Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

مغرور محبت 42
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 42

بھابھی آپ سے بات کرنی ھے ہانم اپنے کمرے میں تھی جب داؤد نے گیٹ نوک کیا ہانم سمجھی

تھی غازیان ہوگا لیکن سامنے داؤد کھڑا ہوا تھا داؤد بھائی اس ٹائم سب ٹھیک ھے جی بھابھی

سب ٹھیک ھے آپ سے زرہ امپورٹینٹ بات کرنی ھے اس ٹائم اس نے گھڑی کی طرف دیکھا بہت

ضروری ھے اوکے آئے وہاں بیٹھ کر بات کرتے ھے داؤد نے بول کر اوپر والے لاونج کے صوفے کی

طرف بڑھا وہ بھی تھوڑا پریشان ہوکر اس کے ہمقدم ہوئی بھابھی آج میں نے اس لڑکی سے بات

کرلی کس سے بھائی ہانم بھی بھی شاید نیندوں میں ہورہی تھی بھابھی یار تھوڑا تو ہوش میں

آئے ہمم بولے نہ کس لڑکی کی بات کررہے ھے میں نے مس روحہ سے اج یہ بول دیا ھے کہ میں اپنی

بھابھی اور میمو جان کے ساتھ رشتہ لیکر انا چاہتا ہوں پھر اس نے ایکساٹیڈ ہوتے پوچھا اس

نے انکار نہیں کیا ھے لیکن ہاں بھی نہیں کیا ھے مطلب خاموش تھی جواب نہیں دیا کوئی بھی

ہانم نے بھجے لحجہ میں کہاں ارے نہیں اس کی طرف سے تو ہاں ھے لیکن اس نے کہاں ھے پہلے

میرے مما بابا سے بات کرو اگر وہ راضی ہوجاتے ھے تو میں بھی راضی ہوں تو بھائی یعنی اپ کو

اس کی فیمیلی کو راضی کرنا ھے باقی تو یعنی سب کچھ پہلے سے ہی ریڈی ھے اور آپ کو پتہ

ھے اگر لڑکی راضی ھے تو مما بابا آٹومیٹک مان جائے گے ہاں بھابھی روحہ نے تو انکار نہیں کیا

ھے وہ تو راضی تھی بس اس کی فیمیلی کو اللّٰہ کرے میں پسند اجاو اس نے آسمان کی طرف

دیکھتے ہوئے کہاں ارے تو میرا بھائی کیا کسی سے کم ھے آپ دیکھنا وہ لوگ آپ کو دیکھتے ہی

پسند کرلے گے میں گیرانٹی کے ساتھ بول سکتی ہوں آپ کی پرسنیلٹی تو سب سے الگ ھے ہاں یہ

تو ھے اس نے اپنی تعریف پر کالر اٹھائے اس کے ایسے کرنے سے دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا

بھابھی ایان سے آپ کی بات ہوئی کیا نہیں ایان بھائی سے تو میری کوئی بات نہیں ہوئی جب سے

میں کالج سے آئی ہوں میں نے ان کو دیکھا ہی نہیں ابھی میں نے ملازمہ سے پوچھا تھا تو وہ

بول رہی تھی کہ بھائی جب سے یونی سے آئے ھے اپنے کمرے میں ھے باہر نہیں آئے اور کھانا وغیرہ

بھی کمرہ میں ہی منگوایا ھے باہر آئے ہی نہیں اس کی طبیعت تو ٹھیک ھے داؤد نے اس کے

کمرے کی طرف دیکھتے پریشانی سے پوچھا پوچھا پتہ نہیں بھائی صبح تو ٹھیک تھی اب پتہ

نہیں کیا ہوگیا ھے اور پتہ ھے زویا سے بھی بات نہیں ہوئی میری ابھی تک صبح سے ملاقات ہی

نہیں ہوئی یعنی زویا آئی نہیں ھے صبح سے اس طرف نہیں اسں نے نفی میں سر ہلایا تو میں سو

فیصد بول سکتا ہوں کہ ان دونوں کی ہوئی ھے کسی بات پر لڑائی زویا اور صبح سے ایک چکر

بھی نہیں لگایا اور یہ صاحب روم سے باہر بھی نہیں ائے تو یقیناً ان دونوں کی کسی بات پر ہوئی

ھے ان بن چلے اپ بھی جاکر سوجائے مجھ سے رہا نہیں جارہا تھا کہ کس کو بتاو پہلے سوچا

