Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

مغرور محبت48
رائیٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 48

داؤد نے ایان کے کمرے کی ناب پر ہاتھ رکھا تو وہ لوک تھا پہلے تو دروازہ نوک کرنے لگا پھر یاد

آیا کہ اس کے پاس بھی اس کے کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی ھے وہ نکال کر دروازہ ان لوک کیا

دروازہ جیسی کھولا آندر کے سب منظر دھندلا دھندلا سا تھا سیگریٹ بہت مقدار میں پی گئی تھی

پورا کمرہ دھواں دھواں ہورہا تھا وہ خانستے ہوئے ہاتھ سے دھواں ہٹاتا ہوا مزید اندر داخل ہوا ایان اوندھے

منہ بیڈ پر نڈھال پڑا ہوا تھا اس کا تو دماغ ہی دھواں دیکھ کر خراب ہوگیا تھا لیکن ایان کو اس

طریقے سے دیکھ وہ ایک دم پریشان ہوکر اس کی طرف بڑھا لیکن کمرے میں سانس لینے میں بہت

دشواری ہورہی تھی جلدی سے اس نے کھڑکیوں میں سے پردے ہٹائے جس سے کمرے سے تھوڑا

دھواں کم ہوا اور جلدی سے وہ اس کے قریب ہوا ایان کیا ہوا یار آٹھ اس نے فکرمندی سے اس کا

سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے کہاں ایان انکھ کھول یار کیا ہوا ھے بتا تو صحیح اس نے انکھیں

کھولی جس میں صرف ویرانی تھی پہلے تو ماوف دماغ کے ساتھ اس کو دیکھتا رہا وہ بہت

کچھ بول رہا تھا لیکن اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لیکن جب دماغ بیدار ہوا تو صبح والا

واقع آنکھوں کے سامنے لہرایا زویا کا رویہ آنکھوں میں یاد آیا تو آنکھوں میں نمی جما ہونے

لگی اور داود کو اپنے سامنے دیکھ وہ اس کے گلے لگا پہلے تو خاموشی

سے لگا رہا داؤد بھی خاموش تھا کچھ کچھ تو وہ سمجھ گیا تھا لیکن جب کوئی ریسپونس اس

کی طرف سے نہ ایا تو پریشان ہوکر اس کی پیٹ تھپکتے ہوئے پوچھا ایان بول تو صحیح میرے

بھائی کیا ہوا ھے بول تو میرا بچہ کیا بات ھے جو چائیے بتا تو صحیح تیرا بھائی لاکر دے گا اس نے

اس کو مزید سینے میں بھینچا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا داود بھائی زویا میری زویا نہیں میں

مر جاو گا یار داود بھائی زویا وہ اس کے گلے لگے پھنسی پھنسی آواز میں بولا ایان کیا ہوا ھے اپنی

زویا کو یار ہوش میں آؤ ایان کیا ہوا ھے بتا تو صحیح میری جان اس نے اس کی پیٹ تھپکتے

ہوئے کہاں شیر بن بتا کیا ہوا ھے ایان اس کا تو دل ہی کانپ گیا تھا اس کو اتنی ہچکیوں سے

روتے دیکھ ایان کے گلے میں گھٹلی سی پھسنے لگی تھی آواز حلق سے نکلنا بھی بند ہوگئی تھی

پھر بھی ہمت کرکے بولنے کی کوشش کی بھائی آنکھیں رونے کی وجہ سے لال سرخ ہورہی تھی

چہرہ لال سرخ ہورہا تھا بال بھکرے ہوئے تھے اور اٹکتے اٹکتے ہوئے بولا زویا۔۔۔۔ بول رہی ھے اس کا

رشتہ ایا ھے اور اس نے میرے سامنے فون کرکے ہاں کردی ھے وہ اس سے الگ ہوکر نم سے لحجہ

میں کہاں چہرہ آنسوں سے تر تھا تو داؤد نے ناسمجھی سے کہاں تو کیا بھائی میں مر جاؤ گا

اگر زویا ایان کی نہیں ہوئی تو میں جی نہیں پاؤ گا کیا بول رہا ھے پتہ بھی ھے تجھے تو نے کہاں تھا کہ توجھے

