No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
مغرور محبت 47
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 47
وہ دونوں اوپن ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے حال احوال دریافت کرکے
چپ ہوگئےتھے ان دونوں کے بیچ ایک خاموشی تھی جس کو داؤد کی آواز نے توڑا مجھ میں ہمت
تو نہیں ھے کوئی بری خبر سننے کی لیکن آپ کے بابا ماما کا جو فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہوگا
داؤد کے سر ایک بہت بڑی ٹینشن تھی جو وہ بیان بھی نہیں کرسکتا تھا میں اپنے باپ کو بابا
اور اپنی ماں کو ۔مما نہیں بولتی اس نے سنجیدگی سے کہاں روحہ آج حد سے زیادہ ہی
کچھ سنجیدہ تھی اور یہ بات بھی اس کو بے حد پریشان کررہی تھی جی جی آپ اپنے بابا کو باپو
اور ماما کو ماتاری بولتی ھے مجھے معلوم ھے پلیز آپ نتیجہ بتائے مس روحہ آپ نہیں جانتی
مجھے ایسا فیل ہورہا ھے کہ میں آج میٹرک کا رزلٹ لینے آیا ہوں اور اس کا۔نتیجہ سننا باقی
ہوں پلیز کوئی بری خبر مت سنایا گا اس نے آخر میں التجائیں آنداز میں کہاں نہیں بری خبر نہیں
ھے خبر اچھی ھے باپو مان گیا ھے ماتاری بھی تھوڑی بہت راضی ھے باقی باپو اس کو منالے
گا کیا بولا آپ نے اس کو ایسا لگا جیسے کچھ غلط سن لیا ہوں اپن بول رہی ھے باپو اور ماتاری
مان گیا ھے واقع آپ سچ بول رہی ھے نہ اور آپ تو راضی ھے نہ مس روحہ داؤد کی خوشی
چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ہاں اپن بھی راضی ھے بس یہ سننا تھا وہ باقاعدہ کھڑا ہوکر گول
گول گھما تھا اور ساتھ سے جاتے ہوئے ویٹر کے گلے لگا مجھے مبارک باد دو میری محبت جیت
گئی اس سے الگ ہوکر وہ باقاعدہ چیخنے والے انداز میں بولا سب مجھے مبارک باد دو میری
محبت جیت گئی سب دو روحہ نے ہنستے ہوئے اپنا ماتھا پیٹا آس پاس کے ٹیبل کے لوگوں نے
باقاعدہ کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں جن کو وصول اس نے سر خم کر کے لی داؤد بیٹھ جا یار سب
دیکھ رہا ھے ایسا لگ رہا ھے اپن ٹین ایج میں ہوں یار بیٹھ جا روحہ کھڑے ہوکر اس سے بولی تو وہ
ہنستا ہوا واپس چئیر پر بیٹھا یار آپ نہیں جانتی میں کتنا کتنا خوش ہوں داؤد باپو کی ایک شرط
ھے کیسی شرط اس کی مسکراہٹ چہرے سے جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور روحہ کا
چہرہ بلکل سپاٹ تھا وہ بول رہا ھے پہلے نکاح ہوگا ہاں تو پہلے تو نکاحِ ہی ہوتا ھے روحہ جی
داؤد میری بات سن وہ بھی غور سے جی جی آج تو صرف میں آپ کو سننا چاہتا ہوں بولے داؤد
باپو کا کہنے کا مطلب ھے میرا اور تیرا نکاح کل ہوگا کیا مطلب اس نے تھوڑا ناسمجھی سے
پوچھا مطلب نکاح داود ابھی ۔۔۔ صرف نکاح کل ہوگا اور زیادہ کچھ نہیں اس نے نورمل انداز میں
کہاں لیکن مس روحہ میں نے ابھی تک اپنے بڑے بھائی سے بات نہیں کریں ھے میں ان کے بغیر
کیسے کرسکتا ہوں بس بھابھی کو آپ کے بارے میں بتایا ھے اور نہ ہی اس بات کا زکر میں نے
میمو جان سے کیا ھے جب تک وہ لوگ آپ کے گھر رشتہ لیکر نہیں آتے نکاح کیسے ہوسکتا ھے روحہ
