Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

مغرور محبت 5
رائٹر ۔۔۔۔۔۔ انابیہ شاہ
Episode no 5
خاور مالک بہت غصہ سے گھر سے نکلے تھے وہ
غازیان درانی کے مینشن میں جاکر ہانم کو مارنے

کا ارادہ رکھتے تھے لیکن راستہ میں ہی انہیں پولیس اسٹیشن سے کال آگئی تھی اور انہیں

ارجنٹ وہاں بلوایا تھا اب وہ اپنے سینئر آفیسر جمشید رانا کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے

یہ کیا نیوز چل رہی ھے نیوز چینل پر رانا نے ان۔سے پوچھا تو انہوں نے ضبط۔سے مٹھیاں

بھینچی تم نے ایان درانی کو اریسٹ کیوں کیا تھا
انہوں نے تھوڑا غصہ سے پوچھا

سر میں نے اسے ڈرگز سپلائے کرتے ہوئے پکڑا تھا
خاور مالک جھوٹ مت بولو سچ بتاؤ ہم درانی

صاحب سے معافی مانگ کر معملا رفعہ دفعہ کرتے ھے انہوں نے اب کہ تھوڑا سمجھانے والے انداز

میں کہاں لیکن ان کے تو سر پر لگی اور تلو پر بجھی سر آپ کہنا کیا چاہتے ھے میں ایک پولیس

افسر ہوکر معافی مانگو انہوں نے تھوڑا چیخ کر
کہاں۔۔۔۔۔ تو غلطی بھی آپکی ھے خاور مالک یہ

مت بھولیں وہ ایک سٹوڈنٹ ھے اور یہ نہیں کرسکتا ھے آپ نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیا ھے

اور اب آپکی بیٹی بھی ان کے ساتھ بھاگ گئی ھے بس یہ سننا تھا اور وہ ایک دم کھڑے ہوکر دھاڑے

بکواس بند کرے کیا بول رہے ھے آپ
وہ بھی ان کے مقابل کھڑے ہوئے تو یہ بتائے کہ

آپ کی بیٹی ان کے مینشن میں کیسے پہنچی جب کہ ہمیں خود کالج کے گارڈ نے بتایا ھے کہ

آپکی بیٹی اس گاڑی میں آرام سے بیٹھ کر گئی تھی تو اپ بتانا پسند کرے گے ایس پی خاور مالک یہ

سن کر ان کا چہرہ خفت سے لال ہونے لگا وہ گھر سے یہ بول کر ضرور نکلے تھے کہ ہانم کو

مردہ لائے گے اس گھر میں لیکن کہی انہیں یہ بھی یقین تھا کہ ہانم بھاگ نہیں سکتی لیکن

افسر کی یہ بات سن کر ان کی ضبط سے بہت باہر ہورہا تھا سر آپ کیا کہنا چاہتے ھے انہوں نے

ضبط کی کن مراحل طےکرتے ہوئے پوچھا یہ بس وہی جانتے تھے۔۔۔۔۔۔

یہ ہوئی نہ بات آئو یہاں بیٹھوں رانا نے ہاتھ پکڑ کر ان کو بیٹھایا۔۔۔۔

دیکھوں تم بھی درانیز سے بدلہ لینا چاہتا ہوں اور میں بھی مگر تمھاری بیٹی نے بہت غلط کیا

تمھارے دشمن کے ساتھ بھاگ کر ایک عزت دار شخص کے لئے یہ بہت برا ہوتا ھے مجھے پتہ ھے

میں تمھارا درد سمجھ سکتا ہوں رانا نے بھی خاور مالک کی دختی رگ پر ہاتھ رکھا تھا

وہ بہت مشکل سے رانا کی باتیں برداشت کررہے تھے آپ کو جو کہنا ھے جلدی کہے سر خاور مالک

نے ضبط کی انتہا پر پہنچ کر کہاں بہی میں نے سنا ھے غازیان درانی اپنی سے جڑی چیزو

کے لئے بہت ٹچی ھے تم نے صرف اس کے بھائی کو اریسٹ کیا اس کی عزت خراب کرنی چاہیے

اس نے تمہاری عزت دو کوڑی سے بھی بتر کردی

اب تم ایسا کرو کے وہ ساری زندگی پہچتائے اور تمھارے ایک عمل سے تمھاری ڈوبی ہوئی عزت

