Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode ( Part 2)

مغرور محبت 60 پارٹ نمبر 2
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Last episode
part no 2

صبح ہوتے ہی کچھ پیپر ورک کے بعد اس کو چھٹی مل گئی تھی ابھی بھی سب اس کے روم

میں ہی تھے وہ اپنی مما کے سینے سے لگی سب کی باتیں سن رہی تھی غازیان مینشن میں۔ نہیں

تھا آسی لئے سب اس کو بے سکون کرکے بیٹھے ہوئے تھے بھابھی ایک بات بتائے ایان بیڈ پر

بیٹھتے ہوئے بولا کیا ایان بھائی روبینہ بیگم بہت خوش تھی کہ ان کا فیصلہ غلط نہیں تھا انہوں

نے بلکل ٹھیک فیصلہ لیا تھا اپنی بیٹی کے لئے
ایان نے بولنا شروع کیا ایک بات بتائے بھابھی آپ

کو بھی کیا ابھی بیمار ہونا تھا کیا مطلب اس نے اچھنبے سے پوچھا آپ کو پتہ ھے میرے نکاح کا

سین بن رہا تھا کیا پتہ غازی بھائی رخصتی ہی کروادیتے لیکن اب تو کوئی چانس ہی نہیں ھے

کیونکہ ان کی زوجہ محترمہ جو بیمار ھے ہوگئی ھے یار بھابھی آپ نے بلکل ظالم سماج والے کام

کیے ھے اس کے اتنے دکھ بھرے لحجہ میں بولنے پر سب نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا ویسے دیور

صاحب تھوڑے دن کے لئے ہی آپکی شادی پوسٹ بوند کی ھے اتنا رونے کی کوئی بات نہیں روحہ

نے مسکراتے ہوئے اس کو چھیڑا آرے جائے آپ کا دیور کہاں سے آگیا میں آپ تو میری آپی ھے

میری ایک لوتی پھپھو کی بیٹی ویسے پھوپھو ھے کہاں وہ اپنی بہو اور بیٹے کے ساتھ گھر چلی

گئی تھی ہسپتال سے ہی اچھا گھر کب آئے گی یار یہ تو پتہ نہیں لیکن جلدی ائے گی ویسے آنٹی

ایک بات بتائے میری شادی کے کتنے فنکشن ہوگے اس نے روحہ کی بات سن کر روبینہ بیگم کو

مخاطب کیا میں بتاؤ میں ہانم فورا سیدھی ہوتے ہوئے بولی آپ کو پتہ ھے بھابھی ہانم کو یہ نہیں

پتہ ہوگا تو اور کیا پتہ ہوگا روبینہ بیگم نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر کہاں مما نہ کرے

اس نے مصنوعی خفگی سے کہاں تو مسکرادی چلے بھابھی بتائے نہ کتنے کتنے فنکشن ہوگے

میرے آپ کی سب سے پہلے ہم رکھے گے ڈھولکی اس کے بعد رکھے گے مہندی پھر مایوں اس کے

بعد مہندی پھر بارات پھر ولیمہ ایان بھائی کی شادی میں خوب مزہ آئے گا کیوں مما روبینہ بیگم

نے اس کی بات سن کر اس کی پیشانی چومی اور کھڑی ہوئی ان کے کھڑے ہوتے ہی روحہ زویا آیان

اور داؤد بھی سرعت سے کھڑے ہوئے ہانم نے بھی اپنی نگاہیں ان کی جانب کریں کیا ہوا مما آپ

کہاں جارہی ھے ابھی تو آپ آئی ھے چندہ کافی دیر ہوگئی ھے انو بھی اکیلی ھے گھر آپ اس کو

کیوں نہیں لیکر آئی اس نے خفگی سے کہاں پھر لیکر آؤ گی ابھی میں جارہی اور اپنا بہت سارا

خیال رکھانا اور جلدی سے ٹھیک ہوجاو وہ بول کر ایک بار پھر اس کی پیشانی پر جھکی اور

سب کو پیار کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی ان کے نکلتے ہی ایان ایک بار پھر اپنی شادی کا ٹوپک

