No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
مغرور محبت 54
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 54
وہ رات کو وہی روتے روتے کس پہر سوئی اس کو خبر تک نہ ہوئی تھی صبح آنکھ کھولی تو
کمرے میں کوئی بھی موجود نہیں تھا اس نے نگاہ ادھر ادھر گھما کر غازیان کو تلاشا لیکن وہ
موجود ہوتا تو دیکھتا نہ وہ تو رات بھر کمرے میں ہی نہیں آیا تھا وہ اٹھی اور واشروم کی
طرف بڑھی تھوڑی دیر میں وہ فرش ہوکر باہر آئی اور دوپٹہ شانوں پر پھیلا کر نیچے کی جانب
بڑھی جہاں روحہ داؤد غازیان اور ایان ناشتہ کررہے تھے سب موجود تھے لیکن بس ہانم موجود
نہیں تھی ایان اور داؤد نے بولا بھی تھے کہ بھابھی کو بلالیتے ھے لیکن غازیان نے صاف انکار
کردیا تھا کہ وہ یہاں بیٹھ کر اس کے ساتھ ناشتہ نہیں کرے گی اس لئے ان دونوں کو مجبور واپس
بیٹھنا پڑا ہانم کو اپنا آپ ایک اجنبی لگا وہ پلٹ جانا چاہتی تھی لیکن داؤد کی نظر ہانم پر پڑی
تو وہ کھڑا ہوا اور ہانم کو بھی ساتھ ناشتہ کرنے کی دعوت دی بھابھی آپ کہاں جارہی ھے آئے
ناشتہ کرے غازیان نے ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور واپس اپنے ناشتہ کی طرف متوجہ
ہوگیا وہ مرے مرے قدم اٹھا کر میز کے پاس پہنچی وہاں اس کو حیرانی ہوئی روحہ کو دیکھ
وہ بھی سرعت سے کھڑی ہوکر اس کے قریب آئی کیسی ھے سفیدی کی چمکار تیرے کو پتہ ھے اپن
کل سے تیرے کو مس کررہی ھے ایان بہت زیادہ شوکڈ تھا اس کی لینگویج سن کر میں ٹھیک
ہوں آپ کیسی ھے اور آپ یہاں اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا ہاں کل ہی اپن کی رخصتی
ہوگئی تھی لیکن تو اپن کو نہیں ملی خیر کوئی بات نہیں آجا ساتھ ناشتہ کرتے ھے ہاں بیٹھے آپ
بھی وہ اپنی چئیر پر بیٹھی غازیان نے ایک سرد نگاہ سے اس کی جانب دیکھا اور اپنا ناشتہ چھوڑ
کر کھڑا ہوا اس کے کھڑے ہوتے ہی وہ دونوں بھی کھڑے ہوئے اور ان کو دیکھ ہانم بھی کھڑی ہوئی
آپ کہاں جارہے ھے ہانم نے پوچھا تو اس نے ایک نظر اس کو دیکھا اور بینا کسی کی بات کا جواب
دیئے آفس کے لئے نکل گیا اس کی آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی اور ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر
بہہ ایان اور داؤد نے ہانم کو روتا دیکھا تو دونوں اپنی کرسیاں چھوڑ کر اس کے قریب آئے بھابھی
آپ کیوں رورہی ھے ایان نے پریشانی سے پوچھا آپ کو پتہ ھے ایان بھائی انہوں نے کہاں ھے یہ
مجھ سے بات نہیں کرے گے میں نے تو صرف اتنا سا جھوٹ بولا تھا یہ تو میری بات پکڑ کر بیٹھ
گئے ھے روحہ آپ بتائے کیا میں نے غلط کیا تھا اپنے بھائی کی مدد کرکے اپن تو یہی بول رہی
تھی تیرے جیسی بھابھیاں ہوتی ھے جو دنیا کے لئے ایک مثال قائم کرتی ھے یار تیری تو بات ہی
