Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

مغرور محبت 37
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 37

ڈائینگ ٹیبل پر خاموشی سے ناشتہ ہورہا تھا خاور مالک ہانم والے حادثہ کے بعد ایک دم

خاموش ہوگئے تھے انو کو کچھ نہیں بولتے تھے بس ہانم کی کرسی کو ایک آس سے دیکھتے تھے وہ

بھی ہر باپ کی ہی طرح اپنی بیٹی سے محبت کرتے تھے لیکن یہ بات مانتے نہیں تھے کہ وہ اس

سے محبت کرتے ھے لیکن جب وہ ان سے دور ہوئی تو ان کو احساس ہورہا تھا کہ وہ ان کی

نظر میں کیا حثیت رکھتی تھی آپ کب تک ائے گے روبینہ بیگم نے ایک نظر سامنے بیٹھے خاموش

خاور ملک سے کی جلدی اجاو گا کیوں کوئی کام تھا ہاں کیسا کام مجھے ہانم سے ملنے جانا ھے یہ

بات سن کر ان کے ماتھے پر بل پڑے کیا مطلب ھے تمھاری بات کا میری بات کا سیدھا سا مطلب ھے

مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ھے یہ کبھی نہیں ہوگا روبینہ بیگم یہ کبھی نہیں ہوگا چاہے کچھ بھی

ہوجائے انہوں نے سخت لحجہ میں کہاں کیا چیز ھے آپ خاور مالک آپ کو احساس ھے آپ کی

سگی اولاد ھے وہ تمھیں احساس ھے کہ اس اولاد نے اپنے باپ کے ساتھ کیسا کیا ھے اور آج تم نے یہ

بات کرنے کی گستاخی کرلی ھے آئیندہ مت کرنا وہ اٹھ کر جانے لگے تو وہ تمسکرانہ۔سے لحجہ

میں بولی کیا ہمیں نہیں دیکھتا ھے کہ آپ اپنی بیٹی ہانم کو یاد کرتے ھے کیا مجھے نظر نہیں آتا

ھے جب آپ ناشتہ کرتے ھے آپ کی نظر صرف ہانم کی کرسی پر ہوتی ھے رات کو اٹھ اٹھ کر

اس کے کمرے میں جاکر اس کے بیڈ پر ہاتھ پھیرتے ھے اس کے کپ۔میں چھپ چھپ کر پانی

پیتے ھے مجھے یہ بھی پتہ ھے آپ کے والٹ میں اسی کی تصویر لگی ہوئی ھے اور آپ کے سائیڈ

جیب میں اس کی من۔پسند چوڑیاں ھے اور اپ کہتے ھے کے آپ اس سے نفرت کرتے ھے خاور

مالک بہت الگ قسم کی نفرت ھے آپ کی میرے سمجھ میں نہیں آئی خاور مالک کی آنکھوں میں

نمی سی چمکنے لگی سانس لینے میں دشواری ہونے لگی گلے کا بٹن کھولا ایسا کچھ نہیں ھے

خاور مالک کی آواز میں واضح لڑکڑاہت تھی اچھا تو پھر نکالے اپنا والٹ ابھی دودھ کا دودھ پانی

کا پانی ہو جائے وہ اس کے سامنے آکر بولی آج وہ ان کا سخت امتحان لینے کے درپر تھی مجھے

جانا ھے ہٹو سامنے سے وہ ان کے سائیڈ سے گزرنے لگے لیکن ایک بار پھر وہ ان کی بات پر روکے

خاور مالک صاحب ایک بات یاد رکھنا اتنی دیر نہ ہو جائے کہ آپ ہانم کو پکارتے رہ جائے اور وہ آپ

سے اتنا دور ہو جائے کہ آپ چاہ کر بھی اس کے قریب نہ ہوپائے اور وہ آپ سے اتنا دور ہو جائے

