Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

مغرور محبت 58
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 58
ایان نے بیس منٹ کا رستہ دس منٹ میں کور کیا تھا اور جلد سے جلد ہسپتال میں داخل ہوئے

سامنے ہی ریسیپشن پر داؤد پریشانی کے علم میں کھڑا ہوا تھا ہانم غازیان کی بانہوں میں ہی

تھی منہ سے ابھی بھی خون نکل رہا تھا داؤد کی نظر ہانم پر پڑی جو بلکل ہوش میں نہیں تھی

وہ باقاعدہ بھاگتا ہوا ان کے قریب پہنچا بھائی یہ سب کیا داؤد سب کچھ بعد میں بتاو گا ہانم کو

دیکھ یار اس کے منہ سے بھی خون نکل رہا ھے یہ تو بتائے ہوا کیا ھے ان کے منہ سے خون کیوں نکل

رہا ھے وہ اس کو چیک کرتے ہوئے بولا ہانم نے وہی زہر کھ لیا ھے واٹ وہ تقریباً چیخا تھا داؤد

جلدی کرو ہانم کی کنڈیشن مزید خراب ہورہی ھے روحہ نے اس کو جھنجوڑا تو اس نے جلدی

سے اسٹریچر مانگ وایا اور اس کو آئی سی یو میں لیکر گئے غازیان اینڈ تک اسٹیریچر کے ساتھ

ہی تھا آئی سی یو کے گیٹ پر پہنچ کر ان لوگوں نے دروازہ بند کردیا تھا ہانم کو آئی سی یو میں

گئے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا کوریڈور میں غازیان ایان روحہ اور زویا پریشان سے بیٹھے تھے سب

کی نگاہ آئی سی یو کی جانب تھی غازیان کے کپڑے بھی خون الود ہورہے تھے غازیان کے برابر

میں ایان بیٹھا ہوا تھا ایک دم سن سا زویا نے اس کی جانب دیکھا تو آٹھ کر اس کے قریب بیٹھی

اور ایک تسلی بھری تھپکی دی کچھ نہیں ہوگا ایان بھابھی کو وہ بلکل ٹھیک ہوگی مجھے پتہ

ھے ان کے لئے ہم سب کی دعا ھے ان کو کچھ نہیں ہوسکتا ھے غازیان یک ٹک بس آئی سی یو

کو ہی دیکھ رہا تھا اتنے میں عجلت سے داؤد آئی سی یو سے باہر آیا سب اس کو دیکھ کر ایک

ساتھ کھڑے ہوئے کیا ہوا ھے غازیان نے گہبرائے ہوئے لحجہ میں پوچھا سب ٹھیک ھے داؤد ہانم

کی طبیعت کسی ھے وہ ٹھیک تو ھے نہ وہ زہر انہوں نے کیسے کھایا داؤد نے غازیان کو دیکھتے

ہوئے پوچھا میں فون کال پر بات کر رہا تھا زہر لیب بھجوانا تھا بات کرتے کرتے میں اس کو ٹیبل

پر ہی چھوڑ کر گیلری میں بات کرنے چلا گیا جب میں گیا تھا ہانم روم نہیں تھی میری پیچھے سے

وہ کمرے میں آئی اور اس کو کھ لیا یار داؤد وہ کیسی ھے یہ تو بتا ایان اور زویا کو ان کی باتیں

بلکل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ لوگ کس زہر کی بات کررہے ھے آپ کو پتہ ھے وہ کتنی مقدار

میں کھ چکی ھے بھائی ان کی پوری بوڈی میں زہر انجیکٹ ہوچکا ھے کنڈیشن بہت بگڑ رہی ھے

کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے خون بہت ضائع ہوگیا ھے جسم سےکچھ سمجھ نہیں آرہا ھے کیا کرے

کیسے ان کی بوڈی میں سے زہر کو مارے تو کچھ کر داؤد یار تو ڈاکٹر ھے کچھ بھی کر لیکن ہانم