ایان کو بتادیتا ہوں لیکن یاد آیا وہ تو ایک پھٹا ہوا ڈھول ھے سارے جہان میں پیٹے گا پھر

مجھے آپ یاد آئی کہ رشتہ لیکر تو آپ ہی جائے گی تو میں نے سوچا اپنی پیاری بھابھی سے

شئیر کرتا ہوں ہانم اس کی بات سن کر کھلکلائی بلکل ٹھیک کہاں آخر کو میں بڑی بہو ہوں تو

رشتہ تو میں ہی لیکر جاؤ گی وہ اکڑ سے بول کر کھڑی ہوئی داؤد بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوا

جائے بھابھی آپ سوجائے اگر آپ کے مجازی خدا نے دیکھ لیا کہ میں نے آپ کو اتنی دیر تک جاگیا

ہوا ھے تو مجھے الٹا لٹکا کر مارے گے ویسے یار بھائی کو بھی آجانا چاہیے تھا اس ٹائم تک لیٹ

ہوگئے نظر رکھے آپنے شوہر نامدار سے لڑکیاں بڑا فدا رہتی ھے کان زرہ کھنچ کر رکھا کرے کہی

شادی کے بعد کسی لڑکی کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر نہ نکل گئے ہوں ہانم نے آنکھیں چھوٹی کیں

صیحح بتائے بھائی ایسا ھے کیا ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ھے دیکھ لے باقی آپ سمجھدار ھے

اس کو اچھی طرح سمجھا کر آخر میں یہ بول دیا باقی آپ سمجھدار ھے ویسے آپ ٹینشن نہ لے

ایسے کچھ ہوگا تو نہیں اگر ایسا ہو بھی گیا تو وہ والی بھابھی کو ہم یہ والے کمرے میں رکھ

دے گے کیسا آئیڈیا ہانم کے برابر والے کمرے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ہانم کو ایک عجیب سی

جلن ہونے لگی ویسے آجانا چاہیے تھا آتے ہوگے آپ بھی کمرے میں آرام کرلے میں ان لارڈ صاحب کو

دیکھتا ہوں آخر کو صاحب کو کونسی جوانی چڑھی ھے جو کمرے سے ہی باہر نہیں آیا بول کر

کر ایان کے کمرے کی طرف بڑھا ہانم بھی ایک نظر گھڑی کو دیکھ کر اپنے روم کی طرف بڑھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
گاڑی اس کے اپارٹمنٹ کی بیلڈنگ کے سامنے جھٹکے سے روکی تھی وہ اتر کر سیدھا اندر گیا

تھا پیچھے یہ تک دیکھنا گوارہ نہیں کرا تھا کہ وہ کیسے آئے گی اس کو تو خود ہوش نہیں تھا

وہ ایک زندہ لاش کی طرح گاڑی میں بے سود بیٹھی ہوئی تھی سر پیچھے گاڑی کی سیٹ سے

پر رکھا ہوا تھا اور آنکھوں سے آنسوں کسی سیلاب کی مانند نکل رہے تھے ایسا کیوں کیا بابا

آپ نے میرے ساتھ اس نے بے آواز کہاں اور آنکھیں ضبط سے میچی کانوں میں کسی ڈھول

کی طرح اس کے الفاظ گونج رہے تھے کیسے زیشان نے اس کی زات کے چھیترے بھکیڑے تھے

ایسی اللّٰہ کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا اس نے پر نم آنکھیں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور گاڑی

کا دروازہ کھول کر باہر نکلی صد شکر باہر ہی زین کا ایک گارڈ کھڑا ہوا تھا اس کے نکلتے ہی وہ

سرعت سے اس کے قریب آیا تھا میم آپ کو بلایا ھے اوپر اپارٹمنٹ میں سر نے جلدی چلے ان کو

انتظار کرنے کی عادت نہیں ھے اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی اور اپنا بھاری کامدار شرارا اٹھا

کر بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی ان کا فلور ٹینٹ فلور پر تھا وہ ملازم اس کے ساتھ ہی تھا دروازے

پر چھوڑ کر وہ واپس نیچے چلا گیا آج پتہ نہیں کیوں لیکن دل بول رہا تھا کہ آج اندر نہ جاؤ پھر

سرد سانس خارج کرکے اور خود کو کمپوز کرکے اپارٹمنٹ کے اندر داخل ہوئی وہ سامنے ہی صوفے

پر پاؤں پر پاؤں رکھ کر شاید اسی کا انتظار کررہا تھا وہ انٹر ہوئی تو نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو

وہ اپنی دو انگلیاں سے اپنے دماغ کی جگہ کو مسل رہا تھا آنکھیں بند تھی بہت خوشی ہورہی

ہوگی تمھیں تو زرنش نے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زہر خندہ لحجہ میں کہاں اس کی

آواز سن کر اس نے اپنی آنکھیں کھولی جو ضبط کی وجہ سے لال انگارہ ہورہی تھی سامنے ہی وہ

بھی لال آنکھیں لیے پوری شعلہ جوا بنی کھڑی تھی زرنش دماغ بہت خراب ہوا ھے ابھی یہ والے

روم۔میں جاکر سوجاؤ صبح بات کرے گے ابھی میرا دماغ بلکل کام نہیں کررہا ھے اس نے اپنے

لحجہ کو حدرجہ نرم کر کہاں اس کو احساس تھا کہ اس کے ساتھ صحیح نہیں ہوا ھے اس کے

ساتھ زیادتی ہوئی ھے احساس تھا اس چیز کا لیکن خود کے ساتھ ہوئی زیادتی پر بھی بہت

دکھ تھا جس کو وہ کسی کے ساتھ بول نہیں سکتا تھا کیوں تم تو بہت خوش ہوگے نہ ایک

لڑکی جو مل گئی ھے جس کے ساتھ تم جو مرضی کرتے رہوں یاد رکھنا زین العابدین میں

بھی زرنش عالم ہوں تم جو سوچے بیٹھے ہونہ کہ تم میرے ساتھ کچھ بھی اولٹا سیدھا کرسکتے ہو

تو یاد رکھنا اتنا آسانی سے میں ایسا کچھ نہیں کرنے دوگی اپنے ساتھ تمھیں آئی سمجھ وہ

تنبیہہ انگلی اٹھا کر طیش دلانے والے انداز میں بولی اور تم سوچتے ہوگے اب جو تم کرنا چاہوں

گے وہ تم آسانی سے کرسکتے ہوں یاد رکھنا تم میں زرنش عالم ہوں مجھ تک رسائی تم کبھی

حاصل نہیں کرسکتے ہوں زرنش ابھی مت کرو جاکر سوجاؤ میرے اشتعال کو آواز مت دو بہت

پیار سے بول رہا ہوں ایک بات بتاؤ تم نے ہاں کیوں کی تم تو انکار بھی کرسکتے تھے نہ پھر ہاں

کیوں کی بولو وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر بولی تمھیں سمجھ نہیں آرہا ھے کہ میں کیا بھونک رہا

ہوں جاکر سوجاؤ وہ ایک دم کرسی کو لات مار کر ڈھاڑا کیوں جاؤ

میں اندر پہلے یہ بتاؤ کیوں شادی کریں تم نے مجھ سے وہ بھی اسی کے انداز میں چلائی انکار

کرسکتے تھے نہ تم چپ ہوجاو زرنش چپ ہوجاو میں لاسٹ ٹائم بول رہا ہوں تمھارے حق میں

اچھا نہیں ہوگا اس نے اپنے غصہ کو دباتے ہوئے سمجھانے والے انداز میں کہاں مجھے تو حیرت

ھے تم پر کل تک تم مجھے کیا بول رہے تھے کہ میں ایک ایسی لڑکی ہوں جس کے ساتھ ٹائم

گزارا جاسکتا لیکن بیوی نہیں بنایا جا سکتا تو تم نے کیوں کی شادی مجھ سے مجھ جیسی دو نمبر

لڑکی سے کیوں کریں شادی چٹاخ زین نے ایک گھماتا ہوا زناٹے دار تھپڑ اس کے نازک گال پر

رسید کیا تھا جس کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ منہ کے بل زمین دوز ہوئی تھی وہ گھٹنوں کے بل اس کے

قریب بیٹھا اور اپنی آہنی گرفت میں اس کے جبڑے کے دبوچا تھا کتنی بار میں نے منع کیا تھا

نہ اپنی بکواس بند کرکے سوجاؤ سمجھ نہیں ارہا تھا نہ تمھیں میں تمھیں اب بتاتا ہوں کہ میں کیا

چیز ہوں اصل میں عورت پر ہاتھ اٹھانا اپنی توہین سمجھتا ہوں لیکن اگر میری عزت کے بارے

میں کوئی بھی یہ تم ہی کیوں ایسے دھجیاں اڑانا والی بکواس کرو گی یہ پھر اتنی تھرڈ کلاس

