Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

مغرور محبت25
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 25
یہ کیسے ہوسکتا ھے سرفراز اس اڈے کا ایڈریس تو کسی کے پاس نہیں ھے تو وہ اٹیلیجینس کی

ٹیم وہاں کیسے پہنچی اور سب کچھ کیسے ختم کردیا سر جتنے بھی بندے تھے وہاں ان سب کو

بہت بے دردی سے مارا گیا ھے اور ایک بھی لڑکی نہیں ھے سب بازیاب کروالی گئی ھے آج ڈیلوری

ہونی تھی ڈی کے نے غصہ سے کھڑے ہوکر ایک زور دار لات شیشہ کی میز پر ماری کس نہ ہنجار

نے غداری کی ھے اور اس ٹیم کو میرے اڈے کی خبر دی میں چھوڑو گا نہیں وہ تھوڑا ہچکچا کر بولا سر کیا وہ غصہ کی

زیادتی سے چیخا تو سرفراز گھبراہ کر دو قدم پیچھے ہوا اور سر نیچے کرلیا بول سرفراز سر آپ

نے رانا سر کو۔یہ خبر دے دی ھے ان کو بتائے کیا پتہ ان کو کچھ علم ہوں ہتادیا ھے اس کو بھی

آتا ہوگا وہ بھی میں آگے پارٹی کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ یہ سب ہوگیا ھے سرفراز کچھ کرو وہ سر

دونوں ہاتھوں میں گیرا کر صوفے پر بیٹھا سر روحہ باجی کو بتائے کیا ڈی کے نے جھٹکے سے

سر اٹھایا ابھی تک اس کو خبر نہیں دی کسی نے بھی نہیں سر آپ اجازت دے گے تو ان تک بات

پہنچے گی حرام خوروں فورا بتاؤ اس کو اور یہاں بلاؤ اس کو کسی کام کے نہیں ہوں تم سب

دفعہ ہوجاو یہاں سے سارے میرے سارے پیسے سب ڈوب گئے کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے جاؤ

یہاں سے شراب کا گلاس اٹھا کر زمین پر پھینکا اور ایک دم کچھ یاد آنے پر سرفراز کو

روکا بات سن اوئے وہ پیچھے موڑا وہ پینٹینگ تو سیف ھے نہ وہاں پر جی سر وہ سیف ھے ہم نے

اس کی جگہ پہلے ہی چینج کردی تھی اس لئے کسی کو کچھ نہیں پتہ شکر اس کو سیف جگہ

پر رکھ دو وہ بہت کام کی ھے اور جاؤ یہاں سے اور روحہ کو انفورم کرو اس بات کا جی سر وہ سر اثبات میں ہلا کر مینشن سے باہر چلا گیا ۔۔۔

===============
ہانم اٹھو اور بریک فاسٹ کرو دس بج رہے ھے وہ اس کے سر پر کھڑا کب سے اس ڈھیٹ ہڈی کو

اٹھانے کی کوشش کررہا تھا لیکن ہانم بھی مردوں سے شرط لگاکر سوئی تھی آج کچھ بھی ہو جائے

میں نہیں اٹھو گی ہانم آٹھ رہی ہوں یہ پھر میں پہلے دن کی طرح تم پر پانی کا گلاس کھالی

کرو اس نے اپنے طور پر اس کو دھمکی دی تھی لیکن وہ ہنوز سوتی رہی اس نے پہلے اس کی

پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ٹیمپریچر چیک کیا جو بالکل نورمل ہورہا تھا سائیڈ ٹیبل سے پانی کا بھرا

ہوا گلاس اٹھایا اور پورا اس پر خالی کردیا وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور خود کو غصہ سے گھورتے ہوئے

پایا تو خود بھی آنکھیں چھوٹی کرکے غازیان کو گھورا آپ نے مجھ پر پانی کیوں پھینکا اس نے

اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے خفگی سے کہاں تو غازیان کے لب ہلکی مسکراہٹ میں ڈھلے گرین

آنکھیں بھی ہلکا سا مسکرائی میں تمھیں کب سے اٹھا رہا ھوں آٹھ جاؤ دیر ہورہی ھے ناشتہ کرلو

لیکن تم اٹھ نہیں رہی تھی اس کے الاوہ میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا اس لئے یہ کیا بول کر