نے اس کی بات سنی اور تحمل سے بولی مجھے ایسا لگتا ھے داؤد شاید اس کا نوبت نہیں آئے کہ
تیرا گھر والے اپن کا رشتہ لیکر آئے مطلب کیوں نہیں آئے گے وہ لوگ میں جب ان کو بولو گا تو وہ
لوگ لازمی آئے گے ہر حال میں مجھے پتہ ھے اس نے پختہ یقین سے کہاں داؤد میں تجھے اس خبر
کے ساتھ ساتھ ایک اور خبر بھی دینے آی ھے کیسی خبر اس نے تھوڑا الجھتے ہوئے پوچھا
مجھے تیرے کو اپنا ماضی بتانے کا ھے اس کے بعد تیرے کو جو صحیح لگے گا آپن کو بھی
منظورِ ھے لیکن۔مس روحہ میں نے جس دن آپ کو اپنے دل کی بات بولی تھی میں نے اس دن ہی
آپ کو بول دیا تھا کہ مجھے آپ کے ماضی سے کوئی سروکار نہیں ھے تو پھر وہی بات کیوں
میرے باپو نے کہاں ھے تیرے کو بتادو ایک دفعہ سن لے یار لیکن میں انٹرسٹیٹ نہیں ہوں اس
میں میرے خاطر سن لے یار پلیز اچھا بولے اس نے ضبط سے کہاں وہ اس کی بات نہیں ٹال سکتا
تھا لیکن اس کا دل نہیں تھا اس کا ماضی جاننے کا اس نے سرد سانس خارج کی اور نگاہ نیچے کی
وہ وہ اس وقت بلیک پینٹ لیڈر کی بلیک جیکٹ اور بلیک ہی پینٹ پہنی ہوئی تھی اور بال پونی
ٹیل میں مقید تھے میک اپ کے نام پر صرف لبوں پر پنک لیپ اسٹک لگی ہوئی تھی داؤد اپن جب
انیس سال کی تھی تب اپن کا ریپ کرنے کی کوشش ہوئی تھی داود کو لگا تھا وہ اگلا سانس
نہیں لے پائے گا اس کی انکھیں ایک دم ساخت ہوئی تھی اور مسکراہٹ بھی سمٹی تھی اس کی
بات سن کر مس روحہ پلیز چپ ہو جائے میں نے نہیں جاننا آگے اس نے اپنے گلے کا بٹن کھولتے
ہوئے بولا اس کو سانس لینے میں بھی دشواری پیش ہورہی تھی اس کی بات سن کر روحہ نے ا
کی کنڈیشن دیکھی ضرور لیکن وہ خاموش نہیں ہوئی اپن کالج جارہی تھی روز ایک گروپ مجھے
تنگ کرتا تھا پہلے اپن ایسی نہیں تھی نہ ایسا بات کرتی تھی نہ ایسا کپڑا پہنتی تھی نہ اتنا
بہادر تھی اپن ایک دبو سی معصوم سی لڑکی تھی جس کو اس دنیا کا پتہ ہی نہیں تھا جس
کی الگ ایک دنیا تھی ماں باپ بھائی جس میں اپن بہت خوش رہتی تھی لیکن اس دنیا کے
درندوں نے مجھے ایک نئی دنیا سے روشناس کروایا مجھے ایسا بنایا جس کا اپن تصور بھی
نہیں کرتی تھی کالج کی واپسی پر وہ گروپ روز میرے پیچھے آتا تھا آوازیں مارتا تھا سیٹی بجاتا
تھا لیکن اپن انگنور کردیتی تھی ڈرتی تھی اپنی عزت سے اپنے باپو کی عزت سے اس دن وہ لوگ
چار تھے اور میں اکیلی وہ کچھ لمحے خاموش ہوئی تھی اور سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا
تھا آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی تھی جس کو بے دردی سے اس نے اپنی آنکھوں سے صاف کیا
تھا پیچھے سے دو لڑکے آئے تھے اور آگے سے دو لڑکے تھے اپن نہ پیچھے بھاگ سکتی تھی نہ آگے
پیچھے بھی وہ درندہ تھے اور آگے بھی ان لوگوں نے مجھے اپنے غلیظ ہاتھوں سے چھوا تھا مجھے
پکڑ کر گاڑی میں ڈالا اور کوئی بیس منٹ ٹائپ جگہ تھی اپن اکیلی تھی کمزور تھی کچھ کرنہیں
سکتی تھی اس بات کا وہ لوگ فائیدہ اٹھانا چاہتے تھے وہ چار تھے اپن سے طاقتور تھے داؤد