محبت نہیں ھے تو پھر اتنی تکلیف کیوں ہورہی ھے داؤد نے اسکو اسی کی بات یاد دلاتے ہوئے

کہاں تو محبت نہیں ھے نہ اس سے تو پھر یہ سب کیا ھے ایان درانی اور تم کس کی اجازت سے

اپنی یہ حالت کرکے بیٹھے ہوئے ہوں غازی بھائی کو پتہ چلا نہ کہ تم نے اپنی یہ کنڈیشن کرلی ھے

خدا کی قسم وہ چھوڑے گے نہیں تمھیں بھائی مجھے زویا چاہیے میں برداشت نہیں کرسکتا اس

کا نام بھی کسی کے ساتھ لیکن تو نے کہاں تھا کہ تو محبت نہیں کرتا ھے

داؤد کی بس ایک ہی گردان تھی وہ اس کو احساس دلا رہا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ ایک بار ہی

صحیح لیکن اپنے منہ سے کنفیس کرے کے وہ زویا سے محبت کرتا ھے اس لئے اس کو بار بار ایک ہی بات بول رہا تھا

تو تو یہ بھی بول رہا تھا نہ کہ وہ تجھے ڈیسرو نہیں کرتی ھے داؤد نے اپنا لحجہ سخت کرتے ہوئے کہاں مجھے نہیں پتا

بھائی لیکن میں مر جاؤ گا اگر وہ کسی اور کی ہوئی یہ کیا پاگل پن ھے ایان درانی تم ایسا اپنی

زندگی ختم نہیں کرسکتے ہوں اور وہ تم سے محبت نہیں کرتی ھے اور اس وجہ سے ہم کچھ

نہیں کرسکتے ھے اس لئے اٹھو منہ ہاتھ دھو اور یہ جو تم نے اتنی ساری سیگریٹ پی کر اپنا حال

کی آگے اس کا جواب تو تم غازیان بھائی کو دو گے ہر حال میں داؤد کا دل کٹ کر رہ گیا تھا ایان کی ایسی کنڈیشن دیکھ وہ وہ کرتی ھے مجھ

سے محبت ایان نے کسی غیر مرئی نقتے کو گھورتے ہوئے کہاں اس نے بولا تھا مجھے لیکن

میں آلو کا پھٹا اپنے اس سڑے ہوئے منہ سے اس کو منع کردیا تھا اس کی محبت ٹھکرادی تھی

اس کی فیلنگز کو کچل کر رکھ دی تو پھر اس نے بھی وہی کیا جب میں نے کہاں تو اس نے

میری فیلنگز کو یہاں تک کے میری زات تک کو کچل کر رکھ دیا میں نے کہاں کہ نہیں تم صرف

میری دوست ہوں داؤد بھائی میں ایک بار مما کو کھو چکا ہوں مجھ میں برداشت نہیں ھے کہ میں

میمو جان کو کھو دو میں نے دیکھا ھے لوگوں کو بھچڑتے ہوئے ان رشتوں کی وجہ سے بہن بھائی

جدا ہوجاتے ھے لیکن مجھ میں اتنا ظرف نہیں ھے میں اپنی میمو جان سے جدا ہوں لیکن میں

زویا سے بھی دستبردار نہیں ہوسکتا اگر اس سے الگ ہوا تو آپ

کا ایان مر جائے گا پلیز بھائی اس نے اپنے بے بسی
سے کہاں میں سمجھتا تھا کہ میں اس سے

محبت نہیں کرتا لیکن میرے لئے یہ بہت تکلیف دہ تھا جب اس نے فون کر کے کہاں کے وہ راضی

ھے بھائی میں کب سے اس بات کی نفی کررہا ہوں لیکن میں نہیں جی سکتا اس کے بغیر مجھے

زویا چاہیے ایان درانی ادھورا ھے زویا زمان کے بغیر پلیز میں نے کہاں آس سے کہ میں محبت

نہیں کرتا لیکن میں تو اپنی زویا سے بے انتہاء محبت کرتا ہوں وہ تو میری بچپن کی محبت ھے

بھائی وہ میرے ساتھ بچپن سے ھے میں کیسے اس کو کھو سکتا ہوں بھائی پلیز مجھے زویا

چائیے داؤد بھائی غازی بھائی کو بولے نہ وہ تو ہم سے بہت پیار کرتے ھے مجھے زویا لادے میں

