Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40 & 41

مغرور محبت
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no40 & 41
ایان کافی دیر سے نوٹس کررہا تھا کہ زویا کافی پریشان لگ رہی تھی اور اس سے نظرے بھی

نہیں ملارہی تھی کافی دیر تک وہ اس کو دیکھتا رہا جو ہنوز کتاب پر نظر کرکے بیٹھے ہوئے تھی

لیکن چہرے سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ پڑھ نہیں رہی تھی اس کی نگاہیں تو کتاب پر تھی لیکن

دماغ کہی اور ہی تھا زوئی بات سنو ایان نے اس کو پکارہ لیکن اس کی طرف سے نو ریسپونس

زوئی اب کے ہاتھ ہلایا تو وہ تھوڑا ہوش میں آئی ہو ہاں کیا ہوا کچھ کہاں تم نے اس نے بھکلاتے

ہوئے کہاں زوئی کیا ہوا ھے یار تو پریشان لگ رہی ھے کوئی بات ہوئی ھے ایان نے اس کے ہاتھ پر

اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے نرم لحجہ میں پوچھا نہیں سب ٹھیک ھے بول کر واپس سر کتاب کی طرف

کیا ایان نے وہ کتاب اٹھا کر بند کی کیا بتمیزی ھے ایان بوک واپس کرو میری زوئی دوست ھے

ہم۔مجھے تو بتا کیا بات ھے جو توجھے اتنا پریشان کررہی ھے بول تو صحیح زویا نے اس

کی طرف دیکھا اور پریشان سے لحجہ میں بولی یار چاچو کی کال آئی تھی پھر کیا بولا انہوں نے

بابا سے ارسلان اور میرے رشتہ کی بات کریں ھے

ایان کے چہرے پر سے ایک سایہ سا لہرایا اور اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا تو اس میں پریشان

ہونے والی کیا بات ھے ارسلان اچھا لڑکا ھے میں ملا ہوں اس سے تیرے لئے ٹھیک رہے گا ایان

تمھیں پتہ ھے تم کیا بول رہے ہوں تم جانتے ہوں اگر بابا نے ہاں کردی تو کیا ہوگا کیا ہوگا زیادہ سے

زیادہ تمھاری شادی سیمپل اور کیا ہوگا اس نے بے لچک لحجہ میں کہاں ایان میں مزاق کے موڈ

میں نہیں ہوں تو میں بیٹا مزاق کر بھی نہیں رہا ہوں آئی ایم ویری سیریس اور ارسلان میں برائی

کیا ھے اچھا بھلا تو ھے زویا نے ساخت نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تو ہمارا کیا ہوگا اگر بابا

نے ہاں کردی تو ایان کا دل ڈھڑکا یعنی وہ بھی اس کے لئے فیلنگز رکھتی ھے ہمارا کیا ہمارا کچھ

نہیں ہوگا زویا ہم دوست ھے اور ہمیشہ رہے گے ارسلان اچھا لڑکا ھے ڈاکٹر ھے وہ بھی داود

بھائی کی طرح اچھا لڑکا ھے تم خوش رہوں گی مطلب کیا ھے تمھاری بات کا ایان زویا نے الجھتے

ہوئے کہاں زویا اگر تم میرے اور اپنے ریلیٹیڈ کچھ بھی سوچ رہی ہوں تو یہی روک دو میں تم

سے کبھی شادی نہیں کروگا تم یہ سب اس لئے بول رہے ہوں نہ کہ تم سمجھتے ہوں کہ میں کسی

ایسے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں جو بہت کامیاب ہوں اچھا پڑھتا ہوں سمجھدار ہوں آئی

ڈونٹ نو اس نے اپنے لحجہ کو ہر احساس سے عاری کیا ہوا تھا ایان تم مجھ سے محبت نہیں

کرتے زویا نے بغیر سوچے سمجھے اس سے پوچھا کس نے بول دیا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں

تمھیں ہمیشہ دوست سمجھا ھے کبھی تمھیں لیکر میں نے کبھی کوئی اولٹی بات نہیں سوچی

تو پھر یہ سب کیا تھا مجھے کسی سے بات نہ کرنے دینا کسی لڑکے سے دوستی نہ کرنے دینا

کسی لڑکی کے بھی قریب نہ جانے دینا یہ سب کیا تھا بولو تم میری میمو جان کی بیٹی ہوں تم

