Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 57

مغرور محبت 57
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 57
یار بھابھی مجھے تو لگتا ھے کوئی سین ہوا ھے داؤد بھائی اور غازی بھائی کے بیچ کیا مسئلہ ہوا

ھے زویا نے اپنی گردن پیچھے سیٹ سے نکال کر ان دونوں سے پوچھا یار زوئی ابھی ہم لوگ آرہے

تھے تو داؤد بھائی نے غازی بھائی کو چیخ کر بولایا تھا اور انہوں نے کوئی بات کرنی تھی لیکن

ہمیں ہمیشہ کی طرح بچہ سمجھ کر آگے پیچھے کر دیا ایان نے موڑ کاٹتے ہوئے کہاں کیوں بیچاری

بھابھی کو بھی بچہ سمجھ لیا زویا نے جان بوجھ کر یہ بات بولی تھی میں بچی نہیں ہوں

زوئی میری شادی ہوچکی ھے اور آپ بھی ایسے نہیں بول سکتی ھے دیورانی ھے آپ میری ہونے

والی اس لئے اپنی بھابھی سے کوئی مزاق بھی نہیں کرسکتی ھے اس نے روب سے کہاں زویا اور

ایان نے اس کی جانب دیکھا اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی مار کر قہقہہ لگایا آپ اور بڑی جوک

آف دا ڈے ھے بھابھی زویا نے اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہاں اچھا میں آپ سے بڑی

نہیں ہوں وہ سیٹ پر سے گھومی دونوں نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا اپ کو پتا ھے میں انیس

سال کی ہوکر بیس سال میں لگ گئی ہوں اور آپ کتنے سال کی ھے تیئیس سال اس نے آرام سے

کہاں تو ہانم گڑبڑائی تو عمر سے کچھ نہیں ہوتا ھے رشتہ سے ہوتا ھے میں رشتے میں اپ سے۔

بڑی ہوں کیوں ایان بھائی بلکل زوئی بھابھی بہت بڑی ھے خبردار جو تم نے ان سے بتمیزی کریں

آرے بہی آپ ایک بات بتائے ہانم بھابھی آپ میری دوست تھی نہ اور دوستوں سے ہنسی مزاق ہوتا

ھے لیکن آپ کی میں بھابھی ہوں اور دوست بعد میں ہوں اس لئے آپ نے مجھے بچی نہیں بول

سکتی ھے نہ ہنس کر آپ میرا مزاق اڑاسکتی ھے ایان نے اس کی جانب دیکھا جو ناک کے نتھنے

پھلائے بیٹھی تھی آرے بھابھی زوئی مزاق کررہی ھے اس نے ایان کی جانب دیکھا اور قہقہہ لگا کر

ہنسی میں بھی تو مزاق کررہی تھی گاڑی میں ایک دم تینوں کے قہقہے گونجے ویسے آپ دونوں

ایک ساتھ بہت پیارے لگتے ھے اس نے پیار سے دونوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہاں اور بھابھی

آپ اور غازی بھائی بھی بہت پیارے لگتے ھے ساتھ میں ایان نے اس کی جانب دیکھ کر مسکرا

کر کہاں کوئی نہیں میں زیادہ پیاری لگتی ہوں آپ نے دیکھا ھے میری آنکھیں کتنی پیاری اور ان

کی ہر وقت غصہ سے لال ہوتی رہتی ھے اور ان کی ہائیٹ بھی اتنی ھے میری تو نورمل ھے غازی

جی سے اور آپ دونوں کو پتہ ھے وہ تو پورے
کے پورے گرین مونسٹر ھے ان کو صبح میں نے

کہاں کے کالج نہیں جانا پھر بھی زبردستی انہوں نے مجھے کالج بھیجا ھے میں بات نہیں کرو گی

اب ان سے آئے بڑے ویسے بھابھی رات کو دوستی ہوگئی تھی آپ دونوں کی زویا نے پوچھا تو اس

کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا اور آنکھیں شرم سے جھکی اور ہلکے سے سر اثبات میں ہلایا بہی واہ