کھولتے ہوئے بولا ویسے داود بھائی آپ کا بھی ولیمہ ہوگا کیا میرے ساتھ اس نے منہ بیگارتے

ہوئے کہاں تو میرے بھائی کے ساتھ میرا ولیمہ نہیں ہوگا تو کس کے ساتھ ہوگا وہ اور مزہ لیتے

ہوئے بولا بہی ہانم بھابھی اور روحہ بھابھی آپ کس کی سائیڈ ھے پہلے مجھے یہ بتائے وہ اتر کر

روحہ کی طرف کھڑا ہوا روحہ جواب دیتی اس سے پہلے زویا داؤد کے برابر میں کھڑی ہوتے ہوئے

بولی کوئی بھلا کسی کے بھی ساتھ ہوں میں تو اپنے داود بھائی کے ساتھ ہوں اور ان کا ولیمہ

بھی میرے ولیمہ کے ساتھ ہی ہوگا کیوں بھائی صحیح کہاں نہ میں نے اس نے بول کر سوالیہ

نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا اس نے ہنستے ہوئے گردن اثبات میں ہلائی تم سے کس نے پوچھا

کائے کو چلتی گاڑی میں چڑھ رہی ہوں ایان اس کے مقابل آتے ہوئے بولا ویسے ایان میں بھی زویا

اور داؤد کے ساتھ ہوں روحہ بھی ان کی طرف کھڑی ہوتے ہوئے بولی داود نے فخر سے اپنے

کندھے اچکائے اس نے رونے والی صورت بنا کر ہانم کو دیکھا جو سب کو ماتھے پر بل ڈالے دیکھ

رہی تھی بھابھی آپ دیکھ رہی ھے آپ کے بھائی کے ساتھ کتنا ظالم ہورہا ھے سب دیکھ رہی ہوں

میں ہانم صرف ایان بھائی کے ساتھ ھے میں بھی اس حق میں نہیں ہوں کہ ولیمہ ساتھ ہوں دیکھا

دیکھا ایک صرف آپ ہی مجھے سمجھتی ھے وہ اس کے برابر میں ڈھپ سے بیٹھتے ہوئے بولا

ویسے بھابھی آپ اس حق میں کیوں نہیں ھے داؤد بھی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا زویا اور روحہ

بھی غور سے اس کی بات سن رہی تھی آپ خود بتائے اگر ولیمہ ایک ہی دن ہوگا تو میں دو دن

کیسے تیار ہوگی اور آپ جانتے ھے نہ غازی جی کو وہ تیار بھی نہیں ہونے دے گے اس لئے ولیمہ

الگ الگ ہوگا اس کی بات سن کر سب نے قہقہ لگایا کمرے میں غازیان کی آواز نے سب کے قہقہ

کو بریک لگایا کیا ہورہا ھے اس کی سرد آواز پر سب نے اس کی جانب مڑ کر دیکھا یہ اس کی

طبیعت دیکھی ھے اور تم سب یہاں بیٹھ کر اس کے ساتھ گپے مار رہے ہوں اس میں تو عقل ھے نہیں کم از کم تم سب تو عقل کا استعمال کرو

اور تم داؤد خود ڈاکٹر ہوکر یہ حرکت کررہے ہوں اس کی بات سن کر سب سرعت سے اٹھے ہانم نے

غازیان کو گھور کر دیکھا سب پانچ منٹ میں کمرہ خالی کرو سارے وہ بولا تو سارے جلدی جلدی اس کے کمرے سے بھاگے ۔۔۔
××××××××
ہانم کچھ کھایا ھے تم نے اس نے قریب آتے ہی اس کی پیشانی پر اپنی اولٹی ہتھیلی رکھ کر

بخار چیک کرتے ہوئے کہاں آپ نے ایسے کیوں بھیجا کتنا برا لگا ہوگا ان سب کو وہ فورا ان سب

کی حمایت میں بولی ہانم فضول بات نہیں اور یہ بتاؤ کھانا کھ لیا ھے تم نے ہاں مما نے کھلا دیا آپ

ملے مما سے ہاں تمھاری مما اور بابا دونوں سے ملا بس اپنی چھوٹی گڑیا آئی مین انو سے

