No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
مغرور محبت26
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 26
وہ جلدی سے واشروم کی طرف گئی تھی اور فون اٹھا کر دبہ دبہ سا چلائی تیرے کو بولا ھے
اپن کو فون مت کر رات کو میسیج کیا تھا نہ کہ اپن اجائے گی رات تک اپن کی ڈیوٹی چل رہی ھے
کائے کو کھالی فوکٹ کا فون کرکے دماغ چاٹ رہا ھے اس نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہاں تجھے
اور تیرے اس بوس کو بتایا تھا کہ اپن نے ایک ہسپتال جوائن کیا ھے اور اس ٹائم اپن وہی ہوتی
ھے کائے کو فون کررہاہے پھر روحہ باجی آپ بات تو سنے میری بہت ارجنٹ ھے ہاں بھونک اس نے
کوفت سے کہاں کل رات کو اڈے پر ریٹ پڑگئی ھے رات کو انٹیلیجنس ٹیم کو کسی نے اڈے کا
ایڈریس دے دیا ھے ساری مال بازیاب کروالیا گیا ھے سر بہت پریشان ھے اور بہت غصہ میں بھی
ھے آپ کو۔بلارہے ھے روحہ نے اس کی بات تحمل سے سنی دیکھ چیل کوٹ اپن اس سب میں کیا
کرے تم لوگوں کا کام ہی ایسا ھے ان سب میں یہ سب تو ہوتا ھے تیرے کو نہیں پتا میں کیا کرے
گی وہاں آکر یہ اپن کی ڈیوٹی کا ٹائم ھے نو بجے تک اپن کی ڈیوٹی ٹائم ختم ہوگا تو اس کے بعد
اگر وقت مل گیا تو اپن اجائے گی لیکن اب ویسے کچھ نہیں ہوسکتا ھے اپنے بوس کو سمجھا اور
تم لوگوں نے وہاں پھیرہ دار نہیں چھوڑے تھے روحہ باجی چھوڑے تھے سب کو بہت بےدردی
سے مارا ھے اچھا ایک بات بتا سرفراز جی میرے پیسے تو مجھے ملے گے نہ یہ پھر تم لوگ اپنا رونا
روئے گا کہ اپن کا مال ڈیلور نہیں ہوا میرا ایک اصول ھے آپن اپنی زمیداری پر کام کروائے گی
اگر اس سے پہلے یہ بعد میں کچھ لفڑا ہوتا ھے اپن اس کی زمیداری نہیں ھے اس لئے پیسہ اپن
کو اپنا چائیے ہوگا تو میڈم آپ رات تک اجائے ڈی کے مینشن چل اپن نو بجے کے بعد آئے گی چل
فون رکھ اور بات سن ہلکٹ اب تو فون نہیں کرے گا ورنہ تیرے کو وہی ایچ آکر کتے کی موت مارے گی چل اب فون رکھ ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ نیچے آئی تو غازیان سربراہی کرسی پر بیٹھا اسی کا انتظار کررہا تھا ناشتہ اس نے بھی
اسٹارٹ نہیں کرا تھا وہ آئی تو کھڑے ہوکر اس کی کرسی کھینچی اور اس کو بیٹھایا اور ناشتہ
پلیٹ میں نکال کردیا ویسے میں آپ سے ایک بات پوچھوں وہ ہمت کرکے بولی ہمم بولوں ہم کہاں
کہاں جائے گے پہلے ناشتہ کرو کھانے کے وقت بات نہیں کرتے کھانا ہمیشہ منہ بند کرکے کھانا چاہیے
لیکن اگر ہم کھانا منہ بند کرکے کھائے گے تو ہم کھانے کیسے کھائے گے کیونکہ ہمارا تو منہ ہی بند
ہوگا ہانم منہ بند کرکے کھانے کا مطلب ہوتا ھے بات نہیں کرتے کھاتے وقت لیکن آپ تو کررہے ھے اس نے ضبط سے آنکھیں میچی اس لڑکی نے اس
کا دومنٹ میں دماغ گھمادیا تھا ہانم بلکل خاموش اور ناشتہ کرو آپ پہلے بتائے کہ ہم کہاں
کہاں جائے گے اس نے اپنی گرین آنکھوں سے اس کی طرف گھور کر دیکھا وہ جو ابھی بڑے مزہ
سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سوال پر سوال کررہی تھی فورآ زبان کو بریک لگا اور ناشتہ کی
پلیٹ پر جھکی اور وہ بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا ابھی وہ لوگ ناشتہ کرہی رہے تھے
میمونہ بیگم کی انٹری ہوئی کیا ہورا ھے بہی وہ داخل ہوئی تو غازیان سرعت سے اٹھ کر ان کے
قریب آیا اور ان کے ہاتھ پر اپنے لب رکھے ہانم اپنی کرسی کے پاس خاموشی سے کھڑی ہوئی