صبح سے فون کررہا ہوں وہ فون نہیں اٹھا رہی ھے داؤد بھائی آپ میرے بھائی ھے نہ غازی

بھائی میرے بھائی ھے نہ پلیز میمو جان سے میرے لئے زویا کو مانگ لے پلیز وہ اپنی پوری

جان سے چیخا تھا زویاااا پیچھے کی طرف نڈھال ہوکر گیرا اور آہستہ آہستہ بڑبڑانے لگا

مجھے زویا چائیے میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر داؤد بھائی نہیں رہ سکتا میں زویا اور آنکھیں

آہستہ آہستہ بند ہونے لگی تھی داؤد بے چینی سے اس کا چہرہ تھپک رہا تھا لیکن وہ ہوش میں ہی

نہیں آرہا تھا آخر میں اس نے قریب سے غازیان کا پریشان چہرہ دیکھا تھا اور آنکھیں بند ہوگئی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
روحہ سکرین کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھا ہوا تھا اور غصہ سے

کھول رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سکرین کے اندر گھس کر اس جوکر کا قتل کردیے

اس کو وہاں بیٹھے تقریباً دس منٹ سے بھی زیادہ ہوگیے تھے اس کی برداشت تھی جو کب

سے چپ بیٹھی ہوئی تھی ہائے مائے لیڈی کیسی ہوں ایک دم سے سکرین پر اس کا چہرہ نمودار

ہوا اور اس کو ٹیز کرنے کی گرز سے چیڑاتا ہوا بولا وہی اس کی تیوری چڑھی وہ جو کب سے

اپنا غصہ دبائے بیٹھی تھی ایک دم سب غصہ عود کر آیا میں تیرے کو بتارہی ھے خدا کی قسم

تو ابھی سامنے ہوتا نہ تو تیرا میں سر پھاڑ دے دیتی کتا کس خوشی میں تو نے میرے کو یہ

بکواس بات بولی ھے کہ تو میرے باپ کو بتایا گا کہ اپن کیا کرتی ھے پروفیشنل نہیں لگتا اپن کو

تو گھر بار کہاں سے بیچ میں آتا ھے اف اتنا غصہ وہ صوفے پر سر رکھ کر ایک ادا سے بولا ماں

قسم تو بچے گا نہیں تو ایک بار سامنے آجا آرے آرے ایک سیکنڈ مائے لیڈی ابے او چھچھوندر کی

اولاد تو نے مجھے آیک بار پھر بولا نہ مائے لیڈی میں تیرے کو چھوڑے گی نہیں اوکے غصہ نہیں

میری بات سن لو بھونک میں نے تم کو اس لئے ایسا بولا تھا کیونکہ تم مجھے انکار کررہی تھی

تم مجھے بول رہی تھی کہ تم مجھ سے اس ٹائم نہیں ملو گی تو میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں

تھا ابے تو سالے تو نے وقت دیکھا ھے اپن کے گھر والے اپن کا ویٹ کررہے ہوگے ابھی بولا ھے مائے

آئی مین روحہ اس نے اس کی آنکھیں دکھانے پر اپنا الفاظ ٹھیک کریں’ تم سے ضروری بات کرنی

تھی اس لئے ایسا کیا ورنہ مجھے کوئی شوق ھے تمھیں اپنے سامنے ایسے بیٹھانے کی اس نے ضبط

سے آنکھیں میچی بول کیا بات کرنی ھے تیرے کو ابھی تم کس سے مل کر آرہی ہوں روحہ کا دماغ

ٹھنکا کیا مطلب کس سے مل کر آرہی ہوں اپن کا لائف میں تو کائے کو گھس رہا ھے میری مرضی

میں کسی سے بھی ملے تو کیوں پوچھ رہا ھے نہیں بس ایسے ہی پوچھا تمھیں ایک بات بتانی

تھیں کیسی بات مجھے کسی سے محبت ہوگئی ھے تو میں کیا کرو تجھے ہوئی ھے نہ مجھے نہیں

اس لئے نکل اس نے ضبط کا گھونٹ پیا خیر اس بات کو چھوڑو تمھیں کچھ بتانا تھا آنے والی

چھبیس جنوری کو ایک گیرنٹ پارٹی ھے اس نے بات کا رخ ہی بدل دیا جہاں میں آنے والا ہوں