اور وقار بھی واپس اجائے خاور مالک نے نہ سمجھی سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب سر میں کچھ سمجھا نہیں
دیکھوں تم نے بس اپنی بیٹی کو شوٹ کرنا ہوگا

لیکن ابھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑے ٹائم بعد کیونکہ تھوڑا اس کو ساتھ رہنے دو پھر کہی باہر شوٹ

کردینا اس طریقے سے اس کے پاس سے اس کی بیوی چلی جائے گی وہ جو اپنی فیملی پر جان

دیتا ھے خود کھالی ہاتھ رہ جائے گا اور جب دنیا کو یہ پتہ چلے گا کہ تم نے خود اپنے ہاتھوں سے

اپنی بیٹی کو گولی ماردی ھے اور وجہ اس کے گھر سے بھاگنے کی ھے ایک تیر سے دو شکار

کیسا آئیڈیا اس نے داد طلب آئی برو اٹھائی
ہانم کو مارنا ضروری ھے انہوں نے بے بسی سے

کہاں۔۔۔۔۔کچھ بھی تھا وہ ان کی بیٹی تھی
دیکھوں اس کو تمہیں مارنا پڑے گا عزت وقار

سب واپس آجائیں گا ۔۔۔۔ سوچوں یار تمھاری عزت وقار سب کچھ۔۔۔۔ انہوں نے آدھی بات

چھوڑیں ٹھیک ھے ہانم نے بھی کوئی اچھی حرکت نہیں کی ھے میں ویسے بھی اسے مارنا

چاہتا تھا میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ۔اسے زندہ چھوڑ دو انہوں نے غصہ سے کہاں اور بول

کر تھانے سے واپس نکل گئے
اور پیچھے رانا اپنے منصوبے پر دل وجان سے

مسکرایا۔۔۔۔ اس کے دماغ میں جو چل رہا تھا وہ یقیناً نہ ہی ہانم کے لئے اچھا ہونے والا تھا نہ ہی

خاور مالک کے لئے اچھا ہونے والا تھا اور نہ ہی درانیز کے لئے
“””””””””””””””””””””””””
غازیان کی پیچھے سے بھاری آواز پر ہانم دو قدم ڈر کر پیچھے ہوئی غازیان نے اماں بی کو آنکھوں

کے اشارے سے باہر جانے کہاں وہ بھی جلدی جلدی نکل گئی وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب بڑھ

رہا تھا اوہ ہانیہ لاشعوری طور پر پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہی تھی وہ بلکل دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی

کہاں سے نکلنا ھے مسز غازیان درانی تم کو
مج۔۔۔۔مجھے گھ۔۔۔گھر جا۔۔۔جانا ھے پل۔۔پلیز جانے

دے م۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا ھے ہممم تو ہانیہ کو گھر جانا ھے اس نے اس کے سر کے اوپر سے

ہاتھ رکھا ہانم نے تیز تیز گردن اثبات میں ہلائی
اس کے اتنی تیزی سے کہنے سے اس کے چہرے پر

ایک مسکراہٹ آئی لیکن اس کو کمال طریقے سے چھپالیا وہ تو مشکل ھے کیونکہ غازیان

درانی اپنے سے جڑی کسی بھی چیز کو خود سے دور نہیں کرتا ھے اور خیر سے تم تو میری بیوی

ھوں ہاتھوں کو جیب میں ڈال کر کہاں ہانم نے یہ سن کر دوبارہ رونے کی تیاری پکڑی ابھی اس نے اپنا ہونٹ باہر نکالا تھا وہی وہ

ڈھاڑا اگر ایک آنسو بھی گیرا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا یہاں بیٹھو صوفے کی طرف اشارہ کیا

بیٹھوں ادھر وہ تو اس کی ایک دھاڑ پر ہی کانپ کر رہ گئی تھی وہ بھی جلدی سے بیٹھ گئی