ملاقات نہیں ہوئی ہاں وہ گھر پر ھے چلو باتیں بعد میں ہوگی تم اب آرام کرو اور باتیں کچھ کم

بناؤ صحت کے لئے ٹھیک نہیں ھے ہانم غازی جی اچھا یہ بتائے آپ مجھے شاپنگ کروائے گے غازیان

نے اس کو سرے سے ہی بات پلٹتے دیکھا تو اپنی نگاہیں تھیرچھی کرکے اس کی جانب دیکھا اور

ایک آئی برو اٹھا کر اس سے سوال کیا کس لئے میڈم آپ کو شاپنگ کرنی ھے آرے آپ کو نہیں

پتہ مجھے کیوں شاپنگ کرنی ھے مجھے اگر معلوم ہوتا تو میں کیا تم سے پوچھتا اچھا بہی

ہانم اب کتنے کام کرے اب یہ بھی بتائے آپ کو اس نے اپنے ماتھا پیٹتے ہوئے کہاں غازیان کے

چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ آئی ایان بھائی اور داؤد بھائی کی شادی آرہی ھے ان کی شادی میں

کیا پہنوں گی میں میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں ھے غازی جی یہ بتائے آپ اس نے ہاتھ چلاتے ہوئے

کہاں کیوں وہ ریڈ والا ڈریس اور وہ گرین والا وہ سب کہاں گئے بہت سارے کپڑے پڑے ھے

تمھارے پاس ان میں سے ہی کوئی پہن لینا آئی سمجھ اور زیادہ بات مت کرو آرام کرو لیٹو فوراً

نہیں مجھے نئے کپڑے چائیے اس نے ضد کرتے ہوئے کہاں ہانم اتنے کپڑے نہیں لیتے اس نے

سمجھاتے ہوئے کہاں کبھی تو آپ میری بات مان لیا کرے پلیز نہ میرے بھائیوں کی شادی ھے

اچھے اچھے کپڑے لینے ھے مجھے اچھا ٹھیک دلادو گا لیکن ابھی آرام کرلے تھوڑا ٹھیک ھے

لیکن آپ اپنی بات سے مکرے گے نہیں پرومس نہیں مکرو گا اب پلیز تھوڑا آرام کرلے اچھا بہی

آپ تو پیچھے ہی لگ جاتے ھے ایک چیز کے وہ منہ بنا کر بولتی ہوئی آنکھیں بند کرلی وہ بھی سر نفی میں ہلاتا ہوا واش روم کی جانب بڑھا ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
روحہ آسمان کی طرف منہ کرکے پورے چاند کو دیکھ رہی تھی چاند پورا روشن تھا آسمان پر

ہلکے ہلکے بادل بھی تھے وہ اتنی مگن ہوکر چاند کو دیکھنے میں مہو تھی اس کو علم۔تک نہ ہوا

کب میں داؤد اس کے برابر میں آکر کھڑا ہوا پتہ تو تب چلا جب اس نے اپنے مظبوط بازو کا حصار

اس کے کندھے پر باندھا اس نے چونک کر اس کی جانب دیکھا داؤد کو دیکھ سکون کا۔سانس خارج

کیا ۔۔ کیا دیکھ رہی ھے بیگم آپ داؤد نے اس کو دلچسپی سے اپنے چہرے پر نظریں کریں دیکھی

تو ہلکی سی مسکراہٹ سے پوچھا کچھ نہیں بس دیکھ رہی ہوں میرا چاند زیادہ خوبصورت ھے یہ

پھر یہ چاند اس نے بول کر آسمان کی جانب دیکھا اچھا تو پھر کیا جواب ملا کونسا چاند

زیادہ خوبصورت ھے داؤد نے دلچسپی سے اس کی چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا جواب

بہت آسان ھے مجھے ایک بار دیکھتے ہی سمجھ آگیا تھا اس نے واپس سے اپنا چہرہ داؤد کی

جانب کرتے ہوئے کہاں اچھا کیا سمجھ آیا پھر کونسا چاند دنیا کا سب سے خوبصورت چاند ھے