وہاں ڈی کے رانا اور بھی بہت سارے انڈر ورلڈ کے میمبر آنے والے ھے سب اس پینٹنگ کو خریدنا

چاہتے ھے جو ڈی کے پاس ھے لیکن مجھے ہر حال میں وہ پینٹنگ چاہیے ایک بات بتا تو میرے کو

کیوں بتارہا ھے تم مجھے وفادار لگی ہوں تمھارا کنسرن صرف پیسہ سے ہوتا ھے اس لئے تم کیو میری

مقبری کرو گی بس اس لئے ویسے سالے ایسا کیا ھے اس پینٹنگ میں جو تم سب مرے جارہے ہوں

اس پینٹنگ کو حاصل کرنے کے لئے کچھ تو ھے ایسا اب وہ نہیں بتا سکتا وہ بھی بتاؤ گا لیکن

وقت آنے پر اور اگر وہ کسی کے بھی ہاتھ لگ گئی اس کی زندگی پوری بدل جائے گی اور میں نہیں

چاہتا میرے علاوہ کسی اور کی زندگی بدلے بول کر قہقہ لگایا روحہ نے تاسف سے سر جھٹکا خیر

یہ سب باتیں ایک طرف مجھے اس پارٹی میں جانا ھے اور تم میرے ساتھ میری اسیسٹنٹ بن

کر چلو گی روحہ نے ایک آئی برو اٹھائی اور میں کیوں ایسا کرے گی کیونکہ میں ایسا بول رہا ہوں

تمھیں اس کام کی بھاری قیمت ملے گی کتنا ملا گا اپن کو اس کام کا جتنا تم بولوں گی پانچ کروڑ

روحہ نے ہوا میں تیر چلایا تھا اور وہ تو پہلی ہی بار میں مان گیا تھا ڈن روحہ نے ایک ساتھ اپنی

دونوں آئی برو اٹھائی اور کھڑی ہوئی منظور ھے اپن کو یہ بتا جانا کب ھے چھبیس جنوری کو تم

میری اسیسٹنٹ بن کر چلو گی وہاں ڈی کے بھی ہوگا روحہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ہاں

کیونکہ وہ پینٹنگ اس کے پاس ہی ھے اور وہی سیل کرنے آئے گا ہمم ٹھیک ویسے بتا تو صحیح

ایسا کیا ھے اس پینٹنگ میں اگر میں بتاتا ہوں تو مجھ سے شادی کرو گی تم ابے چل پاگل نہ ہوں

تو چھبیس جنوری تک جانا ھے نہ ٹھیک ھے لیکن میرے کو تو فون بھی نہیں کرے گا اپن راضی ھے

تیرے ساتھ جانے کے لئے اور وہ مڑ کر جانے لگی ویسے ایک بات بولو روحہ ہاں بول بلیک آؤٹ

فیٹ تم پر سوٹ کررہا ھے آئی لایک اٹ اس نے اپنا منہ واپس اس کی طرف کیا اور بے تاسر

نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تجھے اچھا لگتا ھے اپنی بیستی کروانا اس نے ہنستے ہوئے اثبات

میں سر ہلایا تو بہت ہی بڑا بغیرت ھے بغیرتوں کی بھی کئی کئی اقسام ہوتی ھے اور توجھے

پتہ ھے تو کونسی قسم کا بغیرت ھے وہ جو سب سے اول درجہ پر آتی ھے تو اس درجہ کا بغیرت

ھے بول کر وہ روکی نہیں تھی پیر پٹخ کر اپنی بائیک اڑاتی ہوئی نکل گئی تھی پیچھے اس کے

جاتے ہی اس کے چہرہ پر سے مسکراہٹ جدا ہوئی تھی اور سرد مہری آنکھوں میں آئی تھی ساری

شوخ پنا سب ختم ہوگیا تھا وہ واپس وہی ظالم جوکر بن گیا تھا جس کے لئے زندگیاں بے معنیٰ

سے تھی لیکن شاید کوئی اس کے لئے معنی رکھنے لگا تھا ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازیان پریشان سا کوریڈور میں ٹہل رہا تھا ہانم پرئیر روم میں اللہ کے سامنے رورہی تھی وہ

