Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

مغرور محبت11
رائیٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 11
روحہ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے والے صوفے پر ہی صدیقی صاحب اخبار پڑھ رہے تھے ان کو

دیکھ کر ایک شاندار مسکراہٹ اس کے چہرے پر رقص کرنے لگی اور بھاگ کر ان کے گلے لگی کیسا

ھے تو میں نے کتنا یاد کیا آپ کو باپو تسی ٹھیک نہیں کرتے اتنے اتنے دن چلے جاتے ہوں میرا یہ

ماتاری کا ایک بار بھی نہیں سوچتا کتنا یاد کیا میں نے تجھے وہ ان کے گلے لگی ایک ہی سانس

میں بولے جارہی تھی اور وہ اس کے بالوں پر ہاتھ رکھ کر مسکرا رہے تھے اچھا تو بہی مجھے کھڑے

تو ہونے دو میں اپنی روحہ سے کھڑے ہوکر ملو انہوں نے کہاں تو ہنستی ہوئی ہٹی پھر کھڑے

ہوکر دونوں باپ بیٹی بغیل گیر ہوئے آگئی باپ کی بیٹی فوزیہ بیگم کی آواز پر وہ دونوں بدمزہ

ہوتے ہوئے پلٹے کہاں تھی تم انہوں نے کڑے تیورو سے اس سے پوچھا تو اس نے ناگواریت سے

صدیقی صاحب کی طرف دیکھا انہوں نے اس کو آنکھوں ہی آنکھوں میں رام ہونے کا کہاں اور

فوزیہ بیگم سے مخاطب ہوئے کہاں سے آئے گی ریسٹورنٹ میں تھی اور ابھی تو دوپہر کے تین

بج رہے ھے اس میں کیا پروبلم ھے تمھیں رات کا وقت تھوڑی ہورہا ھے انہوں نے ان کی توجہ ٹائم

کی طرف مبذول کروائی تو انہوں نے صدیقی صاحب کو آنکھیں دکھائی چپ کرے آپ کیا

مصیبت ھے آپ کو اس کا ہولیا دیکھا ھے آپ نے کتنا سپورٹ کرے گے آپ کل کو پرائے گھر بھی

جانا ھے اس نےناک کٹوائے گی کہ ہماری بات کرتی ھے تو منہ سے پھول جھڑتے ھے حد ہوتی ھے اور

آپ اس کی آتے ہی حمایت لینا شروع ہوگئے کرتی کیا ھے یہ سارا دن میڈیکل میں نرسنگ کا کورس

کیا آگے پڑھنے کا کہاں تو بول دیا میرے سے نہیں ہوتی پڑھی ہوتا کیا ھے اس سے باپ کے

ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر دھوس جمانا آتا ہے محترمہ سے لڑکے والے پوچھے گی تو ہم کیا بولے

گے کہ لڑکی سارا سارا دن بائیک پر گھومتی رہتی ھے اگر چہ ٹائم مل گیا تو باپ کے ریسٹورنٹ میں

جھانک لیتی ھے روحہ بہت بے زاری سے یہ سب دیکھ رہی تھی لڑکی ذات ھے کچھ شرم ہوتی ھے

حیا ہوتی ھے گھر آنے کا کوئی وقت ہوتا ھے پتہ نہیں کیا کرتی پھرتی ھے کس کے ساتھ گھومتی

پھرتی رہتی ھے وہ جو کب سے خاموشی سے سب برادشت کررہی تھی ایک دم بڑھکی کیا

مطلب ھےماتاری تمھارا کس کے ساتھ تو نے مجھے عیاشیاں کرتے ہوئے دیکھ لیا دیکھ رہے ھےاپ کس

طریقے سے مجھ سے بات کررہی ھے میں ماں نہیں ہوں اس کی دوست ہوں جب سے یہ اس

جگہ۔سے آئی ھے اس کا طرزِ مخاطب چیک کرے صدیقی صاحب ان کی یہ بات سن کر ایک دم

طیش میں آئے وہ جو مظبوط عصاب کی لڑکی تھی آپنی ماں کے منہ سے ایسی بات سن کر

آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی میں نے تمھیں اس سے پہلے بھی سمجھایا تھا اس جگہ کا اب تم