سانس روک کر اس کی گفتگو سن رہا تھا مجھے وہاں لے جا کر پٹکا تھا مجھے نوچنے کی ہر ممکن
کوشش کی تھی لیکن میں نے خود کی حفاظت کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی لیکن جب
میں برداشت نہیں کرپائیں اور تھک کر۔اپنی ساری مزامت ترک کردی تھی اور اپنا آپ ان
جانوروں کے حوالے کردیا تھا تب ایا تھا ایک فرشتہ صفت انسان جس نے میری عزت کی
حفاظت کی تھی وہ غازیان کو یاد کرکے مسکرائی تھی آنکھوں سے نمی صاف کریں تھی
پھر داؤد کی طرف دیکھا جس نے یہ بات سن کر جیسے سانس لی تھی اس کھینچا تانی میرا سر
ایک لوہے کی راڈ پر لگا تھا جس وجہ سے میں کوما میں چلی گئی تھی چار مہینہ میں کوما
میں تھی اور جب مجھے ہوش آیا تھا بہت کچھ بدلہ تھا اپن کا باپو بہت رویا تھا ماتاری تو جیسے
ختم ہوگئی تھی تب ایسا محسوس ہوا تھا اپن ٹوٹ گئی تھی تب بھی اپن کو ایک شخص نے
سنوارا تھا اپن کا بھائی اس نے مجھے بدلہ تھا اس نے مجھے احساس دلایا تھا کہ دنیا ختم نہیں
ہوئی ھے باپو اور ماتاری ھے میں نے ان کے لئے خود کو بدلہ اپنے آپ کے لئے خود کو بدلہ تھا ایک
دبو روحہ سے ایک بہادر روحہ بنی تھی میں اور ایسی بنی پھر کوئی مجھے توڑ نہیں سکا تھا
میرے باپو نے کہاں تیرے کو اپنا ماضی بتادے میں نے تیرے کو بتادیا ھے اس کی شرط ھے میرا
اور تیرا نکاح کل ہی ہوگا ہر حال میں چاہے کچھہ بھی مسلہ کیوں نہ ہوں داؤد اگر کل نہیں تو پھر
کبھی نہیں اپن تیرا انتظار کریں گی تو سوچ لے اگر تو ظاہر کے بعد آگیا تو ٹھیک ورنہ میں سمجھ
جائے گی تو نے میرا ماضی جان کر قدم پیچھے لے لیا ھے اور مجھے کوئی مسلہ نہیں ھے یہ تیرا
لائف ھے تیرا مرضی ھے تو کیسے گزارے اٹس اوکےوہ کھڑی ہوئی اور پانچ منٹ تک داؤد کو
دیکھا جو سر نیچے کریں ایک دم خاموش ہوگیا تھا اپن چلتی تیرا انتظار رہے گا بولی اور خدا
حافظ کرکے چلی گئی تھی اس کے جانے کے دس منٹ بعد وہ بھی لڑکھڑاتے قدموں سے گھر کی جانب بڑھا تھا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تو پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں بتاتی ہوں زرنش نے مسکراتے ہوئے کہاں ہمم بیگم میں ہمہ
تن گوش ہوں آپ کے بارے جاننے کے لئے وہ بیگم سن کر مسکرائی اوکے تو اسٹارٹ کرتے ھے میں
جب بہت چھوٹی تھی آئی تھنگ میں کوئی پانچ یہ چھ سال کی ہوگی تب میری مما کی ڈیتھ
ہوگئی تھی وہ سب میرے لئے بہت مشکل تھا اور اس سے زیادہ مشکل میرے لئے یہ تھا کہ میرے
پاس نہ مما تھی نہ بابا۔ بابا زندہ تو تھے لیکن میرے پاس نہیں تھے بابا آؤٹ آف کنٹری ہوتے
تھے بزنس کے سلسلے میں تو مجھے وقت نہیں دیتے تھے اس کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوگئی
تھی اور حلق میں ایک گھٹلی سی بننے لگی تھی میرے پاس کوئی نہیں ہوتا تھا میرے پاس میری
ایک میڈ ہوتی تھی پروین آنٹی جو مجھ سے بے انتہا محبت کرتی تھی ان کی محبت میرے لئے بے
لوث تھی ان کی کوئی اولاد نہیں تھی اور ۔میری کوئی ماں نہیں تھی تو ان کو میری نظر میں
بیٹی مل گئ اور مجھے ان کی نظر میں ماں مل گئی زین سن کر مسکرایا تھا اور پتہ ھے ایک