الگ ھے تو جان ھے سب کی ابھی تیرا میاں ناراض ھے ابھی کچھ وقت۔میں مان جائے گا تو
پریشان نہ ہوں اور ایسے رو مت اس نے اس کا ہاتھ پکڑ بولا اور واپس اپنے ساتھ کرسی پر
بیٹھایا چھوٹی بھابھی آپ بلکل ٹھیک بول رہی ھے وہی تو اپن تو کبھی غلط ایچ بولتی ہی نہیں
ھے اس نے اپنے لئے تعریف سنتے ہی فخریہ کالر جھاڑے اور آپ تو ہماری بہادر بھابھی ھے اسی
چھوٹی موٹی باتوں پر آپ تھوڑی روتی ھے آپ ایان کی بھابھی پلس بہن ھے آپ کو رونے والی
نہیں رولانے والی بننا ھے داود ایک دم۔خاموش تھا وہ ان سب چیزوں کو خود کو قصور وار
سمجھ رہا تھا اس نے ہانم کو دیکھا جو اپنے آنسو صاف کررہی تھی لیکن آنکھیں گواہ تھی وہ رات
بھر روئی ھے اس کو اپنا آپ بہت شرمندہ محسوس ہوا وہ گھوم۔کر ہانم کے قریب آیا اور
اس کے قدموں کے قریب بیٹھا بھابھی آپ بہت اچھے ہوں یار لیکن میں بہت برا ہوں ایک دم مفاد
پسند صرف میں نے اپنا فائیدہ دیکھا آپ کو تو دیکھا ہی نہیں مجھے کیا پتہ تھا بھائی کا
رئیکشن ایسا ہوگا پلیز اپنے بھائی کو معاف
کردے یار مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ بات آتنی
بڑھ جائے گی پلیز اپنے بھائی کو معاف کردے نہیں بھائی آپ یہاں کیوں بیٹھے ھے اوپر بیٹھے
نہ اور ایسے نہیں بولے آپ کی کوئی غلطی نہیں ھے غلطی میری ھے مجھے ان سے جھوٹ نہیں
بولنا چاہئے تھا وہ روتے ہوئے بولی یار آپ کیوں رورہی ھے ایان ایک دم پریشان ہوا تھا ایان بھائی
انہوں نے کہاں ھے کے وہ بات نہیں کرے گے ان کو بولے نہ کہ وہ مجھ سے بات کرلے انہوں نے کہاں
ھے ان کو بہت دکھ پہنچا ھے میرے جھوٹ بولنے سے وہ بول رہے تھے ان کو امید تھی میں جھوٹ
نہیں بولوں گی آپ کو پتہ ھے روحہ جی مجھے نہ اچھا نہیں لگتا کوئی مجھ سے ناراض ہوں
مجھے بہت برا لگتا ھے آرے دیکھ سفیدہ کی چمکار یہ جو تیرا میاں ھے ابھی ھے تیرے سے
ناراض تو اس کو منا لے کائے کو اتنا رورہی ھے اپن سمجھی تھی ایان یہ سفیدی کی چمکار
بہت بہادر ھے لیکن یہ تو ڈرپوک ھے ہانم کے ماتھے پر بل پڑے نہیں ہانم ڈرپوک نہیں ھے
روحہ میں بہت بہادر ہوں ھے نہ ایان بھائی جی جی چھوٹی بھابھی آپ کو نہیں پتہ میری
بھابھی بہت بہادر ھے وہ فورا اس کے حق میں بولا آپ بھی بتائے داؤد بھائی میں بہت بہادر ہوں
نہ ہاں مس روحہ ہماری بھابھی بہت بہادر ھے آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا ھے آپ ہماری اتنی
بہادر بھابھی کو ایسا بولے اچھا اچھا بہی معافی اس نے کان پکڑے ابے تو بس اس کو کیسے بھی
کرکے منالے دیکھ وہ داؤد سے ناراض نہیں ھے ابھی اس سے بات کررہا تھا آرے چھوٹی بھابھی
وہ تو اس لئے ناراض نہیں ھے کیونکہ ان کو ایک سلامی مل چکی ھے سیدھے گال پر اب کیوں
