکا چہرہ مصطفی کی قربت میں زرد پڑچکا تھا۔ مصطفی نے گہری نگاہ اسکے گھبرائے ہوئے وجود پہ ڈالی۔
نازنین کی آنکھیں خوف کے باعث مینچی ہوئ تھیں۔
” اتنا خوف آنے لگا ہے مجھ سے۔۔” وہ اسکے کان کے پاس جھکتا۔ دھیمی سرسراتی آواز میں سرگوشی کرتا اسے مزید خوف زدہ کرگیا تھا۔
” کچھ تو کہو۔۔۔ اب میری وحشت اتنی بھی نہی کہ تم یوں کپکپاتی رہو۔” مصطفی نے اسکے گال پہ اپنی ناک دھیرے سے رگڑی تھی۔ نازنین نے بند آنکھوں کو مزید پوری شدت سے مینچا تھا۔ نازنین کے نازک ہاتھ جو مصطفی کے کندھے پہ پڑے تھے۔ وہ مٹھیوں کی صورت قید ہوچکے تھے۔ نازنین کی سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں تھیں۔
” گئ کیوں تھی۔ تم ۔۔۔ ہمم۔۔” وہ ویسے ہی اسکے گال پہ اپنی ناک رگڑتا بہکے ہوئے لہجہ میں گویا ہوا۔
” مص۔۔۔ مصطفی۔۔۔ پلیز۔۔۔” وہ اتھل پتھل ہوتی سانسوں سمیت اپنا چہرہ اس سے دور کرنے لگی۔
مصطفی نے آنکھیں کھول کر خمار آلود نظروں سے اسے تکا۔ جو خوف سے کپکپاتی آنکھیں مینچے کھڑی تھی۔ مصطفی دھیرے سے اسکے نازک لبوں کے قریب آیا تھا۔ خمار آلود نظروں سے وہ کئ لمحوں تک اسکے نازک تھرتھراتے لبوں کو تکتا رہا۔ اس سے پہلے مصطفی اسکے ہونٹوں پہ کوئ گستاخی سرزد کرتا۔ مصطفی کے موبائل کی چنگھاڑتی آواز اسے ہوش میں لائ تھی۔ مصطفی اسے خود سے دور کرتا اپنا موبائل جیب سے نکال کر کال ریسیو کرتا زینے تیزی سے اتر گیا تھا۔ نازنین بے جان ہوتے وجود کو گرنے سے بچانے کے لیئے ریلنگ کا سہارا لیکر کھڑی ہوئ تھی۔ اسکا ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پہ پڑا تھا۔ اسکا دل بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا۔
☆☆☆☆☆
