No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
مغرور محبت 23
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 23
وہ سیدھا کمرے میں آیا تھا اس کو اندازہ تھا کہ وہ ابھی تک کمرے میں ہی ہوگی ناب پر ہاتھ
رکھا تو کمرہ لوک تھا جیب سے چابی نکال کر دروازہ ان لوک کیا اور کمرے ۔میں داخل ہوا ہانم
صوفے پر سکڑی سمٹی ہوئی سو رہی تھی اس نے کمرے میں نگاہ گھمائی تو کمرہ بھی صبح والی
ہی حالت میں تھا اور وہ خود بھی جیسے کالج سے آئی تھی اسی کنڈیشن میں تھی ابھی تک
یونیفارم اور چادر سمیت اس کو ایسے دیکھ اس کے ماتھے پر انگینت بل پڑے تھے وہ اس کےقریب
آیا اور آواز دیکر اٹھانے کی کوشش کی ہانم اٹھو کیا حال بنایا ہوا ھے چینج کرو اور بیڈ پر
لیٹو لیکن وہ ہوش میں ہوتی تو سنتی نہ ہانم ایک بار پھر آواز دی لیکن جواب نادر تو وہ
مزید قریب ہوا اس کے بازو کو جیسے ہی ٹچ کیا ایسا لگا جیسے کسی جلتے ہوئے انگارہ کو چھو لیا
ہوا تو اس نے فورا اپنی ہتھیلی اس کے ماتھے پر رکھ کر چیک کیا تواس کو بخار ہورہا تھا اس
نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی اور اس کو بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لیٹ یا اور باہر الٹے قدموں بھاگا
داؤد اور ایان جو ایک ساتھ ہی انٹر ہورہے تھے اوپر سے ریلنگ سے آواز لگائی داؤد اس نے سر
اوپر کرکے دیکھا جی بھائی یار جلدی اوپر او اور ہانم کو چیک کرو بخار ہورہا ھے اس کو اور آنکھ
بھی نہیں کھول رہی ھے واٹ صبح تو ٹھیک تھی وہ خود سے بڑبڑایا ایان میری گاڑی میں میرا بیگ
ھے جلدی سے لیکر اوپر پہنچو بول کر وہ غازیان کے پیچھے الٹے قدموں بھاگا اور ایان بھی داؤد
کی گاڑی کی طرف بھاگا داؤد جب تک روم میں ایا تو غازیان اس کو چادر سے کور کر چکا تھا
داؤد نے ہتھیلی ماتھے پر رکھ کر ٹیمپریچر چیک کیا اتنے میں ایان بھی بیگ لیکر آگیا داؤد نے
چیک اپ کیا اور غازیان کی طرف مڑا بھائی ٹینشن کی کوئی بات نہیں ھے انہوں نے صبح سے
شاید کچھ کھایا نہیں ھے اور آنکھوں سے لگ رہا ھے رونے کی وجہ سے بخار چڑھ گیا ھے میں نے
یہ میڈیسن لکھ دی ھے یہ انہیں کچھ کھیلا کر دے دے ابھی تھوڑی دیر میں اتر جائے گا کھانا
کیوں نہیں کھایا اس نے غازیان نے آیان کی طرف دیکھ کر غصہ سے پوچھا تو وہ پورا گڑبڑا گیا وہ
خود پریشان تھا اس کی ایسی کنڈیشن دیکھ کر اور اوپر سے غازیان کا پوچھنے پر وہ پورا گڑبڑا
گیا اور پھر بھی ہمت کر کے بولا بھائی ہم جب کالج سے آئے تھے تو شاید بھابھی کو کیسی نے
کچھ بول دیا تھا اور جب باہر آئی تو آنکھیں روئی روئی ہورہی تھی اور میں نے پوچھا بھی
تھا لیکن انہوں نے کچھ نہیں بتایا شاید اس کے بعد گھر آکر وہ روم میں بند ہوگئی میں چار بجے
تک آیا تھا چیک کرنے تو دروازہ لوک تھا میں سمجھا بھابھی سورہی ہوں گی اس لیے میں
واپس چلا گیا پھر میں مدثر کی طرف چلا گیا اب آپ کے سامنے آیا ھوں اماں بی بھی گھر نہیں
ھے ان کو بھی نہیں پتہ تھا ۔میں کیا بول کر گیا تھا ایان غازیان نے غرا کر کہاں تو ایان نے بے
بسی سے داؤد کی طرف دیکھا تو دؤاد نے اس کو آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور خود
