Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 20)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

حیدر اور ساوری دفتر سے نکل کر گھر واپس آئے تھے۔ ساوری کچن میں لگی کھانا بنا رہی تھی۔ اسکا دوپٹہ اسکے سر پہ سے سرکتا۔ اسکے کندھوں پہ آپڑا تھا۔ حیدر مسکراتا ہوا اسکے پاس آیا تھے۔ اسکے لمبے سیاہ آبشار کی مانند اسکی پشت پہ بکھرے بے حد حسین و دلکش لگ رہے تھے۔

حیدر اسکی پشت پہ آکر کھڑا ہوا تھا۔ ساوری اسکی قربت پہ گھبرائ تھی۔ حیدر اسکے چہرہ کو تکتا دلکشی سے مسکرایا تھا۔

” کیا بنا رہی ہو۔۔؟” اسکے برابر میں کھڑے ہو کر سرگوشی کی۔

” کھانا۔۔۔” اسنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیری۔

” کھانا تو بنا رہی ہو۔۔۔ پر کھانے میں کیا بنا رہی ہو۔۔۔؟” وہ ذرا سا سرک کر مزید اسکے قریب ہوا تھا۔

” بھنڈی۔۔۔” اسکی پلکیں لرزنے لگی تھیں۔

” اور میٹھے میں۔۔” حیدر مزید اسکے قریب ہوا۔

” کچھ۔۔ کچھ نہی۔۔” وہ اسکی قربت پہ سٹپٹا کر خود میں سمٹی تھی۔

” پر مجھے تو کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی عادت ہے۔۔” وہ مزید اسکے قریب ہوا۔

” ہاں۔۔ تو یہ کھانا بنانا تو بلکل میرے کنٹریکٹ میں نہی تھا۔ شکر کریں میں بنا کر دے رہی ہوں۔” وہ ہمت جما کرتی ذرا اونچی آواز میں گویا ہوئ۔ حیدر بھنوئیں آچکا کر اسکی دلیری پہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔

” تم تو برہم ہو رہی ہو۔۔” وہ لب دبا کر گویا ہوا۔

” میں برہم نہی ہورہی میں بس اتنا کہہ رہی ہوں کہ۔۔۔۔” وہ پٹر پٹر کرتی بولنا شروع ہوئ۔ پر ہوش تو اسے تب آیا جب حیدر نے اسے کمر سے تھام کر کاؤنٹر پہ بٹھایا۔ وہ سٹپٹائ تھی۔ اسنے واپس اترنا چاہا۔ پر حیدر نے اپنے دونوں بازو اسکے ارد گرد رکھ کر اسکے واپس اترنے کا راستہ مسدود کر دیا۔ وہ گھبرائ گھبرائ سی ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ حیدر نے اسکے گالوں پہ لب دھرے تھے۔ وہ پزل سی پیچھے ہوئ تھی۔ حیدر نے اسے اپنے قریب سرکایا تھا۔ اور دھیرے سے اسکے نازک لبوں پہ جھکتا اسکی سانسوں کو پینے لگا تھا۔ ساوری نے آنکھیں مینچی تھیں۔ حیدر مدہوش ہوتا۔ اسکی سانسیں اس قدر تنگ کر گیا تھا۔ کہ ساوری نے نے اپنے بےجان ہوتے ہاتھ اسکے سینے پہ دھرے تھے۔ پر حیدر اسپہ جھکا مدہوش ہوا جا رہا تھا۔ ہوش تو حیدر کو تب آیا جب در فشاں کی آواز اسے اپنی پشت پہ سنائ دی۔ حیدر دھیرے سے ساوری سے دور ہوا تھا۔ ساوری شرم سے نظریں نہی اٹھا پا رہی تھی۔ اور درفشاں کو دیکھ کر تو اسکا بے حال ہوتا وجود مزید بے حال ہوا تھا۔ وہ سلیب سے اترنے کی بھی حالت میں نہی رہی تھی۔

” حیدر۔۔۔ یہ کیا کر رہے تھے تم۔۔۔؟” درفشاں کے لہجہ میں جلال تھا۔

حیدر نے اسے بڑے آرام سے تکا تھا۔ اور دھیرے سے اپنے ہونٹوں پہ انگوٹھا پھیرا تھا۔

” وہی کر رہا ہوں۔ جسکے لیئے تم لوگوں نے اسے خریدا ہے۔۔۔” حیدر نے بڑے آرام سے ٹھنڈے لہجہ میں جواب دیا۔

