Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

مغرور محبت34
رائٹر انابیہ شاہ
Episode no 34

وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر شوکڈ کی کیفیت میں کھڑی سامنے بے یقینی کی کیفیت میں دیکھ رہی

تھی جہاں اس کی جان سے عزیز دوست آنکھوں میں آنسوں لیکر سامنے کھڑی اسی کی منتظر

تھی لیکن جب اس کو اتنا حیران دیکھا تو خود ہی اسٹیج پر چڑھ کر اس کے سامنے نگاہ نیچے

کرکے کھڑی ہوئی اور اپنے دونوں ہاتھ کان پر رکھے سوری ہانم پلیز معاف کردے یار مجھے

سچائی نہیں پتہ تھی ہاں مانتی ہوں تیرے سے پوچھنے کے بجائے میں نے سب کچھ خود ہی

سوچ لیا تھا میں بہت بری ہوں یار لیکن تو جانتی ھے نہ میں کتنی جزباتی ہوں اور تو نے

کہاں تھا میں جب بھی تیرے پاس آو گی تو مجھے معاف کردے گی پلیز معاف کردے یار

تجھے نہیں پتہ تیری فائزہ کیسے رہ رہی تھی تیرے بغیر تو جانتی ھے نہ اگر ہم دونوں بات نہ

کرے ایک دن بھی تو کیسا ہوتا تھا اور اب ہم نے پورا ہفتہ بات نہیں کی تجھے احساس ھے لیکن

نہیں تجھے کیوں ہوگا وہ اسی کو بلیم دیتی لیکن اس کو فورا یاد آیا کے غلطی میری ھے ہلکی

سی زبان دانت میں دبا کر واپس اپنی جگہ پر آئی کردے نہ معاف اس نے منت کرتے ہوئے آنسوں

صاف کرکے کہاں ہانم ابھی بھی شوکڈ میں تھی وہ یقین ہی نہیں کر پارہی تھی سامنے کوئی آور

نہیں فائزہ ھے میں تجھے ٹچ کرکے دیکھ لو اس نے معصومیت سے کہاں تو آس نے روتے ہوئے

اثبات میں سر ہلایا ہانم نے اس کو چھوا اور آنسوں سیلاب کی مانند آنکھوں سے نکلنے لگے

آئی مس یو فائزہ آئی رئیلی مس یو فائزہ یہ تو ھے مجھے یقین نہیں آرہا ھے بول کر وہ اس کے

گلے لگی اور بھبک بھبک کر رونے لگی تو غازیان نے اپنے جبڑے بھینچے ایان اور داؤد بھی اسٹیج

پر چڑھ کر اس کے قریب ہوئے زویا بھی ان دونوں کے پاس آئی میمونہ بیگم اپنے شوہر اور

زین کے ساتھ نیچے کھڑی اوپر کی طرف ہی دیکھ رہی تھی آئی میس یو ٹو مجھے بھی تو

بہت یاد آئی پتہ ھے ہانم میں نے کینٹین سے سموسہ بھی نہیں کھایا اور پتہ ھے وہ والا جوس

بھی نہیں پیا لیکن میں نے دیکھا تھا تو چاٹ کھ رہی تھی اور مجھ سے پوچھا بھی نہیں تھا اس

نے اپنے آنسوں صاف کرکے خفگی سے بولا تو فائزہ ایک بار پھر اس کے گلے لگی ان کی باتیں

سن کر غازیان نے دونوں آئی برو اچکائی باقی سب تو ان دونوں کی گفتگو پر صدمے میں ہی

چلے گیے ہانم تو رو مت یار تجھے پتہ ھے نہ تیرا کاجل پھیل جاتا ھے اگر تو چڑیل بن گئی نہ تو

غازیان بھائی نے تجھے میرے ساتھ ہی رخصت کردینا ھے چپ ہوجا ہانم کو بھی ایک دم یاد ایا

کہ اس کا میک اپ ہوا ہے تو اپنے آنسوں آرام آرام سے صاف کئے تو کیسے اگئی یہاں بہت لمبی