تھی کیسی ھے آپ میمو جان میں بلکل ٹھیک ہوں غازی زرہ سائیڈ ہوں میں اپنی بہو سے ملو
کیا ہوا ھے ہانم تم کو زویا بتارہی تھی بخار ہوگیا تھا میرے بچے کو انہوں نے اس کو پچکارتے ہوئے
کہاں اور اس کے قریب آکر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے نہیں آنٹی اب ٹھیک ہوں کیا بولا تم نے
مجھے میمو جان اس نے اپ کو آنٹی بولا غازیان نے مسکراتے ہوئے بول کر کرسی پر بیٹھا آرے بہو
بیگم کس اینگل سے میں تم کو آنٹی لگتی ہوں ہاں مانا کے میرے بچے بڑے ہوگئے ھے لیکن میں
ابھی تک جوان ہوں دیکھ رہی ہوں میری فیٹنیس انسٹا پر میرے 9.4 میلین فالورھے تم نے مجھے
فالو کیا ھے نہیں میرے پاس فون نہیں ھے ابھی کیا غازی تم نے بہو کو فون نہیں لے کر دیا ھے
جی میمو جان ناشتہ کے بعد لیکر جاؤ گا آپ بھی بیٹھے اور ناشتہ کرے ہمارے ساتھ ابھی ناشتہ کے
بعد آپ کی ہی طرف آتا میں تو کیا میں ابھی چلی جاؤ آرے یار کیسی باتیں کررہی ھے آپ کا
ہی گھر ھے تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں ھے پتہ ھے مجھے اور تم کیوں کھڑی ہوئی ہوں چلو
بیٹھو اور شاباش پیٹ بھر کر ناشتہ کرنا ٹھیک ھے اور طبعیت کا بتاؤ کیسی ھے اب وہ کرسی پر
بیٹھ کر بولی اور اس کو بھی ساتھ میں بیٹھنے کی دعوت دی جی اب ٹھیک ھے طبیعت رات کو
داود بھائی اور زویا اور ایان بھائی نے دوائی دے دی تھی تو اب ٹھیک ھے طبعیت کیا مطلب بہو
بیگم تم کو تین تین بندو نے ایک گولی کیسے پکڑائی ہوگی یہ بات ہمیں سمجھ نہیں آئی
غازیان تمھیں کچھ آتی ھے یہ بات سمجھ ہانم خجل سی ہوگئی ان کی بات سے آرے میمو جان اس کی بات کا مطلب ھے داود نے گولی زویا کو
دی اور اس نے اس کو دی اور کمرے میں تینوں
موجود تھے اس لئے ایان کا بھی نام لیا میں نے
صحیح کہاں نے اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا ناشتہ تو کرو بات صرف ایک وقت کے کھانے
کی ہوئی ھے تو ایک وقت کا کھانا ہی کھلاو گا تم کو ائی سمجھ جی اور چھوٹے چھوٹے بائیٹ
لے کر کھانے لگی ویسے ایک بات بتا تم نے مجھے کس اینگل سے آنٹی کہاں کہی سے میں موٹی
ہورہی ھوں انہوں نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دکھ بھرے انداز میں ہانم سے سوال کیا نہیں
نہیں میں تو بس اب کو آداب میں بول رہی تھی ویسے آپ بہت پیاری اور خوبصورت ھے تو وہ
اس کی تعریف سن کر کھلے دل سے مسکرائی جھک جھک جیو اب تم مجھے آنٹی نہیں غازی
ایان اور داؤد کی طرح میمو جان بول لو یہ پھر زویا کی طرح مما یہ آپ کو میمو جان بولے گی
میری طرح غازیان نے کافی کا سیپ لیتے ہوئے جیسے حکم صادر کرا ہوں اور ہانم کی طرف
دیکھا جو کنفیوز کنفیوز سی ناشتہ کرہی تھی اچھا تمھاری بیوی ھے تو تم ڈیسائیڈ کرو گے کون
کیا بولے گا میں ڈیسائیڈ کرو گی ہانم مجھے کیا بے بولے گی انہوں نے اس کو آڑے ہاتھوں لیا تو
ہانم کے چہرے پر ایک دم سے مسکراہٹ آئی جس کو بہت مشکل۔سے ضبط کیا آرے میمو جان میں
تو بس خاموش ایک دم غازی تو میری پیاری بہو تم مجھے کیا بولو گی غازیان کو ڈانٹ کر وہ
شیریں لحجہ میں ہانم سے مخاطب ہوئی جو آپ کہے ہانم نے بھی مسکرا کر کہا تو پھر تم مجھے
میمو جان کہنا آرے میں نے بھی تو یہی کہاں تھا غازیان نے احتجاج کیا تو میں بھی تو یہی بول
رہی ہوں تم خاموش رہوں بیٹے ہوں نہ بیٹے بن کر رہو باپ بننے کی ضرورت نہیں ھے میرے ہانم کو
بڑا مزہ آرہا تھا اس کی کلاس لگتے دیکھنے میں میمو جان خاموش ایک دم وہ آنکھیں چھوٹی