ناراض ہوگے وہ ارے ہاں یہ بھی ھے اس کو تو مل چکی ھے اس کو نہیں ملی نہ روحہ نے سوچ
کر کہاں میں نہیں کھاؤ گی ان کے ہاتھ کا تھپڑ بہت زور سے لگتا ھے ہانم ڈر کر بے ساختہ بولی
سب نے دبہ دبی سا قہقہ لگایا ابے سفیدی کی چمکار ایک آئیڈیا ھے اپن کے پاس کیسا آئیڈیا
تقریباً سارے ہی ساتھ بولے تھے یار اپن کا جو باپو ھے نہ وہ میری ماتاری سے ناراض ہوگیا تھا
ایک دفعہ اور وہ بہت منارہی تھی لیکن باپو نہیں مان رہا تھا اور غلطی بھی ماتاری کی تھی تو اس
نے پتہ ھے کیا کرا تھا اس کے لئے بہت ہی مزہ کا کھانا بنایا تھا اپنے ہاتھوں سے اس نے کھانا تو
کھایا تھوڑے نخرہ بھی کرے لیکن اس کے بعد وہ فورا راضی ہوگیا تھا اور وہ تو نے وہ والی
کہاوت سنی ھے مرد کے دل کا رستہ پیٹ سے ہوکر جاتا ھے نہیں یار مس روحہ دیکھے اگر
بھابھی ناراض ہوتی تو ہم ان کو کھانے سے منالے۔ تھے لیکن بھائی ناراض ہوئے ان کو منانا اتنا آسان
نہیں ہوگا لیکن بھائی روحہ بول رہی ھے نہ کہ ان کے باپو بھی ناراض تھے پھر کھانا کھ کر مان گئے
تھے تو ہم بھی ایک دفعہ ٹرائے کرتے ھے وہ دیکھے گے میں نے کتنی محنت کریں ھے تو وہ مان جائے
گے ہانم نے روحہ کی بات سن کر اثبات میں سر ہلایا جبکہ داؤد کی بات کی فورا نفی کی لیکن
بھابھی آپ کو اتا کیا ھے بنانا ایان نے فورا پوچھا مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا ھے ایان بھائی بس
انڈا ابالنا آتا ھے اور چائے بنانی اتنی ھے بھابھی پانی گرم کرنا ہاں ہاں وہ بھی اتا ھے اس نے چہک
کر کہاں اس کی بات سن کر تینوں نے بے ساختہ قہقہ لگایا یار کیسا بھائی ھے تیرا داود اتنی
معصوم بیوی سے ناراض ہوگیا ھے اس نے ہانم کے گال پر چٹکی کاٹ کر کہاں تو وہ ایک دم بلش
کرنے لگی۔یار تو واقع بہت کیوٹ ھے اس نے ایک بار پھر اس کے گال پر چٹکی کاٹی ہانم کی حالت
دیکھ ایک بار پھر سب نے قہقہ لگایا ویسے بھابھی میں آپ کی مدد کروادو گا داؤد نے ہنستے
ہوئے کہاں لیکن بھائی آپ بنائے گے تو ان کو پتہ چل جائے گا کے آپ نے بنایا ھے کھانا نہیں بھابھی
بنائے گی آپ ہی لیکن میں آپ کی مدد کردو گا یہ بول رہا ہوں ہاں اپن بھی کرے گی تیری مدد
بھائی میری اور داؤد کی وجہ سے ناراض ھے نہ اپن بھی کرے گی مدد تیری میں بھی کرو گا
آپکی مدد کیونکہ میری معصوم اور بہادر بھابھی روئے اور پریشان ہوئے میں یہ برداشت نہیں
کرسکتا ہوں اس لئے میں بھی اپنی بھابھی کی مدد کرو گا ایان نے بھی فورا کہاں اور میں بھی
کرو گی زویا کی آواز پر چارو مڑے اسلام۔علیکم آوری ون کیسے ھے سب وعلیکم السلام گڑیا ہم
سب ٹھیک ھے اور چھوٹی بھابھی آپ ٹھیک ھے کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی یار اپن کو تیرا نام
ایچ نہیں پتہ لیکن اپن بلکل ٹھیک ھے جی میرا نام زویا ھے ویسے میڈم زویا اپ جو چلتی گاڑی