اسٹوری ھے کالج میں سکون سے سناؤ گی تو اکیلے ائی ھے آنٹی کہاں ھے وہ اس سے الگ ہوکر

بولی مما بھی آئی ھے نیچے ھے ان دونوں نے جب سب کو خود کو تکتے پایا تو دونوں کو جگہ کی

سنگینی کا احساس ہوا بھابھی آپ رو کیوں رہی ھے ایان نے پریشان ہوکر اس کو رومال دیا آرے یہ

رو نہیں رہی تھی یہ اس کا ہنسنے کا طریقہ ھے فاہزہ نے اس کا ماتھا ٹیکہ ٹھیک کرتے ہوئے کہاں

آپ کون ایان نے پوچھا لو بہی آپ صحیح ھے ہم دونوں اتنا رولئے اور آپ کو ابھی تک پتہ ہی نہیں

چلا میں کون ہوں یہ کون ھے ہانم اس نے ہانم کو غازیان کے برابر میں بیٹھا کر کہاں ہاں میں تم کو

سب سے ملاتی ہوں یہ ھے داؤد بھائی جو ایک اچھے انسان اور ایک اچھے ڈاکٹر ھے اور اب تو

میرے بھائی ھے اور یہ ھے ایان بھائی یہ بھی بہت اچھے ھے اور یہ تو بہت اچھے ھے یہ بھی

میرے بھائی ھے فائزہ اور یہ ھے زویا میمو جان کی بیٹی فائزہ نے زویا سے ہاتھ ملایا اور میمو

جان کون ھے فائزہ نے اشتیاق سے پوچھا وہ غازی جی کی مما ھے غازیان کے دل نے ایک بار

پھر ہارٹ بیٹ مس کی تھی آپنے نام کی پکار پر اور یہ غازی جی کون ھے فائزہ نے مزہ لیتے ہوئے

کہاں وہ یہ ھے ہانم بینا بات کا۔مطلب سمجھے اپنے برابر میں بیٹھے غازیان کی طرف اشارہ

کردیا تو فائزہ نے قہقہ لگایا ایان داؤد اور زویا ابھی فائزہ کو گھور رہے تھے پتہ نہیں کیوں لیکن

اس نے پہلے ہی دن ہانم کو رولایا تھا اس لئے یہ ان کو اچھی نہیں لگ رہی تھی غازیان ان کے

برابر سے اٹھا اور نیچے کی طرف بڑھا تو یہ سب بھی اس کے پیچھے ہی اسٹیج سے اترے ہانم جو

تھوڑی بہت بھی کنفیوز ہورہی تھی ان سب کے نیچے اترتے ہی پوری فائزہ کی طرف مڑی تو یہاں

کیسے مطلب تو مجھ سے ناراض تھی نہ پھر یہاں کیسے اس نے ایک بار پھر حیرت سے پوچھا اس

کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ برابر میں فائزہ بیٹھی ہوئی ھے اور وہ اس سے باتیں کررہی ھے

ہانم یہ بات توجھے میں کالج میں بتاؤ گی لیکن ایک بات کہوں گی جس شخص سے تیری شادی

جس بھی حالت میں ہوئی ھے تو اس شخص کو کبھی کھونا مت بہت انمول ھے وہ تیرے لئے بہت

پرفیکٹ ھے اگر میرے نظریہ سے دیکھا جائے نہ ہانم تو لائف پارٹنر غازیان بھائی جیسا ہونا چاہیے

کیا بول رہی ھے تو تجھے پتہ ھے وہ اتنا غصہ کرتے ھے اے پاگل چپ کر وہ دیکھ مما آرہی ھے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازیان اسٹیج سے اتر کر میمونہ بیگم کی طرف ایا کیسی ھے آپ اور کہاں تھی میں تو یہی تھی

مہمانوں کو دیکھ رہی تھی تم کہاں تھے اتنا وقت کہاں لگ گیا تمھیں یار تھوڑا ضروری کام میں