آپ بتاسکتی ھے آخر یہ خوشنصیب چاند ھے کون ھے جو میری روحہ ڈارلنگ کو سمجھ آگیا

ھے کوئی ھے جس کو انسان کا دل پسند آتا ھے اس کی لینگویج اس کے کام نہیں پسند آتے وہ دل

سے محبت کرتا ھے اور نبھاتا بھی ھے اس نے اپنا چہرہ داؤد کی جانب کرتے ہوئے ایک فسوں میں

کہاں آس کو اس کے پیسے یہ عیش و عشرت سے محبت نہیں ھے اس انسان کو اس شخص سے

محبت ھے جس کو وہ چاہتا ھے وہ میرے دل کے بہت قریب ھے بہت زیادہ بہت محبت ھے مجھے

اس شخص سے داؤد بے اختیار ہوکر اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکا گیا میں نہیں جانتا مجھے

نہیں پتہ مجھے محبت تم سے کب ہوئی لیکن میں صرف اتنا جانتا ہوں جب بھی ہوئی بے

تحاشا ہوئی جب جب میں تم کو دیکھتا ہوں میری محبت دن بہ دن بڑھتی چلی جاتی ھے

کبھی مجھے چھوڑ کر مت جانا بہت محبت ھے تم سے روحہ نے سن کر پر سکون سانس خارج

کی اور اس کے سینے سے لگی۔داود مجھے اظہار محبت نہیں کرنی آتی لیکن میں صرف اتنا کہوں

گی میں نہیں رہ سکتی تمھارے بغیر بچپن سے محبت کریں ھے تم سے بچپن سے اپنا نام۔تمھارے

نام کے ساتھ جڑتے سنا ھے آپ تو دل میں بھی ایک خواہش ہوگئی تھی میرا نام تمھارے نام کے

ساتھ آئے داؤد آئی لو یو داؤد مجھے بھی بہت محبت ھے اپنی روحہ کو کبھی بھی کسی بھی

وجہ سے تنہا مت چھوڑنا بہت کچھ برباد ہوا ھے
میرا لیکن اب نہیں چاہتی میں تم سے میں دور

ہوں ایسا کبھی نہیں ہوگا اور بھول جاو اپنے اس درد ناک ماضی کو بس یاد رکھوں اپنے اس آج کو

جس میں داؤد درانی تمھارے ساتھ ھے اور ھمیشہ رہے گا آئی لو یو ٹو روحہ داؤد درانی اس

نے حق جتاتے ہوئے اس کا نام اپنے نام۔کے ساتھ لیا تو بے اختیار مسکرادی چاند کبھی بادلوں میں

چھپتا تو کبھی اپنی ایک جھلک دیکھا کر غائب ہوجاتا وہ دونوں کافی دیر تک خاموشی سے چاند کو تکتے رہے پھر اندر کی جانب بڑھے ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تین مہینے بعد ۔۔

مینشن ۔میں۔ ایک افراتفری کا ماحول تھا ہر کوئی اپنے میں لگا ہوا تھا کیونکہ آج گھر کے سب سے

چھوٹے بیٹے کی برات جو تھی آیان کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کر جائے ہانم کی

طبیعت بلکل ٹھیک ہوگئی تھی ان تین مہینوں میں غازیان نے اس کا بہت خیال رکھا تھا روحہ

نیچے کھڑی ہانم کا انتظار کر رہی تھی اور اوپر وہ غازیان کو منانے میں لگی ہوئی تھی غازی جی

پلیز جانے دیں دے میں ابھی آجاؤ گی اور ذیادہ میک اپ بھی نہیں کرواؤ گی قسم سے پلیزجانے

دیں دے پلیز ہانم دماغ خراب مت کرو جو بھی کرنا ھے یہی کرو اچھا غازی جی آپ کیوں نہیں

جانے دے رہے ھے ایان بھائی مطلب میرے بھائی کی شادی ھے پلیز ایسا نہ کرے نہ پلیز جانے دیں