میں سوار ہوئی تھی اپ کو پتہ بھی ھے کس بارے میں بات ہورہی تھی ایان نے اس کو مبہوت
ہوتے دیکھ کہاں ہاں پتہ ھے یہاں پر ایک ہی ٹوپک ہوگا غازی بھائی کی ناراضگی اور آپ سب
بھابھی کو بول رہے تھے کہ آپ سب ان کی مدد کرے گے میرا بھی کچھ فرض بنتا ھے یار میری
بیسٹ فرینڈ ھے اس لئے کہاں او اچھا تو ویسے کیسے مدد کرنی ھے بہی چھوٹی بھابھی نے
آئیڈیا دیا ھے کہ بھائی کو وہ اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلائے لیکن ہماری بھابھی کو اتنا
کوئی زیادہ آتا نہیں ھے بنانا اس لئے ہم سب ان کی مدد کرے گے او اچھا تو ٹھیک ھے میں بھی
کردو گی بھابھی کی مدد اور آپ نہ اچھے سے کپڑے بھی پہننا وہ سب میں ارینج کرلو گی اور
کھانا ہم اوپر والی گیلری میں سیٹ کرے گے آپ کا اور ان کا آج رات کینڈل لائٹ ڈنر ہوگا اور آپ
تینوں یعنی تم میرے ساتھ چلنا گھر اور آپ دونوں بھی کہی گھوم پھیر آنا ان دونوں کو
تھوڑا اکیلے میں وقت گزارنے دیتے ھے کیسا آئیڈیا اور داد طلب ائی برو اٹھائی ہانم بلش کرنے لگی
تھی اس کی باتیں سن داؤد ایان تو کھڑا ہی تھے باقی روحہ بھی کھڑی ہوئی تینوں نے ایک
دوسرے کی جانب دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر تھالی بجائی کہاں تھی میری چیتی داؤد نے فخریہ
کہاں بھائی آفٹر اول مسز ایان ٹو بی ھے یہ اتنا سمجھدار تو ہونا ہی تھا اس نے وہ بول کر اپنے
فخریہ کلر جھاڑنے لگا نہیں یار ساری بات الگ لیکن یار اس نے ے آئیڈیا بہت اچھا دیا ھے ایسا
ہی کرے گے تیرے کو کوئی مسلہ تو نہیں ھے روحہ نے بول کر ہانم کی طرف دیکھا تو اس نے
نفی میں سر ہلایا تو پھر ٹھیک رہا آج کی رات ہم سب غائب اور تم دونوں کا ہوگا کیا بولی تھی تو
ہاں وہ کینڈیل لائٹ ڈنر ویسے آپ دونوں کہاں جائے گے زویا نے بتا کر دونوں کی طرف سوالیہ
نگاہوں سے دیکھا ہم دونوں کہی نہیں جائے گے بلکہ ہم چارو جائے گے کسی اچھے سے ڈنر پر
ٹھیک ھے وہ دونوں بھی ایک۔ساتھ اچھلے آپ کی تو بات ہی الگ ھے بھائی ایان اس کے گلے لگا اور
روحہ اور داؤد کچن کی جانب بڑھے اور ایان اور زویا اوپر گیلری کی جانب سجانے وغیرہ ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازیان اور اس کی ٹیم کے کچھ میمبر سیکریٹ روم میں بیٹھے چھبیس جنوری کو ہونے والی
پارٹی کے معملات کو ڈسکس کررہے تھے مجھے میری کچھ سورسز سے پتہ چلا ھے یہ لوگ اس
زہر کو دوائیوں کے ذریعے اور پانی کے زریعہ لوگوں کی بوڈی میں انجیکٹ کرے گے اور یہ لوگ
یہ سب اس لئے کرے گے کیونکہ ان میں سے دلاور خان کے پاس اس وبا کا انٹیٹوڈ موجود ھے یہ
لوگ اس وبا کو دوائیوں اور پانی کے زریعہ لوگوں کو بیمار کرے گے اس کے بعد جب یہ بیماری بڑھ
