Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

مغرور محبت 8
رائیٹر ۔۔۔۔۔۔۔ انابیہ شاہ
Episode no 8

اماں بی نے دروازہ نوک کیا تو ہانم واپس کھسمسا کر سوگئی جبکہ غازیان واشروم سے ہاتھ صاف

کرتے ہوئے نکلا اور ہانم کو واپس سوتا دیکھ اس کو پکا یقین ہوگیا تھا اس لڑکی کی نیند بہت

پکی ھے اس نے گیٹ کھولا تو سامنے ہی اماں بی سر جھکا کر کھڑی ہوئی تھی جی کہے کس لئے

دروازہ نوک کیا ھے اپ نے جی غازیان بیٹا داؤد بیٹے نے کہاں ھے آپکو اور دلہن بیگم کو اٹھا دو

ناشتہ ٹیبل پر لگ گیا ھے آپ دونوں اجائے نیچے انہوں نے بول کر واپس سر جھکا لیا ناشتہ داؤد

نے بنایا ھے جی صاحب ہمم آپ جائے ہم دس منٹ میں آرہے ھے اور بول کر پلٹا تو ہانم بھی آنکھیں

مسل رہی تھی اٹھ گئی ہوں تو صرف تمھارے پاس دس منٹ ھے جلدی سے فریش ہو

جاؤپھر ناشتہ کے لئے نیچے جائے گے ہانم نے آنکھیں کھول کر نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا

پھر اس کا دماغ بیدار ہونے لگا تو کل کی ساری کاروائی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح

گھومنے لگی اور جیسی اس کا تھپڑ یاد آیا ہاتھ بے ساختہ گال پر گیا اور نگاہ اس کے ہاتھ پر

جہاں اب پٹی تھی میں نے کیا بولا ھے آواز آرہی ھے تمھیں اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی

تو دل ایک دم تیز رفتار سے دھڑکا اور آنکھیں بے اختیار نیچے جھکی جاؤ اور جلدی سے دس منٹ

میں فریش ہوکر باہر آؤ جلدی کرو نیچے ناشتہ ٹھندہ ہورہا ھوں گا وہ بھی جلدی سے بیڈ سے

اترنے لگی جلدی جلدی میں کمفرٹر میں پاؤں اٹکا ابھی وہ زمین دوز ہوتی اس سے پہلے ایک

مظبوط ہاتھ نے اس کا بازو پکڑا اور دل اتنی زور سے دھڑکا اس نے دوسرا ہاتھ بے اختیار اپنے دل

کے مقام پر رکھا اور چور نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ کر ہاتھ جلدی سے نیچے کر لیا اس

کو سیدھا کھڑا کیا آرام سے اور جلدی فریش ہو جاؤ پھر تمہیں تمھارے گھر چھوڑ دوگا ہانم کو

سننے میں کچھ غلط لگا تو دوبارہ پوچھا آپ کیا بول رہے ھے ہانم جو خاموشی سے واشروم میں

جارہی تھی اس کی آخری بات پر پلٹی ہم میرے گھر جائے گے ہمم تمھیں تمھارے گھر چھوڑنے

جاؤ گا اب جلدی کرو اس نے بولا تو ہانم کو تو مانو نئ زندگی مل گئی وہ جلدی سے واش روم

میں گئی اور تقریبا دس منٹ کے بعد باہر آئی وہ ابھی بھی اپنے کالج یونیفارم اور ریڈ دوپٹہ میں

ہی تھی جو نکاح کے وقت اماں بی نے اس کو اڑایا تھا چلے میں تیار ہوں دوپٹہ کا پلو اچھی

طرح سر پر جماتے ہوئے کہاں غازیان کو وہ کوئی اسکول کی اسٹوڈنٹ لگی کونسی کلاس میں ہوں

غازیان نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا میں گریجویشن کے فاسٹ ائیر میں ہوں اس نے بینا

اٹکے کہاں تو غازیان نے ائیبرو اٹھائی ہممم چلو نیچے چلتے ھے ۔۔۔

×××××××
وہ دونوں نیچے آئے تو ایان اور داؤد ایک

سائیڈ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ان دونوں کو دیکھ کر دونوں اداب سے کھڑے ہوگئے اسلام

علیکم داؤد نے سب سے پہلے سلام کیا اور اپنا تعارف کروانے لگا بھابھی میں آپکا بڑا دیور اور

ایک اچھا ڈاکٹر بھی ہوں ویسے تو آپ مجھ سے عمر میں کافی چھوٹی لیکن رشتہ میں آپ مجھ

سے بہت بڑی ھے اس لئے احترام آپ کو بھابھی بول رہا ھوں اور ابھی وہ اپنا جملہ مکمل کرتا