دے سب جارہی ھے روحہ زرنش اور زویا میمو جان پھوپھو مما سب جارہی ھے پلیز جانے دیں

دے نہ ہانم سمجھ نہیں آرہی ھے اور ہٹو سامنے سے تیاریاں دیکھنی ھے مجھے کیا چل رہا ھے

داؤد کو بھی بولا تھا کے ڈیکوریشن والے کو دیکھ لے پتہ نہیں کہاں ھے یہ لڑکا وہ عجلت میں واچ

پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا میں جاؤ پھر کیا اس نے معصومیت سے پوچھا ہانم تھپڑ کھانے کا ارادہ

ھے تو میں لگا دیتا ہوں کیا ارادہ ھے تمھارا کیوں اتنا ظلم کررہے ھے ایک معصوم گڑیا پر اس نے بے

چارگی سے کہا۔ ہانم اس نے تنبیہہ نام پکارا آپ مجھ سے محبت بھی نہیں کرتے سب ایک جیسے

ھے کوئی ہانم سے پیار نہیں کرتا ھے ہانم دیکھوں مجھے بہت دیر ہورہی ھے چندہ بعد میں کرے گے

اس ٹوپک پر بات لیکن بعد میں کیا کرے گے اس ٹوپک کا جانا تو ابھی ھے نہ پلیز ابھی جانے

دیں دیکھوں میں ایک بار پھر سمجھا رہا ہوں نہ ابھی میں جارہا ہوں چھتیس کام ھے پھر آکر

اس بات پر بحس کرلے گے آپ کیوں بعد کے لئے رکھ رہے ھے جانے دیں دے نہ پلیز آئیندہ کبھی

ضد نہیں کرو گی پلیز وہ بلکل گیٹ کے سامنے کھڑی آس سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی اس

نے ایک نظر اس کو دیکھا اور اس بار وہ انکار نہیں کر پایا تھا لیکن ہانم میک اپ ڈارک نہیں

ہونا چاہیے اس نے تنبیہہ کہاں اور چہک کر اس کو گلے لگی تھینک یو تھینک یو تھینک یو وہ

بول کر نیچے کی طرف بھاگی غازیان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ بھی سر

جھٹک کر نیچے کی جانب بڑھا جہاں زرنش بھی زین کے ساتھ آگئی تھی اب ان تینوں نے ایک

ساتھ پالر کے لئے جانا تھا ان کو داؤد ڈراپ کرنے گیا اور زین غازیان کے ساتھ باقی کی اریجمٹ دیکھنے لگا ۔۔
××××××××××
ہانم روحہ اور زرنش کو داؤد لینے گیا تھا جبکہ زویا کو خود ایان پیک کرکے لے آیا تھا زویا پہلے

ہی آگئی تھی اور ایان کے ساتھ اسٹیچ پر بیٹھی ہوئیں تھی ان کی نوک جھونک وہاں بھی چالو

تھی اور ہانم زرنش اور روحہ ابھی تک نہیں آئی تھی بیچارہ داؤد پالر کے باہر کھڑا کھڑا سوکھ گیا

تھا لیکن وہ لوگ نکلنے کا نام ہی۔نہیں لے رہی۔ تھی غازیان کا فون آیا تو داؤد کے پاؤں اصل میں

کانپے تھے کیونکہ وہ اس کو پہلے ہی دو دفعہ کھڑی کھوٹی سنا چکا تھا اس نے ہمت کر کے فون

ریسیو کر کے فون کان سے لگایا ہیلو بھائی کہاں ہوں داؤد اسپیکر سے غازیان درانی کی غصیلی

آواز برآمد ہوئی وہ پورا بیچارہ گڑبڑا گیا وہ بھائی بس نکل رہے ھے یہاں سے وہ ہلکی سی آواز

میں منمنایا داؤد تم لڑکیوں کو لینے گئے ہوں یہ پھر بنانے غازی بھائی میری کوئی غلطی نہیں ھے

کب سے کھڑا ہوں یہ تینوں باہر آئی ہی نہیں رہی ھے ابھی بھی میں نے کال کریں تو بھابھی بول

رہی ھے بس ان کا ہیئر اسٹائل رہ گیا ھے اب میں کیا کرو تمھاری بھابھی کے دماغ میں تم اور