مجھے بہت عزیز ہوں اس رشتہ سے اس لیے تمھاری حفاظت کے لئے تمھیں اپنے ساتھ ساتھ

رکھتا تھا مجھے نہیں پتا تھا کہ تم اس چیز کو محبت سمجھ بیٹھوں گی او اس نے سرد سانس

خارج کی صیحح کہاں تم نے ایان درانی ہاں بلکل ٹھیک کہاں اس کا لحجہ اس کا کونفیڈنٹ سب

کچھ ٹوٹ گیا تھا دل چھانک سے ٹوٹا تھا ایک امید تھی وہ بھی ختم ہوگئی تھی صحیح کہاں

کوئی محبت نہیں ھے تمھیں مجھ سے اور مجھے تم سے ہم دونوں واقع اچھے دوست ھے اور کچھ

نہیں اور تم بھی مجھ جیسی لڑکی ڈیسرو نہیں کرتے تمھارا ٹیسٹ میں تھوڑی ہوں زوئی ایسی

بات نہیں ھے یار کوئی بھی بات نہیں ھے اب اس کا لحجہ نم ہورہا تھا بابا نے رات کو پوچھا تھا تو

میں نے سوچنے کا وقت مانگا تھا کیوں نہ ابھی ہاں بول دو ویری گڈ ٹائم زوئی جلد بازی نہ کرو

میری بات سنو ایسے ڈیسیجن سوچ کر لیے جاتے ھے جزباتی ہوکر نہیں پلیز ایان تم نے ایک۔منٹ

میں مجھے بول دیا نہ کہ کوئی محبت نہیں ھے ہمارے بیچ صرف ایک دوستی ھے تو میں ایک

دوست کو اتنا حق نہیں دوگی کہ وہ یہ بات کرے مجھے سے بیگ سے موبائل نکالا اور اسی کے

سامنے میمونہ بیگم کو کال کی ہیلو مما آپ لوگ ارسلان کے رشتے کے لئے ہاں کردے مجھے منظور

ھے میں چلتی ہوں ایان تم آجانا میری بات سنو زویا وہ کھڑے ہوکر چیخا لیکن جب تک وہ جا

چکی تھی ہاں زویا زمان ایان درانی کی زندگی سے جاچکی تھی اب چاہے وہ تڑپتا رہے لیکن وہ

اس کی زندگی میں واپس آئے گی یہ نہیں یہ تو وقت نے بتانا تھا لیکن ابھی زویا زمان جاچکی تھی ایان درانی کی زندگی سے ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ دونوں دنیا سے غافل اپنی سب سے پسندیدہ جگہ مطلب کینٹین میں بیٹھی گپے مارنے میں

مصروف تھی فائزہ تم نے کہا تھا کہ تم بتاؤ گی کہ تم کیسے میرے ولیمہ پر آگئی تھی مطلب

یہاں تو تم بہت ناراض تھی بہت لمبی کہانی ھے فائزہ نے جان چھڑوانے والے انداز میں بولا تو

شورٹ کرکے سنا دو فورا حل تیار تھا اچھا۔
چل سن ویسے تو انہوں نے منا کیا تھا لیکن میں

بتادیتی ہوں کیا یاد کرے گی غازیان بھائی گھر آئے تھے خود سچ بتا ہانم نے بے یقینی سے پوچھا

قسم سے پتہ ھے مما بابا سے بات کریں تھی اور ساری بات بتائی تھی ان کو کیسے تیرے بابا تیری

شادی اس شادی شدہ انسان سے کررہے تھے اور یہ بھی بتایا تھا کہ تو بھاگی نہیں تھی بس غلط

گاڑی سمجھ کر بیٹھ گئی تھی اور ان کے لئے بھی آسانی کردی تھی یار مجھے پتہ ہی نہیں چلا تھا

کہ وہ گاڑی میری نہیں ھے ویسے فائزہ غازی جی تیرے گھر آئے تھے ہاں نہ تو نے کیا بولا تھا ہاں نہ

میں جب گھر گئی تھی تو میں بہت روئی تھی کہ تو نے مجھے ایسے کہاں جس وجہ سے مجھے

بخار ہوگیا تھا اور ان کو میں نے بتایا تھا کہ ایسی ایسی بات ھے میری دوست اور کالج میں