پھس گیا تھا یہ لڑکی کون ھے بھائی ان کے برابر میں کھڑے زین نے فائزہ کی طرف دیکھتے ہوئے

اشتیاق سے پوچھا وہ ہانم کی دوست فائزہ ھے مجھے لگا تھا جس طریقے سے وہ روئی تھی اس

کے گلے لگ کر یہ وہی لڑکی ہوگی جس کی بات ہانم کررہی تھی میمونہ بیگم نے بھی ہانم کی

طرف دیکھتے ہوئے کہاں جہاں ایک الگ ہی خوشی تھی اب یار غازیان بھائی لڑکی اچھی ھے

میرا کچھ بن سکتا ھے زین بتمیزی نہیں خود کے لئے تو ڈھونڈ لی ھے میرا تو کوئی سوچتا ہی

نہیں ھے وہ خفگی سے بول کر ان لوگوں کی طرف سے ہٹ کر رخ موڑ کر کرسی پر بیٹھ گیا

غازیان نے ناگواری سے اس نوٹنکی کو دیکھا اور واپس میمونہ بیگم کی طرف متوجہ ہوا کب تک

چلے گا میمو جان ختم کرے سب اور گھر کی راہ لے کھانا کھلوا دے یار اچھا اچھا بس دیکھتی

ہوں میں تم جاؤ سب سے ملو ہاں یار جلدی کرے سب کچھ واینڈپ کرے چل زین آؤ سب سے ملے

میرے بغیر تو یہ کچھ کر ہی نہیں سکتے نزاکت سے بول کر اس کے ہم قدم ہوا جو اس کو پہلے

ہی چھوڑ کر ۔عمر عالم صاحب کی طرف بڑھا جن کے ساتھ ان کی بیوی زرنش اور ساتھ میں

کسی لڑکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے وہ سامنے سے آرہی تھی زین نے سامنے اس بلا کو دیکھ کر کوفت سے

آنکھیں گھمائی لیکن غازیان جا چکا تھا اس لئے مجبوراََ وہ بھی ان کی طرف بڑھا عمر عالم

صاحب اور غازیان بغل گیر ہوئے کیسے ھے سر آپ غازیان نے خوشدلی سے پوچھا تم مجھے ابھی

بھی سر ہی بولتے ہوں آپ ھے ہی میرے سر تو آپ کی ریسپیکٹ تو کرنی ہی ھے ہائے کیسے ہوں

غازیان فیضان نے ہاتھ بڑھا کر ہیلو کیا تو غازیان جو عمر صاحب کی طرف متوجہ تھا اس کی

دیکھا تم زیشان ہوں نہ اس نے ہاتھ ملاتے ہوئے کہاں بلکل ٹھیک پہچانا میں وہی ہوں اور کیسے

ہوں آپ میں ٹھیک لیکن تم یہاں پھر اس کا ہاتھ زرنش کے ہاتھ میں دیکھا ہم شادی کررہے ھے اس

سنڈے کو اس کے جواب دینے سے پہلے زرنش نے اپنے بال جھٹک قریب آتے زین کی آنکھوں میں

دیکھ کر کہاں اسلام علیکم عمر صاحب وہ بول کر ان کے بغل گیر ہوا زین العابدین ہوں نہ تم جو

تین سال پہلے یہاں سے چلا۔گیا تھا بزنس سیٹ کرنے بچہ پھر کچھ بنا وہاں انہوں خوشدلی سے

کہاں زرنش نے ان کے لحجہ۔میں اتنی مٹھاس محسوس کی تو کٹ کے رہ گئی جی سر بہت

کچھ بنا لیکن میرا وہاں دل نہیں لگ رہا تھا اس لئے واپس آگیا دل نہیں لگ رہا تھا وہاں کی گوری۔

میم سے دل بھر گیا تھا زرنش نے ہلکی آواز میں تنظ کا تیر چلایا ویل دل کا تو نہیں پتا مس