تمھاری بیوی نے ہی ڈالا تھا نہ کہ پالر سے تیار ہوں اس کو میں نے سمجھایا تھا اور وہ مان بھی

گئی تھی لیکن میں تمھارا کیا کرو بھائی وہ بات بنانے کے لئے کوشش کرنے لگا داود درانی بیس

منٹ ھے تمھارے پاس ان کو لیکر پہنچوں سب پوچھ رہے ھے زوئی بھی اکیلی بیٹھی ہوئی

ھے اگر تم ان کو لیکر بیس منٹ میں نہیں لیکر آئے میں وہاں اکر تمھارا اور ہانم کا حشر کردو گا

وہ غصہ سے بول کر فون بند کرگیا داؤد نے فون کو ایسے گھورا جیسے سامنے غازیان کھڑا ہوں

اور فورا پالر کی طرف بڑھا اور ریسیپشن پر جاکر ان کو بولنے گیا لیکن ان۔کو سامنے سے ہی

اتے دیکھا تو اللّٰہ کا شکر ادا کیا سامنے سے وہ تینوں اپنے اپنے گاؤن سنبھالتی ہوئی آرہی تھی

وہ جلدی جلدی ان کے قریب پہنچا یار کہاں رہ گئے تھے آپ تینوں پتہ ھے گرین مونسٹر میری

کھینچائی کررہے ھے اور یار بھابھی یہ دونوں تو ھے ہی پاگل آپ تو سمجھدار اتنی بہادر کہاں تھی

آپ وہ کھلکھلائی اپنی تعریف پر اور ان دونوں نے اس کو آنکھیں دکھائی چلے چلے بھابھی چلتے ھے

ان دونوں کو اپنی طرف حملہ وار ہوتے دیکھا تو ہانم کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف بھاگا وہ دونوں

بھی اس کی جلد بازی پر مسکراتی ہوئی باہر کی طرف بڑھی یہ لوگ دس منٹ میں ہال میں تھے

جہاں مہمان ہی مہمان ہی تھے ہانم چہکتی ہوئی فائزہ انو اور خاور مالک اور روبینہ بیگم کی

طرف بڑھی روحہ بھی فوزیہ بیگم اور صدیقی صاحب کی طرف بڑھے وہاں اکیلی صرف زرنش

رہ گئی تھی وہ بھی صدیقی صاحب والو کی طرف بڑھتی لیکن سامنے ہی نظر عالم صاحب پر

پڑی تو اس نے ان سے خفگی سے رخ موڑا ان کے دل کو کچھ ہوا تھا زین بہت دلچسپی سے اس

کی ہی جانب دیکھ رہا تھا وہ ان کو انگنور کرکے صدیقی صاحب والوں کی طرف بڑھتی اس سے

پہلے عالم صاحب اس کی طرف بڑھے ہٹ جائے سامنے سے مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ھے اس

نے اپنے لحجہ کو مظبوط بناتے ہوئے کہاں میں کیا کرتا تم خود بتاؤ کیا میرا انتخاب غلط ھے انہوں

نے اس کو مناتے ہوئے کہاں مجھے نہیں کرنی ھے آپ سے بات ہٹے میرے سامنے سے زرنش اپنے بابا

کی طرف دیکھوں وہ اس کو شانے سے تھام کر بولے ہٹ جائے بابا پلیز وہ اپنے آنسوں اندر کی

طرف اتارتے ہوئے بولی آپ کو پتہ ھے اگر زین کی جگہ اپ میری کسی اور سے شادی کروادیتے تو

آپ کی وجہ سے میرا بچپن بھی خراب ہوا تھا اور میری جوانی اور میری میری پوری زندگی

خراب ہوجاتی آپ کو اندازہ تھا تم نہیں جانتی ہوں میں کیوں باہر رہتا تھا معلوم ھے مجھے اپ

بھی ایک انٹیلیجنس ٹیم کے میمبر ھے لیکن بابا میں اپ کی بیٹی ہوں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں

کرسکتے تھے وہ بول کر رودی زین دور کھڑا تڑپا تھا انہوں نے قریب ہوکر اس کو سینے سے لگایا

