Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

مغرور محبت 4
رائٹر ۔۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 4

آیان دبے پاؤں مینشن میں داخل ہوا نگاہ چارو سمت تھی گاڑی سے بھی تھوڑی دور اتر گیا تھا مگر مین ڈور کے

پیچھے ہی داؤد مالی سے پائپ پکڑ کر کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا ڈرائیور نے فون کر کے

اس کو بتا دیا تھا کہ ایان آگیا ھے ایان نے گارڈ کو اشارہ کیا تو اس نے چھوٹا دروازہ کھول دیا

ابھی اس نے ایک قدم مینشن میں رکھا اور داؤد نے اتنی زور سے اس کی ٹانگ پر پائپ مارا تو وہ

بیچارہ کرہ کر نیچے گیرا ہائے اللہ مار دیا ختم کردیا وہ ایک اور مارنے لگا تو وہ لنگراتا ہوا بھاگا

روک کہاں بھاگ رہا ھے پہلے پائپ بہت شدت سے مارا گیا تھا تجھے بہت شوق ھے نہ ہر کسی کی

کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کا روک آج اس ٹانگ کو ہی توڑ دوگا اب وہ دونوں لون کی بینچ کے آگے

پیچھے چکر لگا رہے تھے کیا ہوگیا ھے داؤد بھائی آپ کیوں جلاد بن گئے ھے ایک گرین مونسٹر

کافی ھے تیری تو ایک اور پائپ اس کی دوسری ٹانگ پر مارا اب وہ نیچے بیٹھ گیا تھا آرے میرے

باپ چھوڑ دے کیوں بچے کی جان لے گے آپ جانتے ھے گرین مونسٹر زندگی حرام کریں گے

ابھی تیرے ایک ایڈوینچر کے چکر میں ایان ایک لڑکی کی زندگی برباد کردی ھے بھائی نے داؤد نے

بہت دکھ سے کہاں اور اس کی بات سن کر ایان نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا کیونکہ غازیان

بھائی کچھ بھی ہو جائے کسی کی فیملی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے تجھے پتہ ھے

انہوں نے ایس پی خاور مالک کی بیٹی سے نکاح کرلیا ھے اور تجھے پتہ ھے میں نے ان کو کیڈنیپ

کروایا ھے یار آج مجھے اپنا آپ بہت گیرا ہوا لگ رہا ھے بول کر بینچ پر بیٹھا اور ایان بھی لنگراتا

ہوا اس کے برابر میں بیٹھا یار داؤد بھائی پلیز پوری بات بتائے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر

فکر مندی سے کہاں تیری ایک حماقت سے بھائی نے کیا قدم اٹھایا ھے انہوں نے خاور مالک کو کال

کی تھی لیکن اس مینٹل آدمی نے بھائی کو بول دیا تمھارے نام نہاد بھائی نے جو میری ویڈیو بنا

کر انٹرنیٹ پر ڈالی اس کی وجہ سے مجھے سیسپینڈ کردیا اور میری عزت دو کوڑی کی

کرکے رکھ دی اب جب نیوز پر یہ نشر ہوگا کہ غازیان درانی کا چھوٹا بھائی ایان درانی ڈرگز

سپلائے کرتے ہوئے پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ھے تو ہم لوگوں کی عزت دو کوڑی کی ہوجائے گی بول

کر دو منٹ روکا اور ایان کی طرف دیکھا وہ بہت بے چینی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا اس وجہ

سے بھائی نے اس کی بڑی بیٹی ہانیہ سے زبردستی نکاح کرلیا ھے ا اس کے نیوز والوں کو

یہ بتانے سے پہلے بھائی نے پکچر لیکر نیوز چینل پر یہ نشر کروادیا کہ ایس پی خاور مالک کی

بیٹی نے بھاگ کر درانی گروپس آف انڈیسٹری کے مالک غازیان درانی سے شادی کرلی ھے اس وجہ

سے ایس پی خاور مالک نے غازیان درانی کے چھوٹے بھائی ایان درانی کو ڈرگز کے جھوٹے

کیس میں اریسٹ کرلیا ھے ایک تیرے تھرڈ کلاس ایڈونچر کی وجہ سے ایک لڑکی کی زندگی خراب

ہوگئی ھے ایان کا سر پوری طرح سے نیچے جھک گیا تھا یہ منہ کیا نیچے کررہا ھے تو اچھے سے

جانتا ھے بھائی ہم دونوں پر جان دیتے ھے ہم لوگوں کی عزت انہیں بہت امپورٹینٹ ھے میں نے

تجھے پہلے بھی سمجھایا تھا مت کیا کر یہ سب لیکن نہیں تجھے ہمیشہ یہی سب کرنا ہوتا ھے

بھاڑ میں جائے تو اب تجھے اندازہ ھے اس لڑکی کی کیا ایج ھے ایان نے اپنا سر اٹھا کر داؤد کی