کیونکہ ابھی تک وہ اس کا پہلا تھپڑ نہیں بھولی تھی جس کا نشان ابھی تک چہرے پر موجود تھا

کھانے کی ٹیرے اٹھا کر سامنے ٹیبل پر رکھی کھاؤ اس کو دیکھنے کے لئے نہیں دی ھے وہ بولا

تو ایک باغی آنسو پلکو کی باڑ طور کر گالوں پر پھیسلا غازیان بھی بلکل اس کے سامنے بیڈ پر

بیٹھ گیا تھا ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھ کر آنکھیں چھوٹی کر کے ہانم کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا

سفید رنگت جس میں گلابی پن مائل تھا چھوٹی سی ناک انابی لب اور چائینیز جیسی آنکھیں

بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی بس ایک جو چیز اسے بری لگی وہ یہ کہ وہ حدرجہ بے وقوف

معصوم تھی اور بات بات پر روتی تھی ابھی بھی ایک ہاتھ سے آنسو صاف کررہی تھی اور ایک

ہاتھ سے کھ رہی تھی میں نے تمھیں ابھی کہاں تھا ایک آنسو بھی نہیں گیرنا چاہیے سمجھ نہیں

آرہا کمرے میں غازیان درانی کی سرد آواز گونجی
م۔۔۔میں نہ۔۔نہیں رورہی ھوں ان۔۔۔انسو خود آرے

ھے اس نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہاں
خود ہی ڈرا کر روک رہے ھے اور بول رہے ھےایک

آنسو نہیں گیرنا چاہیے یہ سرگوشی اتنی تھی کہ غازیان کے کان تک بھی پہنچ گئی غازیان کو

ہنسی تو آئی لیکن اپنے نام کا پکا تھا آپنے عصاب پر کنٹرول رکھنا اچھے سے آتا تھا ہانم نے ایک

روٹی کھ کر ٹیرے پیچھے کھسکا دی اس نے جب دیکھا ہانم نے کھانا پیٹ بھر کر تناول کرلیا

ھے تو اٹھ کر اس کے پاس آئے وہ تو اس کو اپنے پاس آتے دیکھ صوفے کے اندر گھسنے کی تگ و

دو میں تھی قریب بیٹھ کر ان نشان پر ہاتھ پھیرا ہانم نے ڈر کر آنکھیں میچ لی تھی اس نے

اپنی جیب سے ائٹمینٹ نکال کر اس کے گال پر آہستہ آہستہ لگائی اور ہاتھ پکڑ کر اپنے بیڈ روم

میں لے آیا وہاں جاکر سوجاؤ یہ سائیڈ تمھاری ھے اور یہ میری اور ایک بات اپنے اس چھوٹے سے

دماغ میں بیٹھالو اب تم یہی رہوگی سمجھ آئی جتنی جلدی ہوسکے اس بات کو ایکسیپٹ کرلو

ورنہ مجھے بہت اچھے طریقے سے کرنا آتا ھے جاؤ اور خاموشی کے ساتھ سوجاو ورنہ مجھ سے برا

کوئی نہیں ہوگا سمجھ آئی اس نے اپنی آنکھ نکال کر کہاں تو ہانم اچھی بچوں کی طرح

خاموشی سے لیٹ گئی اور وہ۔بھی ایک نظر اس کو دیکھ کر جیم میں چلا گیا جہاں ایان موجود تھا
“”””””””””””””””””””””””
پہلے حفاظتی طور پر ادھر ادھر نگاہ گھمائی دیکھا اور دیوار کے اوپر سے اندر کی طرف کود گئی گارڈ کی طرف دیکھا تو وہ بے خبر سورہا تھا پھر

خاموشی سے چھوٹا دروازہ کھول کر اپنی ہیوی بائیک اندر پارک کی اور اس میں بھی گارڈ کی

آنکھ نہیں کھولی تھی روحہ نے تاسف سے گارڈ کی طرف دیکھا اور دبے پاؤں اندر کی جانب

بڑھی اور خاموشی کے ساتھ اوپر اپنے روم میں جانے لگی اور ابھی پانچ ہی سیڑھیاں چڑھی ہوگی

