Magroor Mohabbat By Anabiya Shah Readelle 50061 Last Episode ( Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode ( Part 1)
مغرور محبت60 پارٹ نمبر 1
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Last episode
part no 1
غازیان زین اور روحہ تینوں ایک ساتھ کوریڈور میں آئے جہاں ہانم کی مما بابا اور انوشہ میمونہ
بیگم زمان صاحب صدیقی صاحب فوزیہ بیگم سب ہی موجود تھے غازیان نے سب کو دیکھا
سب کی نگاہ ان پر اٹھی سب بے حال ہوکر بیٹھے ہوئے تھے اندر ہانم ہوش سے بے گانہ تھی باہر یہ
تینوں غائب تھے سب کو پتہ تھا کہاں گئے ھے میمونہ بیگم اٹھی اور روتے ہوئے غازیان کے قریب
گئی غازی یہاں کیا ہوگیا ھے میری جان وہ روتے ہوئے بولی غازیان نے میمونہ بیگم کو اپنے سینے
لگایا میمو جان ٹھیک ہوں میں اور ہماری ہانم کو بھی کچھ نہیں ہوگا آپ یقین رکھے اور ایسے رو
کر اپنی طبیعت خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے اور اگر آپ کی طبیعت زرہ سی بھی
خراب ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ پھر بھی رورہی تھی زین نے آگے ہوکر ان کو
سنبھالا اور غازیان سرعت سے داؤد کی جانب بڑھا داؤد یہ لو انٹیٹوڈ کچھ بھی کرنا داؤد میرے
بھائی پلیز ہانم کو کچھ نہ ہوں بس ایسا سمجھ کر اس کا علاج کرنا تیرے بھائی کی اس ننھی
لڑکی میں جان ھے کچھ نہیں ہوگا بھائی میری بہن کو کچھ نہیں ہوگا داؤد کا لحجہ بھیگا ہوا
تھا وہ دو اور ڈاکٹر کے ساتھ آئی سی یو میں بڑھا غازیان نے بے بس نگاہوں سے آئی سی یو کی
چھوٹی سی کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھا جہاں وہ بلکل ہوش سے بے گانہ اتنے سارے
مشینوں میں جکڑی ہوئی تھی وہ بے بس ہوکر ایان کی جانب دیکھا جو ساخت سا بیٹھا تھا
غازیان کو علم تھا وہ کتنا حساس ھے اور ہانم سے تو رشتہ بھی کیسا ھے زویا اس کے ساتھ ہی
تھی۔ غازیان چل کر اس کے برابر میں بیٹھا تو زویا اٹھ کر زرنش کے ساتھ کھڑی ہوگئی غازیان
نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ایان ہوش کی دنیا میں آیا اور غازیان کو سامنے دیکھ اس کے
گلے سے لگا بھائی یہ سب کیا کیسے وہ رورہا تھا ایان درانی مرد بنو دیکھو میں رورہا ہوں جو تم
رورہے ہوں کچھ نہیں ہوگا ہماری ہانم کو وہ بولتی ھے نہ بہت بہادر ھے وہ دیکھنا وہ لڑ کر
واپس آئے گی ہمارے لئے اس۔نے یہ بات ایان سے زیادہ خود کو سمجھائی تھی بھائی پلیز کچھ
بھی نہیں ہونا چاہیے بھابھی کو کچھ نہیں ہوگا ہماری ہانم ہمیشہ ہمارے ساتھ اور۔میرے ساتھ
رہے گی میری ہانم اس نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہاں اتنے میں عجلت میں ایک ڈاکٹر باہر آیا
سب ایک ساتھ ان کی طرف لپکے روبینہ بیگم نے روتے ہوئے پوچھا کیسی ھے ۔میری بیٹی ٹھیک