کبھی ذکر نہیں کرو گی کیوں کر رہی ھوں تم پھر اس جگہ۔کا۔ذکر۔صدقی صاحب نے قدرے

افسوس سے کہاں تیرے کو کیا لگتا ھے ماتاری اپن جان بوجھ کر اس جگہ گئی تھی اپنے آپ کو

نچوانے تجھے ایسا کیوں لگتا ھے تو یہ سب کیوں نہیں ختم کردیتی میں تجھے بتاریلی ھے اگر اپن

پہلے جیسی بن گئی تو تجھے بہت افسوس ہوگا اپنے الفاظ پر میں نے خود کو بہت مشکل سے اس

فیز سے نکالا ھے خدا کے لیے مت بولا کر دیکھ اپنا آج باپو آیا ھے اپن کو اس سے بات کرنے کا ھے

اور رہی آوارہ گردی کی یہ پھر باپ کے ریسٹورنٹ پر جانے کی بات تو اپن کو ایک نرس

کی نسبت ہسپتال میں مل گئی ھے تو ٹینشن نہ۔لے اگر گھر میں کچھ کھانے کو ھے تو لگا دے اپن

کو بہت بھوک لگ ریلی ھے اور شاید باپو نے بھی کچھ نہیں کھایا چل میں۔فریش ہوکر آتی ھے اور

بول کر اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زویا نے تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر ہانم کی طرف بغور دیکھ رہی تھی آور ہانم آس کے اتنا

غور سے دیکھنے پر پزل سی ہورہی تھی چلے ہانم بھابھی ہم دونوں شروع سے اپنا تعارف کرواتے

ھے میرا نام زویا حیدر ھے میں ایان کے ساتھ یونی کے لاسٹ ائیر میں ہوں میرے بابا حیدر

خان میرے خان پر مت جانا ہم پھٹان نہیں ھے ہم یوسف زئی پٹھان ھے اور میری ماما ہاؤس وائف ھے اور میرا دوسرا کوئی بہن بھائی نہیں

ھے اس لئے ماما نے غازیان بھائی کو اپنا بیٹا بنایا ھے داؤد بھائی کو بھی اور ساتھ والا بنگلا ہمارا ہی ھے اس مینشن سے چھوٹا ھے لیکن بہت پیارا

ھے کبھی بھی میری ضرورت پڑے تو بلا جھجک مجھے بلوالئے گا زویا نے اپنائیت سے کہاں اس

کو پتہ تھا یہ وقت کسی بھی لڑکی کے لئے نورمل نہیں ہوتا ھے اور ہانم کا تو سین بھی الگ تھا ہانم

اٹھ کر زویا کے برابر میں بیٹھی اور گلے لگ کر
رونا اسٹارٹ کردیا زویا ایک دم پریشان سی

ہوگئی کہ ان کو کیا ہوگیا ہانم بھابھی ریلکس شادی تو سب کی ہوتی ھے نہ آپ کیوں اتنا

سینٹی ہورہی ھے اچھا ادھر دیکھے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا ہانم اب بھی نگاہے

نیچے کیئے رونے میں مصروف تھی بھابھی پلیز میری طرف تو دیکھے اگر آپ چپ نہیں ہوئی تو مجھے مجبوراََ اس گھماڑ انسان کو بلانا پڑے گا

ہانم نے آنسوں بھری آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا مجھ۔۔۔مجھے گھر جانا ھے زویا اس نے ہچکی لیتے ہوئے کہاں زویا نے ترحم بھری نگاہوں

سے اس کی طرف دیکھا آپ نے غازی بھائی کو کہاں کے وہ آپ کو گھر لیکر جائے وہ لیکر گئے تھے لیکن بابا نے آنے نہیں دیا میری کوئی غلطی

نہیں ھے میں نے کچھ نہیں کیا ھے زویا غازی جی نے زبردستی نکاح کیا تھا اور پتہ ھے ان

بیچارے کی بھی کوئی غلطی نہیں ھے وہ بتا رہےھے کہ وہ جس لڑکی سے نکاح کرنا چاہتے تھے