جائے تب یہ لوگ اس بیماری کا انٹیٹوڈ لوگوں تک بھاری قیمت میں فراہم کرے گے اور میں نے
سوچا ھے خدا نہ کرے اگر ہم یہ نہ روک سکے تو بہت مسلہ ہو جائے گا اور یہ بیماری عوام تک
پہنچ گئی اور ہمارے پاس انٹیٹوڈ موجد نہ ہوا تو بہت سی۔معصوم جانیں اس دنیا سے رخصت
ہوجائے گی اس لئے ہم احتیاطآ انٹیٹوڈ تیار کرے گے وہ زہر میرے پاس موجود ھے میرے گھر میں
وہ دیکھنے میں تو کسی مصالحے کی طرح ھے لیکن ھے وہ زہر ھے جو انسان کو موت کے گھاٹ
اتار سکتا ھے ہم اس کو لیب بھیجے گے پتہ
کرے گے کہ اس میں کیا مواد استعمال ہوا ھے اس
کے ہی مطابق پھر انٹیٹوڈ تیار ہوگا لیکن غازیان سر ہمیں ایک چیز سمجھ نہیں آرہی ان میں سے
ایک بولا کیا چیز سمجھ نہیں آرہی ھے آپ کو آفیسر وہ اپنی گرین آنکھوں سے اس کی جانب
دیکھتے ہوئے بولا سر دیکھے اگر ہمیں انٹیٹوڈ بنانے میں وقت لگا اور یہ بیماری پہلے ہی آگئی تو
ہم کیا کرے گےاور ویسے بھی دلاور خان جوکر اور رانا ان سب کو ہم۔نے ایک ساتھ زندہ یہ پھر
مردہ پکڑنا ھے لیکن اگر اس سے پہلے ہی یہ زہر ان لوگوں نے کسی چیز میں ملایا تو ہم کیا کرے
گےگڈ کونسچن ان کے پاس زہر کا ذیادہ اسٹاق موجود نہیں ھے ابھی ان کے پاس صرف کم مقدار
میں موجود ھے کیونکہ یہ بھی جانتے ھے اگر زیادہ مقدار میں وہ اپنے پاس رکھتے ھے اور ریٹ
پڑجاتی ھے تو سب ضبط ہو جائے گا کچھ ان کو حاصل نہیں ہوگا اس لئے ہی انہوں نے ایک
پیکٹ میں بنوایا تھا اور ایک پینٹنگ کے رنگوں میں جس سے وہ ایک پینٹنگ تیار کرچکے ھے کے
کسی کا دیہان ہی اس طرف نہ جائے اور جس پیکٹ میں ان لوگوں نے وہ بنوایا تھاوہ زہر میں
حاصل کرچکا ہوں بس وہ لیب پہنچانے کی دیر ھے لیکن ہمیں کچھ بھی کرکے چھبیس جنوری سے
پہلے یہ اسی دن وہ پینٹنگ ہر قیمت پر حاصل کرنی ھے کیونکہ ان دونوں میں ہی وہ زہر ایک ہم
حاصل کرچکے ھے دوسرا ان کے پاس ھے جو زیادہ خطرناک ھے
ہمیں بس کچھ بھی کرکے وہ پینٹنگ حاصل کرنی ھے جوکر کے ہاتھ لگنے سے پہلے پہلے وہ مرجائے
گا لیکن اس کا پتہ نہیں دے گا کہ وہ کہاں ھے اس لئے ہمیں وہ حاصل کرکے اس کو ڈیسٹروئے
کرنی ھے یہ لوگ اس پینٹینگ کو جوکر کو بیچے گے اس کے بعد وہ باہر ملک۔میں دے گا اس
پینٹنگ کے کلر سے وہ پتہ کرے گا کیسے یہ زہر تیار ہو ھے اس کے بعد جب یہ بات اس کو معلوم
ہوجائے گی تو وہ اس کو تیار کروائے گا اور لوگوں کی بورڈی پر انجیکٹ کرے گا یہ پھر پانی ہوا
دوائی کے ذریعے لوگوں تک پہنچادے گا اس لئے ہمیں یہ سب پہلے ہی روکنا پڑے گا اس نے بول کر
سب کی جانب دیکھا سر آپ ہماری دیپارٹمنٹ کا فخر ھے ہمیں سمجھ نہیں آتا ھے یہ ساری
انفورمیشن اپ کو کہاں سے ملتی ھے ایک نے حیران ہوکر پوچھا مل جاتی ھے میرے بہت سے