غازیان کو سمجھانے کی گرز سے بولا بھائی بھابھی اب ٹھیک ھے میں نے ان کو انجیکشن
بھی دے دیا ھے کسی بات کا اسٹریس لیا ھے انہوں نے ابھی اتر جائے گا ان کا بخار اماں بی
کہاں ھے غازیان نے بگڑے انداز میں دونوں سے پوچھا وہ اپنی بیٹی کی طرف گئی ھے میمو
جان سے پوچھ کر ایان تم میمو جان کی طرف جاؤ اور زویا کو لیکر آؤ میں یہاں سے کال کردیتا
ہوں وہ بھیج دے گی مجھے کام ھے اتے ہوئے صبح ہوجاے گی کم از کم اور میں اس کو ایسے
چھوڑ کر نہیں جاسکتا ہوں گرین آنکھیں اس وقت ضبط سے لال ہورہی تھی ایان نے جیسی
سنا وہ زمان ہاؤس کی طرف بھاگا اور داؤد کو بھی اس نے آنکھوں کے اشارہ سے جانے کے لئے
بول دیا تو وہ بھی سر ہلا کر روم سے باہر چلا گیا موبائل نکال کر میمونہ بیگم کو کال ملائی دو بیل
کے بعد کال اٹھا لی گئی اسلام علیکم میمو جان میمو جان مجھے زرہ کام سے جانا ھے ہانم کی
طبیعت ٹھیک نہیں ھے میری غیر موجودگی میں کس کے سہارے چھوڑ کر جاؤ آپ پلیز زویا کو
بھیج دے وہ روک جائے گی ہانم کے ساتھ جی پلیز ایان آرہا ھے اس کو لینے ابھی تو
طبیعیت ٹھیک نہیں ھے لیکن داؤد نے دوائی اور انجیکشن دے دیا ھے ابھی تھوڑی دیر میں اتر
جائے گا جی خدا حافظ اس نے موبائل جیپ میں رکھ کر ہانم کے قریب بیٹھا اور اس کے شفاف اور
معصوم چہرے کو غور سے دیکھنے لگا تم ایک بار ٹھیک ہوجاو پھر تمھیں بتاتا ہوں اتنا روئی کیسے
تم اس کو دیکھتے ہوئے زیرلب بولا اور لمبے لمبے ڈھنگ بھرتا ہوا نیچے چلا گیا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ نیچے آیا تو وہ دونوں بھی گہبرائے ہوئے مینشن میں داخل ہوئے اور سامنے غازیان کو کھڑا
دیکھ کر ثھٹکے تم جاؤ اندر ایان زویا آرہی ھے جی بھائی بول کر وہ اندر کی طرف بڑھا بھائی
کیسی طبعیت ھے ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ھے زویا اس کی پلیز جب تک میں نہیں آتا تب تک
پلیز اس کا خیال رکھنا یار اور اس کے دماغ سے یہ سب باتیں بھی نکالنے کی کوشش کرنا جی
بھائی آپ ٹینشن نہ لے میں ان کے پیچھے جاتی مجھے ایان نے بھی کہاں تھا لیکن میں نے سوچا
ان کو کچھ وقت اکیلے میں گزارنا چاہئے اس وجہ سے میں نہیں گئی میں دیکھ لو گی آپ ٹینشن نہ
لے اچھا ہاں کچھ کھیلا کر اس کو میڈیسن بھی دےدینا اس کو اگر فاسٹ فوڈ کا کہے تو آڈر
کرلینا تم لوگ اوکے بھائی ٹھیک ھے اچھا جاؤ تم اندر میں بھی نکلوں جب تک وہ اندر مینشن میں
داخل نہیں ہوگئی وہ وہاں ہی اس کو کھڑے دیکھتا رہا جیسی وہ اندر داخل ہوئی وہ بھی
اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی اڈے کی جانب موڑ لی جہاں زین ایگل اور ان کے کچھ آفیسرز ویٹ
کررہے تھے یہ لوگ اڈے سے دور جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے غازیان نے جیسے ان سب کو
جوائن کیا یہ لوگ اندر بڑھے جہاں بڑے سے دروازے پر تین آدمی بڑی بڑی بندوق لے کر کھڑے
ہوئے تھے یہ لوگ کوئی ساتھ لوگ تھے تین لڑکیاں اور چار لڑکے ایگل آگے بڑھی اور گاڑی سے خود
کو کور کرتی ہوئی نیچے بیٹھی اس کی ہمت پر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ان کی زرہ