وقت میں مجھے بابا کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ وہ میرے پاس ہوتی تھی
بابا سال میں تین سے چار بار مجھ سے ملنے آتے تھے ملنا کیا ہوتا تھا یار اپنے پاکستان کے بزنس
کی وجہ سے آتے تھے اور اس میں سے تھوڑا وقت مجھے بھی دے دیتے تھے وقت پر لگا کر اڑتا گیا
اور میں بابا سے مینٹلی دور ہوتی چلی گئی میں جب دس سال کی تھی تب پروین آنٹی کی
طبیعت تھوڑی ناساز رہنے لگی اور ایک رات وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر اس دنیا سے مما کی طرح
چلی گئی پھر سے زرنش اکیلی ہوگئی یہ لفظ اس نے بہت دھیمے بولے تھے اور کچھ وقت کے لئے ان
دونوں کے بیچ خاموشی قائم ہوگئی تھی اس خاموشی کو زین کی آواز نے توڑا پھر کیا ہوا آگے
بولوں جب بابا کو پتہ چلا کے میں وہاں اکیلی
ہوں آنٹی پروین کی ڈیتھ ہوچکی ھے اور میں
کسی کے ہاتھ نہیں آرہی ہوں بیمار ہوگئںی ہوں ہسپتال میں اڈمیٹ ہوگئی ہوں تو ان کو مجبورا
سب کچھ وہاں کا واینڈپ کرکے یہاں آنا پڑا لیکن وہ اکیلے نہیں آئے تھے ان کے ساتھ ان کی بیوی
بھی آئی تھی ایک دس سال کی بچی کے سامنے انہوں نے ان کو لاکر کھڑا کردیا تھا اور مجھے بولا
تھا یہ تمھاری نئی ماں ھے میری بیوی ھے وہ سب میری بہت شوکنگ تھا مجھے یقین نہیں آرہا
تھا کہ بابا نے اتنی جلدی میری مما کی۔جگہ ان آنٹی کو دے دی ھے اور یہ بات مجھے زد دلا گئی
تھی اس لئے میں آج تک ان کو قبول نہیں کرپائیں میں مانتی میرا رویہ ان۔کے ساتھ اچھا
نہیں تھا لیکن مجھ میں آتنی برداشت نہیں تھی کہ میں ان کو اپنی مما کی جگہ دے دو اس کے
بعد میں حد سے زیادہ چڑچڑی رہنے لگی مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا بابا نے مجھے اکیلا
چھوڑ دیا میری چھوٹی چھوٹی غلطیاں وہ بابا کو بتاتی تھی جس وہ مجھ سے بدزن ہونے لگے
اور انہوں نے مجھے بوڈنگ اسکول میں ڈال دیا میں جب وہاں گئی تو مجھے سب سے نفرت
ہوگئی مجھے کوئی نہیں چائیے تھا جب بابا کو میری ضرورت پڑی ان کو محسوس ہوا ان کی
بیٹی بڑی ہوگئی ھے تو وہ اپنے گھر لے آئے تو میں کیوں خود کو بدلتی پھر میں ویسے ہی رہی
جیسے میری مرضی تھی اگر کوئی میرے قریب آیا تھا کسی سے میری دوستی ہوئی تھی وہ تھا
غازیان جو بہت اچھا تھا ہر اچھی بری بات پر ڈانٹنے والا غلطی کردو تو پیار سے سمجھانے والا
ہاں میری غلطی ھے میں اس کو اپنے ساتھ جوڑتی تھی اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ھے کہ
میں اس کی پرسنیلٹی اور اس کے بینک بیلنس سے امپریس ہوئی تھی لیکن مجھے وہ انسان
بھی اچھا لگا تھا جس میں رشتے سمجھنے کی صلاحیت تھی وہ ہر قدم پر ساتھ ہوتا تھا وہ
ایسا پرٹینڈ کرتا تھا کہ اس کو مجھ سے بری لڑکی کوئی نہیں لگتی ھے لیکن میں جانتی ہوں
وہ پیٹھ پیچھے میری حفاظت کرتا تھا میں کسی سے بھی پنگالے لو مجھے اتنا ہوتا تھا کہ پیچھے
غازی ھے وہ کچھ نہیں ہونے دے گا یہی میری زندگی تھی میری چھوٹی سی زندگی جس میں
ماں کے مر جانے کے بعد باپ نے چھوڑ دیا تھا مجھے دوست بنانا بلکل اچھا نہیں لگتا تھا