سب مجھے بھاگی ہوئی لڑکی بول رہے ھے اور
میری ایک لوتی دوست مجھ سے ناراض ہوگئی

ھے اس کے بعد ولیمہ سے پہلی والی رات کو جب مجھ سے سب نے پوچھا کہ آپ کو کس کو بلوانا

ھے تو میری تو ایک ہی دوست ھے میں نے کہاں تھا کہ کاش تم آجاتی اور تم کو پتہ ھے غازی جی

نے مجھے سے کہاں بھی تھا کہ تمھارے لئے ایک سرپرائز ھے اور وہ سرپرائز اتنا خوبصورت ہوگا

مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ہانم مسکرا کر اسکے گلے میں بانہیں ڈالے بولی یار مجھے معاف کردے

ہانم مجھے ایسی باتیں نہیں بولنی چائیے تھی کوئی بات نہیں دوست جب ناراض ہوتا ھے تو

اس کی باتوں کو مائینڈ نہیں کرتے مجھے بس دکھ ہوا تھا کہ تو نے ایسا بولا لیکن تو میری

شادی میں آگئی تھی میں سب بھول گئی دونوں ایک دوسرے کے زور سے گلے لگی ہم دونوں تو

کبھی جدا نہیں ہوسکتے چاہے کچھ بھی ہو جائے بلکل ویسے ہانم ایک بات پھر بولو گی غازیان

بھائی تیرے سے بہت محبت کرتے ھے تیرے خاطر انہوں نے مما بابا مجھے ہم سب کو سمجھایا ہمیں

لینے بھیجا ہمیں چھوڑنے کے لئے ڈرائیور بھیجا ہانم تو بہت لکی ھے جو تجھے ان جیسا کئیرنگ

ہسبنڈ ملا ھے ہانم سرخ سی پڑنے۔لگی تھی اس کو عجیب سی شرم آنے لگی تھی جب سے اس نے

یہ بولا تھا کہ وہ اس کو اچھی لگتی ھےہانم ہمم تو نے اپنی امی۔سے بات کریں نہیں بس ان کی

آواز سنی ھے جو انہوں نے وائز میں سمجھایا ھے کیا سمجھایا ھے فائزہ نے ناسمجھی سے پوچھا

یہی کہ میں ان کی بیوی ہوں ان کا خیال رکھو اس گھر کی بڑی بہو ہوں غازی جی ۔میرے

مجازی خدا ھے یہ سب ہی وہ بول کر دونوں ساتھ میں کھلائی آس پاس کی لڑکیوں نے ان کو

اچھنبے سے دیکھا کہ اس دن تو کیسے کررہی تھی اور اب دوستی رشتہ ہی ایسا ھے دوست مان

جاتا ھے اگر دوستی سچی ہو تو اگر دوستی دل سے ہوں تو ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دماغ بلکل ماوف ہوگیا تھا وہ بائیک چلاتے ہوئے خود سے بڑبڑاہی یار اپن کے داؤد کو کیا ہوا ھے

اور اپن کو اتنا شرم کائے کو آرہا ھے ویسے اگر سوچا جائے تو اپنا داؤد برا نہیں ھے دیکھنے میں

تو اچھا ھے ویسے بندا ویسا بھی اچھا ھے جو بات ھے اگر باپو اور ماتاری نہیں مانے اپن کیوں

سوچ رہی ھے اس کے بارے میں اتنا نہیں مانے تو نہیں مانے بول دے گی نہیں مانے پھر جھٹکے سے

بائیک روکی اگر واقع نہیں مانے تو نہیں نہیں اپن منالے گی اپنی ہی بات نفی کرکے بائیک واپس

اسٹارٹ کریں بائیک کے پیچھے ہی ایک شیشہ کے باکس میں وہ ہارٹ تھا جس پر ایک کپڑا

چڑھا ہوا تھا وہ الجھی الجھی اسی جگہ پر گئی جہاں وہ ایمان کی گاڑی فالو کرتی پہنچی تھی

جس دن۔ یہ لوگ گئے تھے گیٹ پر کوئی نہیں تھا

لیکن آج ایک انسان بیٹھا ہوا تھا اس کو دور سے آتا دیکھ اس نے باہر لگے کیمرہ پر انگھوٹا دیکھا

دیا تھا بائیک روک کر وہ باکس اٹھا یا اور اندر کی طرف بڑھی یہ مجھے دے دو اور تم اندر چلی

جاؤ اس انسان نے منہ پر سے ہلکا سا رومال ہٹا کر کہاں کائے کو تیرے کو دو اپن تیرے کو نہیں دے