” جانتی ہوں۔ کہ اسے کیوں خریدا گیا ہے۔ اسی لیئے کہہ رہی ہوں۔ کہ صرف تعلق اتنا رکھو جتنا رکھ کر ہمارا مطلب پورا ہوسکے۔” در فشاں نے زہر خندگی سے کہا۔

” ہاں سمجھ رہا ہوں تمہاری بات۔۔۔ پر ۔۔ کیا کروں مرد ہوں ناں۔۔۔ اب ایک اتنی حسین جوان عورت کے ساتھ دن رات رہونگا۔ اور جو مجھ پہ حلال بھی ہے۔۔ تو پھر بہکنا تو ممکن ہے۔۔۔” وہ کندھے آچکا کر گویا ہوا۔ ساوری ان دونوں کی باتیں سنتی زمین میں گڑھتی جا رہی تھی۔

” اپنی اس دو روپے کی مردانہ روح کو کنٹرول کرنا سیکھو۔۔” وہ چبا چبا کر گویا ہوئ۔

” نہی کر سکتا کنٹرول ، اب وہ اتنی پیاری ہے۔ کیسے کروں خود کو کنٹرول۔” حیدر کا ٹھنڈا لہجہ جلتی پہ تیل کا کام کر گیا تھا۔

” بھولو مت یہ بات ۔۔۔ حیدر کہ اس لڑکی کی ایک طوائف سے زیادہ کوئ حیثیت نہی۔۔۔” درفشاں چٹخی تھی۔

اسکی بات پہ ساوری کی آنکھیں بھیگیں تھی۔ وہ سلیب سے اتر کر کچن سے باہر نکل گئ تھی۔ حیدر نے مٹھیاں بھینچ کر طیش کے عالم میں درفشاں کو تکا تھا۔

” طوائف کبھی بچہ پیدا نہی کرتی۔۔ یہ کام تو بیویوں کے ہوا کرتے ہیں۔۔” حیدر نے زہر خند لہجہ میں کہا۔ اور یہ وہ خاموش تھپڑ تھا۔ جو بڑی زور سے در فشاں کے منہ پہ جا کر پڑا تھا۔ درفشاں نے حیرت و بے یقینی کے عالم میں حیدر کو تکا تھا۔ اور پیر پٹختی وہاں سے نکل گئ تھی۔

حیدر اپنے تنے اعصاب بہال کرتا ساوری کے پاس آیا تھا۔ روم کا دروازہ کھول کر جب اسنے اندر جھانکا تو ساوری بیڈ پہ اوندھے منہ پڑی سسک رہی تھی۔

” ساوری۔۔۔” حیدر نے اسے کندھے سے تھامنا چاہا۔

وہ تڑپ کر اٹھی تھی۔

” دور رہیں مجھ سے۔۔۔!!” وہ بھیگے لہجہ میں چلائ تھی۔

” کیا ہوگیا ہے۔ مجھ سے کیوں خفا ہورہی ہو۔۔” وہ اسکے قریب بیٹھا تھا۔ ساوری اسکے پہلو سے ایسے اٹھی تھی۔ جیسے بستر پہ کسی نے کرنٹ چھوڑ دیا ہو۔

” میں خفا نہی ہورہی۔ اور نا ہی میں خفا ہونے جیسا کوئ حق رکھتی ہوں۔ میں ایک طوائف ہوں۔ وہ صحیح کہہ رہی تھی۔ اور طوائفوں کے کوئ حقوق نہی ہوتے محض پرائے مردوں کو بہلانے کے سوا۔ اور سہی کہا ہے اسنے۔ آج آپکا بستر گرم کر رہی ہوں۔ کل کو کسی اور مرد کا کرونگی۔۔” ساوری چلا رہی تھی۔ رو رہی تھی۔ سسک رہی تھی۔ شاید وہ اس وقت اپنے حواسوں میں نہی تھی۔ پر اسکے آخری الفاظ حیدر کا دماغ گھما گئے تھے۔ حیدر ایک جھٹکے سے اٹھ کر۔اسکے مقابل آیا تھا۔ اور ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے نازک گال پہ رسید کرتا۔ کمرے کا دروازہ زوردار آواز کے ساتھ بند کرتا۔ نکل گیا تھا۔ ساوری پھوٹ پھوٹ کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر رونے لگی تھی۔