سی غلطی اندر بیٹھی بچیوں کی زندگی ختم کردیتی اور ساتھ میں ان سب کی بھی کیوں کہ
وہ لوگ تعداد میں زیادہ تھا اور یہ لوگ صرف ساتھ تھے غازیان کبھی ان کے ساتھ نہیں آتا تھا
لیکن یہاں معاملہ بچیوں کا تھا ایگل جو نیچے بیٹھی تھی اس کی گن میں سیلینسر لگاہوا تھا
اس نے ایک پتھر اٹھا کر دوسری طرف پھیکا تو ایک آدمی اسی طرف ایا زین اور غازیان نے ایک
دوسرے کی طرف دیکھا کیونکہ وہ دوسری جگہ جانے کے بجائے ایگل کی طرف آرہا تھا اس نے
اپنی گن لوڈ کی اور جیسی وہ قریب آیا اس کے پیر پر ایک گولی ماری اور دوسری اس کے دل کے
مقام پر وہاں سے اس نے کلیر کا اشارہ کیا تو باقی سب نے شکر کی سانس خارج کی غازیان
بھی خاموشی سے چلتا ہوا دیوار کی اوٹ میں ہوا جیسی پھیرہ دینے والا آدمی اس کی طرف
سے مڑنے لگا گردن میں ہاتھ ڈال کر اس کی مخصوص جگہ دبائی تو وہی وہ ہوش ہواس سے
بے گانہ ہوکر نیچے گیر گیا اس نے بھی کلیر کا اشارہ دیا تو زین آگے بڑھا اور ایگل والی جگہ پر
آکر وہی سے اس کے سینے کا نشانہ لگایا وہ بھی ترپ کر گیرا اور وہ شور مچاتا اس سے پہلے
دوسری ایگل کی گولی نے اس کو موت کی نیند سلادیا یہ تینوں ایک ساتھ اپنی سیف جگہوں
سے باہر نکلے اور انکے باقی کے ساتھی بھی دروازے کے قریب پہنچے تو وہاں کوئی تالا وغیرہ
نہیں تھا سب الرٹ تھے کیونکہ وہ ایک ایسی جگہ تھی وہاں بہت الرٹ رہنا تھا دروازہ کھولا تو
اندر چار بندہ تاش کھیل رہے تھے ان کو دیکھتے ہی ان لوگوں نے گن اٹھائی اس سے پہلے وہ چلاتا
غازیان نے پھرتی سے اپنی گن سے اس کے ہاتھ پر وار کیا زین نے آگے بڑھ کر دوسرے کی ٹانگ پر
اپنی لات ماری اور گردن گھماکر تور دی ایگل نے اپنی گن سے ایک کی ٹانگ پر گولی ماری اور جس
کے ہاتھ پر غازیان کے ہاتھ پر گولی چلائی تھی اس کے گردن پر گولی ماری تو وہ ایک لڑھک گیا
غازیان ادھر ادھر نگاہ گھما کر بچیوں کو ڈھونڈ رہا تھا ایگل کرن زین تم تینوں اس طرف جاؤ
فرحان دانش تم دونوں اس طرف جاؤ زیشان اور کنزہ تم میرے ساتھ آؤ سب جگہ غور سے دیکھنا
بچیاں یہی ھے اور ان لوگوں کو جلدی پتہ چل جائے گا جلدی کرو سب چارو طرف پھیل گئے
تھے اور تھوڑی دیر میں ایگل کرن اور زین کو بچیاں مل گئی تھی ان لوگوں نے بچیاں بازیاب
کروالی تھی اور بنداس طریقے سے وہاں سے وہ ساتھوں نکلے تھے ایگل اور زین نے ایک دوسرے
کو تالی ماری اور غازیان نے ان دونوں کو مسکرا کر دیکھا ان دونوں کی نظر اس کی طرف پڑی تو
دونوں بھاگ کر اس کے گلے لگے بھائی ہم نے کر دیکھایا بلکل بچوں کی طرح آچھا اچھا بس اب
یہاں سے نکلنا ھے چلو یہاں سے شاباش وہ لوگ بچیوں کو بازیاب کرواکر جلد سے جلد وہا ں سے
نکلے تھے ایگل اپنے گھر زین اپنے اپارٹمنٹ اور غازیان درانی مینشن اور باقی لوگ بھی اپنے اپنے گھر ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زویا اور ایان دونوں ہانم کے روم میں داخل ہوئے پیچھے سے داؤد بھی ان کے ساتھ ہی کمرے میں
داخل ہوا زویا قریب گئی اور اس کے چہرے پر پانی کی چھینٹے ماری تو بھابھی اٹھے تھورا سا
