No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
مغرور محبت 27
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 27
ہم لوگ کیا کیا لے گے ہانم گاڑی میں بیٹھی چہکی تم بتاؤ کیا چائیے تمھیں ہم لوگ برائیڈل ڈریسز
لے گے نہ ولیمہ کے لئے ہاں یک لفظی جواب میری پسند کا نہ ہاں صحیح ھے اور مجھے آپ چوڑیاں بھی دلوائے گے
نہ کانچ والی نہیں کیوں کیونکہ وہ تمھیں لگ جائے گی ہاتھ میں نہیں لگتی ھے میں نے پہلے بھی پہنی
ھے ہانم ڈونٹ پلیز میرا ولیمہ ھے نہ اس نے معصوم سا منہ بنا کر بولا نہیں ہانم اس کے الاوہ
جو چائیے میں دلوادوگا لیکن مجھے تو چوڑیا چائیے تھی مما بولتی تھی کہ شادی کے بعد لڑکیاں پہنتی ھے
کنواری لڑکیاں نہیں پہنتی ھے اب تو میری بھی شادی ہوگئی ھے نہ اب میں بھی پہنوں گی اس نے
تھوڑا بجھے دل سے کہاں غازیان نے گردن گھماکر اس کی طرف دیکھا جو اب اپنی چادر سے کھیل
رہی تھی کچھ اور لے لو اس کی جگہ میں تمھیں گولڈ کی چوڑیاں دلوادوگا وہ پہن لینا لیکن
مجھے تو کانچ کی چائیے ہانم اب دوبارہ نہیں بولنا یہ لاسٹ ٹائم سمجھا رہا ہوں تمھیں ہانم نے
اس کو دیکھا آپ مجھ سے پریشان آگئے ھے تو مجھے میرے بابا کے گھر چھوڑ دے وہ دروازہ
کھول دے گے جب میں ان سے معافی مانگو گی تو وہ مان جائے گے آنسوں تو ہر وقت آنکھوں
میں ہوتے تھے فورا بہنے لگے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی ہانم نے بیلٹ لگایا ہوا تھا ورنہ پکا سر
ڈیش بورڈ سے لگتا غازیان نے ایک دم۔اپنا چہرہ اس کے نزدیک کی اس کی گرم سانسیں ہانم کے
چہرہ کو جھلسارہی تھی اس کی اس حرکت پر اس کی آنکھیں پھیلی ایک دفعہ پھر بول کر
دیکھاو کہ تمھیں اپنے باپ کے گھر جانا ھے اس دن بھی کہاں تھا نہ اب تم ہمارے ساتھ ہی رہوں
گی میری فیملی کے ساتھ سمجھ نہیں آرہا تمھیں بار بار کیوں دور جانے کی بات کرتی ہوں بولو
میں تو بس آواز نہیں چائیے مجھے لاسٹ ٹائم تھا یہ ہانم وہ سیدھا ہوا تو اس کی روکی ہوئی
سانسیں ہموار ہوئی ہانم اب تم میری بیوی ہوں اس گھر کی بڑی بہو آیندہ تمھاری آنکھوں میں
آنسوں بھی نہ دیکھوں بہادر بنو تمھارے بابا کو جب حقیقت پتا چلے گی خود راضی ہو جائے گے
لیکن کب اس نے قرب سے کہاں تو غازیان نے سرد اور بے تاسر نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا بہت
جلد لیکن جب تک کے لئے بلکل خاموش اور رونے کی ضرورت نہیں ھے تمھیں تمھارا غازیان سب
ٹھیک کردے گا ہانم نے تمھارا پر اچھنبے سے اس کو دیکھا لیکن اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں
تھا چہرہ بلکل سپاٹ تھا وہ ایک دم سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا ہانم نے منہ گاڑی کے باہر چلتے منظر پر کرلیا ۔۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ڈاکٹر ماہین آپ نے بیڈ نمبر بائیس کو چیک کر لیا ھے جی سر میں نے انہیں چیک کرلیا ھے اب ان