لوگ ان لوگوں کی ہی گینگ میں ہوتے ھے اور یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہوتی ھے اپ لوگ اپنے
زہن پر زور نہ دے بس اس چیز کو اپنے دماغ میں بیٹھا لے کے چھبیس جنوری ان سب
مجرموں کو موت کے گھاٹ اتارنا ھے یہ لوگ ستائیس جنوری کا سورج کوئی ایک بھی دیکھ
نہ پائے اس کی تیاری کرے سر ہم یہ کیوں نہ کرے کہ اس جگہ کو بم سے اڑا دیتے ھے ان میں
سے ایک اور بولا نہیں نہیں ہر گز نہیں وہاں بہت سے ہمارے انٹیلیجنس ٹیم کے میمبر ہوگے اور ان
میں میری بہن اور اس ڈیپارٹمنٹ کا غرور فخر روحہ ارف ایگل بھی موجود ہوگی جیسے ہماری
ٹیم اور میں کسی صورت کھونا نہیں چاہوں گا بم بلاسٹ ہی کرے گے لیکن جب وہ اور ہمارے
میمبر باہر اجائے ہم اس پینٹنگ تک رسائی حاصل کرلے گے اس کے بعد ہم وہاں بلاسٹ کرے گے لیکن
اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی بھناک پڑتی ھے تو بہت مسئلہ ہو جائے گا اس لئے ہم اپنی پولیس
فورس کو بھی تیار رکھے گے بلاسٹ سے اگر یہ لوگ بچ بھی گئے تو یہ لوگ فائیر سے نہیں بچے
گے بس اپنے دماغوں میں ایک بات یاد رکھنا افسیرز یہ لوگ ہمارے مالک کے غدار ھے ان لوگوں
نے بہت سی معصوم جانوں کو مارا ھے یہ لوگ درندے ھے ان کو جینے کا کوئی حق نہیں ھے
ہمارا مشن ہی یہ ھے ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنا گوٹیٹ یس سر سب ایک آواز میں بولے وہ
کھڑا ہوا تو اس کے ساتھ ہی سب کھڑے ہوئے اس نے سب کو اثبات میں سر ہلاکر اور ایک شاہانہ
چال چلتا ہوا اس سیکریٹ روم سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین نے کچن میں اپنا سر نکال کر دیکھا فوزیہ بیگم زرنش کے ساتھ مل کر بڑا مسکرا مسکرا کر
ناشتہ تیار کرنے میں مگن تھی وہ بہت خوش تھی آخر کو ماں تھی اور ان کی اولاد ایک عرصہ
بعد ان کے پاس آئی تھی وہ کیسے نہ خوش ہوتی مما آپ کو اتنا اچھا ناشتہ کس نے بنانا سیکھایا
تھا زرنش نے کپوں میں چائے ڈال کر پوچھا مجھے ناشتہ میری امی نے بنانا سیکھایا تھا لیکن مجھے نہیں اتا ھے کیا آپ مجھے سیکھا دے گی
کیوں نہیں میری جان میں بھی تو تمھاری ماں جیسی ہوں ضرور سیکھاو گی اپنی بیٹی کو وہ
پیار سے بولی زین نے اپنی آئی برو اٹھائی اور کچن میں داخل ہوا بیٹا تم کس خوشی میں
میری ماں کو مما بول رہی ہوں تمھاری مما نہیں ھے یہ میری مما ھے یہ وہ ان کے گیرد
بازو حائل کرتے ہوئے حق سے بولا ہٹ یہاں سے تجھے اگر اس گھر میں رکھا ھے تو وہ اس بچی
کی وجہ سے رکھا ھے ورنہ میں اور تیرے بابا رات کوہی توجھے یہاں سے رفو چکر کرنے کا۔ارادہ
رکھتے تھے آئی بات سمجھ یار مما ایسا نہ بولے اس نے خفگی سے جا دفعہ ہوں یہاں سے آیا بڑا
مما نہیں بولوں یار کب تک آپ ناراض رہے گی اپنی ایک لوتے بیٹے سے تو جا رہا ھے کہ نہیں میں