کچھ کھالے ہانم کی پلکوں میں ہلکی سی لرزش ہوئی اور آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھولیں تو سامنے کا
منظر دھندلا دھندلا سا دیکھا تو دوبارہ آنکھیں بند کر کے کھولی تو سامنے اپنے قریب زویا کو
بیٹھے دیکھا اور ساتھ ہی ایان اور داؤد کی پریشان سی شکل دیکھی اور جیسے جیسے دماغ
بیدار ہونے لگا تو سب کچھ کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا کیسے فائزہ نے اس کو اتنا
کچھ کہاں تھا اور وہ کیسے روتے روتے کاوچ پر سو گئی تھی سامنے ان سب کو دیکھا تو بیڈ پر
ہاتھ رکھ کر اٹھنے کی کوشش کی تو زویا نے سہارہ دیکر اُٹھایا آپ سب اس وقت یہاں دماغ
تھوڑا بے دار ہوا تو اس نے اپنے دھکتے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اس لئے آپ کے روم میں ھے
کیونکہ آپ نے رو رو کر اپنی طبیعت خراب کرلی داؤد نے مسکراتے ہوئے کہاں اور آپ کے شوہر مجھ
معصوم پر غصہ کررہے ھے ایان کی خفگی بھری آواز پر زویا نے موڑ کر اپنی آنکھیں چھوٹی کرکے
اس کو گھورا ہانم نے پریشانی سے ایان کو دیکھا ایان بھائی انہوں نے آپ پر کیوں غصہ کیا اس نے
معصومیت سے پوچھا تو زویا نے مسکراتے ہوئے اس کو دیکھا کیونکہ اس گھونچوں کو وہ بول کر
گئے تھے کہ آپ کا خیال رکھے لیکن یہ صاحب اپنے دوست کی طرف چلے گئے زویا نے اس کے
چہرے پر ہاتھ رکھ کر کہاں کوئی نہیں میں آئے تھا لیکن ان کا روم لوک تھا اس لئے میں واپس
چلا گیا ابھی زویا کچھ بولتی اس سے پہلے داود بولا بس بس اب تم دونوں نہ شروع ہوجانا پہلے
بھابھی کو کھانا کھلاو اس کے بعد ان کو یہ میڈیسن دو پھر یہ آرام کرے گی ابھی ان کو بخار
ہورہا ھے اور اگر ابھی غازیان بھائی ائے اور انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیوی کو ہم سب نے ایسے
بیٹھا کر گپے لگا رہے ھے تینوں کو جوتے مارے گے سب نے بے ساختہ قہقہہ لگایا خود ہانم بھی صبح
سے اب ہلکہ سا کھلکھلائی زویا نے اس کو سوپ پیلایا اور دوائی کھیلاکر اس کو واپس سلادیا
ایان اور داؤد بھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے ابھی ہانم کو سوئے ہوئے بیس منٹ ہوئے ہوگے
زویا کو نیند نہیں آرہی تھی اس لئے وہ غازیان کی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی دروازہ نوک ہوا تو
اس نے اٹھ کر کھولا سامنے غازیان کھڑا ہوا تھا بھائی آپ آگئے اتنی جلدی ان سب کو میٹنگ روم
میں بھی جانا تھا لیکن اس نے سب کو گھر بھیج کر وہ فورا گھر آیا تھا ہاں کام ہوگیا تھا اس لئے
آگیا ہانم کی طبیعت کیسی ھے وہ باہر ہی کھڑا ہوا تھا بھائی ابھی دوائی کھیلا کر سلادیا ھے
کچھ کھایا اس نے جی بھائی چاول کھائے ھےچاول کھ سکتی ھے داؤد سے پوچھا تھا جی بھائی داؤد بھائی سے پوچھ کر کھیلائے تھے
اچھا ٹھیک ھے چلو آؤ میں تمھیں چھوڑ دو تم بھی ارام کرو اور اس کے لئے شکریہ تمھارا ارے
بھائی کیسی بات کررہے ھے ہم فیمیلی ھے ایسے نہی بولتے کیا میں اپکی بہن نہیں ہوں اس نے
خفگی سے کہاں تو غازیان نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تم تو میری سب سے پیاری
بہن ہوں چلو اب رات زیادہ ہورہی ھے گھر چلو جی چلے وہ اس کو چھوڑ کر واپس روم میں آیا ۔۔۔
جاری ھے ❤️