ایان بھاگتا ہوا ان دونوں کے بیچ میں کودا ویلکم ہوم بھابھی ایان بھاگ کر ہانم کے سامنے ایاوہ آیا

اتنی تیزی سے تھا ہانم ڈر کر ایک قدم پیچھے ہوئی مجھے ایان کہتے ھے بھابھی میں آپکا چھوٹا دیور ہوں

ہے تو آپ مجھ سے بھی عمر میں کافی چھوٹی لیکن جیسے داؤد بھائی نے کہاں رشتہ میں آپ

بہت بڑی ھے اس لئے آپکی ریسپکٹ کرنا ہمارا فرض ھے اور بول کر اسکے سامنے سر جھکایا

ہانم ناسمجھی سے دیکھنے لگی تو غازیان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کے سر پر رکھا تو وہ پیچھے

ہوا اور ہانم نے جلدی سے ہاتھ چھڑوایا بیٹھوں غازیان سربراہی کرسی پر بیٹھا اور ہانم کو اپنے

برابر والی کرسی پر بیٹھنے کا کہاں اور ان کو بھی اشارہ کیا بھابھی آپ یہ پراٹھا ٹرائے کرےیہ

میں نے بنایا ھے داؤد نے پراٹھا اٹھا کر ہانم کی طرف بڑھایا تو اس نے بھی جھجکتے ہوئے لے لیا

ہانم آرام آرام سے کھانے لگی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایان اور داؤد کچھ نہ کچھ اٹھا کر اس

کو دیتے جن کا وہ بلکل منا نہیں کرتی لیکن

کھاتی بھی نہیں لیکر سائیڈ پر رکھ لیتی اور ایک بائٹ لے لیتی بھابھی بتائے کیسا لگا آپ کومیرے

ناشتہ داؤد نے فخر سے پوچھا ایک دم بکواس ایان نے پلیٹ پر نگاہیں کر کے بولا تو داؤد نے نیچے سےاس کے پاؤں پر

اپنا پاؤں مارا وہ ایک دم اچھل کرسیدھا ہوا نہ ۔۔۔۔۔نہیں بھائی اچھا ھے سب ہانم نے تھوڑا سا

گھبرا کر کہاں ناشتہ واقع بہت مزہ کا تھا اس کو یہ دونوں بہت اچھے لگے تھے غازیان سے تو بہت اچھے جب کے ان سب میں غازیان ایک دم چپ تھا تھینکس

بھابھی داؤد نے آداب سے کہاں بھابھی ڈیٹس نوٹ فئیر آپ بھائی کی ٹیم میں ہوگئی کردیا نا

آپ نے بھی میرے ساتھ پرایا دھن والا سلوک ایان نے تھوڑا خفا ہوتے ہوئے کہاں ہانم نے پریشانی سے

غازیان کی جانب دیکھا لیکن وہ تو سب کو انگور کئے ناشتہ کرنےمیں مگن تھا ایسا محسوس ہورہا

تھا اس سے زیادہ امپورٹینٹ کچھ ہے ہی نہیں پھر اس نے ایان کی

جانب دیکھا جو دونوں ہاتھ باندھے منہ باہر کی جانب کر لیا تھا اور منہ بھی پھولا لیا تھا نہ۔۔۔نہیں

بھائی ایسی بات نہیں ھے کھانا اچھا ھے اس لئے بولا آپ بھی کھ کر دیکھے ہانم ۔نے معصومیت

سے کہاں اور اپنی پلیٹ اٹھا کر ایان کی طرف بڑھائی بھابھی آپ کھائے یہ آپ سےمزاق کررہاھے

داؤد نے ایان کو گھورا اور ہانم کو پیارے سے کہاں تو جی بھائی بول کر اپنی پلیٹ پر جھک

گئی اور باقی کا کھانا خاموشی سے کھایا گیا چلے میں چلتا ہوں رات میں بھابھی آپ سے

تفصیلی ملاقات کرے گے میری ایک ہسپتال کے اسٹاف کے ساتھ ایپمورٹنٹ میٹنگ ھے خدا حافظ

وہ بول کر چلا گیا ہانم بتانا لگی تھی کے وہ۔تو جارہی ھے لیکن چپ کر گئی بھابھی میں بھی چلتا

ہوں یونی کے لئے دیر ہورہی ھے بھابھی مجھ سے رات کو نہیں دوپہر میں ہی ملاقات ہوجائے گی

جب تک کے لئے خدا حافظ دوانگلیا ماتھے تک لے جاکر اللہ حافظ بولا اور چلا گیا اب ہانم مکمل

تور پر غازیان کی طرف مڑی ہم کب تک چلے گے اس نے آنکھیں پٹپٹا کر کہاں غازیان نے اس کی