☆☆☆☆☆

میر عالم سگرٹ سلگائے ابھی بالکنی میں آکر کھڑے ہوئے تھے۔ کھلی ہوا میں سانس لیتے۔ انکا دماغ بہت سی الجھنوں کا شکار ہوچکا تھا۔ شعلہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے آج میر عالم پورا دن اسکے پاس رہے تھے۔ اور جب ڈاکٹر نے شعلہ کو غنودگی کا انجیکشن لگایا۔ تو شعلہ گہری نیند میں غرق ہوگئ۔ وہ شعلہ کے لیئے بہت انوکھے جذبات محسوس کرنے لگے تھے۔ پر انکا ماضی انہیں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی اجازت نہی دیتا تھا۔ اور آج شعلہ کی گردن پہ وہ نشان ۔۔۔ انہیں مزید کشمکش میں ڈال گیا تھا۔

وہ سیاہ کراس کی شکل کا نشان جس کے سائڈوں پہ رسیلا لکھا تھا۔

وہ نجانے کب تک یونہی وہاں کھڑے رہتے جب انہیں کمرے سے شعلہ کے چلانے کی آواز آئ۔

” نہی۔۔۔ ہہہہ۔۔ چھوڑو ۔۔ مجھے نہی۔۔ اہہ۔۔۔” وہ چلا رہی تھی۔ عالم نے آکر اسکے ماتھے پہ اپنا ہاتھ دھرا تھا۔

” شعلہ کیا ہوا۔۔۔ شعلہ۔۔۔” وہ شعلہ کے گال تھپتھپا رہے تھے۔ پر اگر وہ ہوش میں ہوتی تو کچھ بتاتی۔

ایسے ہی چیختے چلاتے۔ وہ واپس گہری نیند میں غافل ہوگئ تھی۔

میر عالم پریشانی سے اسکے پاس بیٹھ گئے تھے۔ اور شعلہ نے غنودگی میں بڑی مضبوطی سے میر عالم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔

میر عالم بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ماضی کے خیالوں میں کھو گئے تھے۔

” پھپھو۔۔ بیا بہت چھوٹی ہے۔ آپ یہ کیا کر ہی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہی آرہی۔۔” میر عالم کی آواز باقائدہ فکرمندانہ تھی۔

” میر ۔۔۔ مجھے پتہ ہے۔ تم انکار نہی کروگے۔۔۔ مجھے نہی پتہ تمہیں یہ کرنا ہوگا میری خاطر۔۔۔” پھپھو نے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔

” پھپھو وہ دس سال کی ہے ابھی۔۔” میر عالم جز بز ہوئے۔

” تو۔۔۔ !! اس بات سے کوئ فرق نہی پڑتا۔” پھپھو نے سختی سے کہا۔

” پھپھو اس بات سے بہت فرق پڑتا ہے۔ میں اس سے بہت بڑا ہوں۔ میں ایک پچس سال کا مرد ہوں۔۔ اور وہ دس سالہ چھوٹی سی بچی۔۔۔” وہ عاجز آیا تھا۔

” عالم یہ وقت ان سب باتوں کو سوچنے کا نہی ہے۔ بس تم میرے بچوں کو بچا لو ۔۔۔ عالم تم بیا سے نکاح کر لو۔۔۔ اور مصطفی اور بیا کو ساتھ شہر لے جاؤ۔” پھپھو کی حالت دیکھ میر عالم کو ترس آیا تھا۔

” امی آپ میر بھائ کو پریشان نا کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔” تیرہ سالہ مصطفی نے اپنی ماں کو سمجھانا چاہا۔ شاید وہ بھی وقت کی تلخی کے ساتھ وقت سے پہلے ہی بڑا ہوگیا تھا۔

” مجھے کچھ نہی پتہ بس جو میں نے کہہ دیا اگر وہ کرسکتے ہو عالم تو بتاؤ۔۔۔ نہی تو میں کوئ اور راستہ ڈھونڈ لونگی۔” پھپھو کی آواز بھیگی تھی۔