لیکن تم سے دوستی کرکے ابھی تو اچھا لگ رہا ھے باقی اگے کا معلوم نہیں انشاللہ آگے بھی اچھا
لگا گا وہ مسکر اکر بولا اب تم بتاو کچھ اپنے بارے میں کون کون ھے تمھاری فیمیلی میں ۔۔۔
میری فیملی میں ہم چار لوگ ھے میرے بابا میری مما اور میری چھوٹی بہن روحہ جس کو ہم۔پیار
سے گڑیا بولتے ھے میری زندگی بہت اچھی تھی جب تک سب کچھ ٹھیک تھا جب تک میں باہر
نہیں گیا تھا اپنی ٹرینینگ کے لئے کیسی ٹریننگ اس نے حیرت سے پوچھا زین نے اس کی آنکھوں
میں دیکھا جہاں اس کو ایک اداسی دیکھی رشتوں کی ترسی ہوئی لڑکی دیکھی اس نے
ڈیسائیڈ کیا کے وہ اس سے کچھ نہیں چھپائے گا خود سے ریلٹیڈ بھی میں غازی اور روحہ
کوئی عام۔انسان نہیں ھے اس نے بہت آرام سے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا ک۔۔۔کیا مطلب کہی
جن وغیرہ تو نہیں ہوں وہ تھوڑا گھبرا کر بولی نہیں نہیں وہ مسکرایا تھا اس کی گھبراہٹ بھرے
چہرے کو دیکھ میں غازی بھائی اور روحہ ہم تینوں انٹیلیجنس ٹیم کے میمبرز ھے ہم تینوں
دنیا کے سامنے ایسا پریڈینڈ کرتے ھے کہ میں اور غازی بھائی بزنس پارٹنر ھے اور روحہ داود کی
اسیسٹنٹ ھےداود کی اسیسٹنٹ اس کو اچھنبا ہوا تھا ہاں داؤد کی اسیسٹنٹ کسی میشن کی
وجہ سے وہ ہسپتال میں ھے اور اس سے اچھی جوب اسے کوئی اور نہیں لگی تو اس بارے میں
داؤد جانتا ھے نہیں اس بارے میں ہم تین کے الاوہ کوئی کچھ نہیں جانتا ھے یہ پھر تمھارے
فادر کے الاوہ بابا ہمم وہ باہر کوئی بزنس نہیں کرتے ھے وہ بھی ایک انٹیلیجنس ٹیم کے میمبرز
ھے زرنش کو اپنی کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ سن کیا رہی ھے میری بہن جب انیس سال کی
تھی تب کچھ لڑکوں نے اس کا ریپ کرنے کی کوشش کی تھی زرنش کی انکھیں ایک دم بڑی ۔
ہوئی اور اس سب میں مما بابا کے پاس غازیان بھائی تھے اور میں ٹریننگ کے کے لئے جاررہا
تھا روحہ چار مہینے کوما میں تھی اور میں اپنی فیمیلی سے دور اس وجہ سے میرے ماں باپ
مجھ سے ناراض ھے اور تمھاری بہن وہ راضی ھے ہاں وہ راضی ھے وہ سمجھتی ھے ان سب
چیزوں کووہ خود بھی ایک آفیسر ھے وہ جانتی ھے کہ میں مجبور تھا آگر میں نہیں جاتا تو میں
کبھی اس فیلڈ میں نہیں آتا روحہ تو بہت ٹوٹ گئی ہوگی زرنش نے دکھ سے کہاں نہیں ہماری
روحہ بہت بہادر ھے غازیان نے اس کو ٹوٹنے نہیں دیا اس کو اتنا پاورفل بنا دیا ھے کہ ایک دنیا اس
سے ڈرتی ھے فخر ہوتا ھے مجھے اس کو اپنی بہن کہتے ہوئے جان ھے وہ میری میرا بچہ ھے وہ
اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی روحہ کے متعلق بات کرتے ہوئے میری لائف بھی اتنی
سی ھے بس میرے ماں باپ اگر مان جاتے ھے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا میں واپس اپنے گھر
چلا جاؤ گا بہت زیادہ آتی ھے یاد ان کی دل چاہتا ھے مما کو سینے سے لگاؤں بابا کے گلے لگوں ان
کی سنو کچھ اپنی سناؤ لیکن مجھے پتہ ھے وہ کبھی مجھے معاف نہیں کرے گے مجھے وہ معاف
کرے گے آپ کو ہر حال میں ان کو معاف کرنا پڑے گا میں آپ کے ساتھ ہوں اس نے اپنا ہاتھ زین کے