کی کنڈیشن اسٹیبل ھے آب انہیں چھٹی دے سکتے ھے چلے ٹھیک ھے ان کو چھٹی دے دے
اور اب آپ جائے بات سنے وہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ داؤد کی آوز پر پلٹی جی سر مس
روحہ نہیں دیکھ رہی ھے آپ کو پتہ ھے کہاں ھے وہ جی نہیں سر مجھے نہیں معلوم ھے وہ کہاں
ھے ہر وقت تو ادھر ادھر گھومتی رہتی ھے ایسکوزمی ڈاکٹر ماہین وہ ایک دم سنجیدہ ہوا
آپ باہر جائے اور کہی بھی آپ کو مس روحہ دیکھا انہیں میرے روم میں بھیجے اس نے
سختی سے کہاں تو وہ اثبات میں سر ہلاکر باہر کو نکلی روحہ داؤد کے لئے کافی بنا کر ہی لارہی
تھی سلام ڈاکٹرنی صاحبہ اس نے خوشدلی سے اپنے انداز میں سلام کیا اپنی حد میں رہو لڑکی میم
ہوں تمھاری تمیز سے رہا کرو میرے ساتھ بھی اور ڈاکٹر داؤد کے ساتھ بھی جاو اندر اور کافی دیکر
مجھے بھی بناکر دو فورآ آرام سے بات کرو اپنے باپو کی بھی اتنی اونچی آواز ایچ نہیں سنتی
میں اور ایک بات تیری اسیسٹنٹ نہیں ھے اپن ڈاکٹر داؤد کی ھے اپنی اوقاتِ میں رہ تو ائی
سمجھ اور نکل اب جتنی تجھے عزت دی تیرے کو راس ایچ نہیں آئی ایسے کانٹاپ مارو گی
اولٹے ہاتھ کا ویسے بھی اتنی سوکھی سی ھے اوڑتی ہوئی جائے گی نیچے خان بابا کے قدموں
میں گیرے گی نکل آئی بڑی اس کو جواب دیکر داؤد کے روم میں انٹر ہوئی ماہین صدمے میں
کھڑی کی کھڑی رہ گئی کہ یہ اس کے ساتھ ہوا کیا ھے وہ اندر آئی اور ٹیبل پر اس کے لئے کافی
رکھی میرے کو تو ایک بات بتا ڈاکٹر داؤد اپن تیری اسیسٹنٹ ھے کہ تیری اس ڈاکڑنی کی کیا
ہوا ھے آپ اتنی لال سرخ کیوں ہورہی ھے میں تیرے کو بتا رہی ھے اپن صرف تیرے کام کرے
گی میں کسی اور کہ کام نہیں کرے اپن کسی کی مالازمہ نہیں ھے آپ کو کسی نے کچھ کہاں ھے
داؤد نے ماتھے پر بال ڈال کر کہاں میرے کو کوئی کچھ بولے اور اپن سن لے ایسے تو نہیں ہوسکتا نہ
اپن ٹوپا تھوڑی ھے اپن کو کوئی بھی آئے اور سنا ڈالے دیکھ بہی داؤد میں نے ڈاکٹر احسن سے بھی
کہاں تھا میں تھوڑا گرم دماغ کی ھے میں کسی کی بکواس برداشت نہیں کرتی ھے تیرے کو بھی
بتارہی ھے اپن نہیں کرے گی کسی کی بھی کوئی بھی بکواس برداشت کام کروانا ھے تو کرواؤ نہیں
تو میرا حساب کرو اپن جارہی ھے اپنے باپو کی ریسٹورنٹ میں کام ڈاؤن وہ اپنی چئیر سے اٹھے
کر اس کے نزدیک آیا آپ پہلے بیٹھ جائیے پھر ہم بات کرتے ھے پلیز اس نے داؤد کی طرف دیکھا
اور جارحانہ طریقے سے کرسی پر بیٹھی اور سامنے ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر پیا اب
مجھے بتایا کیا ہوا ھے آپ اتنے غصہ میں کیوں ھے میں نے ابھی آتے وقت اس ڈاکڑنی کو آرام سے
سلام کیا میرے کو بول رہی ھے اپنی حد میں رہو بہی اس سے پوچھو اپن نے اس کی کونسی
بھینس بیچ دی یہ پھر اس کے پیسے چرائے ھے جو میرے متھے لگ رہی ھے وہ اچھا یہ بات ھے
میں نے ان کو ڈانٹ کر بھیجا تھا راستہ میں اپ مل گئی تو اس کا غصہ آپ پر نکال دیا روحہ بی
