Magroor Mohabbat By Anabiya Shah Readelle 50061 Last updated: 7 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Magroor Mohabbat
By Anabiya Shah
تعریف نہیں کرنی تھی اس لیے خاموش رہا اور بہی بے کار شیف آج آپ کچن میں دیکھ رہے ھے
خیر تو ھے آج کیوں ہمارے معصوم مصالحوں کی شامت آئی ہوئی ھے داؤد چوپنگ کررہا تھا ایک
چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اس کو ضبط کرکے پلٹا بھابھی کا آج پہلا دن ھے اپنے سسرال میں
ان کو سپیشل فیل کروانا ھے اس لئے خود ناشتہ بنارہا ہوں چل اب تو آہی گیا ہے تو میری مدد
کروادے نہیں بھائی اکچیلی میں پورا ریڈی شیڈی ھوں یونی جانے کے لئے میرا کپڑے اور
ہیئر اسٹائل خراب ہو جائے گا اور یہ سب آپ ہی کرے میں نے تو بھابھی کے لئے بہت اسپیشل
چیز تیار کر رکھی ھے اس نے تھوڑا اترا کر کہاں اچھا کیا تیار کر رکھا ھے تو نے ھے ایک اچھی
سی چیز آپ کو کیوں بتاؤ اچھا جو مرضی کر مجھے ذرہ یہ نمک پکڑ وا اس نے آنکھیں گھما کر
نمک اس کو پکڑوادیا بھائی آپ کو پتہ ھے صبح میرے ساتھ کیا ہوا ایان شیلف پر چڑھ کر بیٹھا
کیا داؤد نے مصروف انداز میں پوچھا بھائی صبح میں مدثر کو کال کر رہا تھا تو غلط نمبر
ڈائل ہوگیا آپ یقین نہیں کرے گے سامنے لڑکی تھی اور پتا ھے بلکل ٹپوری لینگویج میں بات کر
رہی تھی میری تو سنی ہی نہیں خود سنا کر بند کردیا فون ایان نے فروٹ باسکٹ سے سیب اٹھا
کر ایک بائیٹ لیکر بتایا ٹپوری لینگویج مطلب داؤد نے واش بیسن میں ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا
یار وہ نہیں ہوتی تیرے کو نہیں پتا میرے کو پتہ ھے ایسی بھائی اور وہ ایک لڑکی بول رہی تھی
میں تو غش کھاتے کھاتے بچا داؤد کی آنکھوں کے سامنے روحہ کا چہرہ لہرایا تو خود ہی ایک
خوبصورت مسکراہٹ چہرے پر آگئی ایان نے مشکوک نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا ہنسا
کیوں جارہا ہے بھائی جان اہم اہم ایان نے اس کو چیڑا شٹ اپ تو بول اس طرح سے رہا تھا کہ
مجھے ہنسی آگئی خیر اماں بی اس نے کچن کے دروازے پر کھڑے ہوکر اماں بی کو آواز دی وہ
بھی کسی بوتل کی جن کی طرح حاضر ہوئی اماں بی اوپر جاکر بھائی اور بھابھی کو اٹھا دے
اور ناشتہ کا بول دے جب تک میں ملازم کے ساتھ مل کر ٹیبل سیٹ کرلیتا ہوں وہ بھی سر ہلاکر
اوپر چلی گئی تاکہ غازیان اور ہانم کو اٹھا سکے چل ایان نیچے اتر اور یہ ٹیبل پر رکھنا اسٹارٹ کر
یار بھائی اتنے سارے ملازم ہے میں ایان درانی کام کرتے ہوئے اچھا لگو گا اس نے تھوڑا غرور سے
بولا ان میں سے ہی کسی کو بول دے میں نے اس دن کیا سمجھایا تھا کہ اپنے سے کم تر کسی کو
نہیں سمجھنا چاہیے چاہے وہ تمھارے ملازم ہی کیوں نہ ہوں اور تو پھر اس لحجہ میں شروع
ہوگیا آرے یار بھائی اس میں غلط کیا بولا ایان داؤد نے تنبیہ اس کا نام لیا تو وہ خاموش
ہوگیا تو داؤد نے اس کو تھوڑا سمجھانا چاہا دیکھ ایان صاف ستھرا رہنے یا اچھے کپڑے پہننے
سے ہرگز یہ مراد نہیں ہے اور یہ خیال دل میں نہیں آنا چاہئے کہ اپنے سے مالی لحاظ سے کم تر
کسی شخص کے ساتھ نہ بیٹھوں۔ اگر یہ صورت ہو گی تو پھر تکبر ہے۔ ورنہ اچھے کپڑے پہننا اور
صاف ستھرا رہنا، اچھے جوتے پہننا یہ تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اظہار ہے۔ اور اگر تکبر ہو گا
تو تب فرمایا کہ ایسے شخص کے لئے پھرجنت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے مومن اور دنیا دار میں
یہی فرق ہے کہ وہ صاف ستھرا رہتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اچھے جوتے پہنتا ہے اپنے گھر کو
سجا کر رکھتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو خوبصورتی پسند ہے یعنی اس کا یہ ظاہری
خوبصورتی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے، اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور
کیونکہ مومن کا یہ اظہار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے۔ اس لئے غریب
آدمی کے ساتھ مالی لحاظ سے اپنے سے کم بھائی کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اس کا پاس لحاظ رکھنا یہ
بھی اس کے لئے ایسا ہی ہے جیسا کسی مالدار شخص کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اس کا پاس لحاظ
کرنا ہے۔یہ ہے اسلامی تعلیم کہ تم خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ
سے اظہار بھی کرو لیکن اس کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق ان غریبوں کا بھی خیال رکھو جو
تمھیں وقت پر کھانا دیتے ھے وقت سے پہلے تمھارے کپڑے دھوکر رکھتے ھے استری کرتے ھے
ان کا بھی احسان مانا کرو تاکہ ان کا بھی ایک بھائی کی حیثیت سے حق پورا ادا کرو ان کی
بھی عزت کرو