کو کچھ نہیں ہونا چائیے بھائی میں ڈاکٹر ہوں اور آج پہلی بار زندگی میں میرے ہاتھ کانپ رہے

ھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے کیسے کیا کرو وہ بہت بے بس لحجہ میں بول رہا تھا ان دونوں نے

ہانم کو بہن بولا نہیں تھا مانا بھی تھا اور داؤد کے لئے وہ بہت کچھ تھی یار کچھ بھی کر کچھ

بھی ہانم کو ٹھیک کردے یار تیرے بھائی کے لئے بہت خاص ھے وہ بس اتنا سمجھ لے اگر اس کو

کچھ ہوا تو میں بھی مرجاؤ گا کچھ نہیں ہونا چائیے غازیان نے آج پہلی بار اپنے جذبات سب

کے سامنے کھولے تھے وہ کسی بھی پروبلم میں ہوں وہ اپنے عصاب پر قابو پالیتا تھا لیکن آج اس

کی آنکھوں کے سامنے خون کی اولٹی اور ہانم کا بے ہوش وجود ہی گھوم رہا تھا دعا کرے بھائی

کے ان کو کچھ نہ ہوں شوہر کی دعا اللہ بہت جلد سنتا ھے اگر ہم لوگ اس کا انٹیٹوڈ بنانے میں

کامیاب ہوگئے تو اچھا ھے لیکن اگر نہیں تو بہت پروبلم ہوسکتی ھے ویسے اگر جس کے پاس زہر

تھا اس کے پاس تو انٹیٹوڈ بھی ہوگا ہاں رانا کے پاس ہوگا روحہ سوچتے ہوئے کہاں اگر بھائی وہ انٹیٹوڈ مل جائے تو

بہت اچھا ہوجائے گا کچھ بھی کرکے وہ انٹیٹوڈ لے آئے کیسے بھی کرے لیکن اگر انٹیٹوڈ نہیں آیا

تو بہت زیادہ مسئلہ ہو جائے گا بھابھی کی کنڈیشن مزید خراب ہوں اور کچھ بھی ہوں اس

سے پہلے آپ انٹیٹوڈ حاصل کرلے داؤد آگر ایسا ھے تو میں حاصل کرو گی وہ روحہ نے ایک عزم

سے کہاں سب نے اس کی جانب دیکھا لیکن داؤد ہمیں کل تک کا ویٹ کرنا پڑے گا اس پارٹی میں

جاکر ہی ہم کچھ کرسکتے ھے روحہ نے داؤد کی جانب دیکھ کر کہاں ہمارے پاس چوبیس گھنٹے ھے

اگر آپ اس وقت میں انٹیٹوڈ لے آتے ھے تو میں یقین سے بول سکتا ہوں بھابھی کو کچھ نہیں

ہونے دو گا اور ایسا نہیں ہوا بھائی تو میں بھی بے بس ہوں اس نے بے بس لحجہ میں کہاں اور

واپس آئی سی یو میں گیا غازیان کا چہرہ سپاٹ ہوگیا تھا داؤد کی بات سن کر اس نے ایک نظر

کوریڈور میں سب کو دیکھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا روحہ کے موبائل پر مسلسل جوکر کا فون

ارہا تھا اس نے زویا اور ایان کی جانب دیکھا اور سائیڈ پر ہوکر موبائیل کان سے لگایا کیا بات

کرنی ھے جلدی بول تم اس وقت کہاں ہوں اس نے کھردرے لحجہ میں کہاں اپن اس وقت

ہسپتال میں ھے تیرے کو کیا ھے کام بول فالتو کی نہ بک کیا کررہی ہوں وہاں اس کا لحجہ روحہ

کو بہت چونکا رہا تھا لیکن انگنور کرکے بولی تیرے کو بتانے کی اپن روادار نہیں ھے اور اگر

کوئی کام کی بات کرنے کا ھے تو بول ورنہ فون رکھ بھجے کی داہی چاٹ نہ بنا ویسے ہی اپن