انہوں نے ایک بے بس سی نگاہ روبینہ بیگم کی پشت پر ڈالی اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھے اس

میں بیٹھ کر قرب سے آنکھیں میچی تو آنکھ کے کونے سے ایک آنسوں ٹوٹ کر گیرا بہت یاد آتی

ھے وہ مجھے روبینہ بیگم لیکن میں چاہ کر بھی اس کو معاف نہیں کرپا رہا ہوں مانتا ہوں میری

بیٹی ھے اور بہت پیاری ھے مجھے لیکن میں اس کی غلطی معاف نہیں کرسکتا ہوں اس نے میری

عزت کا پاس نہیں رکھا تو میں بھی اس کو اپنے سینے سے نہیں لگاسکتا بول کر اپنی آنکھیں

کھولیں اور دونوں ہاتھوں سے اپنے آنسوں صاف کرکے گاڑی پولیس اسٹیشن کی طرف موڑی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین درانی مینشن سے نکل کر آفس کی طرف روانہ تھا راستہ میں بہت زیادہ ٹریفک ہورہا تھا

لگتا تھا کیسی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہوں وہ بھی انسانی خدمت کی وجہ سے گاڑی سے باہر آیا اور

ہجوم کو چیرتا ہوا اس شخص کی طرف بڑھا گاڑی کے اندر بہوش وجود کسی اور کا نہیں عمر

عالم صاحب کا تھا سر آپ اس نے جلدی سے کار کا دروازہ کھولا اور جلدی جلدی لوگوں کی مدد

سے ان کو لیکر ہسپتال کی طرف بڑھا وہ کسی اور ہسپتال جانے کے بجائے داؤد والے ہسپتال میں

ہی گیا تھا ان کو جلدی جلدی ایمرجنسی وارڈ میں لیجایا جاچکا تھا زین بے چینی سے کوریڈور

میں چکر پر چکر کاٹ رہا تھا تھوڑی دیر بعد داؤد باہر آیا اور چہرے پر سے ماسک ہٹاکر اس کی

طرف دیکھا بھائی کیا ہوا ھے ان کو ابے کچھ نہیں معلوم میں تو آفس جارہا تھا لیکن راستہ

میں دیکھا تو ایسا لگا ایکسیڈینٹ ہوا ہوں لیکن جب میں نے دیکھا تو یہ گاڑی کے اندر بہوش تھے

یہ کسی گہری ٹینشن میں گاڑی چلا رہے تھے شوگر کو ہوگئی تو بہوش ہوگئے وہ تو ان کی

گاڑی کسی سیف جگہ پر اسٹوپ ہوئی ورنہ کچھ بھی ہوسکتا تھا ہوش ایا ان کو ہاں ہوش بھی

اگیا ھے اب یہ گھر بھی جاسکتے ھے اپ مل لے میں باقی کی فورمیلٹی دیکھ لیتا ہوں ہاں جو

تمھیں ٹھیک لگے میں سر سے اندر مل کر آتا ہوں وہ اندر آیا تو وہ آنکھیں موندے بیٹھے ہوئے تھے

وہ ان کے قریب بیٹھا اور ڈرپ والے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا سر آپ ٹھیک ھے انہوں نے اس کی آواز

سنی تو اپنی آنکھیں کھولی اور اس کی طرف دیکھا تم زین العابدین ہوں جی میں زین ہوں تم

لیکر آئے ہوں مجھے ہسپتال جی میں لیکر آیا ہوں آپ کی طبیعت اب کیسی ھے داؤد بول رہا ھے کہ

آپ کی شوگر لو ہوگئی ھے ہاں بس طبیعیت زرہ خراب رہتی ھے تو آپ اپنے ساتھ کسی ڈرائیور کو

کیوں نہیں لیکر گئے ایک ڈرائیور زرنش کے پاس ھے اور ایک گھر پر ھے ایسے میں تو مجھے خود