سامنے والے کاوچ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا میں آپ کو بتارہی ہوں میں کالج نہیں جاؤگی

اس نے دھیمے سے لحجے میں کہاں تو غازیان نے اپنی بھنووں سوکڑی کیا مطلب ھے اس بات کا

وہ طیش سے بولا تو وہ ہلکی سی آواز میں منمنائی میں نہیں جاؤگی آج کالج تو اس کے

چہرے کے زاویے جو خطرناک حد تک خراب ہوگئے تھے تو اس کی بات سن کر نورمل ہوئے چلو ٹھیک

ھے آج نہیں جانا ابھی جاکر فریش ہوں میں تمھارے لئے ناشتہ ریڈی کرواتا ہوں ایک بات بولو

آپ سے وہ جو دروازے کے قریب گیا تھا اس کی نم آواز پر روکا ضرور لیکن پلٹا نہیں آپ کو پتہ

ھے مجھے میری فائزہ نے کیا بولا ھے اس کی آواز میں واضح نمی شامل تھی جس کو محسوس

کرکے اس نے غصہ سے جبڑے بھینچے وہ بول رہی تھی کہ میں گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہوں میں

نے اپنے ماما بابا کی عزت کو روند دیا ھے آپ جانتے ھے نہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ھے

غازیان پلٹا تو وہ اپنی اولٹی ہتھیلی سے آنسوں صاف کررہی تھی میں نے ایسا کہاں کے تم نے اپنے

ماں باپ کی عزت روند دی ھے ہانم لیکن سب تو یہی بول رہے تھے نہ اس نے سو سو کرکے کہاں تو

اس نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کے سامنے کیا جس کو اس نے ناسمجھی سے اس کو

دیکھا یہ کس لئے یہ یوز کرنے کے لئے ہوتا ھے اس نے دانت پیس کر بولا آپ ایسے بولے گے اس نے

رومال جھپٹنے والے انداز میں لیتے ہوئے کہاں ہانم میں نے صرف اتنا کہاں ھے اس کو یوز کرتے ھے

بس میں آپ سے ایک بات بولو آپ غصہ تو نہیں کرے گے اگر تم نے یہ کہاں نہ کہ مجھے کالج نہیں

جانا میں تمھارے منہ پر رکھ کر تھپڑ مارو گا اس لئے سوچ کر بولنا اس نے نم شکوہ کناں آنکھیں

اٹھا کر اس کو دیکھا تو اور خفگی سے بولی تو میں کیا بولو سب بار بار بول رہے تھے کہ میں

بھاگی ہوئی لڑکی ہوں میری فائزہ بھی بول رہی تھی اور جتنی بھی ٹیچر جو میرے ساتھ پیار

سے پیش آتی تھی سب اتنا سارا غصہ کررہے تھی کوئی بھی پیار سے بات نہیں کررہی تھی غازیان

کے ماتھے پر بل پڑے کسی نے کچھ کہاں ھے تم کو کل کالج میں کوئی کچھ بول نہیں رہا تھا

نہیں کوئی منہ سے کچھ نہیں بول رہا تھا لیکن سب کی آنکھیں سب کچھ بول رہی تھی میں نہیں جانا چاہتی کالج اور چہرہ ہاتھوں میں

چھپاکر رونے لگی غازیان کی دھاڑ سے اس کا رونا بند ہوا چاہ کیا رہی ہوں تم کب سے پیار سے بات کرہا ہوں میں تم سے عزت کی زبان سمجھ

نہیں آتی کتنی دفعہ بولا ھے تم سے غصہ سے اس کو بازو دبوچا تو اس نے گھبرا کر اس کے ہاتھ کو

دیکھا اور غصہ کی زیادتی سے سرخ چہرے کو دیکھا تو آنکھیں ڈر کر خود نیچے ہوگئی س۔۔س۔سوری

آواز بند بلکل اب میری بات کان کھول کر سنو یہ لاسٹ ٹائم سمجھا رہا ہوں اب میں تمھارے منہ

سے ایک دفعہ بھی یہ بات نہ سنو کہ تم کالج نہی جاؤ گی سمجھ آئی تو اس نے زور سے سر اثبات

میں ہلایا تو وہ اس کا بازو چھوڑ کر پیچھے ہوا ہانم تم کالج جاؤ گی تمھیں کوئی کچھ نہیں بولے

