Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 10)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

ولیمہ ختم ہوا۔ میر عالم اور شعلہ اپنے کمرے میں آئے تھے۔ شعلہ نے گھستے ہی تمام تام جھام سے اپنی جان چھڑوائ تھی۔ چینج کرکے ہلکی سی سیاہ کرتی اور کھلا سیاہ رنگ کا ہی پلازو پہنے وہ بیڈ پہ آکر بیٹھی تھی۔ میر عالم نے اسے ایک نظر تکا تھا۔ جس نے اپنے تمام بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا۔ اور موبائل پہ لگی شاید کسی کے میسج پڑھ رہی تھی۔ کچھ لمحوں بعد اس کے موبائل پہ کال آنے لگی تھی۔ اسنے کال ریسیو کرکے موبائل کان سے لگایا تھا۔

” ہاں بھونک۔۔” اسنے بیزاریت سے کہا۔

عالم نے اسے گھوراتھا۔

” شعلہ جی۔۔۔۔ غصہ کیوں ہوری ہو. ابھی صرف اگلی پارٹی سے ہم نے بات کی ہے ابھی مال آگے بیچا تھوڑی ہے۔” بائ نے منہ میں پان دبائے پھنسے ،پھنسے لہجہ میں کہا۔

” یہ میرا مسئلہ ایچ نہی ہے۔ میں نے تیرے کو پہلے ہی کہہ دیا تھا. کہ اگلا مال میرا ہی ہے۔ پر تو سالی دو نمبر عورت۔ ایک زبان تو تیری ہے ہی نہی۔ اب دیکھ شعلہ کا تو ہر کام کرنے کا اپنا ایک فارمیٹ ہے۔ اگر یہ مال میرے کو نہی ملا ناں تو ۔ تو دیکھ لیو۔ پھر مجھ سے گلہ نا کریو ” شعلہ نے تڑ تڑ کرتے ٹپوی لہجہ اپنا کر کہا۔

میر عالم اسکے بات کرنے کے انداز پہ غش کھا کر گرنے کے قریب تھا۔

” ارے خفا نا ہو یہ مال ، تیرا ہی ہے بس کل تو رقم لے کر آجا۔” بائ نے لہجہ کو شکر بنا کر کہا۔

” کل میں تھوڑا بیزی ہے۔ پرسوں آئے گی۔” اسنے آنکھیں گھما کر کہا۔

” چل ٹھیک پھر میں انتظار کرے گی تیرا۔” اسنے کال کاٹ کر موبائل کو سائڈ ٹیبل پہ پھینکنے کے انداز میں رکھا تھا۔

” یہ بات تم کس طرح سے کر رہی تھیں۔” عالم نے اسکے بگڑے تیور دیکھ کر کہا۔

” تمہارا مسئلہ نہی ہے یہ۔* اسنے تڑخ کر کہا۔

” میرا ہی مسئلہ ہے۔ ” عالم اسے بازو سے تھام کر گرجا تھا۔

” ڈونٹ سے دیٹ ۔۔۔۔ ” شعلہ نے اسے گھورا تھا۔

” میری کوئ عزت ہے۔ مقام ہے۔ اور جب تک تم مجھ سے جڑی ہو میرے نکاح میں ہو۔ میں تمہیں کوئ بھی غلط کام یا حرکت کرنے کی اجازت نہیں دونگا۔”

عالم نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر سرد لہجہ میں کہا۔

شعلہ اسکی آنکھوں میں تکتی مسکرائ تھی۔

” سیاستدان صاحب۔۔۔۔۔!!! کبھی آگ جلتے دیکھی ہے۔ دیکھی تو ہوگی اب یہ نا کہنا کہ بال سفید ہونے کو آگئے تمہارے۔ اور تم نے آگ نہیں دیکھی۔ آگ کے شعلوں کو دیکھا ہے ناں۔ کیا کوئ آگ کے شعلوں کو اپنی مٹھی میں قید کر سکتا ہے۔نہیں بلکل نہی. آگ کو اپنی مٹھی مین قید کرنے والا۔ اپنے ہاتھوں کو زخموں سے دوچار کر دیتا ہے. پر کبھی آگ کو قید کرنے کی خواہش پہ عمل نہیں کر پاتا۔ آگ یا تو پانی کے چھینٹو سے بجھ کر ختم ہوجاتی ہے۔ یا تو پھر اس کو اپنی دسترس میں قید کرنے کی خواہش رکھنے والے اسی آگ کی نظر ہوجاتے ہیں۔” وہ سنجیدگی سے کہتی اسے خود سے دور جھٹک گئ تھی۔ عالم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔ اور کمفرٹر تقریبا جھپٹنے کے انداز میں خود پہ تانا تھا۔