نہیں جانتی تھی کہ وہ اتنا کیوں رورہی ھے شاید اس نے پہلی بار بھائی کا پیار بھائی کا لمس

محسوس کیا تھا اس لئے اس کو اتنی بے چینی ہورہی تھی آنکھ بار بار بھر رہی تھی غازیان نے

آئی سی یو کو ایک نظر دیکھا اور سامنے کرسی پر سر نیچے کرکے انتظار کرنے لگا لیکن یہ انتظار

بہت زیادہ تکلیف دہ تھا وہ بھائی جس کی ایک کراش آجانے پر وہ تڑپ جاتا تھا وہ بھائی جس

کو ہر پروبلم سے وہ دور رکھتا تھا وہ آج دنیا سے بے خبر آئی سی یو میں اڈمیٹ تھا غازیان درانی

جس قرب سے گزر رہا تھا یہ صرف وہ جانتا تھا یہ پھر اس کا اللہ اس نے ایک نظر آئی سی یو کی

طرف ڈالی اور پھر اٹھ کر پرئیر روم کی طرف گیا ہانم کو گئے کافی ٹائم ہوگیا تھا وہ اس کو

اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ اس کو دیکھنے گیا تو وہ سجدہ میں تھی اور سیسک رہی تھی

وہ لڑکی کتنی احساس تھی وہ کچھ دن میں اچھے سے جان گیا تھا وہ اس کے قریب بیٹھا اور

اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اپنی گھمبیر آواز میں اس کا نام پکارا ہانم سب ٹھیک ہو جائے گا

ایان ٹھیک ہو جائے گا اتنا پریشان نہیں ہوں تم اتنا رو گی تو طبیعیت خراب ہو جائے گی تمھاری

اس نے غازیان کی آواز سنی تو وہ اٹھ کر اس کے سینے سے لگی غازیان کو اس عمل کی توقع نہیں

تھی اس لئے وہ ایک دم سٹیل ہوگیا تھا غازی جی صبح تو وہ بلکل ٹھیک تھے پھر اچانک بھائی

کو کیا ہوا اس نے بول کر ایک دم ہچکی لی غازیان کو تھوڑا ہوش ایا تو اس نے اس کے بالوں

پر دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگا ٹھیک ہو جائے گا وہ سب کو پریشان کرتا رہتا ھے نہ کافی دن

ہوگئے تھےاس کو ایسا کچھ کرے ہوئے تو اس لئے جان کر تنگ کررہا ھےبس ایک دفعہ یہ لڑکا ہوش

میں اجائے اس کی ہڈی پھسلی ایک کرو گا بہت پر نکل آئے ھے اس کے سیگریٹ پینے کی وجہ سے

ہوا ھے یہ اس نے سیگریٹ کو ہاتھ بھی کیسے لگایا اس کو تو میں بتاو گا غازیان نے اس کو

تسلی دیتے ہوئے کہاں بلکل آپ ان کو دو میری طرف سے بھی لگائے گا بلکل خیال نہیں ھے ان کو

اپنی صحت کا غازیان نے اس کو اپنے سینے سے الگ کیا اور اس کے آنسو اپنے ہاتھوں سے صاف

کیے ہانم رویا مت کرو تم نہیں جانتی یہ آنسو مجھے تکلیف دیتے ھے اس نے کسی ٹرانس کی

کیفیت میں کہاں ہانم ایک دم جھنپی اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کوریڈور میں لے آیا تھا جہاں زویا

میمونہ بیگم اور زمان صاحب پریشان سے بیٹھے تھے زویا کی رنگت لال ہورہی تھی غازیان نے

میمو جان کو دیکھا جو کھڑی پریشان سی آئی سی یو کی چھوٹی کھڑکی سے اندر دیکھنے کی

تگ دو میں تھی وہ ان کے قریب گیا اور پیچھے سے ان کو پکارہ میمو جان غازیان کی آواز پر

انہوں نے اس کی جانب دیکھا اور اس کے گلے لگی کیا ہوا ھے میرے ایان کو غازی صبح تو

ٹھیک تھا نہ وہ ابھی کیا ہوا ھے کچھ معلوم نہیں ھے آپ پریشان نہ ہوں وہ ٹھیک ہو جائے گا وہ رو