پریشان ھے آگر تم دس منٹ کے اندر میرے پاس نہیں آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ابے

تیرے سے برا کوئی ھے بھی نہیں اپن اس وقت نہیں آسکتی ھے کل پارٹی میں آئے گی روحہ داؤد

درانی اگر تم دس منٹ میں میرے پاس نہیں پہنچی تو تمھارا میاں اس وقت زندہ نہیں بچے

گا اس نے بول کر ایک دم فون رکھا ہیلو ابے بات سن وہ فون رکھ چکا تھا وہ چونکی تھی روحہ

داؤد درانی پر اس نے ایک نظر کوریڈور میں زویا اور ایان کو دیکھا اور وہی سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ تھوڑی دیر میں جوکر کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی آج بھی وہ جوکر ماسک میں تھا اور ان

کے بیچ میں ایل سی ڈی حائل تھی روحہ اس آنکھیں بہت غور سے دیکھ رہی تھی بول کائے کو

بولایا ھے میرے کو تو نے اس نے اپنی نگاہ وہاں سے ہٹا کر اس کے چہرے پر مرکوز کرکے سپاٹ

انداز میں بولی تم نے شادی کب کریں جوکر نے پوچھا تو اس نے اپنی آئی برو اٹھائی میری

مرضی اپن جب بھی کرے تیرے کو کیوں بتائے اور سالے تیری ہمت کیسے ہوئی میرے میاں کے

بارے میں بکواس کرنے کے تو اس کو مروائے گا
میرے داؤد کو اگر کسی نے ہاتھ بھی لگایا تو وہ

ہاتھ جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دو گی آئی سمجھ اس نے طیش دلانے والے انداز میں کہاں۔ لیکن وہ

ماسک کے پیچھے مسکرایا تھا یعنی تم محبت کرتی ہوں اس سے اور تم ہر گز نہیں چاہوں گی

کہ تمہارا داؤد مرے وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر بولا دیکھ جوکر اپن کے دماغ کی

ماں بہن ایک نہ کر میں ابھی ویسے ہی پریشان ہوں ویسے تم غازیان کو جانتی ہوں ہاں جانتی

ھے داؤد کا بڑا بھائی ھے تیرے کو کیا ھے تو کیوں میری پرسنل لائف میں گھس رہا ھے اس نے

جھنجلا کر کہاں دیکھوں مجھے کوئی گھما کر بات نہیں کرنی ھے تمھارا جو میاں ھے اگر اس

کی زندگی چاہتی ہوں تو عزت کے دائرے میں اس سے طلاق لو اور کہانی ختم کرو اچھا اس کے

بعد کیا ہوگا روحہ نے بھی مزہ لیتے ہوئے کہاں کچھ نہیں ہوگا پھر تم سے شادی میں کرو گا

مجھے ایسی ہی لڑکی سے شادی کرنی ھے جس کے لئے پیسہ ہی سب کچھ ہوں اور تمھارے لئے

بھی پیسہ ہی سب کچھ ھے لیکن تیرے کو ایسی کیوں لگتا ھے میں تیرے سے شادی کرے گی آپنے

داؤد کو چھوڑ کر اس نے سپاٹ انداز میں کہاں کیونکہ مجھے ایسا لگتا ھے کہ جب میں تمھیں

پرپوز کرو گا تو تم مجھے کسی صورت منع نہیں کرو گی تیرے کو ایک بات بولوں کونفیڈنٹ ہونا

اچھی بات ھے لیکن اور کونفیڈنٹ ہونا نہیں اور یہ اور کونفیڈنٹ کہتے ھے تو اتنا یقین سے بول

سکتا ھے کہ میں روحہ تجھ جیسے سے شادی کرے گی جو دنیا کو اپنی شکل تک نہیں دیکھا

سکتا ھے اسٹرینج اس نے اپنے جبڑے بھینچے میں تمھیں ایک بار میں سمجھانا چاہتا ہوں تم داؤد