ھے نہ وہ غازیان سر اپ جلد سے جلد بلڈ ارینج کرے ان کی کنڈیشن بہت خراب ہورہی ھے کچھ
نہیں بول سکتے ھے ہم آپ سب دعا کرے ان کے لئے اور جلد ہی بلڈ ارینج کرے میرا بلڈ اور ہانم کا
بلڈ سیم ھے خاور ملک تڑپ کر بولے سب کی نگاہ ان کی جانب اٹھی اوکے آپ اجائے نرس ان کا بلڈ
لے لے وہ بول کر واپس آئی سی یو میں چلے گئے اور وہ بھی نرس کے ساتھ بلڈ دینے گئے غازیان
ڈاکٹر کی بات سن کر ایک دم ساخت سا ہوگیا تھا چہرہ بھی سپاٹ ہوگیا تھا وہ مرے مرے قدم اٹھا
کر ۔ایک۔کونے میں خاموشی سے بیٹھ گیا تھا اس کی آنکھوں کے سامنےکل۔صبح کا سین لہرانے
لگا تھا کانوں میں اس کی آواز گونج رہی تھی میں بہت دور چلی جاؤ گی آپ سے اور کبھی بات
بھی نہیں کرو گی اس نے قرب سے آنکھیں میچی اور بینا کسی کی جانب دیکھتے ہوئے ہسپتال سے
نکل کر مسجد کی جانب بڑھا وہاں داخل ہوتے ہی وہ نڈھال جسم کے ساتھ سجدہ۔میں گیرا تھا
کافی لوگوں نے ایک جوان مرد کو ایسے گیرتے دیکھا تھا اس کے بعد سب کو حیرت تو تب ہوئی
تھی جب اس کے رونے کی آواز ان سب نے اپنے کانوں سے سنی تھی یا اللہ میری ہانم مجھے دیں
دے وہ رورہا تھا ہاں غازیان درانی آج اپنے اللہ کے سامنے رورہا تھا وہ مظبوط عصاب کا مالک سب
کو رولانے والا آج رورہا تھا ایک معمولی سی لڑکی کے لئے لیکن وہ معمولی نہیں تھی اس کی قدرو
قیمت کوئی اس وقت اس روتے ہوئے آدمی سے پوچھتا کہ وہ کون تھی کی وہ ایک بار پھر درد
بھری آواز میں بولا اللہ میری ہانم۔مجھے دیں دے میرے مالک تیرے بندے میں اب اور ساخت نہیں
ھے کہ وہ اور برداشت کرپائے پلیز اللہ تعالیٰ اب اور امتحان نہ لے اپنے بندے کا میں مرجاؤ گا
نہیں رہ سکتا میں اب اس کے بغیر لوگ بہت حیرت سے اس کو دیکھ رہے تھے اس کو ہوش تک
نہیں تھا کہ وہ اس وقت کہاں ھے زین نے جب وہاں سے اس کو نکلتے دیکھا تھا اس کے پیچھے
ہی۔وہ آیا تھا اس کو سجدہ میں روتے بلکتے دیکھ اس کی آنکھیں بھی پرنم ہوئی تھی اس کو اندازہ
ہوا تھا کہ یہ لڑکی غازیان کی زندگی میں کیا اہمیتِ رکھتی ھے وہ قریب گیا تھا اور اس کے
کندھے پر ہاتھ رکھا غازی بھائی سب ٹھیک ہو جائے گا آپ ایسے نہ روئے وہ بھرائے ہوئے لحجہ۔
میں بولا تو اس نے زین کی آواز سنی تو وہ اٹھ کر اس کے گلے لگا تھا اور آج غازیان درانی اس کے
گلے لگ کر بھی رویا تھا جس کے سامنے وہ اپنی کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا اپنی فیلنگ
اس کے سامنے کھولنا نہیں چاہتا تھا آج وہ اس شخص کے گلے لگ کر رویا تھا زین اگر میری ہانم
کو کچھ ہوا تو میں زندہ نہیں بچو گا میرے پہلی نظر کی محبت ھے وہ لڑکی میں اس کو نہیں
کھو سکتا ہوں زین مجھے وہ چائیے وہ کسی ضدی بچے کی طرح بولا تھا کچھ نہیں ہوگا ان