اللّٰہ آپ دونوں کی یہ دوستی ہمیشہ ایسے ہی رہے آپ دونوں کبھی نہ لڑے زویا نے اس کو دل

سے دعا دی ایان اور ہانم نے بھی امین کہاں ویسے بھابھی آپ کو کیا لگتا ھے کیا سین ہوا ہوگا اور

ہمیں کیوں بھاگیا ہوگا ایان نے ایک بار پھر پوچھا یار ایان بھائی ویسے سوچنے والی بات ھے آخر

ایسا کیا ہوا جو ہمیں بھاگا دیا غازی جی اللہ جانے بھابھی ویسے یہ ایک طرح سے زوئی تم

بتاؤ یہ نا انصافی ھے کہ نہیں تم خود بتاؤ یار اس نے دکھی لحجہ۔میں کہاں اب کیا کرسکتے

ھے اگر میں وہاں ہوتی تو مجھے بھائی کبھی نہ بھاگتے دونوں نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا

اور پتہ ھے کیوں نہیں بھاگتے کیوں دونوں نے حیرتِ سے تقریباً ایک ساتھ پوچھا میرا تجربہ اپ

دونوں سے زیادہ ھے بول کر اپنا چشمہ ٹھیک کیا ویسے زوئی ایک بات بولو وہ اس کی بات سن کر

سنجیدگی سے بولا کیا ہانم ان دونوں کی ہی طرف متوجہ تھی یہ جو تم نے ابھی کہاں تھا نہ

ویسے یہ زیادہ ہوگیا ھے اس نے اتنی سنجیدگی سے کہاں ہانم کا بے ساختہ قہقہ نکالا جس میں

ایان نے بھی ساتھ دیا ایان کے بچے تم یونی چلو تمھیں پہلے والی زویا بن کر دیکھاتی ہوں میں

ہلکے میں لے لیا ھے تم نے مجھے وہ آنکھیں دیکھاتی ہوئی بولی چل اوئے چل بول کر جھٹکے

سے گاڑی روکی لے پیاری بھابھی آپ کا کالج آگیا ھے رات کو تفصیل سے ملاقات ہوگی جب تک اپنا

خیال رکھیے گا جی بلکل بھائی اور زویا آپ بھی آنا رات کو کھانا ساتھ کھائے گے جیسا آپ کہی

جیٹھانی جی وہ آداب سے سرخم کر کے بولی تو تینوں ایک ساتھ ہنسے اور ہانم ہنستے ہوئے اللّٰہ

حافظ کرکے کالج کی طرف بڑھی ایان وہاں جب تک موجود تھا جب تک وہ کالج میں انٹر نہیں

ہوگئی وہ جیسی انٹر ہوئی اس نے گاڑی یونی کی جانب موڑی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
زین پلیز یہ آٹا تو نہیں لگائے چہرے پر یار ایسے تھوڑی آئے گا تمھیں پھر صحیح سے گوندھنا میں

سیکھاو گا تو تمھیں آئے گا وہ خود سے پراٹھا بنانے کی ناکام سی کوشش کررہی تھی پیچھے

سے زین صاحب بھی کچن میں گھس کر ان کو ستیاناس مارنے میں لگے ہوئے تھے صدیقی

صاحب اور فوزیہ بیگم لاونج میں بیٹھی ہوئی تھی دیکھے زین پلیز نہیں کرے نہ میں نے ابھی

ایک پراٹھا بھی نہیں بنایا ھے مما بابا کو بول کر ائی ہوں کے اپنے ہاتھ سے بنا کر کھلاو گی لیکن

آپ تنگ کررہے ھے مجھے بنانے تو دے یار زر مجھے نہ کبھی کبھی بہت حیرت ہوتی ھے کس

چیز کی حیرت ہوتی ھے آپ کو اس نے آٹے میں مزید پانی ڈالتے ہوئے کہاں یار تم کیسے اتنا

