Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Ek Tamanna (Episode 12)

Ishq Ek Tamanna By Momina Shah

” بھابھی۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ رپورٹس مجھے دیں۔ میں ہاسپٹل جاکر پتہ کرونگی کہیں غلطی سے کسی اور کی رپورٹس تو نہیں دے دی ہیں۔” ساوری کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے۔

” تمہارے بھائ کی ہی رپورٹس ہیں ساوری مان کیوں نہیں لیتی تم۔۔ کہ تمہارے۔۔۔ بھائ کو کینسر ہے۔۔” بھابھی سسک کر گویا ہوئیں۔

” بھابھی ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔” وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔

” ہم۔۔۔ ہم۔۔۔ بھائ کا بہت اچھے سے علاج کروائیں گے بھابھی۔ بھائ بلکل ٹھیک ہوجائیں گے۔ انشااللہ آپ دیکھیئے گا۔” ساوری نے اپنے آنسو پونچھے تھے۔

” ساوری ہم غریبوں کے بس کا نہیں اتنا مہنگا علاج۔ بس ہم دعا ہی کرسکتے ہیں۔” بھابھی نے بکھرے لہجہ میں کہا۔

” میں اپنے بھائ کا علاج کرواؤں گی۔ اور میں نے سوچ لیا ہے اس دن جو سر حیدر کی امی اور خالہ آفر لیکر آئ تھیں۔ میں اسکے لیئے ہامی بھر دونگی۔” اسنے ایک عزم سے کہا۔

” پاگل ہوگئ ہو۔ میں کبھی تمہیں اسطرح تمہاری زندگی خراب نہیں کرنے دونگی۔” بھابھی نے اسے ڈانٹا تھا۔

” بھابھی کوئ خراب نہیں ہوتی زندگی۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔” وہ ضدی لہجہ میں کہتی۔ اپنے کمرے میں آئ تھی۔ اس دن جو حیدر کی امی اسے کارڈ دے کر گئ تھیں۔ ساوری نے وہ۔کارڈ ڈھونڈ کر اسپہ موجودہ نمبر ملایا تھا۔ چند بیلوں کے جانے کے بعد کال اٹھا لی گئ تھی۔

” ہیلو کون۔؟” حیدر کی امی نے موبائل کان سے لگا کر پوچھا۔

” میم۔۔۔ میں ساوری۔۔” ساوری نے لب کچلے۔

” ہاں ساوری۔۔۔ کیسی۔۔۔ ہو ۔۔ پھر تم نے سوچ لیا۔ کیا فیصلہ لیا تم نے۔” انہوں نے بے تابی سے پوچھا۔

” میں۔۔۔۔ اس آفر کے لیئے تیار ہوں۔” اسکی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔

” اوہ ۔۔۔۔ تھینک گاڈ۔۔۔ میں اپنی بہن اور حیدر کے ساتھ کاغذات ایک دودن میں تیار کروا کر تمہارے گھر آتی ہوں۔ پھر بس وہیں نکاح کرکے اور کنٹریکٹ پہ سائن کر لینا۔” انہوں نے بے قرار لہجہ میں کہا۔

جی اوکے ٹھیک ہے۔” وہ نم لہجہ میں دھیرے سے گویا ہوئ اور کال کٹ گئ۔ وہ موبائل بے دلی سے سائڈ پہ پھینکتی۔ لیٹی تھی۔ اور یکدم پھوٹ پھوٹ کر سسک پڑی تھی۔

☆☆☆☆☆

” آپکی پریس کنفرینس ہے آج۔ اور ایک جگہ جلسہ اگلے ہفتے ارینجڈ کیا ہے۔ شہر سے تین دن کے لیئے باہر جانا پڑے گا ہمیں۔” مصطفی سنجیدگی سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔

” ہمم۔ٹھیک۔۔ مجھے تم سے نازنین کے حوالے سے بات کرنی ہے۔” میر عالم نے سنجیدگی سے کہا۔ مصطفی نے ایک نظر میر عالم کو تکا۔ اور سرد لہجہ میں کہا۔ اسکے جواب نے میر عالم خان کے ماتھے پہ لاتعداد شکنوں کا جال بچھا دیا تھا۔

” میں اسوقت بلکل بھی اس لڑکی کا نام سننے کے موڈ میں نہی۔”

” پر تمہیں سننا پڑے گا۔ بیوی ہے تمہاری۔ اور جو تم نے اسکا حال کیا ہے مصطفی۔۔۔!! یہ تو میرے مصطفی کی تربیت نہی۔ نا ہی میرا مصطفی ایسا ہے۔” عالم نے افسوس سے کہا۔

” اچھا۔۔۔ اتنا جانتے ہیں آپ اپنے مصطفی کو۔ تو مجھے بتائیں۔ یہ یقین یہ اعتماد اس دن کہاں چلا گیا تھا۔ جس دن وہ آپکی لاڈلی جھوٹ بول رہی تھی۔” مصطفی کی آنکھیں ہلکی سی سرخ ہوئ تھیں۔