گا اس کا میں وعدہ کرتا ہوں ساری ٹیچر کا رویہ بھی تمھارے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا پکا نہ اس نے

اس سے پوچھا تو اس نے صرف گردن ہلائی اور فائزہ بھی مان جائے گی وہ بھی پہلے جیسی

ہوجائے گی سب ٹھیک ہو جائے گا اور وہ لڑکی بھی اچھا چلو ایک کام کرتے ھے تم فریش ہوجاو

ہم باہر چلتے ھے اور تمھارے لئے تھوڑی سی شاپنگ اور باہر ہی کھانا کھائے گے ہم لوگ برگر

اور پیزہ بھی کھائے گے اس نے چہک کر کہاں تو غازیان کے مونچھیں تلے انابی لب مسکراہٹ میں

ڈھلے اس کی مسکراہٹ بہت دلکش تھی اس بات کا ہانم نے دل میں اطراف کیا اوکے لیکن برگر اور

پیزہ میں سے صرف ایک چیز ملے گی لیکن آپ نے کہاں تھا کہ ہم باہر کھانا کھائے گے تو اس نے اولٹا

اسی سے سوال کیا تو اگر مجھے کھانا کھلائے گے تو کھانا بھی تو میری مرضی کا ہوگا نہ تمھیں

پتہ ھے مجھے حیرت ہورہی ھے تم ہوں تو اتنی دھان پان سی سارا کھانا جاتا کہاں ھے آپ مجھے

یہ بتائے آپ مجھے پیزہ اور برگر دونوں کھلائے گے نہ اچھا ٹھیک ھے جاکر تیار ہوں پھر ہم چلتے

ھے بلکہ ناشتہ کے بعد میمو جان کے پاس چلتے ھے وہاں زویا بھی ہوگی وہ واش روم کے گیٹ

کے پاس جاکر موڑی نہیں ابھی تو وہ یونی میں ہوگی تمھاری طرح چھٹی نہیں کرتی ھے وہ میں

چھٹی نہیں کرتی منہ بسور کر بولتی وہ واشروم میں داخل ہوگئی تو وہ بھی مسکراتا ہوا نیچے کچن کی جانب بڑھا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مس روحہ آپ یہ فائیل اٹھا لے ابھی ہم لوگ چائلڈ وارڈ میں جائے گے ان سب بچوں کی فائیل ھے

ہاں اپن نے یہ سب اٹھا لیا ھے اس نے فائیل کو سمیٹنے کے بجائے جیسی بالترتیب تھی ایسے ہی

دونوں ہاتھوں کی مدد سے اٹھالی چلو ہوگیا تو
ساتھ کھڑی ماہین غصہ سے کچھ بولتی اس سے

پہلے داود نے نرم لحجہ میں اس سے فائیل لی روحہ ایسے نہیں اس طریقے سے ساری فائیل گیر

جائے گی اور ہوسکتا ھے آپ بھی گیر جائے ان کو ایسے ترتیب سے کر کے پھر ہاتھ میں کیری کرے

فائلز کو ترتیب سے کرکے اس کے ہاتھ میں تھمائی آرے تو وہ بھی ٹھیک تو تھا بس وہ ویسے تھا

لیکن یہ بھی صحیح ھے چل جی چلے وہ تینوں ایک ساتھ آفس سے نکلے اور چائلڈ وارڈ کی طرف

بڑھے مس روحہ آپ سے ایک بات بولو ہاں بول پوچھ کیوں رہا ھے اپنا بوس ھے تو میں آپ سے

کچھ کہوں گا تو آپ کو برا تو نہیں لگے گا نہ وہ لوگ کوریڈور میں چل رہے تھے نہیں نہیں لگے گا

بنداس بول میں نے کل آپ کو بائیک چلاتے ہوئے دیکھا تھا آپ سے ریکوسٹ ھے اپنی بائیک کی

رفتار زرہ دھیمی رکھا کرے پلیز اٹس ریکوئسٹ روحہ کے دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی پھر خود

کو کمپوز کرکے بولی لیکن اپن کی رفتار تو ٹھیک تھی نہیں روحہ آپ کی رفتار بہت تیز تھی پلیز