چینج ہوسکتی ہوں وہ شیلف سے ٹیک لگاتا ہوا بولا زرنش نے اس کی طرف دیکھا تو دل بے

اختیار ڈھڑکا وہ اپنی حالت سے بہت جھنجلا رہی تھی یار آپ دماغ نہ کھائے میں یعنی تمہارا

مجازی خدا دماغ کھاتا ھے ڈرو اس وقت سے زرنش بیبی جب میں میشن پر جاؤ گا اور واپس

میں نہیں میری ڈیتھ بوڈی آئے گی اس نے بے ساختہ اس کے لبوں پر ہاتھ رکھا اور نم لحجہ

میں بولی پلیز ایسی بات مت کریں خدا کے لئے مجھے میں اتنی ہمت نہیں ھے پلیز میں اب آپ

کو کھو دو اور آنسوں ٹوٹ کر گال پر پہسلا زین کو ایک دم احساس ہوا یہ زیادہ ہوگیا ھے اوئے

پاگل ادھر دیکھو اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی جانب کیا یار ایسا نہیں روتے کچھ نہیں ہوگا مجھے

بھروسہ رکھو اور میں تمھیں تنگ کرنے کے لئے بول رہا تھا اب کچھ بھی ہوسکتا ھے لیکن میں

تمھیں اور تم مجھے کہی نہیں چھوڑ کر جاؤ گی سمجھی اور بول کر ایک عقیدت بھرا بوسہ اس

کی پیشانی پر دیا اور پیچھے ہوا لیکن زر خود کو تیار رکھنا میری ڈیوٹی آسان نہیں ھے جان پلیز

نہ بولے ایسا وہ ایک بار پھر نم لحجہ میں منت کرتے ہوئے بولی اچھا سوری سوری اب نہ رونا اور

پراٹھا بناؤ یہ پھر کرو میں تمھاری مدد وہ آگے آتے ہوئے بولا نہیں نہ جائے آپ اور یہ بنانے دے

آرے ایسے تھوڑی ہوتا ھے پاگل میں بتاتا ہوں نہیں آپ کو کچھ نہیں آتا ھے آپ صرف تنگ کرے

گے مجھے جائے آپ یہاں سے باہر جاکر مما بابا کے ساتھ بیٹھے اس نے اس کو بھاگتے ہوئے کہاں

دیکھوں پھر پوچھ رہا ہوں لے لو میری مدد آرے نہیں چائیے آپ کی مدد جائے نہ دیکھ لو جاؤ ہاں

جائے دیکھ لو جاؤ آرے جائے نہ اس نے اس کا بازو پکڑ کر کچن سے باہر کیا تو وہ ہنستے ہوئے

لاونج کی جانب بڑھا جہاں صدیقی صاحب اور فوزیہ بیگم اپنی باتوں میں مگن تھے ان دونوں

کو سکون سے بیٹھا دیکھ اس کے دماغ میں کھل بھلی مچی اور وہی سے زور سے چیخا مما اٹھے

نیچے اتنا موٹا چوہا وہ بیچاری گھبرا کر کھڑی ہوئی بیگم بیٹھ جائے دیکھے وہ بغیرت ہنس رہا

ھے سکون تو لینے ہی نہیں دیتا ھے انہوں نے موڑ کر دیکھا تو وہ بے شرموں سے دانت نکال کر ہنس

رہا تھا یہ میرے ہاتھوں سے ضائع ہوجاو گے یار مما اتنا غصہ نہیں کرتے مزاق تھا مزاق وہ بول کر

اچھلتا کودتا صدیقی صاحب کے برابر میں اچھل کر بیٹھا انسان بنو انہوں نے اس کو گھور

کر کہاں زین نے ان کے گلے میں ہاتھ ڈالا اور بلکل دوستوں کی طرح بولا اور بہی صدیقی صاحب

کیا حال ھے آپ کے بچے وغیرہ ٹھیک ھے اور آپکی دل کی ملکہ کیسی ھے انسان کے بچے بن

جاؤ ورنہ تمھاری عمر کا لحاظ نہ کرتے ہوئے میری چپل سے پیٹو گے اس وقت انہوں نے کہاں تو وہ