میر عالم نے بے بسی سے پھپھو کو تکا تھا۔

میر عالم شعلہ کے رونے کی آواز پہ چونکے تھے۔ میر عالم خیالوں کی دنیا سے باہر آئے تو شعلہ رو رہی تھی۔ آنکھیں اسکی اب بھی بند تھیں۔ پر گرم سیال اسکی آنکھوں کے کنارے سے تواتر سے بہہ رہا تھا۔ اور کبھی کبھی وہ با آواز بھی رونے لگتی۔ میر عالم تکیہ سیٹ کرتے لیٹے تھے۔ اور اسکا سر اپنے بازو پہ دھر کر اسے اپنی آغوش میں لیا تھا۔ شعلہ اسکے سینے میں سمیٹنے لگی تھی۔عالم نے دھیرے اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے تھے۔ اور سونے کی خاطر آنکھیں موند گئے تھے۔

☆☆☆☆☆

حیدر باہر لاؤنج میں بیٹھا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوئے واقع کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ حیدر کو بھوک کا احساس ہوا تو۔ وہ اٹھ کر کچن میں آیا اور جلدی سے نوڈلز چڑھا دیں۔ نوڈلز چڑھا کر وہ ساوری کے کمرے میں آیا جو زمین پہ بیٹھے بیٹھے ہی سو چکی تھی۔ اسکی آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوئے تھے۔ اور چہرہ پہ مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان تھے۔ حیدر نے اسے کندھے سے ہلایا تو وہ چونک کر اٹھی تھی۔ حیدر کو اپنے سامنے بیٹھا دیکھ اسکے ماتھے پہ بل نمودار ہوئے تھے۔

” کیوں۔۔۔ آئے ہیں اس طوائف کہ پاس۔۔۔ کیا پھر آپکی مردانہ روح کو کسی عورت کی ضرورت ہے۔۔” اسنے حیدر کا چہرہ دیکھتے بکھرے ہوئے لہجہ میں کہا۔

حیدر گہری سانس لیتا اسکے برابر میں بیٹھا تھا۔ اسکے بکھرے بالوں کو ہاتھ بڑھا کر سلجھایا۔ اور اسکے کانوں کے پیچھے اڑسا۔ اسکا ہاتھ تھاما۔ اور اسکا ہاتھ محبت سے لے جا کر اپنے ہونٹوں سے چھوا۔

” ساوری۔۔۔ تم میرے نکاح میں ہو۔ میری ” بیوی” ہو۔” حیدر نے بیوی پہ خاصہ زور دیا۔

” میں جانتا ہوں یہ شادی ایک کنٹریکٹ میرج ہے۔ پر میں چاہتا ہوں۔ کہ ہم دونوں اس شادی کو ایسے جیئں جیسے لوگ اصل میں جیتے ہیں۔ اور تم حلال ہو مجھ پہ۔ میرا تمہارے پاس آنا کوئ گناہ نہی۔ نا تمہارا میری جانب پیش رفت کرنا گناہ ہے۔” حیدر نے آنچ دیتے لہجہ میں کہا۔

” ہنہ۔۔۔ بیوقوف نہی ہوں میں۔ اور آپکی بیوی اتنا بھی کچھ غلط نہی کہہ کر گئ۔ سچ کہا ہے اسنے۔۔۔۔!! اب آپ میرے قریب نہی آئیں گے۔ کیونکہ میں کسی کے دل بہلانے کا سامان نہی ہوں۔ اور رہی اس شادی کی بات تو یہ شادی کونسی اصل کی ہے۔ جب کچھ عرصہ بعد یہ رشتہ ختم ہوجائے گا تو آپ تو اپنا بچہ لیکر اپنی بیوی کے پیچھے چلتے بنیں گے۔ پر ساری عمر کے لیئے تو تنہا میں رہ جاؤں گی ناں۔ معذرت کے ساتھ میں آپکی نفسانی خواہشات پورا کرنے والا کھلونا نہی۔۔۔۔” وہ بھیگی۔۔۔ مگر کرخت آواز میں بولی تھی۔

حیدر نے اسے افسوس سے ایک نظر تکا۔ ساوری نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچا تھا۔

” ساوری۔۔۔۔” حیدر نے کچھ کہنا چاہا۔

” آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔” ساوری آٹھ کھڑی ہوئ تھی۔ حیدر اسکے بیگانگی بھرے انداز پہ گھر سے نکل کر چلا گیا تھا۔ اور ساوری اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرنے اٹھی تھی۔ پر کچن سے کچھ جلنے کی بو سونگھ کر وہ بھاگ کر کچن میں گئ تو۔ چولہے پہ چڑھی نوڈلز جل رہی تھی۔ ساوری نے آگے بڑھ کر چولہا بند کیا۔ اور اپنے کمرے کا دروازہ اچھے سے لاک کرتی بستر پہ آکر ڈھ سی گئ تھی۔