کہی نہیں جاؤ گا اور اس نے آپ کو مما کیوں بولا کیوں کہ میں اس کی ماں ہی ہوں اور یہ مجھے
مما ہی بولے گی اور یہ میرا حتمآ فیصلہ ھے اچھا ائی بڑی جب آپ سے لڑے گی تو بیٹے کے پاس
مت انا کے یہ بول دیا بہوں نے بتارہا ہوں پھر میں کچھ نہیں کہوں گا اور ویسے بھی جو مرضی
کہے میرے کو فرق نہیں پڑتا ابھی جو یہ بول رہی تھی کہ اس کو کھانا بنانا سیکھنا ھے تو اس
کو لازمی سیکھائیں گا کچھ نہیں آتا ھے اس پوہڑ
لڑکی کو مما دیکھ رہی ھے آپ ان کو کیسے بول رہے ھے مجھے زرنش نے اپنے لئے پوہڑ لڑکی سنا
تو احتجاج بولی زین تمیز کے دائرے میں ورنہ میں تمھیں گھما کر دو تھپڑ رسید کروں گی آئ سمجھ
ان کی بات سن قہقہہ لگا کر ہنسا تھا او دروازے تک گیا اور تیز اواز میں بولا زرنش میری پیاری بیوی ان
سے بچ کر رہنا یہ کسی بھی ٹائم انکھیں بدل۔لے گی اور تمھیں اگ سے جلادے گی میری بیوی اور
مما اس کو پوہڑ کو کچھ سیکھادینا سارا سارا دن پڑی رہتی ھے موٹی ہوجائے گی پوہڑ لڑکی فوزیہ
بیگم نے چمچہ اٹھا کر مارنے اس کے پاس گئی وہ سرعت سے کچن سے بھاگا زرنش مسکرا رہی تھی
اس کو یہ فیملی اپنے دل کے بہت قریب لگی تھی جس میں ایک دوسرے کے لئے بہت پیار تھا جو
ان کی مار سے پتہ لگ رہا تھا وہ مسکرا کر فوزیہ بیگم کو دیکھ رہی تھی وہ اس کے قریب آئی کیا
ہوا بیٹا کس بات پر من ہی من مسکرا رہی ھے میری بیٹی نہیں کچھ نہیں مما بس ایسے ہی
نہیں کچھ تو ھے انہوں نے تجسس سے پوچھا اور ساتھ ساتھ کام بھی نپٹانے لگی آپ لوگ کیسا
شو کررہے کے آپ زین سے ناراض ھے اس نے غلط کیا اس سے خفا ھے ایسے پیرٹینڈ کررہے ھے کہ
اپ اس سے نفرت کرتے ھے لیکن آپ کی تو نفرت میں بھی پیار ھے آپ کو نہیں معلوم کتنا یاد کرتا
تھے آپ لوگوں کو میں اجنبی تھی لیکن انہوں نے مجھے بھی کہاں مجھے بہت یاد آتے ھے سب آپ
بہت لکی اور زین بہت لکی ھے جن کو اتنے اچھے ماں باپ ملے اور آپ بھی بہت لکی ہوں جن کو
اتنا اچھا بیٹا ملا یہ تو ھے دیکھنے کو تو ہم بہت ناراض ھے اس سے لیکن دل اتنا خوش ھے میرا
اپنی اولاد کو دیکھ کر جس کی کوئی حد نہیں ھے زرنش اب کبھی مت جانا ہم سب کو چھوڑ کر
اور نہ اس کو جانے دینا بیٹا یہ ایک ماں کی درخواست ھے تم سے کبھی نہیں ایسا کبھی نہیں
ہوگا دیکھ لینا آپ ہم سب ساتھ مل جل کر رہے گے مجھے ایسی ہی تو فیملی چائے تھی بچپن
سے جو مجھ سے پیار کرے میرا خیال رکھے اور کون بے وقوف اپنی اتنی پیاری فیمیلی چھوڑ کر
جانا چاہئے گا وہ مسکرائی تھی اس کی بات سن کر چلے ناشتہ لگاتے ھے انکل بھی باہر انتظار
کررہے ہوگے وہ بول کر ٹرے اٹھا کر باہر کی طرف آئی جہاں صدیقی صاحب منہ پر اخبار پھیلائے
بیٹھے تھے اور زین سڑا سا منہ بنا کر بیٹھا تھا یعنی اس کی تازہ تازہ بیستی ہوئی ہوں وہ اس