سرعت سے ان سے دور ہوا کیونکہ جس طریقے کا آج کل ان کا موڈ تھا ان سے دور رہنے میں ہی

عافیت تھی ہماری بیٹی کہاں ھے انہوں نے کڑک لحجہ میں کہاں وہ کچن میں اپنے بابا اور مما کے

لئے پراٹھا بنارہی ھے زین نے مزہ لیتے ہوئے کہاں کتنی اچھی ھے ہماری بیٹی فوزیہ بیگم نے کچن

کی جانب دیکھتے ہوئے کہاں آپ کی سوچ ھے ماتاری کے وہ اچھی ھے ایک نمبر کی جالاد ھے وہ

ظالم ھے زین سب کچھ سن سکتا ہوں لیکن میری بیٹیوں کے بارے میں کچھ اولٹا سیدھی

بکواس آرے آپکو کیا پتہ کیا ھے وہ میرے ساتھ رہتی ھے مجھے پتہ ھے وہ کیسی ھے آپ دونوں

کو پتہ ھے وہ آگے ہوکر تھوڑا سرگوشی نما انداز میں بولا وہ دونوں بھی اس اس طریقے سےاگے

ہوکر بولنے پر تھوڑا سا قریب ہوگئے اپ دونوں کو بتارہا ہوں یہ بات بولنا مت کسی کو یہ جو زرنش

ھے نہ رات کو بلیوں کا خون پیتی ھے اور ان کے پنجے بھی نوچ نوچ کے کھاتی ھے صدیقی

صاحب نے ایک دھموکا اس کی کمر میں جڑا اور مارنے کے لئے اپنی چپل ہاتھ میں اٹھائی یار

صدیقی صاحب یہ کوئی بات نہیں ہوئی ھے وہ صوفے پر سے اٹھ کر کھڑا ہوکر بولا اس کو

نیچے کرے یار بہت زور سے لگتی ھے کیا نیچے کریں بکواس کروالو تم سے بس اچھا نہ نہیں

بولتا آپکی بیٹی کو کچھ مزاق کررہا تھا وہ واپس اپنی جگہ پر بیٹھتے ہوئے بولا حد میں رہا کرو

اپنی وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولے بابا مجھے آپ سے ایک بات کرنی ھے اس نے سنجیدگی سے

کہاں انہوں نے اس کی جانب دیکھا جو سنجیدگی سے ان کی ہی جانب دیکھ رہا تھا کیا

بولو بابا میں کل مشن پر جارہا ہوں یہ مشن بہت بڑا ھے اس میں زندگی اور موت کا کوئی علم

نہیں ھے صدیقی صاحب نے گہری سانس خارج کی فوزیہ بیگم ایک دم تڑپ کر بولی زین یہ سب

نہ کرو اور تم کہی نہیں جاؤ گے اگر ہم بوڑھے ماں باپ کا نہیں سوچ رہے ہوں تو اپنی بیوی کا

تو سوچو انہوں نے اس کا دیہان زرنش کی طرف دلایا مما بابا جب میں نے ہلف لیا تھا کہ آپنے

ملک کے ایک بھی غدار کو نہیں چھوڑو گا چاہیے کچھ بھی ہوجائے اس لئے چائے کچھ بھی ہوجائے

میں زرنش کے لئے بھی اپنے ملک کو نہیں چھوڑو گا لیکن میں آپ دونوں سے بول رہا ہوں اگر میں

کل واپس نہیں آیا تو زرنش کی شادی کسی اچھے سے لڑکے سے کروانا آپکی زمیداری ھے اس کا

خیال رکھنا بھی آپکی زمیداری صدیقی صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تھپتھپایا

مجھے فخر ھے زین العابدین تم میری اولاد ہوں انہوں نے فخر محسوس کرتے ہوئے کہاں اس کے

چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی اور وہ ان کے سینے سے لگا بابا ائی لیو یو اینڈ مس یو بابا

