Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 08)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

آفس میں روز کی مانند چہل پہل تھی۔ پر آج وہ بہت سستی سے کام کر رہی تھی۔ اسکا دل بلکل کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ ابھی بھی وہ خیالوں میں ڈوبی بیٹھی تھی۔ حیدر اسے کب سے آوازیں دے رہا تھا۔ پر آواز اسکے کانوں میں پڑتی تو وہ کوئ جواب دیتی ناں۔

حیدر غصہ سے بھناتا اسکے سر پہ آکر کھڑا ہوا تھا۔ اور فائلز زور سے اسکے ٹیبل پہ پٹخی تھیں۔ وہ اچھل کر سیدھی ہوئ تھی۔

” مس ساوری۔۔۔ اگر آپ اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں سوچ کر فارغ ہوگئ ہوں تو یہ فائلز صدیقی صاحب کو دے کر آجائیں۔” وہ سرخ رنگت لیئے اسپہ گرج رہا تھا۔

” سر میرا کوئ بوائے فرینڈ نہیں ہے۔” ساوری کو اسکے الفاظ برے لگے تھے۔ اسی لیئے بنا ہچکچائے۔ اسنے تڑخ کر کہا۔

” تو۔۔۔ مجھے کیوں بتا رہی ہیں۔ یہاں میں کسی کی پرسنل لائف انفارمیشن اکھٹی کرنے نہیں بیٹھا۔” اسکا پارہ مزید ہائ ہوا تھا۔

” میں آپکو اپنی پرسنل اپڈیٹ دے بھی نہیں رہی سر۔ میں بس بتا رہی ہوں۔ کہ میرے لیئے ایسا لفظ دوبارہ مت استعمال کیجیئے گا۔” اسنے سر جھکا کر کہا۔

” اوہ تم مجھے دھمکی دے رہی ہو۔ ٹھیک ہے۔ مطلب اب میرے امپلائ بھی ، مجھ پر چڑھیں گے۔” وہ اپنی پرسنل زندگی کی فرسٹریشن اسپہ نکال رہا تھا۔

” سر میں نے ۔۔۔ ایسا بھی کچھ غلط نہی کہا۔” اسکے ماتھے پہ بل آئے تھے۔ پر دل اسکا غصہ دیکھ اب بھی اندر سے کانپ رہا تھا۔

” سیریسلی۔۔۔۔!! تم نے جو کہا سب غلط کہا ہے۔ میں کوئ کٹھ پتلی نہیں کے دوسروں کے اشاروں پہ ج

ناچتا پھروں۔” حیدر نے اسے بازو سے تھام کر دیوار سے لگایا تھا۔ ساوری کا رنگ خوف سے زرد پڑا تھا۔

” سوری۔۔۔ سر۔۔ آہ۔” اسنے سہمے ہوئے لہجہ میں معذرت کی تھی۔ حیدر نے اسکے بازو کو اتنی زور سے دبایا تھا۔ کہ اسکے لبوں سے بے ساختہ سسکی بر آمد ہوئ تھی۔

” سوری۔۔۔!!! ، ہنہ نفرت ہے مجھے۔ تم جیسے دکھاوے سے بھرے لوگوں سے۔” اب اسے سامنے ساوری میں درفشاں کا عکس دکھ رہا تھا۔

” سر ۔۔۔ پلیز چھوڑیں مجھے۔” وہ اسکی آنکھوں میں جنوں دیکھ کر ڈری تھی۔

” بہت ناز ہے ناں۔۔۔ تمہیں ۔۔۔ اپنے اس فگر پہ۔ اس ہوش ربا سراپے پہ۔” وہ اسے کمر سے جکڑ کر بھڑک رہا تھا۔ اسکے نازیبا الفاظ سن ساوری کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا تھا۔ اور حیدر کے چہرے پہ جاکر پڑا تھا۔ تھپڑ پڑتے ہی وہ جیسے ہوش میں آیا تھا۔ سامنے کھڑی لڑکی تو اسکی پرسنل سیکٹری تھی۔ درفشاں نہی تھی وہ۔

” سوری۔۔۔ ریئلی ۔۔۔ سوری مس ساوری۔” وہ اپنی غلطی کے احساس ہونے پہ۔ جھٹ سے اسکا بازو اور کمر اپنی گرفت سے آزاد کرتا پیچھے ہٹا تھا۔ ساوری اب بھی دیوار سے چپکی کھڑی تھی۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ خوف کے مارے اسکے دل کی دھڑکن مانو بند ہونے لگی تھی۔ وہ بے جان سی ہوتی اپنی جگہ پہ بیٹھی تھی۔ اور حیدر لاچارگی سے اپنا سر تھام کر رہ گیا تھا۔