ہاتھ پر رکھا اور میں تمھارے ساتھ ویسے زرنش ڈارلنگ ٹائم بہت زیادہ ہوگیا ھے صبحِ مجھے آفس
بھی جانا ھے اور ایک بہت ضروری میٹنگ بھی ھے تو اس لئے مجھے اجازت چائیے وہ کھڑا ہوتا
ہوا بولا ہاں رات زیادہ ہوگئی ھے چلے کدھر زین نے ناسمجھنے کی بھر پور ایکٹنگ کرتے ہوئے
پوچھا سونے بھنگڑا تو ڈالنے جانے سے رہے یار تم بس حکم۔کرو وہ بھی ڈال لیتے ھے اس نے ہلکا
سا قہقہ لگایا نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ھے خیر ابھی تو مجھے نیند ارہی ھے وہ کھڑی
ہوتے ہوئے بولی اتنی اچھی ہو تم تمھارے ساتھ میں اپنا بیڈ شئیر کرو گا ہاں میں اتنی ہی اچھے
ہوں کہ اپ میری ساتھ اپنا بیڈ شئیر کرے گے اس نے ایک ادا سے کہاں ویسے ایک بات بولو زر ہمم
بولے تم اتنی بری نہیں ہوں جتنا میں سمجھتا تھا بس تم کو تمھارے ماحول نے ایسا بنادیا تھا لیکن
اب میں جانتا ہوں تم خود کو چینج کرلو گی کیونکہ تمھارا ماحول بہت اچھا ہوگا کیونکہ دی
گریٹ زین العابدین آپ کے ساتھ ہوگے مسز زین اس نے مسکراتے ہوئے کہاں وہی بات آپ بھی اتنے
برے نہیں ھے جتنا میں سمجھتی تھی بس ہماری جو پہلی ملاقات تھی وہ زرہ ملاقات کے بجائے
مکا لات بن گئی تھی دونوں نے ایک ساتھ قہقہ لگایا اور کمرے کی جانب بڑھے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ بے جان قدموں سے گھر ۔میں داخل ہوا تھا اور نیچے لاونج۔ میں نم آنکھوں کے ساتھ بیٹھا اپنی
حالتِ پر ماتم کناں تھا اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ خوش ہوئے یہ پھر اپنی قسمت پر روئے
ہانم جو ایان اور داؤد کو ہی ڈھونڈتی ہوئی نیچے والے پورشن میں آئی تھی نیچے داؤد کو بیٹھے
دیکھا تو چہک کر اس کی جانب بڑھی اور خوشدلی سے اس کو سلام کیا اسلام علیکم
بھائی کیسے ھے آپ آپ کو پتہ ھے میں آپ کو کب سے ڈھونڈ رہی ہوں ایان بھائی کا تو کچھ
پتہ ہی نہیں ھے وہ کہاں ھے اور پتہ ھے آپ کو اتنے مزہ کی بات ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی
اس کی نظر داؤد کی طرف گئی تو اس کو کچھ عجیب لگا داؤد کی نگاہ اور کندھے دونوں
جھکے ہوئے تھے وہ اس کے برابر میں صوفے پر بیٹھی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فکر
مند لحجہ میں بولی بھائی سب ٹھیک ھے آپ اتنا پریشان کیوں لگ رہے ھے اس نے نم نگاہوں سے
ہانم کی طرف دیکھا اور واپس اپنا سر جھکا لیا یہاں ہانم بے چین ہوئی تھی اس کی نم نگاہوں کو
دیکھ بھائی آپ رورہے ھے ہانم کو جو اتنی دیر ہوگئی تھی غازیان اس کو دیکھنے آیا لیکن اوپر
سے جب ان کو ساتھ بیٹھے دیکھا تو وہی روک گیا بھائی کہی آپ تو روحہ کے گھر گئے تھے نہ
پھر کیا ہوا وہاں سب ٹھیک تھا کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوئی اس نے کسی خدشہ کے تحت پوچھا
تو داؤد نے نفی میں گردن ہلائی پھر کیا ہوا ھے بھائی اپ کیوں اتنا پریشان۔ھے مجھے بھی
ٹینشن ہورہی ھے اگر اب اپنے نہیں بتایا نہ تو میں بھی رونے لگ جاؤ گی غازیان نے سن کر آئی برو
اٹھائی مطلب ان صاحبہ کو پتہ ھے لیکن انہوں نے بتانے کی زحمت تک نہیں کی آپ نہیں رونا