وہ میں نہیں تھی وہ کوئی اور تھی میں ان کی
گاڑی میں بیٹھ گئی اور وہ مجھ کو یہاں لے آیا

اور یہاں مہمان تھے اس لئے انہوں نے مجبوآ نکاح کیا یہ بات بابا کو میں بتاتی لیکن انہوں نے

مجھے دھکے مار کر گھر سے نکال دیا زویا غازی جی کی بھی تو کوئی غلطی نہیں ھے نہ وہ

بیچارے بھی اس لڑکی سے نکاح نہیں کرسکے میری وجہ سے زویا نے آنکھیں چھوٹی کر کے ہانم

کی طرف دیکھا بھابھی اپکو یہ سب کس نے بولا ھے یہ بات اپکو غازیان بھائی نے بولی ھے جی یہ

بات غازی جی ہی بتا رہے تھے میری غلطی ھے مجھے گاڑی دیکھ کر بیٹھنا چاہئے تھا پتہ نہیں

کیوں میں اندھوں کی طرح انکی گاڑی میں
چھڑ کر بیٹھ گئی اور پھر رونے کا شغل کرنے لگی

زویا کی اس بار تیوری چڑھی کوئی اتنا بھی کیسے سیدھا ہوسکتا ھے وہ اپنا موڈ میں آئی بات

سنے بھابھی کیا یہ آپ بچوں کی طرح روئے جارہی ھے روئے جارہی ھے ادھر دیکھے میری

طرف وہ جو منہ نیچے کر کے رورہی تھی ایک
دم گڑبڑا کر سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا

ابھی تو اچھی بھلی اس کو چپ کروارہی تھی اچانک کیا ہوا آپ کیا کوئی چھوٹی بچی ھے جو ماما سے بچھڑ گئی تو اتنا روئے گی بی کونفیڈنٹ

آپ ایک لڑکی ھے تو کیا ہوا آپ مظبوط بنے ابھی آپکے بابا نہیں سمجھ رہے تو بعد میں آپکی بات

کو سمجھے گے کیونکہ آپ کے بابا ھے بول کر اپنا
چشمہ ٹھیک کیا بھابھی میرا تجربہ کہتا ھے ایک

باپ اپنی بیٹی سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتا لیکن بابا نے کہاں ھے میری دہلیز پر قدم

مت رکھنا اور دھکا مار دیا تھا اور تھپڑ بھی مارا تھا اور غازی جی نے بھی کہاں ھے وہ مجھ

نہیں جانے دیگے اس نے معصومیت سے کہاں آنسوں لڑیوں کی مانند آنکھوں سے روا تھا زویا

نے تاسف سے اس کی جانب دیکھا بھابھی یہ بات غور سے سننا مانتی ہوں آپکی کوئی غلطی

نہیں ھے یہ بھی مان رہی ہوں آپ کے اکورڈنگ کے غازیون بھائی کی بھی کوئی غلطی نہیں ھے

لیکن آپ سے ایک غلطی ہوئی ھے آپ غلط گاڑی میں بیٹھ گئی اور آپکے بابا سمجھ رہے ھے آپ نے

بھاگ کر شادی کرلی ان کو سمجھنے دے
وہ بابا ھے آپکے کب تک بیٹی سے منہ موڑے گے

کبھی تو ان کی آنکھوں سے یہ نفرت کی پٹی اترے گی کبھی تو وہ سب کچھ دیکھے گے کہ آپ

نے کچھ نہیں کیا تو پھر آپ کیو ایسا سوچ رہی ھے آپ کو پتہ ھے ایک باپ بیٹی کا رشتہ دنیا کا

سب سے حسین سب سے خوبصورت بے انتہا محبت کرنے والا رشتہ ہے

اور پتا ہے ایسا کیوں؟؟؟
ایک مرد جو کبھی اپنی ماں کے سامنے، اپنی

بیوی کے سامنے ، اپنی محبوبہ کے سامنے بھی نہیں ہارتا وہ ہی مرد اپنی بیٹی کے آگے ہار جاتا ہے۔۔۔
ایک غریب آدمی اپنی ماں اور بیوی کو یہ تو کہ
سکتا ہے کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں جو ہے