☆☆☆☆☆

میر عالم کی آنکھ کھلی تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ وہ جھٹ اٹھے تھے اور تیار ہوکر نیچے آئے تھے۔ انہیں حیرت ہورہی تھی کہ آج انہیں مصطفی اٹھانے نہیں آیا۔ کمرے میں شعلہ بھی نہیں تھی۔ انہوں نے ملازم کو آواز دی۔ ملازم جھٹ انکی خدمت میں حاظر ہوا۔

” جی صاحب۔۔”

” مصطفی کہاں ہے۔؟؟” عالم نے ماتھے پہ بل لاکر پوچھا تھا۔

” جی وہ تو شاید ابھی تک آٹھے ہی نہیں۔” ملازم نے سر جھکا کر کہا۔

“جائیں دیکھ کر آئیں۔ ابھی تک آٹھے کیوں نہیں۔” اسنے حکم صادر کیا ملازم چلا گیا۔

میر عالم نے زینوں کی سمت دیکھا تو شعلہ اتر کر آرہی تھی۔ سیاہ پیروں کو چھوٹی ہلکی سی فراک پہنے وہ اسے دیکھ کر مسکرائ تھی۔

” کہاں تھی تم۔۔؟؟” سنجیدگی سے مستفسر ہوئے۔

” اوپر روم میں۔” اسنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔

” بکواس بند کرو۔ میں ابھی اوپر سے آرہا ہوں اور تم وہاں نہیں تھی۔” عالم نے اسے بھڑک سنایا۔

” فرسٹ آف آل۔۔۔۔ ڈونٹ ٹاک ٹو می لائک دیٹ۔۔۔ دوسری بات۔۔۔میں کہاں تھی۔ یہ تمہارا مسئلہ نہی۔” اسنے جل کر کہا تھا۔

عالم شعلہ کو سناتے ، اس سے پہلے ہی ملازم ہانپتا کانپتا آیا تھا۔

” مصطفی۔۔۔ صاحب تو اپنے کمرے میں نہیں ہیں۔” عالم کے چہرے پہ بھی پریشانی چھائ تھی۔

” مصطفی ۔۔۔ وہاں نہیں تو کہاں ہے۔۔” وہ بڑبڑائے تھے۔

” پتہ نہی سر۔” ملازم نے دھیرے سے کہا۔

” میں نازنین سے پوچھ کر آیا۔ کہیں اسکی کہی کوئ بات ہی اسکے دل پہ نا لگ گئ ہو۔ اور وہ گھر چھوڑ کر۔۔۔۔ نہی۔۔۔” وہ اٹھ کر نازنین کے کمرے کی سمت بھاگے تھے۔ پر جیسے ہی نازنین کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ انکا خون کھول اٹھا تھا۔ دل ایک پل میں ان دونوں سے بد زن ہوگیا تھا۔ عالم کی دھاڑ سن کر شعلہ اور چند ملازمین نازنین کے کمرے کی سمت بھاگے تھے۔ کمرے کی موجودہ صورتحال دیکھ شعلہ نے اپنے کھلے منہ پہ دونوں ہاتھ دھرے تھے۔ عالم نے غصہ سے پاگل ہوتے۔ مصطفی کو کھینچ کر نازنین سے الگ کیا تھا۔ نازنین کی چین ٹوٹ کر مصطفی کے کوٹ میں اٹک کر رہ گئ تھی۔ نازنین نے خوف سے اپنے بھائ کو دیکھا تھا۔

” بےغیرت مجھے تم سے اس بات کی امید نہی تھی۔” عالم نے کہتے ساتھ ہی مصطفی کے چہرے پہ ایک زناٹے دار تھپڑ مارا تھا۔ مصطفی لڑکھڑایا۔ پر اسنے نے نا سر اٹھایا نا نگاہ۔

” کیا کر رہے ہیں۔۔۔ چھوڑیں اسے۔” شعلہ نے عالم کو بازو سے تھام کر مصطفی کو بچانا چاہا۔ کیونکہ میر عالم نے اسے گلے سے جکڑ لیا تھا۔

عالم نے ایک خونخوار نگاہ شعلہ پہ ڈالی اور اپنا ہاتھ اتنی زور سے جھٹکا کہ شعلہ کا سر سیدھا دیوار سے جاکر لگا تھا۔

نازنین جو کھڑی مصطفی کو میر عالم سے پٹتا دیکھ رہی تھی۔ اسکے دل نے یہ خواہش کی تھی کہ آج ہی بھائ اسے گھر سے بھی نکال دیں۔ نازنین نے روتے ہوئے میر عالم سے جھوٹ کہا۔