کرکے چیخی تو غازیان مسکراتا ہوا سر نیچے کرلیا تو بہو بیگم کیا سوچا پھر کیا بولنے کا ارادہ
ھے میں اپ کو میمو جان بولو گی ہانم نے مسکرا کر کہاں تو وہ بھی مسکرائی اور کھڑی ہوکر اپنے
والٹ سے چند ہزار کے نوٹ نکل کر دونوں کے سر پر سے وارے اور ملازم کو آواز دے کر اس کے
ہاتھ میں تھمایا غازیان ان کی محبت پر سرشار سا مسکرایا چلو میں اب چلتی ہوں آور ایک بات
اور غازیان سنڈے تک اپنا ریسیپشن رکھوں میں نے اپنے بیٹے کی شادی پر ہی اپنے سارے ارمان
پورے کرنے ھے بارات تو ہم لے کر نہیں گئے کم از کم تمھارے ولیمہ کا کھانا ہی کھالے کنجوس ارے
میمو جان ایک کام کرو ابھی تم لوگ شوپنگ پر جارہے ہوں نہ تو اپنا ریسیپشن کا ڈریس بھی لیتے آنا اور باقی کا میں اپنا دو عدد بیٹے اور ایک عدد
بیٹی کے ساتھ سارے انتظامات دیکھ لو گی جلدی جانا جلدی آنا وہ اپنی بول کر چلی گئی
اور غازیان بھی تاسف سے سر ہلا کر رہ گیا ہانم دل ہی دل میں بہت خوش تھی ریسیپشن کا سن کر
اس کو دلہن بننے کا بہت شوق تھا لیکن اس کی شادی ہی ایسے ہوئی کہ وہ دلہن نہیں بن پائی
لیکن ولیمہ کا سن کر وہ دل میں بہت زیادہ خوش تھی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کلاس۔میں ایک دم۔سناٹہ تھا بس صرف پرفیسر کی آواز ہال میں گونج رہی تھی یار زوئی میرے
ایک بات سمجھ نہیں آرہی ھے زویا جو بہت غور سے لیکچر لینے میں مہو تھی ایان کی آوز سے
ڈسٹرب ہوئی ایان ابھی چپ ہوجاو کینٹین میں بات کرے گے یار زوئی بات تو سنو تم ۔میری
دوست نہیں ہوں آرے یار پروفیسر نے دیکھ لیا نہ تو زندگی خراب کردے گے ابھی پلیز چپ ہو جاؤ
وہ غصہ سے بولی نہیں پہلے میری بات سنوں وہ تھوڑی تیز آواز میں بولا ایان یار چپ ہوجا مدثر
جو پک چکا تھا پروفیسر کے لیکچر سے وہ بھی بولا ابے یار میری ایک دفعہ بات سنوں تم دونوں
آپ تینوں پروفیسر نے ان تینوں کو پوائنٹ آؤٹ کیا جی سر ہم ایان جلدی سے ہاتھ کھڑا کر کے
کھڑا ہوا تو زویا اور مدثر نے اپنا اپنا ماتھا پیٹا اور وہ دونوں بھی مرے مرے انداز میں کھڑے
ہوئے آپ تینوں یہاں کیا باتیں کرنے آئے ھے یہ کوئی پیکنک پوائنٹ ھے میں کب سے آپ تینوں
کو باتیں کرتے دیکھ رہا ھوں سر ہم ایان نے بلکل
انجان بنتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے
کہاں جی آپ لوگ بتائے کیا پیکنک پوائنٹ ھے یہ نہیں نہیں سر کیا ہوگیا ھے آپ کو زویا اپنا چشمہ
سر تک پہنچاؤ ان کو کلاس پیکنک پوائنٹ لگ رہی ھے ایان پلیز چپ ہوجاو یہ باہر نکال دیگے
زویا آہستہ آواز میں منت کرتے ہوئے بولی اوووو زویا ایسے نہیں بولتے ہوجاے گی ان کی آنکھیں
ٹھیک وہ کیوں اپنی آنکھیں کسی غریب کو ڈونیٹ کرے بے وقوف سن کر زویا کی آنکھیں
باہر کو نکلنے کو ہوئی کلاس میں سب کا ہلکا ہلکا سا قہقہ بھی لگا آپ تینوں باہر جائے نہایت بتمیز
ھے اپ لوگ سر لیکن میں نے اور زویا نے تو کچھ نہیں کیا مدثر احتجاجاً بولا جھوٹ بول رہا ھے یہ
سر ابھی پتہ ھے کیا بول رہا تھا سر نے ویسے ہی پکا دیا ھے اتنا لمبا لیکچر دیکے اور تم بات کررہے
ہوں اپ تینوں اپنی تشریف کے ٹوکرے لیکر دفعہ ہوجاے کلاس سے ایان سب سے پہلے
کلاس سے نکلا اس کے پیچھے زویا اور مدثر بھی اس کو کوستے ہوئے پیچھے نکلے بات سنے
زویا پروفیسر کی آواز پر وہ مڑی آپ پروفیسر حیدر زمان کی بیٹی ھے نہ جی سر تف ھے مجھے
آپ پر جائے کلاس سے باہر وہ اور مزید غصہ سے چیخے وہ بھی بھاگنے کے انداز سے کلاس سے نکلے ۔۔۔
جاری ھے ❤️