اسی میں گزارا کرو لیکن وہ ہی ایک غریب باپ اپنی بیٹی کو اس کی پسندیدہ چیز کے لیے منع

نہیں کرے گا وہ یہ نہیں بولے گا کہ اس کے باپ کے پاس پیسے نہیں۔۔ وہ اپنی بیٹی کی خوشی

کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔۔
ایک مرد جو دنیا کے لیے سب سے زیادہ مغرور ،

انا پرست اور سخت غصہ والا انسان ہو وہ ہی باپ اپنی بیٹی کے سامنے بے حد موم دل ہوتا ھے

دنیا سے ہارا ہوا باپ بھی اپنی بیٹی کے چہرہ پر مسکراہٹ دیکھے تو دل و جان سے مسکراتا ہے

ایک بیٹی دنیا کے بہت سے رشتوں کو بے وفا کہ سکتی ہے لیکن اپنے باپ کی محبت کو کبھی برا نہیں کہ سکتی۔۔

ایک باپ اور بیٹی کے رشتے کو جتنا بیان کریں
الفاظ کم ہیں۔۔

اور اس رشتے کی سب سے مشکل آزمائش تب آتی ہے جب ایک بیٹی رخصت ہوتی ہے۔۔۔

ایک لڑکی کو اپنا گھر چھوڑنے کا غم نہیں ہوتا وہ اس لیے نہیں روتی کے وہ کسی اور گھر میں جا

رہی ہے وہ تو اس لیے روتی ہے کیونکہ وہ اپنے باپ سے دور جا رہی ہے ۔۔وہ ایک ایسے انسان سے

دور جا رہی ہے جس کے سائے میں اس نے اپنا بچپن گزارا ۔۔۔

اگر لڑکی شادی کے بعد خوش رہے تو اس کے باپ کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی جیت یہی لگتی

ہے کہ اس کی بیٹی ایک اچھے گھر میں ہے اس کی بیٹی کے پاس ایک بہترین بازو ہے جو اس کو

ہمیشہ اپنا احساس دلائے گا۔۔
لیکن جب ایک لڑکی اپنے سسرال میں خوش نا ہو

تو تکلیف میں صرف وہ لڑکی نہیں ہوتی اس تکلیف میں برابر کا شریک اس کا باپ ہوتا ہے جو

اپنی بیٹی کو تکلیف میں دیکھ کر اپنی زندگی سے ہار جاتا وہ باپ اپنی بیٹی کو تکلیف میں

دیکھ کر بے بسی کی انتہا پر ہوتا ہے وہ ہی باپ وقت سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے۔۔۔اور جب سسرال

والے ایک بیٹی کو اس کے باپ سے نا ملنے دیں تو بھی ایک باپ اور بیٹی کا اتنی دوری کے باوجود

ایک سا حال ہوتا ہے۔۔
بیٹی خوش تو باپ خوش بیٹی تکلیف میں تو

باپ تکلیف میں اتنا عظیم رشتہ بنایا ہے اللہ نے
باپ بیٹی کا۔۔۔

اور یہ احساس صرف ایک بیٹی سمجھ سکتی ہے۔۔ایک بیٹی اپنے باپ کے لیے جتنی تعریف کرے

کم ہے۔۔ ہانم اپنا رونا دھونا بھول کر زویا کو بہت غور سے سن رہی تھی کچھ سمجھ آیا آپ کو

میں کیا بول رہی ہوں اس نے ہاتھ لہرایا تو وہ چونکی میرے بابا تو ہم سے صحیح سے بات بھی

نہیں کرتے تھے لیکن وہ کبھی ہمیں ڈانٹتے نہیں تھے کچھ بھی بات ہوتی تھی بابا ماما سے بول

دیتے تھے بابا نے پہلی بار مجھکو تھپڑ مارا ہانم کی نگاہ اپنی ہاتھوں پر تھی تو آپکی بات کا

مطلب ھے کہ اگر میں روں گی تو میرے بابا کو تکلیف ہوگی اس نے سر اٹھا کر زویا کی آنکھوں

میں دیکھا جی بلکل بہت تکلیف ہوگی اور اگر میں بار بار بابا کے پاس جاؤ گی تو وہ معافی مل