کو ہم۔سب کی دعا ھے ان کے ساتھ ہم کچھ۔نہیں ہونے دیگے اپنی بھابھی کو وہ اسکی پیٹھ
تھپکتے ہوئے بولا غازیان نے گہری سانس لی اور آپنے آنسوں صاف کیا میں اپنے اللّٰہ سے مانگوں گا
اپنی ہانم اور وضو کرکے دورکعت نماز حاجت کی نیت باندھیں ساتھ زین نے بھی اس کو دیکھ نماز حاجت کی نیت باندھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زرنش نے ایان کی جانب دیکھا اور اس کی حالت دیکھ چل کر اس کے برابر میں بیٹھی اور اس کے
کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک گہری سانس لے کر اس سے بولی اس طریقہ سے بیٹھنے یہ رونے سے
ہانم کی طبیعت ٹھیک تھوڑی ہوگی جاؤ اس جگہ اس نے پرئیر روم۔کی طرف اشارہ کرکے کہاں
وہاں بیٹھ کر وہ بھی روئی تھی تمھارے لئے اتنا زیادہ اور اپنے اللہ سے رو رو کر تمھیں مانگا تھا
ایان تم نہیں جانتے وہ کتنا روئی تھی اپنے ایان بھائی کے لئے اور لیکن وہ ایسے نہیں بیٹھیں تھی
گھٹنوں سجدہ میں سر رکھ کر سیسکی تھی ایان نے زرنش کی جانب دیکھا جہاں اس کو
ہمدردی ہی ہمدردی دیکھی اس نے اثبات میں سر ہلایا اور پرئر روم۔کی جانب بڑھا روحہ نے ادھر
ادھر دیکھا اور آئی سی یو کا گیٹ کھول کر اندر داخل ہوئی جہاں داؤد دور کھڑا ہوکر ہانم کے بے
جان وجود کو دیکھ رہا تھا داؤد تم ایسے اپنے فرض سے دور نہیں بھاگ سکتے ہوں جاؤ اور ان
کو ٹھیک کرو اس نے اندر داخل ہوکر اس کے وجود کو جھنجھوڑ کر کہاں اس نے ایک نظر اس
کو دیکھا اور خاموشی سے اس کے گلے لگا سب نے ان کی جانب دیکھا لیکن روحہ نے سب کو ہاتھ
کے اشارے سے واپس جاری رکھنے کا کہاں داؤد بس کچھ نہیں ہوگا ہانم کو ایسے نڈھال مت ہوں
جاؤ اور اس کی ڈھال بن جاؤ اس کو ٹھیک کرو آج تمھاری بھابھی پلس بہن کو تمھاری سخت
ضرورت ھے یاد کرو وہ پل جب کوئی نہیں تھا تمھاری مدد کے لئے تب وہ اپنی جان پر کھیل کر
تمھاری مدد کریں تھی کبھی کوئی نہ جھوٹ بولنے والی ہانم نے اپنے بھائی کے لئے جھوٹ بولا
تھا اور وہ بھی کس سے غازیان بھائی سے جاو داؤد اور علاج کرو اپنی بھابھی کا اپنی بہن کا۔
جو تمھاری لئے ہمارے لئے اور اسپشلی غازیان بھائی کے لئے بہت کچھ ھے اب جاؤ یاد رکھوں
جیسے ایک جادو گر کی جان اس کے طوطے ۔میں ہوتی ھے ایسے ہی غازیان بھائی کی جان اس
چھوٹی سی لڑکی میں ھے۔اس نے ہانم کے بے حال جسم کو دیکھ کر کہاں جو مشینوں کی زد
میں تھا داؤد نے ایک گہری سانس اندر کھینچیں اور باہر خارج کر کے اس سے الگ ہوا اور ایک
عزم۔سے بولا کچھ نہیں ہونے دوگا اپنی بہن کو داؤد درانی خود سے وعدہ کرتا ھے اپنا فرضِ میں
اچھے سے نبھاؤ گا اور ہر ممکن کوشش کرو گا ہانم بھابھی کو بچانے کی وہ بول کر ہانم کی
جانب بڑھا جہاں دو اور ڈاکٹر اس کے علاج کرنے میں مصروف تھے روحہ نے اس کو علاج شروع