ریلکس کوئی بات چھوٹی چھوٹی باتیں ہوجاتی ھے تو اس کو بھی یہی ایچ بات سمجھاو کائے کو
اپن کے متھے لگ رہی ھے دور رہ بہی میرے سے اپن تیری اسیسٹنٹ ھے داود اپن بس تیرا کام
کرے گی اپن کو جوب پر رکھنے کا ھے تو رکھ نہیں تو بھاگا دے اپن مر کر بھی نہیں ائے گی یہ
اچھا ائی ایم سوری اب غصہ تھوک دے پلیز میرے لیے دوست یار وہ بات نہیں ھے کوئی بات
نہیں ھے اب ختم غصہ ہمم ٹھیک ھے چلے اس بچہ سے بات ہوگئی آپ کی سالہ اپن پر لائین
ماررہا تھا داؤد نے سن کر قہقہ لگایا آپ کو کیسا لگا میرے کو بھی اچھا لگا بس عمر میں چھوٹا ھے
ورنہ چانس بن جاتا بول کر قہقہ لگایا جس میں داؤد نے بھی ساتھ دیا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ تینوں کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے اور ایان مزہ سے سموسے کھ رہا تھا اور وہ دونوں اس کو
خونخوار نگاہوں سے گھور رہے تھے ایان زویا نے دانت پیس کر اس کا نام پکارا تو اس نے کھاتے
کھاتے اس کی طرف دیکھا کیا ہوا ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیونکہ سموسہ جو منہ میں ٹھونسہ
ہوا تھا تم مجھے یہ بتاؤ گے کے یہ سب کیا ھے اس نے کڑے تیوروں سے اس کو آڑے ہاتھوں لیا
اس نے سموسہ نگلا یار مدثر اندر کلاس میں سر کی آنکھیں خراب ہوگئی تھی یہاں یہ پاگل ہوگئی
ھے اللہ کتنے نمبر کا چشمہ لگے گا اس کو ویسے ہی بیٹری ھے لگتا ھے ڈبل چشمہ لگے گا اس کو
ایان اس نے تنبیہہ اس کا نام پکارا اچھا بہی بتارہا ہوں یہ سموسہ ھے یہ میز ھے یہ کرسیاں ھے اور
یہ ایک فالتوں انسان ھے مدثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاں تو اس نے اس کی کمر میں ایک
مکہ رسید کیا کتے تو خود ایک فالتوں انسان ھے دیکھ رہی ہوں زوئی تمھارے بیسٹ فرینڈ کو یہ
کیسے مار کر فالتوں انسان بول رہا ھے زویا نے بھی اپنے نازک ہاتھ کا مکہ بنا کر اس کے کمر پر رسید
کیا لیکن وہ مکہ بلکل بھی نازک نہیں تھا آہ وہ کراہ ہی تو گیا تھا یار زوئی کیا کھاتی ہوں اتنا
زور سے لگا ھے تمھارا مکہ اللہ کی قسم نیل پڑ گیا ہوگا دیکھ شرٹ اوپر کر کے دیکھ مدثر ایان
پلیز انسان بن جاو یار پلیز ہاتھ جوڑ رہی ہوں میں پلیز دوبارہ یہ نہیں کرنا جو تم اندر کرکے آئے
ہوں میری ریپوٹیشن کے ساتھ ساتھ بابا کی بھی خراب ہورہی ھے اور میں بھی جوڑتا ہوں پلیز یہ
نہ کیا کر اچھا اچھا میرے بچوں معاف کیا آئیندہ خیال رکھنا میری معصوم اولادوں دفعہ ہوجاو
دونوں ایک ساتھ بولے اتنے میں زویا کا فون رنگ ہوا جس پر مما کالنگ لکھا آرہا تھا زویا اٹھاتی
اس سے پہلے سرعت سے ایان نے کال پک کریں اسلام علیکم میمو جان صبح آپ سے مل کر نہیں
آیا ابھی یونی سے آتے ہی آپ سے ملنے ایا ہوگا یقیناً آپ نے میری خیریت لینے ہی اس زوئی
چوئی کو کال کی ھے فون اٹھاتے ہی وہ ایک سانس میں شروع ہوچکا تھا اے ایان زویا کو