گی پتہ نہیں کون ھے تو وہ بول کر اس کے سائیڈ سے نکلنے لگی اس نے فون اس کے کان پر لگایا یہ

باکس اس کو دے دو اندر سے اس جوکر کی آواز ہی تھی ہممم اس کی آواز سن کر چہرے پر ایک

دم سنجیدگی آئی اور وہ باکس دے کر وہ اندر کی طرف بڑھی آج سکرین پہلے سے ہی اون تھی

اور سامنے ایک صوفا بھی رکھا ہوا تھا ویلکم مائے لیڈی ویلکم او تمھارا ہی انتظار تھا مجھے

روحہ نے ناگواریت سے اس کی طرف دیکھا کائے کو اپن کو بلایا ھے دے تو دیا ھے وہ ڈبا اب اپن

جائے گی گھر اتنی بھی کیا جلدی ھے تمھیں مائے لیڈی ابھی تو تم آئی ہوں تھوڑی گپ شپ لگاتے

ھے اس نے مسکراتے لحجہ میں کہاں لیکن اپن کو کوئی شوق نہیں ھے تیرے ساتھ گپ شپ لگانے کا

اس نے اپنی ناگواریت چھپانے کی بلکل کوشش نہیں کی تھی سیدھا سیدھا منہ پر بولا تھا لڑکی

اپنی حد میں رہوں اتنی اجازت میں کسی کو نہیں دے دیتا کہ کوئی مجھ سے اس لحجہ میں

بات کرے سمجھ آئی وہ اس کے اتنے ناگوار لحجہ پر پل میں لحجہ بدلہ تھا آنکھیں ضبط سے سرخ

ہوئی تھی چہرہ ماسک میں تھا لیکن روحہ اندازہ لگاسکتی تھی کہ اس کے چہرے کا رنگ اس وقت

کیسا ہورہا ہوں گا چل یہ سب چھوڑ یہ بتا اپن کو تو پیسہ کب دیگا اس ڈیلوری کے پرسوں تک مل

جائے گے تمھیں پیسے ٹھیک اب آپن جائے یہ پھر کوئی بکواس بھی کرنے کا ھے تیرے کو جاؤ اور

بہت جلد تمھیں واپس بلواو گا مائے لیڈی ابے اوئے اب تو نے ایک دفعہ اور مائے لیڈی کہاں تو

یہی ایچ اندر گھس کے مارے گی آرے غصہ کیوں ہوتی ھوں میں تو بس تمھیں پیار سے بول رہا

ہوں مائے لیڈی تو کائے کو اپن کے ہاتھ سے مرنا چاہ رہا ھے انسان بن تو میرے تک پہلے رسائی تو

حاصل کرلو اس کے بعد مجھے مارنا بہت جلد کرے گی وہ بھی اس نے چیلنجنگ انداز میں اس

کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہاں اس نے ایک مکرو قہقہ لگایا ویسے ارادہ تو میرا بھی یہی ھے

تم تک رسائی حاصل کرنا مائے لیڈی ابے تیری تو وہ سکرین کے قریب ہوئی وہ بلینک ہوں گئی تھی

وہ سر جھٹک کر باہر کی طرف بڑھ گئی وہ گیٹ تک پہنچی ہوگی سکرین پر واپس چہرہ نمودار

ہوا بات سنو وہ روکی ضرور لیکن پلٹی نہیں تم ہوں بہت خوبصورت مائے لیڈی اس نے دانت

پیسے اور اپنے سائیڈ پر رکھا ہوا ڈنڈا اٹھا کر سکرین کی طرف مارا لیکن وہ لگنے سے پہلے بیچ میں گیر گیا تھا تیرے کو بتارہی ھے اپن کو اب یہ

گندہ الفاظ نہیں بولیو خدا کی قسم تیرے کو اندر گھس کر نہیں مارا نہ تو میرا نام بھی روحہ

فاروق صدیقی نہیں بول کر پیر پٹک کر نکلی پیچھے سکرین پر اس نے مزہ لیتے ہوئے قہقہ لگایا ۔
جاری ھے ❤️

مغرور محبت 41
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 41

برات عالم ہاؤس کے گارڈن میں آنی تھی پورا گارڈن مہمانوں سے بھرا ہوا تھا پورے گارڈن کو

گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا اندر وہ بھی کسی گلاب کی طرح دمک رہی تھی ہاتھ پر

مہندی کا رنگ بہت گہرا آیا تھا ڈیپ ریڈ کلر کے شرارے میں اس کی رنگت بہت جج رہی تھی وہ

مغرور حسینہ واقع آج کسی کا بھی دل دھڑکنے کی طاقت رکھتی تھی ایک طائرانہ نگاہ خود پر

ڈالی میں زرنش عالم ہوں مجھے جو چیز چائیے ہوتی ھے وہ میں حاصل کرکے رہتی ہوں زین

العابدین کیا بولا تھا تم نے مجھ سے کوئی شریف اور اچھا لڑکا مجھ سے شادی نہیں کرسکتا صرف

گرلفرینڈ بنا کر وقت گزاری کرسکتا ھے دیکھ لو آج کررہی ہوں میں بھی ایک ایسے شخص سے

شادی جو مجھ سے بے انتہا محبت کرتا ھے جس کو میں ایک دفعہ ٹھکرا چکی ہوں پھر بھی وہ

مجھ سے شادی کرنا چاہتا ھے افسوس زرنش عالم جو بھی چیلینج کرتی ھے اس کو پورا کرنے

کی طاقت رکھتی ھے ابھی وہ آئینہ میں خود کے عکس کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھی

دروازہ نوک ہوا آجاؤ میم برات آگئی ھے سر نے آپ کو نیچے بولایا ھے ہمم چلو اپنا دوپٹہ ٹھیک

کرکے ایک ادا سے کہاں اور اس لڑکی کا ہاتھ تھامے نیچے کی طرف بڑھی جہاں زیشان احمد

اپنے پانچ دوستوں کے ساتھ آیا تھا زین عالم صاحب کے ساتھ ہی کھڑا کوئی بات کررہا تھا

اوپر نظر گئی تو ایک لمحہ پلٹنا بھول گئی وہ آج کسی کے بھی چارو شانے چت کرسکتی تھی

چلتی ہوئی اسٹیج تک آئی زیشان نے کھڑے ہوکر اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے برابر میں بیٹھایا سب

اسٹیج کے قریب کھڑے ہوگئے غازیان اور زین ساتھ ہی کھڑے نکاح کی رسم ہوتے دیکھ رہے تھے

عالم صاحب اپنی بیٹی کے پاس کھڑے بہت خوش دیکھائی دے رہے تھے مولوی صاحب نے

اجازت لی اور نکاحِ شروع کیا زرنش عالم والد عمر عالم آپ کا نکاح زیشان احمد والد شوکت

احمد سے کیا جاتا ھے کیا اپ کو یہ نکاح قبول ھے اس نے اپنی آنکھیں زین کی طرف کی جس میں

صرف ایک جیت کی خوشی دیکھی جاسکتی تھی زین نے اس کو دیکھا جہاں صرف چہرے پر

ایک غرور تھا جیت جانے کا غرور اور صرف یہ دیکھانا تھا کہ وہ کتنی برتر ھے وہ جو چاہتی ھے

کرسکتی ھے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی قبول ھے مولوی صاحب نے تین بار جملے

دھرائے کیا اس نے تین بار قبول ھے بول دیا اس کی آنکھیں ابھی زین کو ہی دیکھ رہی تھی

مولوی صاحب نے زیشان سے پوچھا زیشان احمد والد شوکت احمد آپ کا نکاح زرنش عالم والد

عمر عالم سے کیا جاتا ھے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ھے اس نے اپنی برابر میں بیٹھی لڑکی کو

دیکھا اور پھر عمر صاحب کی طرف دیکھا جس کا ہاتھ اپنی بیٹی کے سر پر تھا پھر مولوی

صاحب کی طرف دیکھ کر جواب دیا مجھے یہ نکاح قبول نہیں ھے وہ جو ابھی غرور سے زین

کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی چھانک سے سب کچھ ٹوٹا تھا اور اس نے نظرے پھیر کر اپنے برابر

میں بیٹھے لڑکے کو دیکھا مولوی صاحب بھی ہکا بکا تھے پورے گارڈن میں فورا چے موگیاں شروع

ہوگئی تھی یہ تم کیا بکواس کررہے ہوں دماغ تو ٹھیک ھے تمھارا وہ زخمی ناگن بنی پھنکاری