کرتے دیکھا تو وہ باہر کی جانب آئی جہاں سب پرئیر روم۔میں تھے وہ بینچ پر بیٹھی اور سر
نیچے کی جانب گیرالیا اور ہانم کے لئے دل سے دعا کرنے لگی غازیان وہاں مسجد میں اپنے اللہ
کے سامنے رورہا تھا پرئیر روم۔میں ایس پی خاور ملک ان کی بیگم ایان سب اس کے لئے دعا کررہے
تھے روحہ باہر کوریڈور میں ہی۔تھی کم از کم ایک گھنٹے بعد داؤد باہر آیا اور سامنے ہی روحہ
کو بیٹھے دیکھا اور خوشی سے چیخا روحہ اس نے ایک دم۔گھبراہ کر اس کی۔جانب دیکھا کیا ہوا
وہ مسکرا رہا تھا اس کو اطمینان ہوا۔تھا وہ بھاگ کر اس کے گلے سے لگا اور اس کو اٹھا کر پورے
کوریڈور میں گول گول گھمایا تھا مبارک ہوں روحہ بھابھی کو ہوش آگیا ھے ان کی طبیعت اب
کافی بہتر ھے غازیان بھائی زین بھائی آیان میمو جان روبینہ انٹی فوزیہ آنٹی سب کہا۔ ھے اس نے
سب کو ڈھونڈتے ہوئے کہاں سب پرئیر روم۔میں ھےاس نے اپنی سانس ہموار کرتے ہوئے کہاں تو وہ
تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں پہنچا اور خوشی سے چیخ کر بولا بھابھی کو۔ہوش آگیا ھے۔ ایان وہ
جو۔دعا کر۔ کے چہرہ پر ہاتھ پھیر رہا۔تھا اس۔کی بات سن کر بے یقینی کی کیفیت میں دیکھا کیا
کہاں بھائی آپ نے ایان اس کی نزدیک آکر بے یقینی سے بولا ایان بھابھی۔کو۔انٹیٹوڈ دیتے ہی
کچھ کچھ ہوش ارہا۔تھا لیکن اب مکمل ہوش آگیا ھے سب ایک دوسرے کے گلے لگے ایان داؤد کے
گلے لگا اور کافی دیر تک وہ اس کے گلے ہی لگے رہا اس کے آنسو بے اختیار ہوکر اس کی آنکھوں
سے نکل کر داؤد کندھا بھگورہے تھے زرنش کو جیسے ہی زین اور غازیان کا ہوش آیا اس نے
سرعت سے اس کو کال کریں وہ دونوں دعا مانگ رہے تھے جب زین کا فون رنگ ہوا اس نے چہرے
پر ہاتھ پھیر کر کال اٹھائی سامنے سے جو خوشی کی خبر ملی اس پر وہ اچھل کر رہ گیا
اور جذبات میں آکر غازیان کے گلے لگا بھائی ہانم بھابھی کو ہوش آگیا ھے زین کس نے بتایا ھے
تجھے وہ اپنی آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا زرنش کی کال۔ائی تھیں اس نے کہاں ھے ہسپتال اجاو
ہانم کو ہوش آگیا ھے اس نے سن کر اپنا وجود ڈھیلا چھوڑا اور سجدہ میں گیرا تھا اور اپنے رب
کا دل سے شکریہ ادا کیا تھا اور اپنی آنکھیں اور چہرہ صاف کرکے وہ ہسپتال کی جانب بڑھا تھا
جہاں۔سب ہسپتال کا کمرہ گھیرے بیٹھے تھے اور ہانم مسکرا کر سب کی جانب دیکھ رہی تھی
لیکن بے چین نگاہیں بار بار دروازے کی جانب آٹھ رہی تھی اور یہ چیز وہاں میں موجود سب نے محسوس کی تھی ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تھوڑی دیر بعد غازیان کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں وہ سب سے ہلکی پھلکی باتیں کررہی تھی
وہ داخل ہوا تو سب کی نگاہ اس کی جانب اٹھیں وہ وہی گیٹ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا تھا آپ