بات کرو گی میں تمھاری چمڑی ادھڑ کر رکھ دو گا عزت ہوں تم اب میری زین العابدین کی بیوی

ہوں تم کو بھی میں اجازت نہیں دوگا تم اپنے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرو سمجھ آئی

وہ خود کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کررہی تھی کون ہوں تم وہ غرا کر بولا زرنش عالم ہوں

میں اور وہی رہوں گی وہ بھی ضدی انداز میں بولی چٹاخ یہ تھپڑ اتنی شدت سے مارا گیا تھا کہ

اس کا ہونٹ تک پھٹ گیا تھا بولوں کون ہوں اس نے اس کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیکر ڈھاڑا

تھا غصہ سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا کنپٹی کی ساری نسیں ابھری ہوئی تھی بولوں کون ہوں

تم وہ ایک دفعہ پھر ڈھاڑا اور کھڑا ہوکر اپنا بیلٹ ہاتھ میں لپیٹا تھا جس کو دیکھ زرنش جی

جان سے کانپی تھی بولو کون ہوں تم م۔۔۔میں۔۔۔ زر۔۔نش زین۔۔ العابدین ہوں وہ کپکپاتی آواز میں

بولی اس نے جو مارنے کے لئے بیلیٹ اٹھایا تھا وہ ہوا میں ٹہر گیا تھا میرے کان تک آواز نہیں آئی

ھے تیز آواز میں بولو زرنش میں زرنش زین العابدین ہوں وہ روتی ہوئی بولی تو وہ اس کے

پاس دو زانو بیٹھا آئیندہ کے بعد اگر تم نے مجھ سے اس ٹون میں بات کریں خدا کی قسم تمھاری

چمڑی ادھار دو گا میری عزت ہوں تم اس گھر کی چار دیواری سے تمھارا قدم بھی میری اجازت کے

بغیر باہر نکلا یہ تمھاری آواز بھی اس گھر کی چار دیواری سے باہر گئی خدا کی قسم ٹانگیں تور

دوگا اور زبان گدی سے کھنچ کر گردن میں لپیٹ دو گا زرنش اپنے دماغ میں بیٹھا لو ہمارا

رشتہ کیسا بھی ہوا ہوں لیکن بیوی ہوں تم میری یعنی میری عزت اپنے دل اور دماغ دونوں میں

بیٹھالو اب یہی تمھارا مستقبل ھے سمجھ آئی میں کیوں۔۔۔کر تمھاری بات مانو وہ ہچکیوں کے

درمیان بولی چٹاخ زین کا یہ تھپڑ اس کے چہرے پر اپنی پانچوں انگلیوں کی چھاپ چھوڑ گیا تھا

اس نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا اور قریب ہوکر اس کے بال اپنی اہنی گرفت میں لئے

ائیندہ کے بعد تم نے مجھے تم کہاں نہ زرنش میں تمھارا گلا گھونٹ دو گا بولوں جیسے آپ کہے گے

وہ ہی کرو گی بولو بالوں کو جھٹکا دیکر وہ اس کے منہ کے قریب اپنا چہرہ کرکے ڈھاڑا کیوں

کررہے ہوں تم ایسا وہ بے بسی سے بولی میرا کوئی ارادہ نہیں تھا بولا تھا نہ میں نے کتنی دفعہ

سوجاؤ جاکر تم نے ہی مجھے اکسایا ھے تو بھکتوں بولوں جو میں نے کہاں ھے بولوں

جیسا۔۔۔اپ کہ۔۔۔کہے گے اس نے ہچکیوں کے درمیان میں بولا ویسا ہی ہوگا بہت اچھے اگر

ایسا نہ ہوا تو تمھاری جان میں اپنے ہاتھوں سے لونگا اٹھو اس کا بازو دبوچ کر زبردستی کھڑا

کیا اور گھسیٹنے والے انداز میں اپنے کمرے کی طرف بڑھا کمرے میں داخل ہوکر اس کو بیڈ پر

پھینکتے ہوئے پھنکارہ اس کمرے سے تم اگر باہر آئی نہ تو تمھارا گلا میں اپنے ان ہاتھوں سے

گھونٹوں گا سمجھ آئی بول کر تنفر سے کمرے سے نکل کر اپارٹمنٹ سے ہی نکلتا چلا گیا اور وہ

پیچھے تکیہ میں منہ دے کر بھبک بھبک کر رونے لگی اور اپنے بابا اور اللہ سے شکوہ کرنے۔لگی ۔۔
جاری ھے ❤️