ہی آنا پڑے گا زرنش کے نام پر اس نے عجیب سے منہ کے زاویہ بنائے مجھے ایسا کیوں لگ رہا ھے

سر آپ کیسی بہت بڑی ٹینشن کا شکار ھے اس نے ان کے چہرے پر پریشانی کھوجتے ہوئے کہاں

نہیں کوئی خاص نہیں لیکن۔زرنش کی طرف سے زرہ پریشان ہوں کل اس کی شادی ھے اور نہ میں

اس لڑکے کی فیمیلی سے ملا ہوں نہ کسی سے بس مجھے اس لڑکے سے ملوایا ھے لیکن مجھے

وہ لڑکا بھی کچھ سمجھ نہیں ارہا ھے بس ایسی چیز کی زرہ ٹینشن ہورہی ھے زین نے اس کے

بارے میں سوچتے ہوئے قدرے افسوس سے سر نفی میں ہلایا اس لڑکی کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا

آپ کیوں پریشان ہوتے ھے وہ ایک سمجھدار لڑکی ھے وہ کچھ اپنے ساتھ غلط نہیں کرے گی

سر آپ اتنی ٹینشن نہ لے۔ اس نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے رسانیت سے سمجھایا تم آؤ

گے کل شادی پر جی میں او گا غازیان بھائی کے ساتھ اچھا ٹھیک ھے انتظار رہے گا تمھارا بیٹا

تھوڑی دیر میں ان کو چھٹی مل گئی تھی وہ ان کو خود گھر ڈراپ کر کے آفس گیا تھا۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ڈی کے تو ساری باتیں اس پر اتنا یقین کرکے کیوں بتاتا ھے رانا آج بھی اس کو یہی بات سمجھارہا

تھا کہ روحہ کو اس پینٹنگ والے پروجیکٹ سے دور رکھوں لیکن ڈی کے باضد تھا کہ وہ ہر حال

میں روحہ کو اس پروجیکٹ میں شامل کرے گا تمھیں اتنا یقین کیسے ھے اس لڑکی پر رانا نے اب

کے جھنجلا کر کہاں تیرے کو نہیں پتہ رانا جب ایک بار میرے ٹانگ پر گولی لگی تھی تو یہی

مجھے بینا کسی مطلب کے ہسپتال لیکر گئی تھی وہ سب ٹھیک ھے ڈی کے لیکن تو نے یہ کیوں

نہیں محسوس کیا جب جب یہ لڑکی تیرا کوئی کام کرتی ھے وہ خراب ہوجاتا ھے اس نے اس کو

کام۔یہ چیز یاددلاتے ہوئے طیش سے کہاں روحہ رانا کے سمجھ میں بلکل نہیں آرہی تھی نہ ہی وہ

اس کو وہ لڑکی اچھی لگی تھی تو بس اس کے بات کرنے کے طریقے کو دیکھ رہا ھے وہ بس

تھوڑی غصہ کی تیز ھے باقی کام بہت صفائی سے کرتی ھے رانا یار وہ سب ٹھیک ھے لیکن تو میری

بات کا مطلب نہیں سمجھ رہا ھے تو یہ کیوں نہیں دیکھ رہا ھے جو میں دیکھ رہا ہوں وہ لڑکی

جب جب کام کرتی ھے تو ریٹ کیوں پڑجاتی ھے یہ بات میرے بلکل بھی پلے نہیں پڑرہی ھے ابے تو

اس کو نیگیٹو میں لے رہا ھے تو اس چیز کو پوسیٹیو میں لے پھر تجھے میری طرح سمجھ

اجائے گا پاگل لیکن ڈی کے جو بھی ھے ابھی بات کو مان یہ ہماری پوری زندگی پر مبنی ھے اس لئے

ابھی یہ بات مت بتاؤ کسی کو بھی اس کو خوفیاں ہی رہنے دو رانا نے تھوڑے سمجھانے والے