کیوں کیسا محسوس ہورہا ھے تمھیں مس زرنش عالم پورے یونیورسٹی کے سامنے میرے منہ پر

کولڈرنک پھینک کر ماری تھی اور پوری یونی کے سامنے مجھے انکار کیا تھا تو یاد ھے مجھے کیسا

محسوس ہوا تھا وہ اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا اس سے ڈبل آواز میں چیخا میں تو تمھیں بھول

گیا تھا لیکن جب تم نے مجھ سے خود رابط کیا تو میں کیسے تمھیں ایسے ہی جانے دیتا دماغ

ٹھیک ھے تمھارا عمر صاحب بھی چیخے میرا دماغ سو فیصد ٹھیک ھے انکل لگتا ھے آپکی اس

خودسر بیٹی کا دماغ ٹھیک نہیں ھے میں تمھارا منہ تور دو گی وہ ایک جست میں اس کے گریبان

تک پہنچی اور ہیلو میڈم لمٹ میں تمھارے باپ کا غلام نہیں ہوں جو مار کھاؤ گا اس کی کلائی

تھام کر اپنے گریبان سے ہٹائی اور پیچھے کی طرف دھکا دیا اور ویسے ایک بات بولو کون کرنا

چاہے گا تم جیسی لڑکی سے شادی تم جیسی لڑکی سے شادی جس کو صرف ایک امیر لائف

اسٹائل چائے پیسہ گاڑی عیش وعشرت اس کے علاؤہ کچھ نہیں اگر تمھیں اتنے شوٹ نوٹس میں

شادی کرنی تھی تو میں ہی تمھیں یاد ایا کوئی میڈل کلاس شخص نہیں اور پتہ ھے تم جیسی

سے تو کوئی میڈل کلاس بھی شادی نہ کرتا پورے یونیورسٹی کو معلوم تھا کہ کیسے تم

غازیان کے پیچھے لٹو تھی لیکن دیکھوں اس نے بھی تم سے شادی نہیں کریں ایک شریف لڑکی

سے شادی کریں آنکھیں بلکل ساخت تھی وہ جو ابھی اپنی جیت کے غرور میں تھی وہ سب کچھ

چور چور ہورہا تھا عمر صاحب کا ہاتھ دل کے پاس بار بار جارہا تھا اور ایک بات اور مس زرنش

عالم تمھیں وقت گزاری کے لئے گرلفرینڈ تو بنایا جاسکتا ھے لیکن بیوی کبھی نہیں یہی الفاظ زین

کے بھی اس کے کانوں میں گونجے بھاڑ میں جاؤ بول کر اپنے گلے میں سے ہار اتارا اور باہر کی

طرف چلا گیا وہ ڈھیلے وجود کے ساتھ صوفے پر بیٹھی غازیان کی نظر عمر صاحب کی طرف پڑی

وہ اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر صوفے پر بیٹھ رہے تھے وہ بھاگ کر ان کی طرف بڑھا سر

آپ ٹھیک ھے زین ایمبولینس کو کال کرو ان کو بول کر وہ ایک دم چیخا وہ بھی جلدی جلدی

فون ملانے لگا غازیان تم مجھے ہمیشہ بولتے ہوں نہ کہ میں تمھارے باپ کی جگہ ہوں ہمیشہ عزت

دیتے ہوں نہ انہوں نے آکھڑی ہوئی سانسوں سے کہاں سر آپ ٹھیک ہوجائے گے میں سب دیکھ لو

گا اپ پریشان نہ ہوں میں نے منع کیا تھا اس کو یہ نہیں مانی میری عزت دو کوڑی کی رہ جائے

گی اگر آج برات واپس چلی گئیں اور اس کا نکاح نہ ہوا انہوں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اپنے

بھائیوں میں سے کسی سے میری بیٹی کا نکاح کروادو خدا کے لئے داؤد کو ہی بلادو آج وہ کہاں

کس دھرائے پر کھڑے تھے اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگ رہے تھے داؤد کا نام

سن کر اس کی آنکھوں کے سامنے گڑیا کا عکس لہرایا اور اس کے الفاظ کان میں گونجے اتنے وقت

سے نام ساتھ لیا جاتا ھے میرا اس کے ساتھ ہوسکتا ھے محبت ہوگئی ہوں تو اس نے بے

ساختہ نفی میں سر ہلایا ایان کے بارے میں جیسی سوچا زویا کا چہرہ آنکھوں کے سامنے

لہرایا وہ غازیان تھا وہ لوگوں کے چہرے باخوبی پڑھنے کا ہنر رکھتا تھا وہ ایان اور زویا دونوں