☆☆☆☆☆

مصطفی اپنے کمرے میں لیٹا کروٹ پہ کروٹ بدل رہا تھا۔ پر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ نجانے کیوں آج بار بار ماضی اسکی سوچ کہ پردوں پہ لہرا رہا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے سیدھا آٹھ بیٹھا تھا۔ اسکا جسم مکمل طور پہ پسینہ سے شرابور تھا۔ مصطفی نے ایک جھٹکے اسے اپنی شرٹ اتار کر سائڈ پہ پھینکی تھی۔ اور باہر نکل کر بالکنی میں کھڑا ہوگیا تھا۔ نازنین جو اپنے کمرے کی کھڑکی سے لٹکی نجانے نیچے جھانک کر اس اندھیرے میں کیا دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مصطفی کو ایسے وہاں کھڑا دیکھ کر وہ سیدھی ہوئ تھی۔ وہ شرٹ لیس اپنی کسرتی جسامت لیئے کھڑا تھا۔ نازنین نے اسکے کسرتی جسم کو دیکھنے سے احتراظ برتا تھا۔

مصطفی گہری سانسیں لیتا ریلنگ پہ جھکا تھا۔ اسکے کانوں میں وحشت ناک آوازیں گونجنے لگی تھیں۔

” نہی مجھے چھوڑ دو۔۔ ۔۔ اللہ۔۔” اسکی ماں زمین پہ سمندر کی مانند بہے خون پہ پیچھے سرک رہی تھی۔ پر جیسے ہی اسکی ماں کی پشت دیوار سے ٹکرائ۔ وہ بے ساختہ اپنے رب کو پکار گئیں۔ انکی فریاد میں اس قدر تڑپ تھی۔ کہ آج بھی مصطفی کو اس فریاد کے زیر اثر اپنا آپ فنا ہوتا محسوس ہوتا۔

یکدم خیالوں میں ہی گولی چلنے کی آواز آئ تھی۔ اور وہ چلایا تھا۔ حقیقت میں۔ حال میں۔ نا کہ ماضی میں۔

” ماں۔۔۔۔!!” وہ اسقدر زور سے چلایا تھا۔ کہ نازنین اپنے کمرے کی کھڑکی چھوڑتی اسکے کمرے میں آئ تھی۔ مصطفی ریلنگ پہ جھکا۔ اب بھی دھیرے دھیرے اپنی ماں کا نام پکار رہا تھا۔

“ماں۔۔۔ ماں۔۔۔ ہہہ ماں۔۔۔” گہری گہری سانسیں لیتا وہ اب بھی اپنی ماں کو پکار رہا تھا۔

نازنین جو بالکنی کے دروازے پہ کھڑی تھی۔ دھیرے سے چلتی اسکے پاس آئ تھی۔ اور کپکپاتا ہاتھ اسکے کندھے پہ دھرا تھا۔ مصطفی جیسے ہی اسکی جانب مڑا۔ اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔

وہ ایک جھٹکے سے اسکی کلائ تھامتے اسے آدھا آدھا ریلنگ پہ گرا چکا تھا۔

” کیوں آئ ہو یہاں۔ میری بے بسی کا مذاق بنانے آئ ہو۔۔” وہ ایک ہاتھ اسکے گلے پہ رکھتا غرا رہا تھا۔ نازنین کی آنکھیں خوف اور گلا دبنے کی وجہ سے ابل کر باہر کو آئی تھیں۔

“۔۔۔ ہہ۔۔ م۔۔۔مص۔۔۔” وہ اپنی صفائ میں کچھ کہنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔ پر اسکی گرفت اسقدر سخت تھی اسکی گردن پہ کہ وہ کچھ کہہ ہی نہی پا رہی تھی۔

نجانے کیا سوچ کر مصطفی نے اسے واپس کھینچا تھا۔ پر اسکی گردن اب بھی اسکی مضبوط گرفت میں تھی۔