زرنش عالم لیکن بغیر کسی رشتہ کے میں کسی غیر عورت کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اتنا نزدیک

کبھی نہیں کھڑا ہوا اس نے بھی دوبدو جواب دیا عمر صاحب نے بھی زرنش کی طرف دیکھا وہ

گرین میکسی میں جس کے پیچھے کا بیک نہیں تھا اور زیشان احمد کے ساتھ بلکل ریلکس انداز

میں کھڑی ہوئی تھی سر آپ آئے نہ زین نے اس پر سے نظر ہٹا کر عمر عالم کی طرف متوجہ ہوا

اور ان کو بیٹھنے کی تلقین کی ان سب میں غازیان اپنے اور بزنس سرکل کی طرف بڑھ گیا

تھا جب وہ لوگ اس کے سامنے سے گزر کر گئے تو زین کی نظر زرنش کے بیک پر پڑی تو اس نے ناگواری سے سر جھٹکا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کھانا وغیرہ کھ لیا گیا تھا ہال کی لائٹس وغیرہ سب کچھ آف ہوگیا تھا یہ لوگ مین انٹرس پر

کھڑے تھے داؤد اور ایان باضد تھے کہ زین ہمارے ساتھ مینشن چلے وہ مسلسل انکار کررہا تھا اور

ہانم کے ساتھ فائزہ اور غازیان کھڑے تھے چل ہانم میں نکلتی ہوں اب تو کل تو نہیں آئے گی

کالج پھر پرسو ملاقات ہوتی ھے اپنا خیال رکھنا وہ اس کے گلے لگتی ہوئی بولی تم بھی اپنا خیال

رکھنا غازیان کا ڈرائیور خود چھوڑنے گیا تھا ان لوگوں کو ہانم دور تک اس کی جاتی گاڑی کو

دیکھتی رہی تھی ہوش میں تو ایان کی آواز سے آئی بھابھی آپ ہی۔ بولے نہ زین بھائی کو وہ مڑی

تو سب زین کو منانے میں لگے ہوئے تھے یار میں ابھی کیا کروگا صبح او گا ابھی اپارٹمنٹ میں

سو جاتا ہوں زین سب اتنا بول رہے ھے چل لو میمونہ بیگم نے بھی ساتھ دیا بھائی چل لے نہ

زویا بھی منت کرتے ہوئے بولی غازیان نے گھڑی میں ٹائم دیکھا اور پھر سامنے تین تک کاونٹ کرو

گا زین تمھاری گاڑی مینشن کی طرف روانہ ہوجائے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اس کی

آواز نے ساری آوازوں کو دبا دیا تھا یار غازی بھائی میں میں نے کیا بکوس کی ھے چلو وہ بول

کر ہانم کا ہاتھ تھامے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا پیچھے وہ ان سب کے سامنے بولا دنیا ادھر کی

ادھر ہوسکتی ھےلیکن یہ گرین مونسٹر کبھی خود کو نہیں بدل سکتا صرف آڈر دینا آتا ھے ہم

معصوموں کو سب نے اس کی بے بسی پر قہقہ لگایا اور مینشن کے لئے نکلے وہاں پہنچ کر ہانم کا

استقبال بہت اچھے سے کیا اور کچھ چھوٹی چھوٹی رسموں کے بعد اس کو روم۔میں بھیج دیا

کتنا بھاری دوپٹہ ھے وہ آئینہ میں خود کو اس دوپٹہ سے آزاد کراتے ہوئے بڑبڑائ ویسے میں لگ

کتنی۔پیاری رہی ہوں اپنے عکس کو۔ائینہ میں دیکھا اور خود ہی شرما کر آنکھیں نیچے کرلی

اور اپنے دوپٹے کو پین۔سے ازاد کروا کر ریلکس انداز میں کندھے پر رکھا اور اب جیولری اتاری

اتنا میں دروازہ نوک ہوا اور غازیان کھانے کی ٹیرے تھامے روم میں داخل ہوا وہ جو ابھی بیڈ