” بھائ میں ۔۔۔ نے اسے بہت روکا۔ پر۔۔۔ شاید اسمیں تو شیطان گھس گیا تھا۔ مصطفی نے نگاہ اسکی جانب اٹھا کر اسے افسوس سے تکا تھا۔

” عالم مزید غصہ سے پاگل ہوا تھا۔ شعلہ اپنے سر تھامے مسلسل مصطفی کو میر عالم کی گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔

” عالم پلیز اسٹاپ اٹ۔۔” وہ عالم اور مصطفی کے بیچ آکر کھڑی ہوئ تھی۔ عالم نے جن نظروں سے اسے تکا تھا۔ اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا تھا۔ پر پھر بھی کھڑی رہی۔

” مجھے امید نہی تھی مصطفی۔ میں تمہاری شکل بھی نہی دیکھنا چاہتا اس وقت۔ پر اب تم وہی کروگے جو میں کہوں گا۔ اور میرا فیصلہ یہ ہے کہ۔ کچھ دیر میں مولوی صاحب آئیں گے۔ اور تمہارا نکاح ہوگا۔ نازنین سے۔” میر عالم نے گرجتی آواز میں کہا۔ نازنین کا رنگ یکدم فق ہوا تھا۔

” نہیں بھائ۔۔۔۔ آپ اس سے میرا نکاح نہیں کرسکتے یہ ایک ملازم ہے ہمارا نہیں پلیز۔۔۔ بھابھی آپ سمجھائیں۔” وہ یکدم تڑپ اٹھی تھی۔

” جو کچھ یہ تمہارے ساتھ کرچکا ہے کون کرے گا تم سے نکاح۔ کوئ نہی کرے گا۔” میر عالم نے چلا کر کہا تھا۔

نازنین ایک پل کو رکی تھی۔ یہ تو اسنے سوچا ہی نا تھا۔ کہ اسکا دامن گندا کرتے کرتے وہ اپنا دامن بھی خراب کر گئ تھی۔

” پر۔۔۔ بھائ۔۔” وہ سسکی۔

” بلکل خاموش اب وہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا اور کمرے نکل گیا۔ شعلہ ان دونوں کو ایک نظر دیکھتی اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔ تمام ملازم بھی ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔

” میں تمہاری جان لے لونگی۔ یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔” وہ اسپہ چلائ تھی۔

” بکواس بند کرو یہ تم بھی بہت اچھے سے جانتی ہو کہ اس سب کا زمدار کون ہے۔” وہ اسے خون آشام نظروں سے گھورتا نکل گیا تھا۔ اور وہ بیڈ پہ گرنے کہ انداز میں بیٹھتی۔ غصہ کی شدت سے چلا کر رہ گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

نازنین اور مصطفی کا نکاح ابھی پانچ منٹ پہلے ہوا تھا۔ نکاح ہوتے ہی مصطفی نجانے کہاں چلا گیا تھا۔ اور نازنین اپنے کمرے میں بند ہوکر رہ گئ تھی۔

میر عالم خان کی نظر جب شعلہ پہ پڑی۔ تو اسکے ماتھے پہ چوٹ کا نشان دیکھ کر وہ کچھ شرمندہ ہوا تھا۔

” سوری۔۔” عالم نے اسکے ماتھے پہ لگے زخم کو ہلکا سا چھوا تھا۔

” اتنا غصہ اچھا نہی ہوتا۔ آپ نے آج جو مصطفی کے ساتھ کیا وہ بہت غلط تھا۔” شعلہ نے سنجیدگی سے اسکا ہاتھ اپنے ماتھے پہ سے ہٹایا تھا۔

” جانتا ہوں۔ پر مصطفی نے کیا کیا۔۔؟؟؟” وہ سرد لہجہ میں گویا ہوئے۔

” ضروری نہی کے وہ غلط ہو۔ وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ ان دونوں کے اسطرح سے ساتھ ہونے کی۔” شعلہ نے رساں سے کہا۔

” سیریسلی۔۔۔۔ !!!۔ ہم دونوں ہسبینڈ وائف ہیں۔ پچھلے تین دن سے ساتھ ہیں۔ ایک بار بھی ہم ایک بستر پہ سوتے ہوئے بھی کبھی ایسی حالت میں آئے۔ نہیں۔۔!! کیونکہ ہم ایک دوسرے کے قریب خود نہیں آئے۔ ” عالم نے چڑ کر کہا تھا۔