کی آنکھوں میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ دونوں محبت کرتے ھےلیکن مانتے نہیں ھے پھر اس کی

نظر فون پر بات کرتے زین پر گئی تو اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا نکاح ابھی ہوگا اسی وقت

کس سے انہوں نے بے چینی سے پوچھا زین العابدین سے ابھی اور اسی وقت ان کی نظر بھی

اس کی طرف اٹھی مجھے منظور ھے کیا وہ مان جائے گا انہوں نے ایک آس سے پوچھا مان جائے گا

آپ زرنش کو سنمبھالے وہ نیچے اتر کر زین کے قریب آیا تیرا نکاح ھے ابھی اور اسی وقت نہیں

اس نے نفی میں بے ساختہ سر ہلایا بھائی یہ نہیں تو یہ نکاح نہیں کرے گا غازیان نے تنبیہہ پوچھا

میں اس لڑکی سے نکاح ہر گز نہیں کرو گا اس نے حتمآ کہاں تو میں داؤد کو بلاو گا کیا ہوگیا ھے

آپ کو اس نے جھنجلا کر کہاں میرے لئے ابھی سر کی کنڈیشن امپورٹینٹ ھے بتا تو کررہا ھے یہ

نہیں یہ پھر میں داؤد کو کال کرو بھائی اس کے حلق سے صدمے بھری آواز نکلی عمر صاحب نے

اس کو دور سے نفی کرتے دیکھا تو وہ خود ہمت کرکے اس کے قریب آئے اور اس کے آگے ہاتھ

جوڑے پلیز زین انکار نے مت کرو تم جیسے رکھوں گے وہ رہے گی خدا کے لئے انکار مت کرو

میری عزت خاک میں مل جائے گی پلیز اس نے بے بسی سے غازیان کی طرف دیکھا اور آنکھ میں

ایک دم نمی آئی وہ انکار کرتا تو اس کی بہن کی زندگی خراب ہوتی اس کا جنونی روپ تو وہ خود

اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا اور اگر اس لڑکی سے شادی کرتا تو ساری زندگی برباد گزرنی تھی

نظرے اٹھاکر اس قاتل حسینہ کی طرف دیکھا جو ساخت نگاہوں سے کسی غیر مرئی نقتے کو

گھور رہی تھی پلیز زین انکار مت کرو عمر صاحب کی آواز سے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹا

اور ایک بے بس نگاہ غازیان پر ڈالی جس کی آنکھوں میں سرد مہری کے سوا کچھ نہ تھا اس

نے اثبات میں سر ہلایا اور خاموشی سے زرنش کے برابر میں بیٹھ گیا زرنش نے اس کو اپنے برابر

میں بٹھتا دیکھ ایک دم ہوش کی دنیا میں لوٹی تم یہاں کیوں بیٹھے ہوں عمر صاحب اس کے

قریب ہوئے اگر میرا مرا منہ نہیں دیکھنا چاہتی تو خاموشی کے ساتھ اس سے نکاح کرلو بابا میں

یہ نہیں خاموش زرنش اگر تم نے آج یہ نکاح نہیں کیا تو آج کے بعد تم ہمیشہ کے لئے مرجاؤ گی

میرے لئے اس نے تڑپ کر اپنے باپ کی طرف دیکھا جہاں آج کوئی رعایت نہیں تھی پلیز میں

کسی سے بھی نکاح کرلو گی لیکن اس سے کبھی نہیں پلیز بابا یہ نہ کرے آنسوں لڑیوں کی مانند

آنکھوں سے روا تھے لیکن عمر صاحب پر آج ان کا بھی کوئی فرق نہیں پڑرہا تھا زرنش بس اگر آج

نکاح نہیں کیا تو تم یہاں سے جاسکتی ہوں میرے لئے تم مر گئی ہوں اس نے نفرت بھری نگاہوں سے

اپنے برابر میں بیٹھے وجود کو دیکھا پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا منظور ھے مجھے زین کو

ایک امید تھی کہ شاید یہ خود انکار کردے لیکن جب اس نے ہاں کریں تو ضبط سے آنکھیں میچی

اور ایک ناراض نظر غازیان پر ڈالی جس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بھی اس کو نظر انداز