کا چہرہ دیکھ کر مسکرائی اور ٹرے ٹیبل پر رکھی انکل ناشتہ کرلے اس نے ٹرے سے چائے کا
کپ اٹھا کر ان کے سامنے رکھا اور مسکراتے ہوئے بولی انہوں نے اخبار نیچے کیا اور سامنے اس کو
کپ تھامے دیکھا تو مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیسی ھے میری بیٹی میں بلکل ٹھیک ہوں
انکل آج آپ میرے ہاتھ کی چائے پی کر بتائے کے کسی بنی پہلی بار بنائی ھے مما سے پوچھ کر ان
کو سامنے سیٹ کرتے دیکھ وہ مسکرا کر بولی تھی ہمیں آپ کی یہ بات سمجھ نہیں آئی بیٹا
جی آپ ہماری زوجہ بیگم کو مما بول رہی ھے اور ہمیں انکل یہ تو کہی کا انصاف نہیں ھے وہ
خفگی بھرے لحجہ میں بولے اس نے مدھم سا قہقہ لگایا نہیں وہ مما نے کہاں تھا کہ مجھے مما
بولو بس اس لئے میں ان کو مما بول رہی ہوں تو ہم بھی تو بول رہے ھے ہمیں آپ بابا بولے ہمیں
اچھا لگے گا لیکن بابا آپ نے کب کہاں اس کو زین نے بیچ میں ٹوک کر کہاں تم سے کسی نے پوچھا
ھے جو تم اپنی رائے دے رہے ہوں خاموش ہوکر بیٹھو ورنہ یہ نہ ہوں تم کو۔بھوکا آفس جانا پڑے
بہی سچ بھی نہ بولے انسان زین وہ تنبیہہ بولے اچھا چھا سوری بہی وہ بول کر اپنی پلیٹ پر
جھکا زرنش کو بڑا مزہ آیا تھا اس کی بیستی پر وہ من ہی من مسکرائی دل تو چاہ رہا تھا قہقہ
لگا کر ہنسے لیکن ضبط کرگئی تو بیٹا جی ہم آپ کو بول رہے ھے اپ ہمیں بھی بابا بولے گی وہ
ان کے چہرے کو دیکھ مسکرائی بابا چائے پی کر بتائے آپکی بیٹی نے کیسی بنائی ھے اس نے حق
سے کہاں تو انہوں نے مسکرا کر کپ اپنے لبوں سے لگایا ہمم بہت مزہ کی ھے انہوں نے ایک سپ لیکر
کہاں اور اپنی جیپ میں ہاتھ ڈال کر چند ہزار کے نوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا یہ لو تمھارا
انعام لیکن اس نے جھجکتے ہوئے زین کی جانب دیکھے جو سب سے خفا ہوکر منہ پھلائے بیٹھا تھا
اس نے فوزیہ بیگم کی جانب دیکھا جو مسکرا کر اس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی آرے بیٹا لے لو
یہ تو نیگ ہوتا ھے اور بیٹیاں تو مانگ لیتی ھے تمھیں پتہ ھے اگر ہماری روحہ گھر میں کچھ
بنالے تو صدیقی صاحب سے لازمی اپنا انعام وصول کرتی تھی تم بھی لے لو آرے اگر یہ نہیں
لے رہی تو مجھے دے دے اس کو ویسے بھی کیا ضرورت زین نے جب اس کو جھجکتے دیکھا تو
فورا کھڑا ہوکر پیسے لینے کی کوشش کریں جس کو صدیقی صاحب نے ہاتھ پیچھے کرکے ناکام
بنادیا خبردار جو تم نے فضول حرکت کریں یہ لوں بچے بڑوں کو۔منع نہیں کرتے ھے اس نے تھوڑا
جھجکتے ہوئے پیسے تھام لئے اور ساتھ بیٹھ کر ہی ناشتہ کرنے لگی زین نے مسکراتی زرنش
کو دیکھا تو دل میں ایک انجانی خوشی ہوئی وہ اس کی فیمیلی کے ساتھ مل گئی تھی اس نے
زرنش کو کئی حد تک بدل دیا تھا اس کو اس بات کی خوشی تھی ۔۔۔
جاری ھے ❤️
…………………………