☆☆☆☆☆

میر عالم خان کب کا جا چکا تھا۔ آج رات انکا ولیمہ تھا۔ نازنین نے ڈیزائنر کو بلوایا تھا۔ اور وہ ڈھیروں قسم کے برائیڈل ڈریسز لیکر حاضر تھی۔

” بھابھی آپ اپنی آج شام کے لیئے ڈریس سلیکٹ کر لیں۔” نازنین نے چہک کر کہا تھا۔

” اوکے میں دیکھتی ہوں۔” وہ اپنا موبائل سائڈ پہ رکھتی اٹھی تھی۔ اس وقت بھی وہ سیاہ لباس میں تھی۔ بالوں کو کمر پہ بکھرائے۔ نازک سی ہیل پیروں میں پہنے۔ سیاہ جینز اور اسکے ساتھ سیاہ ہی اسٹائلش سی ٹاپ پہنے وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی۔ اسنے ہر ڈریس کو آگے پیچھے کرکے دیکھا۔

پھر ڈیزائنر کو دیکھ کر مسکرائ۔

” یہ سب بہت اچھا ہے۔ پر کیا بلیک میں نہیں ہے آپکے پاس کچھ۔” بڑے ہی نرم اور میٹھے لہجہ میں پوچھا۔

اس سے پہلے کہ ڈیزائنر کچھ کہتی۔ نازنین نے جھٹ مسکا کر کہا۔

” بھابھی آئ تھینک بلیک آپ کا فیورٹ کلر ہے۔ پر کیا بھابھی۔ آج آپ میری پسند کا کلر پہنیں گی۔ مجھے بہت اچھا لگے گا۔” وہ مسکائ تھی۔ نازنین کو دیکھ مسکا کر سر کو دھیرے سے اثبات میں جنبش دے گئ تھی۔

” بھابھی آپ نے کل بھی ریڈ نہیں پہنا۔ تو میں چاہتی ہوں آج آپ ریڈ کلر پہن لیں۔” اسنے مسکرا کر کہا۔

” شیور ۔۔۔ کیوں نہیں۔” اسنے مسکا کر نظر دوبارہ ۔ ان کپڑوں پہ ڈالی تھی۔ اور اسمیں سے ایک ڈریس اچک لیا تھا۔ وہ میکسی سرخ تو تھی پر اسقدر سرخ تھی۔ جیسے کسی انسان کا تازہ خون گر کر کئ لمحہ پڑا رہا ہو۔ اسمیں کالے رنگ کا گمان بھی بہت ہو رہا تھا۔

نازنین مسکرائ تھی۔

” اوکے بس یہ ڈن ہے۔ آپ میری بھابھی پہ اسکی فٹنس وغیرہ دیکھ لیں۔ میں آتی ہوں دو منٹ میں۔”

شعلہ اسے جاتے دیکھ کر ایک اسمائل پاس کر گئ تھی۔ اور پھر ڈیزائنر اسکی ڈریس کی فٹنگس چیک کر رہی تھیں۔

☆☆☆☆☆

میر عالم خان نے اپنا موبائل اٹھایا۔ ٹویٹر کھول کر وہ اسکرولنگ کر رہے تھے۔ جب انکی نظر اپنی اور شعلہ کی کل نکاح والی پکز پہ پڑی تھی۔ لوگوں نے جگہ جگہ انہیں ٹویٹ کیا تھا۔ اور مبارک بعد دی تھی۔ انہوں نے کمنٹ باکس کھولا تو۔ نیچے لاتعداد کمنٹس موجود تھے۔

کہیں کوئ مبارک باد اور دعائیں دے رہا تھا۔ اور کہیں کچھ شوخ لوگوں کے تبصرے جیسے۔

” میر عالم خان کی تو اس عمر میں لاٹری لگ گئ۔ کیا پیس ملا ہے۔” یہ کمنٹ پڑھ کر انکے ماتھے پہ بل آئے تھے۔ انہوں نے کمنٹس کو مزید اسکرول کیا۔

” لکھ کر لے لو اس لڑکی نے پیسے اور شہرت کی خاطر شادی کی ہے۔ نہیں تو اتنی خوبصورت جوان لڑکی میر عالم خان سے شادی کیوں کرے گی۔” ایک لڑکی کا تبصرہ تھا۔ میر عالم خان کو اتنا بھی عجیب نہیں لگا کیونکہ ایک حد تک حقیقت ہی تھی یہ۔