آپ اس کو کم کرے چل تو نے اتنے پیار سے بولا ھے اپن تیرے بات نہیں ٹالے گی تھوڑا سپیڈ کو

کم کرلے گی وہ لوگ چائلڈ وارڈ میں انٹر ہوئے تو سب وارڈ میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے آیک کی

طرف بڑھے آسلام علیکم کیسے ھے اپ داؤد نے خوشدلی سے پوچھا بچہ نے مسکرا کر جواب دیا

وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں ڈاکٹر بس ہلکی پھلکی کھانسی ہورہی ھے اچھا ابھی ٹھیک ہو

جائے گی اپ کا نام کیا ھے میرا نام حمزہ ھے اوکے مس روحہ حمزہ کی فائیل دے مجھے جی اس نے

دو تین فائیلز کے نام پڑھ کر حمزہ کی فائیل اس کو دی ایک گھنٹہ کم۔از کم ان لوگوں کو سب کے

چیک اپ میں لگ گیا تھا لاسٹ بچہ کی طرف بڑھے وہ بچہ کوئی پانچ سال کا تھا گول مٹول

سا تھا اور اس کی ماں پریشانی سے سر تھام کر اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی اسلام علیکم

کیسے ھے اپ داؤد نے جیسے سب بچوں کے ساتھ بیہو کیا تھا اس کے ساتھ بھی کیا روحہ کو یہ

سب بہت اچھا لگ رہا تھا بچہ تو اس کے بچپن سے کمزوری تھے اس بچہ نے داود کو دیکھا اور

تنفر سے جواب دیا میں ٹھیک ہوں ڈاکٹر مجھے میرے گھر جانا ھے بس مجھے چھٹی دے دو ورنہ

میں تمھارے دائے گال پر اپنے سیدھے ہاتھ کا موکا مار کر ایک زبردست سا نشان بنا دوگا گا یہ میرا چیتا روحہ ایک دم چیخی داؤد

جو ابھی بچے کی بات سن کر صدمے میں تھے روحہ کی طرف اچھنبے سے دیکھا جو بہت

اشتیاق سے بچے کو دیکھ رہی تھی مس روحہ بی پروفیشنل اس نے سخت لحجہ میں لیکن وہ

روحہ کیا جو کسی کی بات سن لے اس نے فائیلز ماہین کے ہاتھ میں تھمائی اور داؤد کو پیچھے

کرکے خود بچے کے قریب ہوئی یار تو نے کبھی کسی سے کوئی پھڈا وغیرہ کیا ھے اپن کو بتا نہ میں آپ کو

کیوں بتاؤ پریٹی گرل وہ بچہ ناگواریت سے ہی روحہ کو بھی جواب دینے لگا تھا لیکن جب روحہ

کا چہرے دیکھا تو اپنے الفاظ ٹھیک کیا داؤد کو اس کے اتنی جلدی بدل جانے پر حیرت ہوئی لیکن

سمجھ آکر مونچھیں تلے انابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے آرے یار اپن کو بھی یہ سب بہت پسند ھے تیرے کو پتہ ھے اپن کی

فیوچر پلیئنگ کیا ھے اپن کے جو بچے ہوگے نہ ان کو تو اہن فل ٹرین کرے گی کسی کے بھی گھر

میں گھس کر کسی کو بھی کوٹ کر آجاؤ باقی اپن۔دیکھ لے گی مس روحہ ایسی باتیں نہیں

کرتے آپ میرے ساتھ ائے اور مس ماہین آپ بچہ کا چیک اپ کرکے مجھے رپورٹ کرے نہیں یہ

پریٹی گرل کہیں نہیں جائے گی مما ان کو بولے ہاں اپن کو بھی یہ بچہ اچھا لگا ھے اپن کو بھی اس سے بات کرنے

کا ھے اس نے ہنستے ہوئے کہاں اتنے میں اس کا فون رنگ ہوا تو اس نے فون نکال کر دیکھا ابے یار

دوست ابھی تو مجھ کو جانا پڑے گا ارجنٹ کال ھے اپن پھر آئے گی تیرے پاس ڈھیروں ساری بات

کرنے موبائل کی سکرین پر سرفراز کالنگ لکھا آرہا تھا وہ سب سے ایسکوز کر کے باہر کی طرف ائی۔۔۔۔
جاری ھے ❤️