اور اس کے سر پر اپنے لب رکھے وہ ان کے سینے سے لگ کر مزید بلکی سب فیملی والوں کی نگاہ

اس کی جانب اٹھی تو سب ان کے قریب ہوئے صدیقی صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیوں

بہی عالم صاحب آپ ہماری بیٹی کو کس لئے رولا رہے ھے آپکی بیٹی جھلی ھے میں کیا کرو انہوں

نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہاں زین قریب آیا اور سرگوشی میں بولا بیگم

مت رو خدا کے لئے لوگ ڈر جائے گے وہ روتے ہوئے ہلکی سی کھلکھلائی وہ ہنسی تو سب نے شکر

کیا چلے نہ سب وہاں دلہن کے پاس چلتے ھے سب پیکچر لے گے ہانم بولتی ہوئی اسٹیج کی جانب

بڑھی اور وہ سب بھی مسکراتے ہوئے اسٹیج کی جانب بڑھے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازیان کسی سے بات کررہا تھا جب ہانم اس کے پاس آئی لیکن غازیان کو مردوں کے ساتھ دیکھ

کر پیچھے ہی روک گئی کچھ محسوس ہونے پر وہ پیچھے موڑا تو وہ اسی کی جانب دیکھ رہی

تھی وہ ایکسکیوز کرتا ہوا اس کی جانب آیا کیا ہوا ہانم اس کے بال پیچھے کرتے ہوئے پوچھا آف

او غازی جی یہ فیشن ھے اس کو ایسے ہی رہنے دے وہ مسکرایہ اچھا یہ بتاؤ کھانا کھایا وہ تو

کب کا پیٹ بھر کر کھ لیا بس اب آپ اپنا موبائل دیں دے کیوں اس نے اچھنبے سے پوچھا یار

دراصل مجھے وہ چاہئے ہانم تمیز سے یہ کیا ہوتا
ھے یار بڑا ہوں میں تم سے اچھا نہ سوری موبائل

دیں دے مجھے پیکچر لینی ھے وہ دیکھے روحہ اور زرنش سب لے رہے ھے اور وہ دیکھے زویا اور

ایان بھائی بھی لے رہے ھے مجھے بھی لینی ھے وہ دیکھوں روحہ زرنش اپنے ہسبنڈ کے ساتھ لے

رہی ھے اگر تم میرے ساتھ لینا چاہتی ہوں تو ہم بھی لیتے ھے ہاں نہ لے اور میری اور انو کی بھی

لے وہ اس کا بازو پکڑتی ہوئی بولی اس نے ایک جاندار قہقہہ لگایا اور ساتھ میں کافی ساری

پیکچر لی تھوڑی دیر بعد رخصتی ہوگئی تھی سب اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے تھے ایان

بہت خوش تھا اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی وہ باقاعدہ ناچتے ہوئے گیا تھا گھر پر ۔

میمونہ بیگم مطمئن تھی آج انہوں نے اپنی دوست سے کیا وعدہ پورا کیا تھا ان کے بچوں

کی پرورش کر کے وہ ایک عظیم خاتون تھی ایس پی خاور مالک کو بھی سمجھ آگئی تھی بیٹیاں

ہی رحمت ہوتی ھے ان کو اس بات کا احساس ہانم سے دور ہوکر ہوا تھا صدیقی صاحب اور

فوزیہ بیگم نے بھی زین کو معاف کرکے اس کو قبول کرلیا تھا وہ بہت خوش اور اطمینان میں

تھی ان کو بھی غازیان نے معاف کرکے سینے سے لگایا تھا سب کی زندگیاں مکمل ہوگئی تھی اگر

کوئی نامکمل تھآ تو آج کا چاند تھا وہ آدھا تھا آج سب کو سب کی محبت مل گئی تھی مغرور

محبت ہونے کے باوجود سب ایک دوسرے کے ساتھ تھے خوش تھے ان سب کی خوشی الگ ہی

تھی ایک دوسرے سے انتہا کی محبت کرتے تھے لیکن مغرور۔۔

ختم شدہ ❤️