” مانتا ہوں۔ اس دن میں غلط تھا۔ پر ۔۔۔۔ سچ تو یہ ہے میں تم دونوں کو ایک ساتھ ایک رشتے میں بندھا دیکھنا چاہتا تھا۔ پر۔۔۔ آج اندازہ ہوا کہ اپنی بہن کے لیئے تمہیں چن کر میں نے اپنی زندگی کی شاید سب سے بڑی غلطی کی ہے۔” عالم نے افسوس سے کہا۔

” آپ کو جو سوچنا ہے۔ جو سمجھنا ہے۔ مجھے اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ آپکے دل میں جو آتا ہے آپ وہ کریں۔ بھلے آزاد کروا لیں اسے۔ مجھ سے۔” مصطفی نے سفاکیت سے کہا۔

” کوئ گڈا گڈی کا کھیل نہی ہے یہ مصطفی۔۔۔ رشتہ ہے۔ اور تمہیں یہ رشتہ نبھانا پڑے گا۔ تمہاری آخری سانسوں تک۔ پر ایسے نہیں۔ بہت اچھے سے۔” عالم نے ایک ایک لفظ چبا کر دہرایا۔

” مجھے نہیں لگتا کہ میں آپکی اس خواہش کو پورا کر پاؤں گا۔” وہ خفگی سے کہتا دفتر سے نکل گیا تھا۔ میر عالم۔سر تھام کر رہ گئے تھے۔

☆☆☆☆☆

عالم گھر آئے۔ جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوئے۔ انکی لاڈلی بہن اپنا زخم زخم وجود لیئے سامنے کھڑی تھی۔ سرخ ٹاپ اور اسکے ساتھ جینز پہنے۔ وہ اپنے بھائ کے مقابل آکر کھڑی ہوئ تھی۔

” بھائ مجھے پیسے چاہیئے۔” نازنین نے وہی اپنے ازلی پرانے انداز میں کہا۔

مصطفی نے اندر آتے اسکی بات سنی تو مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔

” کتنے پیسے چاہیئے میری گڑیا کو۔” انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگا کر لاڈ سے پوچھا۔

” دس لاکھ۔” اسنے اپنے بھائ کے کندھے پہ سر رکھ کر لاڈ سے جواب دیا۔

” اوکے میں ابھی مصطفی سے کہتا ہوں۔ تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرا دے۔” انہوں نے اسکے سر پہ بوسہ دے کر کہا۔

” سوری سر میں کردیتا دس لاکھ ٹرانسفر۔ پر اپنی اتنی محنت سے کمائ ہوئ۔ پائ، پائ میں صرف میںک آپ یا کپڑوں پہ نہیں اڑا سکتا۔

نازنین عالم کے پاس سے دور ہوئ تھی۔

” میں نے تم سے نہی مانگے پیسے۔” وہ تڑپ کر گویا ہوئ۔

” تو پھر کس سے مانگے ہیں۔ اب تم۔میری ذمےداری ہو۔ تو تمہارے خرچ بھی میں ہی اٹھاؤں گا۔” اسنے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا تھا۔

” میں بلکل بھی تم جیسے کم ظرف انسان کی زمداری نہی۔ میں اپنے بھائ کی زمدادی تھی۔۔۔ہوں۔ اور رہوں گی۔” وہ چلائ تھی۔

” آواز نیچی رکھو۔” وہ اسے خون آشام نظروں سے گھورتا اسکا بازو تھام گیا تھا۔

” مصطفی۔۔۔ چھوڑو اسے۔” عالم نے مصطفی کو وارن کیا۔

” آپ کچھ نہی بول سکتے۔ سر ہمارے درمیان۔ یہ رشتہ آپ نے خود باندھا ہے۔ اب اسکے انجام تک تو پہنچنے کا انتظار آپکو کرنا ہی پڑے گا چاہے۔ اچھا ہو یا برا۔” وہ سنجیدگی سے کہتا۔ نازنین کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا لے گیا تھا۔

نازنین اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے چھڑانے کو چیختی چلاتی رہ گئ تھی۔ پر مصطفی نے اسے کمرے میں لاکر ہی دم لیا۔ اور اسکے چہرے پہ ایک زور دار تھپڑ رسید کیا۔ وہ تھپڑ کی تاب نا لاتی بستر پہ گری تھی۔

” یہ ۔۔۔۔ جو تمہارا لباس ہے ناں۔ اسے تبدیل کرو اور پھر کمرے سے نکلنا۔ اور جو بھی چاہیئے ہو۔ پیسے ۔ کپڑے ۔ لتھے کچھ بھی۔ مجھے سے آکر مانگنا۔ اپنے بھائ سے جاکر مانگنے کی غلطی دوبارہ نا کرنا۔” وہ اسپہ چلایا تھا۔