” مجھے نہیں لگتا آپ کوئ بھی بات سمجھنے کی پوزیشن میں ہیں۔” وہ اسکے پاس سے آٹھی تھی۔ عالم نے اسکی کلائ کو تھاما۔ وہ بھنا کر مڑی تھی۔

” تم صبح کہاں گئ تھی۔؟؟”

ساوری نے مڑ کر اسے کئ لمحہ تکا۔ پھر سنجیدگی سے گویا ہوئ۔

” روزی روٹی کمانے گئ تھی۔”

” کس کا قتل کر کے آرہی ہو۔” عالم نے اسے کھینچ کر اپنے مقابل بلکل قریب کرکے بٹھایا تھا۔

” اپنا دھندا صرف قتل کرنے کا نہی ہے۔” وہ اسکی گرفت سے اپنا بازو آزاد کروا کر گویا ہوئ۔

” اچھا۔” عالم نے کہتے ساتھ ہی اسکی کمر پہ اپنا ہاتھ دھرا تھا۔ عالم نے دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ اسکی کمر پہ سرکایا تھا۔ شعلہ نے سرخ ہوتی رنگت سمیت اس سے دور ہونا چاہا۔ پر کرنٹ تو اسے تب لگا جب عالم کا ہاتھ کمیز کے اندر جانے لگا۔ اسنے بے جان ہوتے ہاتھوں سمیت اسے خود سے دور کرنا چاہا۔ عالم نے دھیرے سے اپنا ہاتھ مزید نیچے سرکایا۔ اور اسکی پینٹ میں پھنسی پسٹل کو کھینچ کر نکالا تھا۔

جیسے ہی وہ پسٹل نکال کر پیچھے ہوا۔ شعلہ نے تیزی سے دھڑکتے دل پہ بے ساختہ اپنا ہاتھ رکھا تھا۔

” پھر یہ کیا ہے۔” عالم نے پسٹل اسکی نگاہوں کے سامنے لہرائ۔

” پسٹل ۔۔” اسکی پلکوں کی باڑ اب بھی اٹھنے سے انکاری تھی۔

” مجھے بھی پتہ ہے۔ پر تم نے کہا۔ ابھی کہ تم کسی کا قتل کرنے نہیں گئ۔ پھر یہ کیا ہے۔؟؟” وہ اسکا سر ٹھوڑی سے تھام کر اپنی جانب کرکے گویا ہوا۔

” وہ صرف قتل کرنے کے لیئے تھوڑی استعمال ہوتی ہے۔ یہ پسٹل اکثر لوگوں کو ڈرانے میں بھی کام آتی ہے۔”

شعلہ نے اپنے دل کی غیر ہوتی حالت کو سنمبھال کر کہا۔

” کیا بکواس کر رہی ہو۔ پہلی بات جہاں بھی جاؤ گی مجھے بتا کر جاؤ گی۔ اور دوسری بات الٹے سیدھے لوگوں سے ملنا بند کردو۔” عالم نے سنجیدگی سے کہا۔

” میرے کام میں الٹے بندے ہی کام آتے ہیں۔” وہ بھنا کر کہتی اٹھی تھی۔ اور جاتے جاتے اپنی پسٹل اسکے ہاتھ سے جھپٹا نہیں بھولی تھی۔

☆☆☆☆

” بھابھی وہ میرا سونے کا سیٹ جو امی نے بنایا تھا۔ آج جاکر بیچ دیں۔ پھر تاکہ بھائ کے ٹیسٹ تو ہوں۔ پتہ تو چلے کہ ہوا کیا ہے بھیا کو۔” وہ اپنا پرس کندھے پہ ڈالتی گویا ہوئ۔

” پر ساوری وہ اماں نے تمہاری شادی کے لیئے بنایا تھا۔” بھابھی نے نم لہجہ میں کہا۔

” اگر میرے نصیب میں ہوگا یہ سب تو اللہ مجھے اس سے بھی زیادہ دیں گے۔ انشااللہ۔ ” وہ بھابھی کے گال پہ ہاتھ دھر کر محبت سے گویا ہوئ۔

” اچھا چلتی ہوں۔ دیر ہورہی ہے۔” وہ چپل پہن کر نکل گئ تھی۔

جب آفس پہنچی تو۔ حیدر بیٹھا ہوا تھا۔ آج پھر اسکے دیر سے آنے پہ اسے گھورا تھا۔

” آپکو اندازہ ہے۔ کہ وقت کیا ہے۔۔۔؟؟” حیدر نے دونوں ہاتھوں کے پنجوں کو آپس میں پیوست کرکے کہا۔

” سوری سر۔”