سب سے ایک چھوٹی سی ریکوسٹ ھے کوئی بھی برا نہ مانے کیا آپ سب کچھ وقت مجھے
اور اس کو دے سکتے ھے اس نے کہاں تو سب خاموشی سے اٹھے اور باری باری کمرے سے نکلتے
چلے گئے ان سب کے نکلتے ہی غازیان مظبوط قدم اٹھاتا ہوا اس کی جانب بڑھا جہاں وہ منہ موڑے
لیٹی ہوئی تھی اس نے اس کو دیکھ کر اپنا سر اوپر کی طرف اٹھایا اور دل میں اللّٰہ کا شکر ادا
کیا اور نیچے جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور سیدھا ہوکر اس کے قریب بیٹھا اس کا
ڈریپ والا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما کیسی طبعیت ھے تمھاری اب لحجہ مظبوط نہیں تھا یہ چیز
ہانم نے محسوس کرتے ہی اس کی جانب دیکھا بتاؤ طبعیت کیسی ھے ہانم اس نے اپنا ہاتھ
کھینچا اور رخ موڑ لیا غازیان نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا اور بے ساختہ اپنا ماتھا اس کے
ماتھے سے ٹکایا ہانم نے اپنی سانس تک روک لی تھی آس کے اس عمل سے کیوں کرتی ہوں ایسے
جس سے مجھے تکلیف ہوں مزہ آتا ھے تمھیں یہ سب کرکے جانتی ہوں نہ نہیں رہ سکتا تمھارے
بغیر پھر بھی بچوں والی حرکت کرتی ہوں کیا ضرورت تھی تمھیں وہ کھانے کی وہ بول رہا تھا
اور اس کے آنسوں ہانم کے چہرے پر گیر رہے تھے ہانم محسوس کرسکتی تھی کتنا درد تھا اس کے
ایک ایک لفظ وہ سیدھا ہوا اور ایک گہری سانس ہوا کے سپرد کریں اور سہارے دے کر اس کو
بھی سیدھا کرکے بیٹھایا ہانم کا جسم نڈھال ہورہا تھا غازیان نے ہانم کو اپنے سینے سے لگایا
پلیز ہانم اب کبھی مجھے ایسے مت ڈرانا یار میں اب نہیں رہ سکتا تمھارے بغیر ہانم جو اس سے
ناراض تھی اس کے آنسو اپنے ڈریپ والے ہاتھ سے صاف کئے غازی جی آپ روئے مت میں بلکل ٹھیک
ہوں دیکھے ہانم تو بلکل ٹھیک ھے ابھی میں نے فروٹ بھی کھایا ھے اور پتہ ھے داؤد بھائی بول
رہے تھے ہم کل تک گھر بھی جاسکتے ھے بس ڈریپ روز چڑھا کریں گی جسم میں کمزوری
ہوگئی ھے اور دیکھے اگر میں ٹھیک نہیں ہوتی تو آپ سے بات تھوڑی کرتی اس نے اپنی معصوم
آنکھوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہاں غازیان نے اس کی بات سن کر ایک بار پھر اس کو
اپنے سینے سے لگایا وہ اس کو محسوس کررہا تھا اس کی آواز کو اس کی زات کو وہ خود نہیں
جانتا تھا کہ وہ اتنا کیوں رورہا ھے اتنا کیوں پریشان ہورہا ھے وہ خود نہیں جانتا تھا اس کو
تو ہانیہ درانی سے محبت نہیں عشق ھے غازی جی ہانم نے اس کو دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے
اس کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھا تھا اس کی آواز سے اس نے اپنی آنکھیں کھولی اور اپنی گرین
آنکھوں سے اس معصوم چہرے والی لڑکی کی جانب دیکھا آپ مجھ سے دور ہو جائے میں اپ