کو طلاق دو گی اور تمھاری شادی مجھ سے ہی ہوگی سمجھ لو اور کل میں تمھیں سب سے اپنی

اسیسٹنٹ کے طور پر نہیں اپنی منگیتر کے طور پر ملاؤ گا آئی سمجھ ابے جا تیرے کو بہت خوش

فہمی ھے اپن اور تیرے ساتھ کوئی میچ نہیں ھے اس نے اس کا مزاق اڑاتے ہوئے کہاں یہ لڑکی

ہمیشہ اس کا ضبط آزماتی تھی لیکن پھر بھی دل اس لڑکی پر آیا تھا ویسے روحہ تم مجھے بہت

ہلکے میں لیتی ہوں ایک دنیا میرے نام سے کانپتی ھے اگر تم نے مجھے انکار کیا تو میں

پورے دورانی خاندان کو نسب ونابود کردو گا غازیان درانی ایان درانی داؤد درانی میمونہ زمان

حیدر زویا ہانیہ کسی ایک بھی نہیں چھوڑو گا وہ ایک دم صوفے سے کھڑی ہوئی کائے کو

بکواس کررہا ھے تیرا اور میرا لفڑا ھے تو کائے کو میری فیملی کو بیچ میں لارہا ھے اپن کی شادی

اپن کے ماموں کے بیٹے سے ہوئی ھے جو کے ہونی تھی یعنی درانیز تمھاری فیمیلی ھے ہاں یعنی تم

تو کسی صورت اپنی فیملی کو مارنا نہیں چاہوں گی صحیح کہاں نہ میں نے یار دیکھ جوکر میرا

دماغ ابھی ویسے ہی بہت ٹینشن میں ھے تو کائے کو دماغ کی بجاریلا ھے اور ایک بات بتا تجھے

کونسا محبت ھے اور تو مجھ سے صرف پیسے کے لئے شادی کررہا ھے کیک لیکن دیکھ داؤد تو اپن

سے بہت محبت کرتا ھے اور تیرے کو معلوم ھے اپن بھی اس کو چاہتی ھے اپن بھی اس سے

محبت کرتی ھے جوکر کی آنکھوں میں وحشت طاری ہوئی تھی اس کا اطراف محبت قبول کرنے

پر ٹھیک ھے اگر تم اس سے محبت کرتی ہوں تو مجھے کوئی اشو نہیں ھے اس نے نورمل لحجہ

میں کہاں روحہ نے حیرانگی سے اس کی جانب دیکھا کل شام ساتھ بجے ہم پارٹی کے لئے نکلے گے

اور کل تم میرا چہرہ دیکھوں گی روحہ نے سن کر اثبات میں سر ہلایا دیکھ جوکر اپن تیرے لئے

ہر وہ کام کرے گی جو تو چاہتا ھے لیکن شادی اپن داؤد کے ساتھ رکھے گی اس نے ایک بار پھر

باوار کرواتے ہوئے کہاں ہمم جاسکتی ہوں تم اس نے اتنا کہاں اور سکرین بلینک ہوگئی تھی اس نے

ایک نظر پورے گیراج پر ڈالی اور ایک شان سے چلتی ہوئی وہاں سے نکلی اس کے نکلتے ہی

سکرین پر پھر ایک چہرہ نمودار ہوا تھا جس میں ماسک نہیں تھا لیکن اس کی پرسوچ نگاہیں اسی

جگہ پر تھی جہاں روحہ کھڑی ہوئی تھی تم میری ہوں صرف میری اس نے ایک جنون سے

کہاں اور واپس سکرین بلینک ہوگئی تھی ۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
شام کے سات کا وقت ہورہا تھا غازیان جو وہاں سے گیا تھا ابھی تک نہیں آیا تھا لیکن چھ بجے