طرف دیکھا انیس سال کی ھے وہ تھرڈ ائیر کے فرسٹ آئیر میں ھے داؤد بھائی م۔۔۔میرا کو۔۔۔

کوئی غلط این۔۔۔اینٹینشن نہیں تھا یار می۔۔۔۔میں تو بس وہ الفاظ بنا رہا تھا اس سے کچھ بولا ہی

نہیں جارہا تھا اگر تیری غلطی نہیں ہوتی نہ ایان تو اس طریقے سے ہکلاتا نہیں جیسے تیری زبان

میرے سامنے چلتی ھے اسی طریقے سے چل رہی ہوتی اس نے یہ بات بہت غصہ سے کہئی دؤاد کو غصہ نہیں آتا تھا لیکن جب آتا تھا تو اس سے برا

کسی کو نہیں آتا تھا اسی وجہ سے ایان کی زبان آج ہکلارہی تھی نہیں بھائی میرے مطلب ھے کہ

غازیان بھائی کبھی کوئی بھی پروبلم ہوجائے لیکن کسی کی بھی فیملی کو انوالو نہیں کرتے

ہوسکتا ھے وہ ان کو پہلے سے جانتے ہوں کیا پتہ پسند کرتے ہوں یہ محبت داؤد نے اپنا رخ اس کی

طرف سے موڑ لیا تھا اس کی بات سن کر اچھنبے سے اس کی طرف دیکھا یہ حقیقت تھی غازیان

چائیے کچھ بھی ہو جائے مگر کسی کی فیملی کو بلکل انوالو نہیں کرتا تھا خاص کر کسی عورت

کو تو بلکل نہیں ایان نے اپنی سوالیہ آئی برو اٹھائی داؤد کو اس کی بات میں وزن تو لگا تو

اتنا کنفرم کیسے بول سکتا ھے اور بھائی نے انہیں کہاں دیکھا ہوگا آرے ابھی آپ ہی تو بول رہے تھے

کہ وہ کالج اسٹوڈنٹ ھے اور بھائی اکثر چیف گیسٹ کے طور پر کہی نہ کہی جاتے رہتے ھے

ہوسکتا ھے ان کو بھی انہوں نے کالج میں دیکھا ہوں اور اگر ایسا نہ ہوا ایان تو پھر کیا ہوگا پھر

ہم اپنے بھائی کو ان سے محبت کروادے گے ایک داؤد بھائی میں مانتا ہوں میری وجہ سے وہ

پھس گئی لیکن ہوسکتا ھے بھائی بھی ہنسنے بولنے لگ جائے کتنا کیا ھے انہوں نے ہم دونوں کے

لئے باپ اور ماں دونوں بن کر پالا ھے چھوٹی سی عمر میں وہ ایک پریکٹیکل لائف میں آگئے تھے

آپ نہیں چاہتے ان کی زندگی میں بھی کوئی ایسی لڑکی آئے جو ان کو ہنسنا بولنا سیکھا دے

یار آیان کیوں نہیں چاہوں گا میں ایسا لیکن یار تو خود سوچ ہم جو سوچ رہے ھے ایسا نہ ہوں

بھائی اس کو جانتے بھی نہ ہوں بس غصہ میں آکر نکاح کرلیا ہوں ایان کی بات سن کر داؤد کا

غصہ کچھ حد تک ختم ہوگیا تھا داؤد نے اپنے طور پر ایک سمجھ داری والی بات کی آرے ایسا

نہ بھی ہوا تو ہم یہ چیز ممکن کردے گے آپ نے ان کو دیکھا ھے کیسی ھے ایان نے اشتیاق سے

پوچھا وہ بہت معصوم ھے یار چھوٹی سی بھائی کے با مشکل کندھے تک آئے نہیں بلکہ اس

سے بھی نیچے تو کیا ہوا ہم ان کو ہیل پہنا دے گے ان کا قد بڑا ہوجائے گا کیسا آئیڈیا ویسے

بھائی وہ ھے کہاں اس وقت ابے شاید بھائی کہ۔روم۔میں ہی ھے اور گرین مونسٹر کہاں ھے وہ

کہی باہر گئے ھے شاید یہ پھر اندر ہی ھے اور تیرا انتظار کررہے ھوں میرا کیوں انتظار کرے گے میں

نے کچھ بھی نہیں کیا ھے سچی میرے پاس کوئی ڈرگز نہیں تھا اللہ کی قسم بیٹا تیرا پاس

کچھ الٹا سیدھا نکلا نہ زندہ نہیں چھوڑے گے ہم تجھے سٹیڈی پر توجہ دو آئی سمجھ بول کر اندر

کی طرف چلا گیا اور وہ بھی لنگراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چھپ گیا

ٹی وی توڑ کر خاور صاحب روبینہ بیگم کی طرف مڑا جو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑی

ہوئی تھی ہانم کہاں ھے بازوں سے درشتغی کے ساتھ پکڑا بتاؤ کہاں ھے ہانم وہ غصہ کی زیادتی

کے ساتھ دھاڑے تم بول رہی تھی کہ وہ نماز پڑھ رہی ھے کہاں ھے وہ ان کو چھوڑ کر وہ انوشے

کی جانب مڑے کیا پوچھا تھا میں نے کہاں ھے ہانم اور رکھ کر ایک تھپڑ انوشے کے رسید کیا

چٹاخ انوشے دور جاکر گری وہ اس کی طرف بڑھنے لگے تو روبینہ بیگم بیچ میں آگئی اس میں

انو کی کیا غلطی آپ اس کو کیوں مار رہے ھےاس کی کیا غلطی ھے آپ نے سنا نہیں کیا بول رہا تھا

وہ اینکر کے ایس پی نے غازیان درانی کے چھوٹے بھائی ایان درانی کو ڈرگز کے جھوٹے الزام میں

پکڑ لیا ھے اسی کا بدلہ لیا ھے آپ سے اس میں میری ہانم بھی پھسی ھے نہیں اس اینکر نے یہ

بھی کہاں ھے کہ تمھاری بیٹی اس کے ساتھ بھاگی ھےیہ نہیں سنا میں اسے زندہ نہیں چھوڑا

گا آپ بھی جانتے ھے میں بھی جانتی ھوں ہانم کیسی ھے وہ بلکل یہ نہیں کرسکتی ھے خاور

صاحب میری بیٹی پتہ نہیں کن کے ہاتھ لگ گئی ھے مجھے میری بیٹی چاہیے انہوں نے روتے ہوئے

کہاں چٹاخ خاور ملک نے شدت سے رکھ کر ایک تھپڑ رسید کیا ہانم زرور آئے گی اس گھر میں

لیکن زندہ نہیں مردہ بول کر کمرے کے اندر گئے دراز سے ریولوار نکال کر گھر سے ہی نکل گئے اور

وہ پیچھے انو کو سینے سے لگائے اپنی ہانم کے لئے دعا گو تھی
“””””””””””””””””””””””””
اماں بی ہانم کے پاس آئی وہ غازیان کے برابر والے روم میں تھی وہ انٹر ہوئی تو ہانم بیڈ کراؤن کے

ساتھ ٹیک لگائے گھٹنوں میں سر رکھ کر رورہی تھی اماں بی کے ہاتھ میں کھانے کی ٹیرے تھی

رات کے دس بج رہے تھے اور اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا بھوک بھی لگی تھی جس

کی وجہ سے اور رونہ آرہا تھا داؤد نے ہی کہاں تھا کہ انہیں کھانے دے آئے ورنہ غازیان صاحب نے

تو پکا بیچاری کو بھوکا مارنے کا پلین بنایا ہوا تھا
اماں بی دروازے کے بیچ میں کھڑی تھی کیونکہ

کسی بھی گھر کے کام کرنے والوں کو غازیان یہ اس سے ریلیٹیڈ کسی بھی چیز کے قریب یہ اس

کے کمرے تک میں جانے کی اجازت نہیں تھی,اور یہ تو اس کی بیوی تھی کس میں ہمت ہوتی وہ

اس کے روم میں جاتے چاہے اماں بی ہی کیوں نہ ہوں اس لئے وہ دروازے پر ہی کھڑی ہوگئی اور

وہی سے آواز دی بی بی جی یہ کھانا کھالے بیچاری اندر تک نہیں گئی تھی وہی سے بول رہی

تھی اس نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا آنکھیں سرخ ریڈ ہورہی تھی رونے کی وجہ۔سے

آنکھوں کے پپوٹے بھی سوج گئے تھے اور چھوٹی سی ناک بھی سرخ ہورہی تھی ان کو ایک دم اس

پر بہت ترس آیا اور مزید پیار سے بولی بی بی جی کھانا کھالے آپ جب سے آئی ھے کچھ نہیں

کھایا انہوں نے روتی بسورتی ہانم سے کہاں اس نے معصوم سا منہ بنا کر کھانے کو دیکھا مگر

دیکھ کر بھی نظر انداز کردیا اور چل کر ان کے پاس آئی اور کھانے کی ٹیرے ان کے ہاتھ سے لیکر

سائیڈ پر رکھی آنٹی مجھے میرے گھر جانا ھے پلیز میری ہیلپ کردے مجھے یہاں سے نکلنے میں

اس نے سوسو کرتے ہوئے کہاں کس کو نکلنا ھے پیچھے سے غازیان کی بھاری آواز آئی ہانم دو

قدم پیچھے ہوئی اور اماں بی کے تو باقاعدہ ہاتھ کانپ گئے تھے
جاری ھے ❤️