پر بیٹھی تھی غازیان کا آتے دیکھ واپس کھڑی ہوئی اور ہاتھ میں کھانے کی ٹیرے دیکھ منہ میں

پانی آیا اس نے ٹیرے میز پر رکھی اور ہانم کی طرف دیکھا ہانم پہلے او نافل پڑھ لے اس کے بعد

کھانا کھالینا تم جی وہ بول کر واش روم کی طرف جانے لگی وہاں کہاں جا رہی ہوں میں وضو

کرکے آتی ہوں ہممم جاؤ اور جلدی آنا وہ واش روم میں بند ہوئی اور تقریباً ساتھ آٹھ منٹ میں

واشروم سے باہر آئی تو چہرے سے پانی ٹپک رہا تھا میک اپ بھی صاف کرلیا تھا چہرے آب بلکل

صاف اور شفاف تھا غازیان نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور اس کو ہمراہ نماز ادا کی

جائے نماز لپیٹ کر اس کے منہ پر کچھ پڑھ کر پھونکا ہانم نے سکون سے آنکھیں موندی او کھانا کھاتے

ھے آپ نے کھانا نہیں کھایا وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی نہیں لیکن ائی تھینک تم نے کھ لیا تھا

آرے نہیں وہ تو میں بس فائزہ نے کھا تو چک۔لیا تھا پلیٹ میں بریانی نکالتے ہوئے ایمانداری کے

ساتھ جھوٹ بولا تو غازیان یاد کر کے مسکرایا ویسے ایک بات بولو جی بولے وہ چمچہ منہ میں

رکھ کر بولی تم میک اپ مت کیا کرو اس کے بغیر تم زیادہ پیاری لگ رہی ہوں نہیں غازی جی یہ

بات مما بھی بولتی تھی اور مجھے پتہ ھے وہ تو اس لئے بولتی۔تھی کہ شادی والے دن روپ نہیں

آئے گا اور کنواری لڑکیاں میک اپ نہیں کرتی ھے لیکن اب میری باقاعدہ ہال میں شادی ہوگئی ھے

اس لئے میں اب میک اپ بھی کرو گی اور چوڑیا اور مہندی بھی لگاؤ گی اس نے اس کی بات سن

کر خفگی سے اپنا مدعا رکھا تو غازیان نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا جو اپنی

معصوم آنکھوں سے اس کی طرف ہی بات کرکے اس سے دیکھ رہی تھی اچھا ٹھیک ھے جیسے

تمھاری مرضی اس نے بول کر اپنے لئے بھی پلیٹ میں بریانی نکالنے لگا ویسے غازی جی آپ کا بہت

شکریہ فائزہ والے سرپرائز کا آپ بہت اچھے ھے اس نے دل سے اس کی تعریف کی آپ کو پتہ ھے

میں تو وہ لڑکی۔بھی نہیں ہوں جس سے آپ نے شادی کرنی تھی لیکن آپ پھر بھی میرا اتنا خیال

رکھ رہے ھے آپ واقع بہت اچھے ھے اور اپ کو پتہ ھے غازی جی میری فائزہ کیا بول رہی تھی

وہ۔بول رہی تھی اپ بہت انمول ھے آپ کو میں کبھی کھو نہیں غازیان کے چہرے پر جو ابھی

مسکراہٹ تھی ہانم کی۔بات سن کر ایک دم اس کی جگہ سنجیدگی نے لی میں تم کو ایک بات

کہوں ہانم جی بولے اس نے بریانی کی ایک اور بائیٹ لے کر پلیٹ سائیڈ پر کرتے ہوئے کہاں تم

وہی لڑکی ہوں جس سے میں نے شادی کرنی تھی اس نے بولا تو ہانم کا ہاتھ جو پانی کی طرف بڑھ

رہا تھا بے یقینی کی کیفیت میں وہی کا وہی ٹھہر گیا۔۔۔
جاری ھے ❤️

……………………..