انداز میں کہاں تو ڈی کے نے تھوڑا سوچتے ہوئے ہاں کرہی دیا لیکن وہ ابھی بھی باضد تھا کہ وہ

روحہ کو اس پروجیکٹ میں ضرور شامل کرے گا ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ٹی ٹائم میں وہ ایمان (ریسیپشنیسٹ) کے ساتھ بیٹھی ادھر ادھر کی ہانک رہی تھی ان دونوں

میں ایک داؤد اور اس سے اس کی دوستی اچھی ہوگئی تھی ایمان ایک بات پوچھے تیرے سے اپن

ہاں پوچھوں اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہاں میرے کو پتہ چلا ھے کہ اس ہسپتال میں انسان

کے جسم کے اعضاء بکتے ھے اس نے تھوڑا رازداری سے پوچھا تو ایمان نے تھوڑا حیرت سے اس کی

طرف دیکھا نہیں ایسا تو کچھ نہیں ھے یہاں پر آپ ایسے کیوں بول رہی ھے نہیں اپن کو تھوڑا

پتہ چلا تھا بس اس لئے تیرے سے کنفرم کررہی تھی اگر ایسا ھے تو بتا آپن کیسی کو نہیں بتائے

گی نہ۔۔نہیں ایسا کچھ نہیں ھے اس نے چہرے پر سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہاں تو اتنا ڈر کیوں

رہی ھے چہرے پر پسینہ لحجہ میں لڑکڑاہت کہی اپن جو سمجھ رہی ھے وہ تو نہیں ھے اور تو ان

سب میں ملی ہوئی ھے روحہ نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے سے کندھا مارتے ہوئے مزاحیہ لحجہ

میں کہاں وہ بھی ہنسی ویسے کیا ایسا ھے آگر ایسا ھے تو بڑا مال ملتا ہوگا تجھے تو یار ایسا

نہیں ھے اس نے تھوڑے لجاحت سے کہاں تو روحہ کو تھوڑی بہت بات سمجھ آنے لگی تو وہ

اس کے قریب ہوئی یعنی تو ان سب کے لئے کام۔کرتی ھے بتا نہ یار اپن بھی یہ دس بیس ہزار کی

نوکری کرتے کرتے تھگ گئی اپن کو کچھ بڑا کرنا کا ھے ایمان نے اس کی طرف دیکھا تم کون ہوں

سچ بتانا کیونکہ تم کوئی نوکری نہیں کرنے آئی ہوں یہاں اپن کوئی بھی ہوں تیرے کو اس سے

کیا یہ بتا تو کچھ کرواسکتی ھے دیکھوں پہلے تمھیں مجھ سے وعدہ کرنا پڑے گا پھر ہی میں

کچھ کرو گی کیسا وعدہ تم وعدہ کرو کے تم میرا راز اپنے تک ہی محدود رکھا گی تو میں

تمھیں اپنے بوس سے ملوادوگی بوس یہ کون ہلکٹ ھے تم اگر ایک بار ان سے مل لی نہ تو

پیسوں میں کھیلو گی ویسے اپن نے تجھ سے پوچھا تھا کہ یہاں جسم کے اعضا بکتے ھے کیا یہ

سچ ھے ہاں یہ سچ ھے لیکن یہ بات بہت خوفیاں ھے اچھا تو یہ بتا تو بھی اس کام میں ملوث ھے

ہاں لیکن پلیز یہ بات مت بتانا یار نہیں نہیں اپن کائے کا بتائے گی کسی کو بس تو اپن کو بھی اپنے

بوس سے ملا یار اپن بھی کمانا چاہتی ھے بڑے پیمانے پر پیسہ ہاں کیوں نہیں چلوں واپسی پر

ہم میرے بوس کے پاس ہی جائے گے چلو میں جارہی ہوں روحہ نے پرسوچ نگاہوں سے اس کی پشت کو تکا ۔۔
جاری ھے ❤️