جائے گی اس کا چہرہ ایک دم کھیلا اور آنکھوں میں بھی چمک آئی ہاں بلکل بھابھی آپ کتنی

سمجھدار ھے زویا کو وہ بہت معصوم لگی اس نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کہاں لیکن زویا غازی

جی نے تو کہاں ھے کہ میں اپنے بابا کہ پاس نہیں جاؤ گی اس نے افسوس سے بول کر سر جھکا لیا

چہرہ واپس بوجھ گیا اور آنکھوں کی چمک بھی چلی گئی وہ ان چوبیس گھنٹوں میں اتنا تو

سمجھ گئی تھی اس کی اجازت کے بغیر ایک دھاگا بھی نہیں ہل سکتا اور کتنے دھڑلے سے وہ

اس کو اسی کے ماں باپ کے سامنے سے لیکر آیا تھا بھابھی آپ نیگیٹو کیو سوچ رہی ھے

پوسیٹیو سوچے یار میں آپ کو غازیان بھائی کے بارے میں بتاتی ہوں اگر آپ ان کو پیار سے ٹریٹ

کرے گی ان کی ہر بات مناے گی تو وہ آپ کی بات بھی مان لے گے جیسا جیسا وہ بولتے ھے آپ

سب کرے اور میرا یقین کرے بھابھی وہ آپ کو ایک بار پھر لیکر جائے گے اس بار بھی وہ آپ کو

لیکر گئے تھے نہ آپ کو پتہ ھے وہ اپنے رشتوں سے بہت محبت کرتے ھے ایان داؤد بھائی ان

دونوں سے بہت محبت کرتے ھے وہ اپنے رشتوں کے لئے حد درجہ ٹچی ھے لیکن اگر انہیں کے

رشتہ ان کو پیار سے سمجھاتے ھے نہ ان کی ہر بات مانتے ھے بلیو می وہ ان کی بات سنتے ھے

ان کا وہ کام ضرور کرتے ھے بھابھی یعنی میں ان کی ہر بات مانو اور پھر میں ان سے کہوں گی

تو وہ مان جائے گے ہاں بلکل بھابھی وہ دونو ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ اماں بی نے گیٹ نوک

کیا اور اندر آئی آپ دونوں باہر اجائے ایان بھائی نے کہاں اور دلھن بیگم سے گزارش کی ھے

کہ۔وہ باہر اجائے اچھا آپ چلے ہم ارہے ھے بلکہ ایک سیکنڈ اماں بی روکے وہ جو جانے لگی تھی

زویا کی آواز پر پلٹی گھر سے کسی ملازما کو ہمارے گھر بھیجے اور میرا کوئی سوٹ منگوائے

بھابھی نے ابھی تک یونیفارم ہی پہنا ہوا ھے اس نے مسکرا کر کہاں اماں بھی گردن اثبات میں ہلا

کر چلی گئی زویا ہانم کی طرف مڑی وہ اس کو بہت پیار سے دیکھ رہی تھی ایسے کیا دیکھ رہی

ھے بھابھی آپ کتنے اچھے ہوں زویا مجھ سے دوستی کرو گی ہانم نے جھجکتے ہوئے کہاں تو

زویا نے مسکرا کر اپنا ہاتھ بڑھایا تو چلے شیک ہینڈ کر کے دوستی کرتے ھے تو ہانم بھی مسکرا

کر اپنا ہاتھ بھڑا دیا تقریباً دس منٹ بعد دروازہ دوبارا نوک ہوا تو ایک ملازما کے ہاتھ میں ایک

سوٹ تھا یہ اماں بی نے بھجوایا ھے زویا نے کھڑے ہوتے ہوئے اس سے لئے وہ ایک پنک کلر کی

فراق تھی ماما نے یہ بھیجا ھے یہ میں نے ابھی لیا تھا اور بلکل نیو ھے یہ آپ پہن لے زویا نے

مسکرا کر اس کی جانب بھڑایا تو وہ اس کو تھام کر واش روم میں بند ہوگئی اور دس منٹ

بعد واش روم سے باہر آئی اور دونوں نیچے چلی گئی جہاں ایان اور مدثر ان دونوں کا انتظار کرتے کرتے سوکھ گئے تھے
جاری ھے ❤️