سے ناراض ہوں کیوں کہ کل آپ نے مجھے کالج بھی بھیجا تھا اور رات کو تھپڑ بھی مارا تھا اور
واشروم میں چیخے بھی تھے ہانم کبھی نہیں بھولے گی آپ نے ہانم کو ایک بار پھر تھپڑ مارا تھا
غازیان اس کی ناراضگی سے پورے وقت میں پہلی بار مسکرایہ تھا اور ایک ہاتھ سے اپنا ایک
کان پکڑ کر کہاں سوری ہانم مجھے پتہ نہیں چلا کب میرا ہاتھ اٹھ گیا اچھا تم بھی مار لو حساب
برابر ہوجائے گا اس نے اپنا گال اس کی جانب کرتے ہوئے کہاں ہانم اس کے اس عمل کھلکھلائی
تھی اور خود سے اس کے سینے سے لگی غازی جی بس آپ مجھ سے وعدہ کرے آپ روز رات کو
ہانم کو برگر اور فرنچ فرائز کھلائے گے بلکل بھی نہیں وہ صحت کے لئے بلکل ٹھیک نہیں ہوتا وہ
مصنوعی غصہ سے بولا اور اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے پھر جائے میں بات نہیں کرو گی وہ تو
تمھیں ہر حال میں کرنی پڑے گی کیونکہ بات کیے بغیر آپ رہ جو نہیں سکتی ھے وہ کھلکھلا
کر ہنسی پلیز اچھا ہفتہ میں سات دن ہی کھلا دے اچھا مجھ سے ہوشیاری گھر چلو بتاتا ہوں
تمھیں وہ محفوظ ہورہا تھا اس کی مسکراہٹ سے پلیز اچھا تین دن اس نے اپنی تین انگلیاں اس کو
دیکھاتے ہوئے کہاں کوئی نہیں جب تک طبعیت ٹھیک نہیں ہوجاتی تب تک تو بلکل بھی نہیں اور
اب بہت دیر سے بیٹھی ہوں اب لیٹ جاؤ اور آرام کرو اتنی دیر بیٹھنا تمھارے لئے ٹھیک نہیں
ھے وہ اس کو لیٹا کر اس کے برابر میں ہی بیٹھ گیا تھا جب وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے دوائیوں
کے زیر اثر نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی یہ پتہ ہی نہیں چلا غازیان نے ایک بار پھر اس کی
پیشانی پر لب رکھے اور کمرے سے باہر آیا جہاں سب کینٹین کی جانب گئے تھے بس داؤد اور ایان
ہی کوریڈور میں ایک دوسرے کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موندے ہوئے تھے وہ ان کے برابر
میں بیٹھا تو اس کی موجودگی محسوس کرکے دونوں کی آنکھیں کھولی ۔ غازیان نے داؤد کے
کندھے پر ہاتھ رکھا تھینک یو داؤد میری ہانم کا خیال رکھنے کے لئے اس کا علاج کرنے کے لئے اگر
آج تو نہ ہوتا تو وہ ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتا داؤد بیچ میں سے ہی بولا کیا ہوگیا بھائی آپ کو
وہ صرف آپکی ہی نہیں میری بھی کچھ لگتی ھے اور یہ تو میرا فرض ھے اور وہ تو میری بہن
بھی ھے ایسی بات نہ کرے وہ بول کر اس کے گلے سے لگا ایان بھی بھاگ کر ان دونوں کے گلے لگا۔
مجھے ہمیشہ آپ دونوں بھول جاتے ھے اور بھئئ بہت ہوگیا میرے بھی ہاتھ پیلے کروائے اور ہانم
بھابھی کو تیار ہونے کا موقع دے اس بات پر تینوں نے ذندگی سے بھرپور قہقہ لگایا اور وہ بھی کینٹین کی جانب بڑھے ۔۔۔۔۔
جاری ھے ❤️
……………………..