” اوقات کیا ہے تمہاری۔۔۔۔ جو میں تم سے مانگوں۔” وہ سسکی تھی۔

” میری اوقات کا تو پتہ نہیں پر کل رات تمہیں تمہاری اوقات میں بہت اچھے سے باور کرا چکا ہوں۔ اسکے بعد مجھے مزید مت بھڑکاؤ کہ میں تمہیں تمہاری اوقات مزید یاد دلاؤں۔” وہ اسکو جبڑوں سے جکڑتا غرایا تھا۔

” آہہ ۔۔۔۔ دور ہٹو ایک جاہل ترین مرد ہو تم۔ میری سوچ سے بھی زیادہ چھوٹی ہے تمہاری اوقات۔” مصطفی جیسے ہی اسکے جبڑے اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہٹا تھا۔ وہ شدت سے چلائ تھی۔ اور وہ اپنے دل میں اسے جان سے مار دینے کی خواہش دل میں دبائے کمرے سے نکل گیا تھا۔ وہ بیڈ پہ پڑی سسکنے لگی تھی۔

☆☆☆☆☆

عالم کمرے میں آکر خاموشی سے بیٹھا تھا۔ نظریں سامنے دیوار پہ مرکوز کیئے۔ وہ نجانے کیا سوچ رہا تھا۔

شعلہ جو ابھی کھڑکی پھلانگ کر اندر آئ تھی۔ اسے سوچوں میں ڈوبے دیکھ کر شکر ادا کرتی واشروم کی سمت بھاگی تھی۔

” جہاں بھی جانا ہو۔ کم ازکم سیدھے راستے سے جایا کرو۔ یوں چوروں کی طرح آنا جانا بند کردو۔” میر عالم کی کرخت آواز سن کر اسکے قدم رکے تھے۔ میر عالم نے بغور اسے تکا تھا۔

” ہاں میں سیدھے راستے سے جائے تاکہ۔۔۔ تمہارے وہ میڈیا والے میرے پیچھا کرتے کرتے مجھ کو ایکسپوز کردے۔ اور تیری بھی جان چھوٹ جائے۔ ٹھیک بولی نا۔۔ میں۔” وہ اسکو دیکھ کر ہاتھ نچا کر گویا ہوئ۔

” یہ تیری۔۔۔۔ کیا ہوتا ہے۔ آپ نہی بول سکتی تو کم از کم تم کہہ دیا کرو۔” اسنے سرد لہجہ میں کہا۔

” اے۔۔۔۔ تیرے کو کوئ رائٹ نہی اپنی غلطیوں۔ کا غصہ مجھ پہ نکالنے کا۔ میں تو تیرے کو نہی بولی تھی۔ کہ جا اپنی بہن کا شادی تو مصطفی سے ٹھونک دے۔” وہ کمر پہ ہاتھ ٹکا کر بھپری تھی۔

میر عالم نے سرد سانس خارج کی تھی۔ اپنے غصہ کو دبانے کی کوشش کی تھی۔

” تمیز سے بات کرو۔” وہ اسکی بات کرنے کے انداز پہ اچھا خاصہ چڑا تھا۔

” کیا تمیز تمیز لگا رکھا ہے۔ میں ابھی اتنا کام کرکے آئ ہے۔ اور تو سالہ میرے کو فریش ہونے نہی دے رہا۔” وہ اسے چڑانے سے اب بھی باز نا آئ تھی۔ میر عالم غصہ میں اسکے مقابل آکر کھڑے ہوئے تھے۔

” آخری بار بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں۔ بات تمیز سے کیا کرو۔” وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتا تقریبا غرایا تھا۔ وہ بنا ڈرے شکل بنا کر واشروم جانے کے لیئے مڑی تھی۔ جب شعلہ کا پیر رپٹا۔ اس سے پہلے کے وہ زمین بوس ہوتی میر عالم نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا۔

شعلہ نے اسے خود سے دور کرنا چاہا۔ پر وہ ویسے ہی کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

” چھوڑ مجھے حسین لڑکی دیکھی نہی کہ شروع۔” وہ پھڑپھڑا کر گویا ہوئ۔

” اوکے۔” میر عالم نے کہتے ہی اسے چھوڑا اور وہ سیدھا زمین بوس ہوئ تھی۔

” آہ۔۔ بڈھے کھوسٹ۔ اتنا بھی نہی پتہ کہ لڑکیوں کو ٹریٹ کیسے کرتے ہیں۔” وہ چلائ تھی۔

” بلکل ٹھیک کہا تم نے۔ کیونکہ ہمارے دور میں لڑکیاں ایسے پکے ہوئے آموں کی طرح کسی کی بھی جھولی میں آکر نہی گرتی تھیں۔ کہ ہمیں پتا ہو کہ لڑکیوں کو کیسے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔” وہ اسے گھور کر گویا ہوا۔ اور اسکے گرنے پہ چوٹ کرنا بھی نا بھولا تھا۔

” ارے جاؤ جاؤ۔ تمہاری جھولی میں گرتی ہے میری جتی۔ وہ چڑتی ہاتھ نچا کر گویا ہوئ۔