صدیقی صاحب کی آنکھیں نم تھی جبکہ فوزیہ بیگم زارو قطار رورہی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ابھی کیوں بھیجنا ھے غازیان نے جھنجھلا کر آپنے سنیئر سے کہاں وہ اپنے کمرے میں کھڑا فون

پر بات کررہاتھا ہاتھ میں وہ ہی زہر کا پیکٹ بھی تھا وہاں سے کچھ کہاں گیا تو وہ عجلت ۔

میں بولا دیکھے سر اپ کی بات ٹھیک ھے لیکن لیب بھیجنا ابھی ٹھیک نہیں ھے میں جانتا ہوں

آپ ٹھیک بول رہے ھے لیکن دیکھے سر ابھی انٹیٹوڈ تو ہمیں حاصل کرنے دے اس کے بعد ہی

ہم کچھ کرسکتے ھے وہ بولتا ہوا کمرے سے۔باہر نکلنے لگا پھر ایک دم روکا اور ڈریسنگ ٹیبل پر

وہ زہر رکھ کر ۔موبائیل کان سے ہی لگائے گیلری کی جانب بڑھا اس نے ایک نظر کمرے کو

دیکھا کوئی نہیں تھا اس کو اطمینان ہوا اس لئے بے فکر ہوکر وہ وہی زہر رکھ کر چلا گیا تھا اس

کے نکلتے ہی کمرے میں ہانم داخل ہوئی تھی نیچے روحہ ایان کے ساتھ کھانا بنارہی تھی کپڑے

تھوڑے خراب ہوگئے تھے تو چینج کرنے روم میں آئی کپڑے چینج کرکے ڈریسنگ ٹیبل پر اپنا عکس

دیکھتے ہوئے نگاہ اس پیکٹ پر گئی تجسس کے مارے اس کو ہاتھ میں لیکر ٹاٹولا اور اس کو

کھول کر تھوڑا سا چکہ ذائقہ مزہ کے تھا تھورا کھٹا کھٹا سا اس نے تھوڑا سا اور کھانے لگی

لیکن یاد آیا ایسا سیم۔پیکٹ اس نے غازیان کے ہاتھ میں بھی دیکھا تھا یعنی یہ غازیان کا تھا تو

واپس رکھ دیا لیکن زائقہ اتنا مزہ کا تھا ادھر ادھر دیکھا اور خود سے سرگوشی کی میں تو

بیوی ہوں ان کی تھوڑا سا کھالو گی تو کچھ نہیں جائے گا آن کا واپس ہاتھ میں پیکٹ تھاما

اور اس کو مزید کھولا اور کافی سارا اپنی ہتھیلی پر نکالا بینا سوچے سمجھے ایک ساتھ

منہ میں ڈالا اور بینا سوچے سمجھے سارا نگل گئی اس کو یہ بہت مزہ کا لگ رہا تھا تھوڑا سا

اور ہاتھ میں نکلا ابھی وہ منہ میں ڈالتی اتنے میں غازیان وہ پیکٹ لینے روم میں آیا کہ لیب

بیھج سکے وہ کمرے میں داخل ہوا اور ہانم کو وہ زہر ہاتھ میں لئے اور کھاتا دیکھ اس کے اوسان

خطا ہوگئے تھے ہانم کی نگاہ سامنے اٹھی تو آنکھیں خوف سے پھیلی اور ہاتھ فورا پیچھے

کئے کچھ بھی نہیں ھے میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اس کے ماتھے پر بے شمار بل پڑے آگے بڑھا

اور ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور اس کے ہاتھ سے درشتگی کے ساتھ وہ زہر کا کھولا ہوا پیکٹ

ہاتھ میں تھاما پیکٹ کو دیکھا تو اس میں تھوڑا سا ہی موجود تھا باقی وہ کھ چکی تھی اس نے

زہر کو ایک طرف پھیکا اور ہانم کی طرف بڑھا جو گھٹنوں میں منہ دے کر رورہی تھی ہانم اٹھو

فورا اس کے بازو سے پکڑ کا اس کو کھڑا کیا تھپڑ اتنی شدت سے مارا گیا تھا چہرہ پورا لال سرخ