کیا اور مولوی صاحب سے ایک بار پھر نکاح کرنے کے لئے کہاں گیا انہوں نے تھوڑی دیر میں نکاح

شروع کیا ایک بار پھر نکاح ہوا لیکن اب زین کے ساتھ زرنش عالم والد عمر عالم اپ کا نکاح زین

العابدین والد فاروق صدیقی سے کیا جاتا ہے کیا اپ کو یہ نکاح قبول ھے اس نے ایک بار پھر بے

بس نگاہ اپنے باپ کی طرف دیکھا پھر قرب سے انکھیں میچ کر قبول ھے بول کر اپنی ساری

زندگی ایک ایسے شخص کے نام کردی جس سے صرف اس کو نفرت تھی اور کچھ نہیں یہی

کلماتِ مولوی صاحب نے زین سے دہرائے زین العابدین والد فاروق صدیقی آپ کا نکاح زرنش

عالم والد عمر عالم سے کیا جاتا ہے کیا اپ کو آپکو قبول ھے اس نے بھی ایک نظر غازیان کی

طرف ڈالی اور سنجیدگی کے ساتھ تین بار قبول ھے بول دیا آنکھیں ضبط سے لال ہورہی تھی دعا

کے لئے ہاتھ اٹھائے گے جیسی نکاح ہوا وہ اٹھ کر جانے لگا لیکن غازیان کی آنکھیں دکھانے پر واپس

بیٹھ گیا وہ بھی کسی زندہ لاش کی طرح بیٹھی ہوئی تھی کھڑا ہوکر غازیان اور عالم صاحب کے

قریب آیا انکل رخصتی چائے مجھے ابھی اور اسی وقت لیکن بیٹا ابھی تو کافی مہمان ھے میں

نے کہاں مجھے ابھی جانا ھے بھائی اس نے بول کر غازیان کی طرف دیکھا مینشن چلے گے ابھی

ہم لوگ تھوڑی دیر میں نہیں میں اپنے گھر جاؤ

گا مجھے کسی کے مینشن نہیں جانا ھے زین العابدین انسان بن جاؤ مجھے کچھ نہیں معلوم

مجھے جانا ھے اس نے کسی ضدی بچہ کی طرح کہاں اچھا ٹھیک ھے عمر صاحب نے اس کو اتنے

غصہ میں دیکھا تو مصلحت اسی میں لگی کے ابھی رخصتی دے دو اس کو پورا کور کرکے میری

گاڑی میں بیٹھائے گا ورنہ کوئی ضرورت نہیں ھے اس کو میرے ساتھ بھیجنے کی وہ تنفر سے بول

کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا غازیان کو علم تھا اس کا ریکشن ایسا ہی ہوگا اس لئے اس نے کوئی تاصر

نہیں دیا تھوڑی دیر میں اس کو دو لڑکیوں نے مہرون چادر آڑا کر زین کی گاڑی میں بیٹھا دیا

تھا ڈرائیونگ سیٹ پر وہ خود تھا اور اس کو پیچھے بیٹھایا عمر صاحب سے جب وہ ملنے لگی

تھی تو انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا تھا اس کے بیٹھتے ہی زین نے گاڑی سرعت سے نکالی تھی

اور اپنے اپارٹمنٹ کی طرف موڑی تھی غازیان نے ایک نظر اس کی دور جاتی گاڑی کو دیکھا اور

واپس اندر کی طرف بڑھا جہاں عمر صاحب کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے پریشان سے آپ ٹینشن

نہیں لے سب ٹھیک ہو جائے گا اس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی بخش انداز میں

کہاں تو انہوں نے مشکور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اورفرط جزبات میں غازیان کے گلے

لگے اگر آج تم نہ ہوتے تو آج کچھ بھی ممکن نہیں تھا میری عزت دو کوڑی کی ہوجاتی یہ احسان

میں زندگی بھر نہیں اتار سکتا غازیان اٹس اوکے انکل آپ میرے بہت قریب انسان ھے اگر اپ میری

زندگی میں نہیں آتے تو میں اس فیلڈ میں کبھی نہیں اتا آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا

میں بھی چلتا ہوں ہوں وہ تینوں بھی گھر پر میرا انتظار کررہے ہوگے بول کر ان کے گلے لگا اور اپنی گاڑی مینشن کی طرف موڑی ۔۔۔
جاری ھے ❤️

……………………………….
۔