جانب دیکھا اور اپنی پلیٹ آگے کھسکا دی میرا ہوگیا ھے تمھارا نام کیا ھے اس نے

کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا اس نے حیرانگی سے اس کی جانب دیکھا کہ اس کو اس کا نام تک نہیں پتا

تھا پھر یہ سوچ کر چپ ہوگئی نام تو اس کو بھی یاد نہیں ھے اس کا ہانیہ اور میرے گھر والے

اور دوست ہانم بولتے ھے اس نے چہک کر بتا یا اس کو ابھی اس سے ڈر نہیں لگ رہا تھا کیونکہ وہ اس کو گھر لیکر جا رہا تھا ہمم اچھاچلو

بڑے بڑے قدم اٹھا کر باہر کی جانب چلا گیا ہانم بھی تقریباً بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے لپکی اس

کو دیکھتے ہی گارڈز نے دروازہ کھول دیا لیکن وہ بیٹھا نہیں ہانم کا ویٹ کرنے لگا جب وہ ائ تو

خود دروازہ کھولا بیٹھوں اور پھر خود بھی بیٹھ گیا اور خادم کوگاڑی آگے چلانے کا اشارہ کیا
•••••••••••••••••••••
گاڑی دروازہ کے پاس روکی تو ہانم قدرے بھاگتے ہوئے دروازے تک گئی غازیان نے تاسف سے دیکھا

دروازے پر بیل دیتی کبھی تیز تیز دروازہ بجاتی اور پیچھے بھی مڑکر دیکھ لیتی غازیان بھی

گاڑی سے نکل کر ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا اور گارڈ اس کی گاڑی کے آگے پیچھے کھڑے ہوگیا اندر سے

خاور مالک نے گیٹ کھولا اور ہانم بھاگ کر ان کے گلے لگی بابا آپ کہاں۔تھے بابا ایک منٹ کے لئے وہ

بلکل اسٹیل ہوگئے تھے لیکن جیسے سامنے نگاہ اٹھی اور غازیان کو دیکھا تو آنکھیں غصہ کی

زیادتی سے خون چھلکانے لگی اور ایک دم ہانم کو خود سے دور کیا ہانم کی آواز سن کر روبینہ بیگم

بھی باہر آگئی تھی انہوں نے اتنی درشتگی کے ساتھ اس کو دور کیا تھا کہ وہ منہ کے بل غازیان

کے قدموں کے جانب گیری غازیان کے ماتھے پر بے شمار بل پڑے اس نے جھک کر ہانم کو اٹھایا کیوں

آئی ہوں یہاں منہ کالا کروا کر ہانم۔نے بے یقینی سے اپنے باپ کی جانب دیکھا روبینہ بیگم نے بھی

ساخت نگاہوں سے دیکھا ہانم ایک بار دوبارہ ان کی۔جانب بڑھی بابا میں نے کچھ ابھی وہ فقرہ

مکمل کرتی انہوں نے زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہانم ایک۔بار پھر منہ کے بل گیرتی لیکن غازیان نے

سرعت سے اپنے مظبوط بازووں سے تھاما ہانم نے زخمی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا کیا کچھ

نہیں تھا ان آنکھوں میں درد شکوہ تکلیف غازیان نے اپنی آنکھیں فوراً چورائی روبینہ بیگم ایک دم۔

چیخی کیا ہوگیا ھے خاور بیٹی ھے وہ ہماری کیوں محلہ کے سامنے تماشا لگارہے ھے تو اس سے

بولو دفعہ ہوجائے غازیان صرف اپنی گرین آنکھوں سے خاور مالک کو گھور رہا تھا اور ہانم

بلکل اس کے سہارے پر کھڑی بلک بلک کر رو رہی تھی ایک بار پھر وہ اپنی ماں کی طرف بڑھنے

لگی ماما میں نے کچھ نہیں کیا وہ آگے بڑھتی لیکن غازیان نے اس بار اس کو ان کی۔جانب ایک قدم بھی نہیں بڑھنے دیا اور ایک دم اپنی سرد

آواز میں ان سے مخاطب ہوا آپ کی بیٹی نے واقع کچھ نہیں کیا تھا خاور مالک لیکن تم ہمیشہ کی

طرح آج بھی ناشکرا پانا کیا اور بیٹی ہاتھ میں آتے آتے ٹھکرادی تم جیسے انسان آخر میں نا گھر کے رہتے ھے نہ گھاٹ کے اور ایک بار اب آپ

دونوں کان کھول کر میری بات سن لو غازیان درانی کی چیزو کو کوئی چھوتا بھی ھے تو میں