جھٹکے سے اسکی گردن آزاد کرتا وہ کمرے میں گیا تھا۔ نازنین لڑکھڑائ تھی۔ اپنی گردن تھام کر وہ کھانسنے لگی تھی۔ حیدر کمرے میں آکر اپنے بستر پہ بیٹھا تھا۔ نازنین کی حالت تھوڑی سنمبھلی تو وہ طیش کے عالم میں اندر آئ تھی۔

” تمیز نہی ہے تمہیں۔ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے ہرٹ نہی کروگے۔۔” وہ گہری سانسیں لیتی اس پہ چلائ تھی۔

” میں نے تمہیں نہی کہا تھا۔ کہ تم اس وقت میرے کمرے میں آؤ۔” مصطفی نے سرد نگاہیں اٹھا کر اسے بیزار سے لہجہ میں کہا۔

” تم ٹھیک نہی لگ رہے تھے۔ میں نے اپنے روم کی کھڑکی سے دیکھا۔ تو میں تمہیں۔۔۔ دیکھنے آئ تھی۔۔” اسنے رساں سے بتایا۔

” دیکھ لیا اب چلی جاؤ یہاں سے۔” وہ غرایا تھا۔

” بھلائ کے بھی قابل نہی تم۔۔۔” نازنین نے افسوس کیا۔

” مجھے نہی چاہیئے کسی کی بھلائ۔۔ جاؤ ۔۔۔ چلی جاؤ۔۔یہاں سے۔” اسکا لہجہ درشت تھا۔

نازنین نے ایک نظر اسے تکا۔ وہ اور دن کی مانند نہی لگ رہا تھا۔ وہ اس وقت بلکل بھی اپنے حواس میں نا تھا۔

” اگر کوئ پریشانی ہے۔۔۔ تو تم مجھ سے شیئر کر سکتے ہو۔” وہ اسکے برابر آکر بیٹھی تھی۔ مصطفی نے سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے بغور تکا تھا۔ اور پھر تمسخر سے ہنسا تھا۔

” لگتی کیا ہو میری جو تم سے اپنی کوئ پریشانی بانٹوں گا۔” وہ تمسخر سے گویا ہوا۔

” بیوی ہوں تمہاری۔” نازنین کی زبان سے بے ساختہ بر آمد ہوا۔

” ہنہہ بہت ہی گھٹیا انسان ہو تم۔ میری کمزوریاں جاننے کے لیئے تم۔ میری بیوی ہونا بھی قبول کرنے کو تیار ہو۔۔۔” مصطفی نے اسے پرتپش نگاہوں سے اندر تک چیرتی نگاہوں سے تکا تھا۔

” میں بھلا ایسا کیوں کرونگی۔۔۔” وہ جز بز ہوئ۔

” یہ کہو کہ تم یہ موقع اپنے ہاتھ سے جانے کیسے دوگی۔۔” وہ ایک ایک لفظ چبا کر گویا ہوا۔

” مصطفی تم۔مجھے بہت غلط سمجھ رہے ہو۔ اس وقت تو میں مکمل طور پہ خلوص سے تمہارا حال۔۔۔ دیکھ کر آئ تھی۔” نازنین نے بستر پہ دھرے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنا ہاتھ دھرا تھا۔ کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا خوابناک سا منظر پیش کر رہا تھا۔

” چلی جاؤ۔۔۔ یہاں سے۔” وہ اس وقت شاید خود سے بھی بیزار تھا۔

” نازنین نے دھیرے سے اسکے ہاتھ کی پشت پہ سے ہاتھ ہٹایا تھا۔ اور اسکے کمرے سے نکل گئ تھی۔ مصطفی کے اندر کا اضطراب اب بھی کسی صورت کم ہو کہ نا دے رہا تھا۔ مصطفی نے آٹھ کر سگریٹ سلگایا تھا۔ وہ پوری رات بالکنی میں کھڑا نجانے کتنے ہی سگریٹ پھونک چکا تھا۔ اور نازنین پوری رات کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی اسکی ابتر حالت دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے جاکر اتنے ذیادہ سگریٹ پینے سے روکنا چاہتی تھی۔ پر وہ نا روک سکی۔ اسکی ہمت ہی نا ہوئ۔ اگر مقابل نے اسکو اپنی زندگی میں کوئ حیثیت نہی دی تھی۔ تو کونسا اسنے اسکی زندگی میں اپنا کوئ مقام بنانے کی کوشش کی تھی۔

☆☆☆☆☆