” آہ میر عالم خان میرا کرش دل توڑ دیا۔” ایسے بھی کئ کمنٹس تھے۔ جس پہ وہ محض تاسف سے سر ہلا کر رہ گئے تھے۔

موبائل کو بند کر کے سائڈ پہ رکھا تھا۔ مصطفی کو دیکھا۔ جو لگا الیکشن کی تیاریوں میں خوار ہورہا تھا۔ کبھی کس سے پیسے مانگنے کو فون کرتا اور کبھی کس سے۔ کیونکہ جو رقم تھی وہ تو وہ محترمہ ساری لیکر آڑ چکی تھیں۔

میر عالم پر سوچ سے بیٹھے تھے۔ جب انکا موبائل بجا انہوں نے بغیر نمبر دیکھے کال پک کی تھی۔

” میرے مجازی خدا گھر کب پہنچیں گے۔” شعلہ کی آواز سن کر اسکے ماتھے پہ بل آئے تھے۔

” کچھ پتا نہیں۔ مصروف ہوں بعد میں بات کرونگا۔” انہوں نے کال کاٹنی چاہی۔

” کال کاٹنے کی سوچئے گا بھی مت۔” اسکی چنگھاڑتی ہوئ آواز میر عالم کی سماعتوں سے ٹکرائ تھی۔

” میں نے کہا ناں بزی ہوں میں۔” میر عالم نے جل کر کہا۔

” تو۔۔؟؟۔” اسنے منہ بنا کر کہا۔

اسکے تو کرنے پہ میر عالم نے موبائل کو کان سے ہٹا کر گھورا تھا۔

” تو یہ کہ میں گھر آکر بات کرونگا۔” انہوں نے بات کو سمیٹا۔

” کچھ دیر میں تمہیں ایک سرپرائز ملنے والا ہے۔” وہ پر اسرار لہجہ میں گویا ہوئ۔

” کیسا سر پرائز۔؟” انہوں نے سیدھے بیٹھتے پوچھا۔

” صبر رکھیئے، موصوف ، ایک تو آپ بے صبرے بہت ہیں۔” وہ مسکرا کر گویا ہوئ۔

” اگر پہلے بتا دو گی تو۔ کوئ آسمان نہیں گر پڑے گا۔” میر عالم چڑے تھے۔

مصطفی نے انکے چڑے چڑے روپ کو تکا تھا۔

” سرپرائز ہے۔” اسنے شوخی سے کہا۔

” پر مجھے سرپرائز پسند نہیں۔” انہوں نے سرد لہجہ میں کہا۔

” پر مجھے تو پسند ہے۔” اسکی آواز جب میر عالم کے کانوں میں پڑی تو ، وہ کال کٹ کر موبائل کو زور سے ٹیبل پہ پٹخ گئے تھے۔

مصطفی نے عالم کو ترچھی نظروں سے تکا۔

” سر خیریت ہے۔” مصطفی نے اسکی سرخ رنگت تک کر پوچھا۔

” ہاں۔۔۔ خیریت ہی ہے۔ کیا ہونا ہے۔” وہ بھڑکے تھے۔

☆☆☆☆☆

” ساوری تمہارے بھائ کی طبیعت بہت بگڑنے لگی ہے۔” بھابھی نے زرد چہرہ لیئے اسے بتایا۔

” بھابھی ۔۔۔ میں کیا کروں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی۔” وہ مرجھائے ہوئے لہجہ میں گویا ہوئ۔

” کوشش کرو کچھ تو ہوجائے۔ تمہارے بھائ رات رات بھر تکلیف سے تڑپتے رہتے ہیں۔” بھابھی کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔

” بھابھی۔۔۔ میں کچھ کرتی ہوں۔ آپ پریشان نا ہوں۔” وہ بھابھی کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر گویا ہوئ۔

وہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں جب گھر کا دروازہ بجا۔ بھابھی دروازہ کھولنے گئیں۔ اور تھوڑی دیر بعد انکے ساتھ دو قیمتی لباس میں ملبوس خواتین اندر آئیں۔

ساوری نے ایک کو تو پہچان لیا تھا۔ اس لیئے کھڑی ہوگئ۔

” آپ یہاں۔۔” وہ حیران تھی۔

بھابھی بھی حیرانی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔

” میں ساوری کے باس کی خالہ ہوں۔ اور یہ امی ہیں حیدر کی۔” حیدر کی خالہ نے اپنا اور حیدر کی ماں کا تعارف کروایا تھا۔

” جی اچھا۔” بھابھی نے دھیرے سے مسکایا۔

” وہ ہم تمہاری بھابھی سے بات کرنے آئے تھے۔” انہوں نے ساوری کو دیکھ کر کہا۔