بہت اچھے بیٹا بہت اچھے پیچھے سے فوزیہ بیگم
کی آواز پر اس کی غلٹی ابھر کر معدوم ہوئی

اور معصوم سا منہ بنا کر پلٹی وہ بھی زینے کی پہلی ہی سیٹھی پر کھڑی ہوئی تھی کہاں سے

آوارہ گردی کر کے آرہی ہوں تم انہوں نے کڑے تیوروں سے پوچھا تو اس نے فاروق صدیقی کی

تلاش میں نظر گھمائیں وہ بہت زیادہ تھکی۔ہوئی تھی اور ان سے بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھی

کیا دیکھ رہی ہو ادھر ادھر تمھارا باپ گیا ہوا ھے حیدرآباد یہ بھی بھول

گئی منہ میں زبان نہیں ھے تمھاری کیا پوچھ رہی ھوں میں وہ غصہ کی زیادتی سے چیخی

آرے ماتاری اتنا کائے کو چیختی ہے رے تھوڑا آرام سے بول نہ زرا کام سے گئی تھی

روحہ یہ اپنی اس گندی زبان گھر کے باہر استعمال کیا کرو ٹائم دیکھا ھے کیا ہورہا ھے

اس نے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے۔بارہ بج رہے تھے ابے یار بارہ ایچ تو بج رےلے ھے کائے کو اتنا

غصہ کرے لی ھے فوکٹ میں غصہ کرہی ھے صبح ایچ بات کرے گے ہمت نہیں ہورہی۔ھے ابھی تیری بک بک سننے کی سمجھا کر یار

اس نے کہاں تو فوزیہ۔بیگم۔نے غصہ سے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا جو واقع تھکی ہوئی لگ

رہی تھی صبح اس کا دماغ ٹھیک کرنے کی نیت سے پیر پٹخ کر اپنے کمرے ۔۔۔۔

کی طرف چلی گئی وہ بھی گردن کو نفی میں ہلاکر اپنے روم کی طرف چلی گئی اور اوندھے

منہ بیڈ پر گیری پھر تھوڑی دیر میں اس کے

موبائل پر رنگ ہوئی تو اس نے تھوڑی سی آنکھ کھول کر موبائل دیکھا تو اس کے باپ کی کال

تھی چہرے پر جہاں اب تک بے زاری تھی وہاں اب ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی سیدھی ہوکر

کال پک کریں سلام باپو کیا حال ھے
موبائل کان کے بیچ میں اڑھستے ہوئے سلام کیا

اور جھک کر جوتے کی دوریاں کھولنے لگی سلام۔تو پورا کرلیا کرو بیٹے جی یار تم کو سلام تو کیا

نا کائے کو بھاؤ کھ رلے ہوں یقیناً تیری بیوی نے

کان۔ایچ بھرے ہوگے اس نے جوتے کی دوریاں کھول کر سیدھی ہوکر بیٹھی کیوں میری

معصوم بیوی کو ستاتی ہوں یار ان کو چھوڑوں تم یہ بتاؤ کب آرے لے ہوں یار سالا گھر میں یہ

دل نہیں لگتا ھے اس نے کہاں تو ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آگئی آجاؤ گا اور تم یہ بتاؤ ڈیوٹی

کیسی چل رہی ھے ہمم سب ٹھیک ھے صدیقی صاحب بس تم آجاؤ یار مجھے کوئی بھی بچانے

والا نہیں ھے تم کی ۔اس خونخوار بیوی سے سالے بہت غصہ کرتی ھے تو بیٹے جی کیوں ستارہی

ھوں تھوڑا جلدی گھر آجایا کرو نہ ہاں ہاں آجاؤ گی بس اب تم آجاؤ یار مزہ نہیں آتا نہ سالہ گھر

میں ہاں ہاں کل تک آرہا ھوں بس یہ ہوئی نہ بات تم یار جان ہوں اپن کی ۔۔
جاری ھے ❤️