یہ لوگ اس قلب کے سامنے تھے جہاں آج سارے ملک کے غداروں کی پارٹی تھی یعنی آج چھبیس

جنوری تھی زین غازیان ایک گاڑی میں تھے اور ان کے ٹیم میمبر بھی اس گاڑی میں تھے سامنے

ایک بلیک کلر کی گاڑی روکی جس میں۔ سے ایک ہوڈی میں موجود انسان باہر آیا اور اس کے ساتھ

ہوڈی میں ہی روحہ بھی تھی ان سب نے ایک دوسرے کو دیکھ گردن ہلائی جوکر اور روحہ کے

آگے پیچھے گارڈ ہی گارڈ تھے روحہ کی بلیک ہوڈی کے بلکل ایک چھوٹا کیمرہ فیٹ تھا کان

میں بلتوتھ لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہاں ہونے والی ہر بات یہ لوگ سن سکتے تھے اور کیمرہ کی مدد سے دیکھ بھی سکتے تھے جوکر

اور روحہ انٹرس سے داخل ہوئے تو سامنے ہی بہت سے لوگ تھے سب اپنے آپ میں مگن تھے

جیسے ہی سب کو علم ہوا جوکر آچکا ھے تو سب کی نگاہ ان پر اٹھی جوکر نے روحہ کی کمر پر

ہاتھ رکھا تو وہ جو سب کو دیکھ رہی تھی ایک دم بڑھک کر اس سے دور ہوئی دیکھ اپن کا متھا

خراب نہ کر میری ہٹی تو اپن یہ سب چھوڑ کر چلی جائے گی اس لئے اپنی اوقات میں رہ کر

حرکت کر اٹس جسٹ نورمل مائے لیڈی یہ ضروری ھے اور کچھ اور تو نہیں کیا ھے بس

تمھاری کمر پر ہاتھ ہی تو رکھا ھے وہاں اس کی بکواس بات سن کر غازیان اور زین نے اپنے اپنے

جبڑے بھینچے دیکھوں سب ہمیں ہی دیکھ رہے ھے وہ اسکے کان کے پاس جھک کر بولا اب کچھ

گڑبڑ مت کرنا وہ اس کا ہاتھ تھام کر ریسیپشن کی جانب بڑھا اور دو ڈرنک کا آڈر دیا سب دور

سے ہی ان کو ستائش اور اور کچھ لوگ خوف سے دیکھ رہے تھے سب جانتے تھے یہ جوکر کتنا

بے رحم انسان ھے وہ جیسے ہہی کرسی پر بیٹھا رانا ڈی کے جو سب سے الگ بیٹھے ہوئے تھے

سرعت سے ان کے قریب آئے ہائے مسٹر جوکر کیسے ھے اپ ڈی کے نے خوشدلی سے اس کے

آگے ہاتھ بڑھا کر کہاں اس نے ایک نگاہ اس کو دیکھی اور ناگواریت سے بولا کون ہوں تم ہاتھ

بلکل انگنور کردیا تھا اس کا بعزتی کے احساس سے چہرہ سرخ سا ہونے لگا پھر خود کو کمپوز

کرکے بولا مائے سیلف ڈی کے جو آج کی پارٹی کا مین میمبر ھے وہ کوئی اور نہیں میں ہوں او ڈی

صاحب بیٹھے بیٹھے آپ کا ہی تو انتظار تھا وہ اپنا رویہ بدل کر ایک دم خوشامد کرنے والے انداز

میں بولا روحہ چارو طرف نگاہیں دوڑا رہی تھی رانا کافی دیر سے اس کو نوٹ کررہا تھا کہ یہ

کسی ایک جگہ نہیں دیکھ رہی تھی کیا ہوا ھے لڑکی ادھر اُدھر کیا دیکھ رہی ہوں وہ جو اوپر

کی جانب دیکھ رہی تھی ایک دم گڑبڑا کر اس کی جانب دیکھا اس کے اس طریقے سے گڑبڑانے

پر جوکر اور ڈی کے بھی متوجہ ہوئے ۔۔
جاری ھے ❤️