بھابی میں گیا تھا وہاں وہ لوگ راضی۔ہوگے ھے ابھی اس لڑکی سے ہی مل کر آرہا ہوں پھر کیا
بولا انہوں نے اور اگر وہ لوگ راضی ھے تو آپ اتنا سیڈ کیوں ھے اس نے اپنے ماضی کے بارے میں
بتایا ھے داؤد نے نم سے لحجہ میں کہاں ہانم نے سنا اور اس کے کندھے پر سے ہاتھ ہٹایا اور اس
کے پاس سے تھوڑی دور ہوئی اور بے یقینی کی کیفیت میں بولی تو یعنی آپ کی محبت اتنی
کمزور تھی بھائی کے ان کے ماضی کی وجہ سے آپ ان کو چھوڑ رہے ھے بھول رہے ھے آپ کے لئے
ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ کیا مقام رکھتی تھی آپ کی پہلی نظر کی محبت یہ تھی آپ کی
فیلینگز روحہ کے لئے یہ تھی کہ انہوں نے اپنا۔ماضی بتایا اور آپکی محبت ختم اس نے تمسکرانہ
انداز میں بولا تو داؤد نے اچھنبے سے ہانم کی جانب دیکھا وہ سب سے ایسی سمجھداری والی باتوں
کی تواقع کرسکتا تھا یہاں تک کے ایان کی جانب سے بھی کرسکتا تھا لیکن ہانم کی۔جانب سے
نہیں لیکن وہ ہانم سے نہیں داؤد نے اپنے شوکڈ زدہ چہرہ کو ٹھیک کیا اور واپس خود کو کمپوز
کرکے بولا بھابھی میں پیچھے نہیں ہٹ رہا ہوں تو پھر آپ کو اگر انہوں نے اپنے ماضی۔کے بارے میں
بتایا ھے تو آپ کو ان کے ماضی سے پروبلم ھے آپ نے تو روحہ سے محبت کی تھی نہ کہ ان کے
ماضی سے آپ کو پتہ ھے محبوب کو اس کی اچھائی برائی سمت آپ کو قبول کرنا پڑتا ھے پھر
یہ کیسی محبت ہوئی کہ آپ کو انہوں نے اپنی تھوڑی سی غلطی بتائی یہ پھر جو غلطی انہوں
نے نہ کی ہوں ان۔ سے ہوگئی ہوں اس کی سزا آپ ان کو۔دے رہے ہوں آپ نے تو محبت کی ھے ان
سے تو محبت تو ایسی ہونی چاہیے جس میں یہ سب نہ ہوں کہ اس کا ماضی ایسا ھے تو ہم اس
کو قبول نہیں کرسکتے ھے داؤد کو اس کی باتوں میں ایک وزن لگا وہ سیدھا ہوکر بیٹھا اوپر
ریلنگ کے پاس کھڑے غازیان کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی اس کی بھی تواقع کے بر عکس اس
نے اتنی سمجھداری والی باتیں کی تھی میں آپ کو ایک۔بات بولو ہمم بولے بھابھی میں نے ان کو
ستر ہزار بار منع کیا تھا مجھے اپنا کیسا بھی ماضی ہوں مت بتاؤ میں تمھیں تمھارے حال سے
جانتا ہوں میں تمھیں اسی سے قبول کرو گا لیکن پھر بھی اس نے مجھے بتایا آپ کو پتہ ھے میں
اپنے قدم۔واپس ہر گز نہیں لے رہا بھابھی میں تو اس لئے رنجیدہ ہوں اس لڑکی نے اپنی لائف میں
کتنا اسٹرگل کیا ھے کتنی تکلیف جھیلی ھے داؤد نے روحہ کا مسکراتا چہرہ یاد کرتے ہوئے کہاں
کوئی دیکھ کر یہ نہیں بول سکتا تھا کہ اس کی لائف اتنی کرائسیز سے گزری ھے ہم لڑکیاں تو
ہوتی ہی بہادر ھے ہماری لائف میں کچھ بھی ہو جائے میتھ کا سوال ہوں یہ پھر کیمیسٹری کی
کوئی ایکویشن یہ پھر زندگی میں کوئی بھی مسلہ ہوں ہم۔یو حل نکال لیتے ھے اس نے چٹکی
بجاتے ہوئے کہاں داؤد نے اتنی دیر بعد دل سے قہقہ لگایا جس الجھن میں وہ تھا وہ الجھن ہانم
نے دور کردی تھی لیکن بھابھی ایک پروبلم ھے کیسی پروبلم بھائی وہ جو لڑکی ھے نہ اس کے
فاڈر بول رہے ھے کہ اگر کل کی تاریخ نکاح نہیں ہوا تو پھر کبھی نہیں ہوگا اور اگر میرے نکاح