فون دے یہ پھر اسپیکر پر کر انہوں نے سلام کا جواب دیکر بولی میمو جان میں تو سمجھا تھا آپ
میری خیریت پوچھے گی یار فون اسپیکر پر کر تم دونوں کو کچھ کام دینے ھے اللہ کرتا ہوں اس
نے اسپیکر پر کیا زویا میری اواز آرہی ھے جی مما آرہی ھے دیکھوں میری بات دھیان سے سنو میں
نے غازیان کے ولیمہ رکھ دیا ھے اس سنڈے کو کیاااااااااا آپ ایسے کیسے کرسکتی ھے ایان کی
صدمے بھری اواز نکلی کیا مطلب ماں ہوں میں تم لوگوں کی میری مرضی کچھ بھی کرو انہوں نے
حق سےکہاں آرے وہ بات نہیں میمو جان میرے پاس تو نئے کپڑے بھی نہیں ھے میں کہاں سے
لاؤ اور اتنے کام۔ہوگے انویٹیشن کھانا ہال کی بکنگ سب ایک دم۔میں کیسے ہوگا آرے وہی سب
تو کرنا ھے تم تینوں گھر آؤ میرے اور راستہ میں داؤد کو بھی کال کروا غازی اور ہانم دونوں ولیمہ
کا جوڑا لینے گئے ھے اچھامما ہم آرہے ھے ایان کو۔منہ کھولتا دیکھ زویا نے بات مختصر کی اور خدا
حافظ کرکے فون رکھا میں نے ابھی بات کرنی تھی ایان نے خفگی سے کہاں تو گھر چل کر بات
کرلینا مدثر تمھیں بھی مما نے گھر بلوایا ھے ہاں ٹھیک ھے میں گھر فون کرکے بتادو گھر آنے میں
وقت لگے گا ابے تجھے پتہ ھے میمو جان نے کیوں بلوایا ھے تینوں میز سے کھڑے ہوئے تو ایان نے
بولا کس لئے زویا اور مدثر نے بے وقت پوچھا کھانا سرو بھی تو کرنا ہوگا نہ اس لئے بلوایا ھے
یہ مرے گا میرے ہاتھوں مدثر نے بیگ کا اسٹیپ ٹھیک کرتے ہوئے کہاں زوئی تو بتا پھر کیوں
بلوایا ہوگا اس کو وہ لوگ کینٹین سے باہر نکل کر اب پارکینگ لوٹ میں جارہے تھے مجھے کیا پتہ
چھتیس کام ہوگے اس وجہ سے بلوایا ہوگا ویسے ایان بہت مزہ آئے گا یار زویا نے چہک کر کہاں
مدثر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور وہ دونوں بھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھے ہاں یار کتنی
پیاری پیاری لڑکیاں آئے گی میموجان کی دوستوں کی بیٹیاں بھی اب تو بڑی ہوگئی ہوں
گی تم کو یاد ھے وہ مس جمیل تھی میمو جان کی دوست ایان خاموش ہوجاو اور گاڑی ڈرائیو
کرو ورنہ میں مدثر کے ساتھ جارہی ہوں اس کو پتہ نہیں کیوں لیکن یہ باتیں اس کو اچھی نہیں
لگتی تھی شاید وہ دل کے کسی کونے میں اس کو پسند کرتی تھی لیکن یہ بات کبھی خود بھی
نہیں مان سکتی تھی اور ان سب چیزوں سے لاپروا وہ مزے سے گاڑی ڈرائیو کرنے میں مگن تھا
اور ساتھ ساتھ اس کو چھیڑ بھی رہا تھا اس کو اندازہ نہیں تھا کہ ایسی باتیں کسی کے دل پر کیا
حشر برپا کرتی ھے زویا کو محبت تھی ایان سے اکیلے میں وہ خود سے ایک دفعہ اطراف بھی
کرچکی تھی اس بات کا لیکن اپنی عزت اور اکڑ میں کبھی نہیں بولے گی وہ یہ بھی جانتی تھی
اس کو بھی اس سے مغرور محبت تھی وہ بھی غازیان کی طرح ایان سے مغرور محبت کرتی
تھی ہاں زویا زمان کو ایان درانی سے مغرور محبت ھے اس نے اس کے تصیح چہرے کو
دیکھ کر دل میں اطراف کیا اور نگاہ باہر بھاگتی گاڑیوں پر کرلی ۔۔۔
جاری ھے ❤️