اس کو برباد کردیتا ہوں اور یہ تو میرے نام سے منسلک ھے میں نہیں جانتا آپ کے ساتھ کیا رشتہ

ھے اس کا لیکن اب یہ لڑکی میری بیوی ھے اس کی طرف اب کوئی آنکھ بھی اٹھائے وہ مجھے

برداشت نہیں ھے کجا کے ہاتھ یہ آخری بار تھا اور شاید اپکی اور اس کی آخری ملاقات اور ہانم کا

بازو پکڑ کر کھینچتا ہوا گاڑی کی طرف لے گیا ہانیہ بار بار مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھی روبینہ بیگم

بھی ہانم کی طرف بڑھی لیکن خاور مالک نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا ان۔کا خون کھول رہا تھا کتنے حق

سے وہ اسے واپس لے گیا تھآ ہانم گاڑی میں بیٹھ کر شیشہ بجا رہی تھی لیکن اس نے اس کی

کلائی بھی تھام لی اور اس کی طرف غصہ سے دیکھا تو وہ ایک دم خاموش ہوگئی لیکن سر ابھی بھی اپنی۔ماں کی طرف تھا جو خاور مالک

سے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی جدوجہد کررہی تھی اس نے بے بس نگاہوں سے اپنے برابر میں اس ظالم

شخص کو دیکھا جس نے اس سے آس کے ماں باپ تک چھین لیئے تھے اور کتنے دھڑلے سے اس

کو اپنے ساتھ لے آیا تھا وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیوں اس نے اس کی زندگی خراب کی

لیکن اس میں آتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ پوچھ پاتی وہ پیچھے دیکھتی رہی اور گاڑی واپس درانی مینشن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مجھے مست ماحول میں جینے دو وہ موبائل کے ساتھ مگن ہلکے ہلکے گنگناتے ہوئے کلاس میں انٹر

ہوا اور منہ اٹھا کر بھی سامنے نہیں دیکھا سر مجیب جو لیکچر دے رہے تھے سب کچھ چھوڑ

کر ایان کی جانب دیکھنے لگے اس کی آواز اتنی زرور تھی کہ سامنے یہ تھوڑا دور بندہ بھی سن

سکتا تھا وہ ابھی بھی گنگنانے میں لگا ہوا تھا اور کلاس کے دروازے پر کھڑاتھا نہ اندر آرہا تھا نہ

باہر جارہا تھا اور سارا دھیان موبائل کی جانب تھا تجھ کو لگاو گا میں کھینچ کے گوا والے بیچ

پے سر مجیب کے ماتھے پر بے شمار بل پڑے اور وہی سے چیخے مسٹر ایان ہوش میں آئے نہیں تو آپ کو میں یہی کلاس روم میں لگاو گا انکی

آواز سے وہ اتنا برا چونکہ موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ گیا اور سر ٹھا کر دیکھا تو کلاس چل رہی

تھی اور وہی اپنی گھڑی کی طرف دیکھا تو 8بج رہے تھے تو اتنی جلدی کلاس کیسے اسٹارٹ

ہوگئی اپنی آنکھیں مسلی بھاگ کر سامنے والی بینچ سے ایک لڑکے کی کلائی پکڑی اور ٹائم دیکھا

تو 9 بجے رہے تھے سو۔۔۔۔سوری سر وہ درا۔۔۔۔دراصل میری واچ بند ہوگئی ٹائم کا پتہ ہی نہیں

چلا بیٹھے اپنی جگہ پر جی۔۔جی۔سر وہ بھاگتے ہوئے مدثر کے برابر میں بیٹھا جو منہ نیچے کر کے

اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کررہا تھا ہنس تو سب ہی رہے تھے نہ کر میں تیرا سر پھاڑدوگا بس

یہ سننے کی دیر تھی اس نے زور دار قسم کا قہقہ لگایا زویا نے اپنی عینک ٹھیک کر کے گردن

گھمائی اور ان دو نمونوں کو گھورا جو اس کے بھی بیسٹ بڈی تھے لیکن وہ ان دونوں کی طرح

نکمی ہر گز نہیں تھی سر مجیب جو واپس لیکچر کی طرف آرہے تھے مدثر کو اس طریقے

سے ہنستے دیکھ کر اور ایان کو اس کو گھورتا دیکھ وہی سے اپنے جہاو جلال کے ساتھ چیکے

دونوں دفعہ ہوجائے میری کلاس سے دونوں ہڑبڑا کر اٹھے سر۔۔۔سوری سر نکلو میری کلاس سے

دونوں اپنے اپنے بیگ لیکر بھاگے ان کا۔کیا پتہ۔کہ ایان اور اس کا۔سر ہی پھاڑدے
جاری ھے ❤️