ہورہا تھا چھوڑے مجھے مارتے ھے آپ وہ روتی ہوئی بولی غازیان نے ایک غصیلی نگاہ سے اس

کو دیکھا اور بازو سے ہی تقریباً گھسیٹتا ہوا واش روم میں داخل ہوا ہانم منہ دھو جلدی اور کلی

بھی کرو نہی۔۔۔نہیں کرو گی آپ برے ھے مارتے ھے ہانم وہ اتنی قوت سے ڈھاڑا وہ پوری کانپ

گئی تھی اور خود اس کی گردن پکڑ کر نل کے نیچے منہ کیا کلی کرو فورا اس کو اتنا غصہ میں

دیکھ اس نے کلی کرنا شروع کی سیدھی ہوں وہ اس کی پیٹ مسلسل مسل رہا تھا غازیان کی

جان سولی پر اٹکی ہوئی تھی وہ کافی سارا کھ چکی تھی تھوڑا سا کھاتی تو کوئی مسلہ نہیں

تھا لیکن وہ کافی کھ چکی تھی ہانم کی آنکھوں
کے سامنے اندھیرا سا آنے لگا زہر پوری بوڈی میں

جا چکا تھا اب اس نے بھی اپنا کام شروع کردیا تھا جسم بھی نڈھال ہونا شروع ہوگیا تھا وہ گیر

جاتی اگر بازو سے اس نے تھاما نہ ہوتا ہانم تم ٹھیک ہو کلی کرتی رہو اس نے پریشانی سے کہاں

اس کو اپنے آپ پر غصہ آرہا تھا کہ وہ کمرے میں وہ زہر چھوڑ کر ہی کیوں گیا ہانم اس نے آواز دی

تو اس نے اپنی بند آنکھیں ہلکی سی وا کی اور ایک دم جسم میں کوئی بجلی سی ڈوری اور منہ

واپس بیسن کی طرف کیا خون فوارے کی مانند منہ سے نکلا بس یہ وہ سما تھا جو غازیان درانی

مظبوط عصاب کا مالک پوری طرح گڑبڑا گیا تھا ہانم کے منہ سے خون کی اولٹی دیکھ اس کے ہاتھ

پاؤں اصل میں پھولے تھے اس نے ایک نظر غازیان کے چہرے کو دیکھا اور اس کے بعد وہ ہواس سے

بے گانہ ہوکر اس کے بازوؤں میں جھول گئی تھی ہانم ہانم آنکھیں تو کھولو ہانم اس نے اس کا

چہرہ تھپتھپایا لیکن وہ معصوم کلی اس کے ہاتھ میں ہی حواس سے بے گانہ جھول گئی تھی اس

نے اس کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور نیچے کی طرف بھاگا جہاں زویا روحہ ایان مزہ کا کھانا

ٹیبل پر لگائے ہانم کا انتظار کررہے تھے لیکن غازیان کے ہاتھوں میں بے ہوش وجود ہانم کا

دیکھ سب کے ایک دم پریشانی سے غازیان کی طرف لپکے بھائی کیا ہوا ھے ہانم کو روحہ نے اس

کے سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے کہاں روحہ ایان جلدی سے گاڑی نکالو ہسپتال جانا ھے زویا تم

داؤد کو ارجنٹ کال کرکے کہوں ہم ہسپتال آرہے ھے ہانم کو لیکر وہ جلدی جلدی نکلتا ہوا بولا

لیکن بھائی بھابھی کو ہوا کیا ھے ایان وقت نہیں ھے گاڑی نکلاو اس میں ہی بتاؤ گا وہ روک نہیں

رہا تھا جلدی جلدی بڑے قدموں سے مین گیٹ کی جانب قدم بڑھا رہا تھا گاڑی کے قریب پہنچ

کر پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا اس کے ساتھ زویا بھی بیٹھی اور آگے ایان اور روحہ بیٹھے اور

جلد سے جلد گاڑی مینشن سے نکال کر ہسپتال کی طرف گامزن ہوئی ۔۔۔
جاری ھے ❤️