Ishq Ek Tamanna By Momina Shah Readelle50278 Ishq Ek Tamanna (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Ishq Ek Tamanna (Episode 25)
Ishq Ek Tamanna By Momina Shah
” در فشاں پلیز اسٹاپ دس نانسینس۔۔۔ تم یہاں سے جا رہی ہو۔ یا ہم ہی اُٹھ کر چلے جائیں۔۔۔” حیدر بھڑکا تھا۔
” اگر جانا چاہتے ہو تو ۔۔۔ شوق سے جاؤ ، پر میرے سوالات کا جواب دے کر۔۔” در فشاں نے فورک کو پلیٹ میں گھماتے اپنے دانت پیس کر کہا۔
” تمہارے جو بھی سوالات ہیں۔ انکے جواب میں تمہیں کل گھر آکر دے دونگا۔” حیدر نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا تھا۔
” پر مجھے میرے ہر سوال کا جواب ابھی اور اسی وقت چاہیئے۔ اور ویسے بھی کل کس نے دیکھا ہے۔ تم نے دیکھا ہے۔ نہی ناں۔۔۔!!
تو سوال بھی آج ابھی اسی وقت ہونگے۔ اور انکے جواب بھی میں آج ابھی اور اسی وقت چاہتی ہوں۔۔”
” پوچھو۔۔۔” حیدر نے جبڑے بھینچ کر کہا۔
ساوری نے اٹھ کر جانا چاہا۔ جب حیدر نے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ دھرا۔
” تم کہیں نہی جا رہی۔۔” اسکا لہجہ اٹل تھا۔
” سوال نمبر ایک ۔۔۔۔ اس میں اتنی دلچسپی کیوں لینے لگے ہو۔۔۔؟؟” در فشاں نے ساوری کے ہاتھ کی پشت پہ دھرے حیدر کے ہاتھ کو جلتی نظروں سے تکا۔
” بیوی ہے میری ، مجھے پسند ہے۔ پھر دلچسپی لینا تو بنتا ہے ناں۔۔!!” حیدر نے ٹھنڈے لہجہ میں جواب دیا۔
” ہنہہ بیوی مائے فٹ۔۔۔!!
ایک بات اپنے ذہن نشیں کر لو حیدر بیوی تمہاری ایک ہی ہے۔ درفشاں ۔۔۔!!” اسنے اپنے سینے پہ انگلی بجائ تھی۔
حیدر اسکی بات پہ تمسخر سے ہنسا تھا۔ در فشاں نے خونخوار نظروں سے حیدر کو تکا۔
” کچھ بھی کہہ لو تم۔۔ در۔۔۔ تم اتنے سالوں میں کبھی اپنا وہ مقام نا بنا سکی۔ جو ساوری نے ان چند مہینوں میں بنا لیا ہے۔” حیدر نے ساوری کو محبت پاش نظروں سے تکا۔
” یہ چاہے کوئ بھی مقام بنا لے۔ پر سچ ہمیشہ سچ ہی رہتا ہے۔ اب بس کچھ ہی وقت رہ گیا ہے۔ بچہ ہوتے ہی۔ نا یہ رہے گی تمہاری زندگی میں نا اسکا کوئ مقام۔۔” در فشاں نے حاسد نظروں سے ساوری کے سراپے کو تکا۔ اور چمچہ پٹخ کر اپنا بیگ سنمبھالتی۔ وہاں سے چلی گئ۔
” تم کھانا کھاؤ۔۔۔ چھوڑو اسے۔۔” حیدر نے ساوری کی توجہ کھانے کی جانب مبذول کرائ۔
ساوری نے پلکوں کی باڑ اٹھا کر پر شکوہ نظروں سے حیدر کو تکا۔ پر حیدر اسکی نظروں کے تاثر کو نظر انداز کرتا۔ کھانا کھانے لگا تھا۔
ساوری نے بھی بے دلی سے تین چار لقمے زہر مار کیئے۔ اب کیا کرتی جینے کو اتنا کھانا تو ضروری تھا۔ ہر حال میں۔ تو وہ بھی بس خود کو زندہ رکھنے کی خاطر کھانے لگی۔ نہی تو اپنے بچے کے چھن جانے کا خوف اسے کھانے بھی نا دیتا تھا۔ بہت مشکلوں سے وہ اس خوف کے اثر سے نکلی تھی۔ پر آج درفشاں نے اسکے خوف کو ایک بار پھر جگا دیا تھا۔
☆☆☆☆☆
” اتنا سج سنور کر کہاں جا رہی ہو۔۔” شعلہ جو لاؤنج کے صوفہ پہ بے حال سی پڑی تھی۔ شہلا کو سجا سنورا کہیں باہر جاتے دیکھ اٹھی تھی۔
” آں۔۔۔ وہ۔۔۔۔ میر۔۔۔ میری ۔۔۔ ایک دوست ہے ۔۔۔ اس سے ملنے ۔۔ جا رہی ہوں۔۔” شہلا نے بوکھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا۔ اسکے چہرے پہ ننھے ننھے پسینے کے چند قطرے بھی نمودار ہوئے تھے۔ جنہیں وہ نا محسوس طریقے سے خشک کر گئ تھی۔
” تمہاری دوست۔۔۔!!
جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں۔ تم یہاں اتنی لڑکیاں ہونے کے باوجود کسی سے دوستی نہی رکھتی۔ تو پھر یہاں سے باہر کوئ دوست۔۔۔ یقین تو نہی آرہا مجھے۔ پر چلو تم کہتی ہو تو یقین کر لیتی ہوں۔” شعلہ نے اسے جانچتی نظروں سے سر سے لیکر پیر تک تکا۔
” ہہہ ۔۔۔ تم بھی ناں۔۔۔ وہ ۔۔ بس اس نے میری مدد کی اور ہماری دوستی ہوگئ۔۔۔” شہلا کا رنگ باقاعدگی سے زرد پڑا تھا۔
” اچھا ۔۔۔ ایسی کیا مدد کردی کے تمہاری اس سے اتنی جلدی دوستی بھی ہوگئ۔۔۔” شعلہ نے اسکے چہرے پہ آئے خوف کو بغور جانچا۔
” م۔۔ مجھے دیر ہورہی ہے یار۔۔۔” اسنے عاجز آکر کہا۔
” اوکے جاؤ۔۔۔” شعلہ نے سنجیدگی سے کہا۔
شہلا شکر کا سانس لیتی جلدی جلدی نکلنے لگی تھی۔ جب شعلہ کی بات پہ اسکے قدم تھمے تھے۔
” اپنے دوست سے کہنا واپسی میں مجھ سے ملتا جائے۔۔۔”
شہلا کا حلق سوکھا تھا۔ وہ عاجز سی شکل بنا کر رہ گئ تھی۔ ایک لمبی سانس لیکر وہ خود میں ڈھیروں ہمت جمع کرتی مڑی تھی۔
” وہ لڑکا نہی ہے لڑکی ہے۔۔۔!!” شہلا نے لب کچل کر کہا۔
” وہ تو رات میں پتا چل جائے گا۔” شعلہ نے مسکا کر کہا۔
شہلا وہاں سے نکل گئ تھی۔ وہ ایک ریسٹورینٹ میں پہنچی۔ اور ” اپنی ” دوست کو ڈھونڈنے لگی۔ وہ اسے دور کہیں بیٹھی دکھی۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اسکے مقابل آکر بیٹھی۔ پر یہ کیا۔۔۔۔!!!
اسکی دوست تو حقیقت میں لڑکا نکلی۔۔۔!!
مطلب لڑکا نکلا۔۔!!
” کہو کیوں بلایا ہے۔۔۔؟” وہ احتیاطی طور پر اپنے ارد گرد ایک نظر گھمانا نہی بھولی تھی۔
” نا سلام نا دعا ، نا حال پوچھا۔ نا احوال سیدھا۔ کہو کیوں بلایا ہے۔۔۔!!” سامنے بیٹھے وجیہہ مرد نے اسے نظروں کے ذریعہ دل میں اتارتے کہا۔
” جو بھی بات کہنی ہے جلدی کہو۔۔۔” وہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی اپنی انگلیاں چٹخاتے لگی تھی۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج۔۔۔” مقابل نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔
شہلا کے چہرہ پہ پسینے کے چند قطرے چمکے۔ اسنے سرعت سے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالا۔
” پلیز۔۔۔۔!!
جو بات کرنی ہے وہ بتاؤ۔۔۔” شہلا نے اپنے چہرے پہ آتی آوارہ لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا۔
” باتیں تو بہت کرنی ہیں۔ تم بتاؤ سنو گی۔ میرے دل کی باتیں۔۔۔” مقابل نے آنکھ دبا کر شوخی سے کہا۔
” اسٹاپ اٹ۔۔” اسکا چہرہ حیا سے سرخ پڑا تھا۔
” میں تمہیں بتا نہی سکتا ، تمہارا یہ شرمانا مجھے کس قدر بے چین کر رہا ہے۔۔” وہ اسے دیکھتا مخموریت سے گویا ہوا۔
” میں یہاں تمہاری بے چینیوں کے قصہ نہی سننے آئ۔ میں جو یہاں سننے آئ ہوں۔ مجھے وہ سناؤ۔۔۔” شہلا نے کرختگی سے کہا۔
مقابل دلکشی سے مسکرایا۔ اور ٹیبل پہ جھکتا اسکے قریب آیا تھا۔
” آئ لو یو۔۔۔” اسکی نرم گرم سی سرگوشی شہلا کا دل بڑی زور سے دھڑکا گئ تھی۔
” بکواس مت کرو۔ مجھے بتاؤ میرے گھر والے کیسے ہیں۔۔؟” اسکی بے تابی پہ وہ مسکرایا تھا۔
” سب ٹھیک ہیں ۔۔۔” وہ پیچھے ہو کر بیٹھا تھا۔
” میری امی ۔۔۔۔ کیسی ہیں۔۔۔؟” اسکی آنکھوں میں تڑپ تھی۔
” انتقال ہوگیا ہے انکا۔۔۔” اسنے دھیمی آواز میں اسکے حواسوں پہ دھماکہ کیا تھا۔
” میں مذاق کے موڈ میں نہی ہوں۔۔!!” اسکی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔
” میں ایسی بات مذاق میں کیوں کرونگا۔۔۔” اسنے سنجیدگی سے کہا۔
شہلا کی آنکھوں کے آگے دھند سی چھائ تھی۔ چند آنسو لڑھک کر اسکے گالوں پہ پھسلے تھے۔ مقابل نے آگے بڑھ کر اسے سنمبھالنا چاہا۔ پر وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتی۔ اپنے آنسو بے دردی سے پونچھتی اٹھی تھی۔
” میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔” مقابل کو اسکا اس بڑے صدمہ کے ساتھ تنہا جانا ٹھیک نا لگا۔
” نہی۔۔۔ شکریہ ۔۔۔ میری اپنی گاڑی اور ڈرائیور ہے۔۔۔” وہ رک کر سخت لہجہ میں کہتی وہاں سے نکل گئ تھی۔ اور وہ اسے جاتا دور تک دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اسکی نظروں سے اوجھل نا ہوگئ۔
☆☆☆☆☆
نازنین نے رات کا کھانا بنا کے کب کا رکھ دیا تھا۔ وہ اوپر تھوڑی دیر عالم کے کمرے میں ائ۔ کئ لمحے اپنے بھائ کے پاس بیٹھی، اس سے اپنے دل کی باتیں کرتی رہی۔ جب نیچے سے اسے مصطفی کے کار کے ہارن کی آواز آئ تو وہ اٹھ کر نیچے آئ۔ مصطفی جو ابھی اینٹرنس پہ کھڑا تھا۔ سامنے نازنین کو زینوں پہ کھڑا دیکھ بری طرح سے بدمزہ ہوا تھا۔ نازنین کا رنگ یکدم فق ہوا تھا۔ نازنین زینے اتر کر نیچے آئ تھی۔ اور اسکے ہاتھ سے اسکا لیپ ٹاپ بیگ اور کوٹ لیا تھا۔
” کیا ہوا۔۔؟؟” وہ اسکے بگڑے تیور دیکھ مستفسر ہوئ۔
” کچھ نہی۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتا۔ صوفہ پہ جاکر بیٹھا تھا۔
نازنین اسکا سامان کمرے میں رکھ کر آئ تھی۔
” کھانا لگا دوں۔۔۔” نازنین کا دل ایک انجانے خوف سے دہک دہک کرنے لگا تھا۔
” نہی مجھے بھوک نہیں ہے۔۔” اسنے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا تھا۔
” مصطفی ۔۔۔۔ کچھ ہوا ہے کیا۔۔۔؟” نازنین نے مصطفی کے برابر بیٹھتے اسکے کندھے پہ ہاتھ دھرا تھا۔
” کچھ نہی ہوا۔۔۔” وہ اسکا ہاتھ پوری شدت سے جھٹکتا۔ لفظ ، لفظ چبا کر گویا ہوا۔
” اگر کچھ ہوا ، نہی تو تمہارا موڈ اس قدر خراب کیوں ہے۔۔۔؟؟” مصطفی کی بے رخی پہ نازنین کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے۔
” نازنین ۔۔۔۔!!!
اس وقت مجھے چھیڑو مت ، اگر میں چھڑ گیا ناں اس وقت۔۔۔ تو تم یہاں سلامت نہی ملو گی۔۔۔” مصطفی نے اسے سرخ نظروں سے سر سے لیکر پیر تک ایسی سرد نظروں سے تکا۔ کہ نازنین کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑتی محسوس ہوئ۔
” ۔۔۔ میری ۔۔ کوئ۔۔۔ بات بری لگی ہے۔۔؟” نازنین نے دھڑکتے دل سمیت پوچھا۔
” تمہیں ایک بار کی بات کیوں سمجھ نہی آتی نازنین۔۔۔۔!!
میں نے کہا ناں۔۔۔ اس وقت دور رہو مجھ سے۔۔۔” وہ اسکے بازو کو سخت گرفت میں لیتا تقریباً چلایا تھا۔
” مصطفی۔۔۔!!” نازنین کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔ موٹے موٹے موتی آنکھوں سے گرنے کو بے تاب ہوئے۔ اور ایک موتی مچل کر اسکی آنکھ کے کنارے سے بہہ کر اسکے گال کی زینت بنا۔
مصطفی گہری سانسیں لیتا ، اسکی آنکھوں کو کئ لمحوں تک تکتا رہا۔ اور پھر ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا تھا۔
” نازنین مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دو۔۔۔” وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔
اور نازنین خالی خالی نظروں سے اسے زینے چڑھاتا دیکھتی رہ گئ تھی۔
☆☆☆☆☆