میں میمو جان شامل نہیں ہوئی تو وہ جان سے ماردے گی اس بار غازی بھائی کے نکاح پر تو وہ
برداشت کا گھونٹ پی گئی تھی لیکن۔میرے والے پر نہیں پیئے گی اور یار چلو میں میمو جان کو
کل کی کل کے لیے منا لیتا ہوں لیکن گرین مونسٹر کا کیا کرے گے غازیان یاد آتے ہی وہ فوراً بولا
لیکن بھائی آپ میمو جان سے بھی کیسے بات کرے گے ابھی آپ کو پتہ ھے زویا سے میری
ملاقات ہوئی تھی دوپہر میں جب میں کالج سے آئی تھی تب انہوں نے بتایا ھے کہ میمو جان بہت
غصہ۔میں ھے زین بھائی نے ان سے بتمیزی کی ھے ابھی جس کو اپنی جان پیاری نہیں ھے وہ ان
سے ملاقات کرلے اگر ایسے میں آپ نے ان سے نکاح کی بات کریں تو ایک ہاتھ یہ ٹانگ وہ آپکی
تور دے گی کیوں زین بھائی نے میمو جان سے بتمیزی کی ھے اس نے ماتھے پر بل ڈالے کہاں وہ
غازی جی زبردستی ان کی شادی زرنش سے کروادی ھے وہ چیز ان سے برداشت نہیں ہورہی
ھے اور کہی کا غصہ۔انہوں نے کہی نکال دیا یار زین بھائی ابھی ہی کرنی تھی آپ نے بتمیزی وہ
خود سے بڑبڑایا یار پھر ایک دم کچھ سوچ کر چہکا میرے پاس ایک آئیڈیا ھے بھابھی کیسا
آئیڈیا بھائی کیوں نہ میں کل نکاح کرلیتا ہوں اور جب وہ لوگ صحیح سے راضی ہو جائے گے تو ہم
دوبارہ نکاح کرلے گے اس والے نکاح کے بارے میں کسی کو بتائے گے ہی نہیں خاموش رہے گے کیسا
اس۔ نے بول کر داد طلب نگاہوں سے ہانم کی طرف دیکھا ہاں بھائی یہ بیسٹ آئیڈیا ھے آپ
ایسا ہی کرے اس سے یہ ہوگا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا اگر بعد میں بھی کسی کو پتہ چلتا
ھے تو جب تک سب کا غصہ ختم ہو جائے گا تو بھابھی کل چلے گی آپ میرے ساتھ جی بھائی۔
میں تو لازمی چلو گی میرے بھائی کا نکاح ھے میں تو ہر حال میں جاؤ گئ تو پھر ٹھیک رہا میں
اور آپ چلتے ھے اور میں اپنے کچھ دوستوں کو ساتھ میں لے چلو گا جی ٹھیک ھے لیکن
بھابھی آپ تیار نہیں ہوسکتی ھے اس کو ہانم کا میک اپ کرنے کا خواب یاد آتے ہی وہ بولا کیونکہ
اگر آپ تیار ہوئی تو گرین مونسٹر کو پتہ چل جائے گا اور وہ ہم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑے
گے اوپر کھڑے غازیان نے ایک سنجیدہ سی نگاہ ان دونوں پر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف چلا
گیا ویسے بھابھی ایان کہاں ھے اس کو بھی ساتھ لے ہی لیتا ہوں ورنہ زندگی خراب کردیں گا
اتنے طعنے مارے گا ویسے ھے کہاں ھے وہ اس اس وقت اس نے کمرے کی جانب دیکھتے ہوئے
پوچھا بھائی صبح سے ہی اپنے کمرے میں ھے ابھی تک نہیں باہر ائے
ہو کیا گیا ھے اس کو اس دن بھی اتنا سید تھا میں دیکھتا ہوں وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا تو بھابھی
ڈیسائیڈ رہا آپ میں ایان کل نکاح میں جارہے ھے جی بھائی ڈن اور یہ بات ہم۔تینوں پارٹنرز میں
یہ بات راز رہے گی اوکے بھائی ہانم مسکرا کر بولی تو داؤد نے بھی مسکراتے ہوئے گردن اثبات
میں ہلائی اور دونوں ایک ساتھ اوپر کی طرف بڑھے داؤد ایان کے روم کی جانب اور ہانم مسکراتے ہوئے اپنے روم۔کی۔جانب۔۔
جاری ھے ❤️
۔۔