نہیں رہا تھا لیکن آنکھوں میں سرخ ڈوڑے پڑرہے تھے میمو جان پلیز مت روئے اگر آپ روئے گی تو

آپ کے غازی کو تکلیف ہوگی پلیز چپ ہو جائے میمو جان اس کی نظر زویا میں گئی جو ہانم کے

سینے سے لگی ہوئی تھی اور دونوں ساتھ میں رونے میں مصروف تھی زویا کی رنگت سرخ

ہورہی تھی یہ بات اس کو تفتیش میں ڈال رہی تھی سامنے سے پریشان زین اور زرنش داخل ہوئے

اور ان کے قریب آئے غازی بھائی سب ٹھیک ھے ایان ٹھیک ھے خادم بھائی کی کال آئی تھی

غازیان نے سپاٹ چہرے سے زین کی جانب دیکھا ادھر جاکر عزت کے دائرے میں خاموشی سے

کھڑے ہوجاو یہ نہ ہوں تم۔میرے ہاتھوں سے یہی ضائع ہوجاو وہ جو ھے اور دوسرا جو اس کو

ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا ھے وہ دونوں بھی زرہ باہر آجائیں پھر ایک ساتھ تم تینوں سے

نیپٹو گا تم تینوں کی کھال نہ صحیح سے مسالا مانگ رہی ھے وہاں جاکر کھڑا ہوں وہ ایک دم

آنکھ نکال کر ڈھاڑا زین کی غلٹی ابھر کر معدوم ہوئی ایک نظر غازیان کے سینے سے لگی میمونہ

بیگم پر ڈال کر پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا اور ایان کی خیر کی دعا کرنے لگا غازیان نے میمونہ بیگم

کو چئیر پر بیٹھایا اور پانی پلایا چپ ہو جائے آپ کچھ نہیں ہوگا اس آلو کے پٹھے کو زین ان کے

سر پر ہی کھڑا ہوا تھا تم دونوں نے جو گھٹایا

پلینگ کی تھی نہ بتاتا ہوں میں تمھیں میری کوئی غلطی نہیں تھی زین نے پھنسی پھنسی

سی آواز میں کہاں سارے گیم کے ماسٹر مائنڈ ہوں کس نے کہاں تھا یہ ارسلان کے رشتہ والا

ڈرامہ کرو یہ بولنے کی دیر تھی زمان صاحب نے اپنی نگاہ ادھر ادھر گھمائی زویا نے بے ساختہ

اپنے باپ اور غازی کی طرف دیکھا میمونہ بیگم نے بھی ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا کیا

مطلب ھے غازی میمونہ بیگم نے حیرت سے پوچھ مطلب سیمپل ھے یہ جو ارسلان کا رشتہ ایا ھے

وہ کوئی نہیں آیا ھے اس گدھے نہ ایان کی اندر کی فیلنگ جو زویا کے لئے وہ رکھتا ھے وہ جگانے

کے لئے ارسلان کا ناٹک کرا تھا جس وجہ سے یہ بچی بھی ڈیپریشن میں گئی اور وہ صاحب

زندگی اور موت کی کشمکش میں پہنچ گئے ھے مجھے کچھ نہیں آرہا ھے سمجھ میمونہ بیگم نے

سب کی جانب حیرت سے دیکھتے ہوئے کہاں غازیان اٹھا اور میمونہ بیگم کے قدموں میں بیٹھا

میمو جان آج آپ سے آپ کا بیٹا بات نہیں کررہا ھے آج آپ سے ایک بڑا بھائی بات کررہا ھے وہ اس

کو ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی میرے ایان کے لئے اپنی زویا کا ہاتھ دے دے میں وعدہ کرتا ہوں

وہ اس کو بہت خوش رکھے گا بہت محبت کرتا ھے وہ اس سے بہت چاہتا ھے جب سے یہ پتہ چلا

ھے کہ اس کی شادی ارسلان سے ہوگی تب سے اس کی یہ کنڈیشن ہوئی ھے پلیز انکار مت کرئیے

گا انہوں نے اس کی بات تحمل سے سنی اور تفصیل سے جواب دینے لگی جب ارسلان کا رشتہ

ایا تھا میں نے پہلے ہی انکار کردیا تھا کیونکہ میں جانتی تھی اپنے دونوں بچوں کو اس کو بھی

جو ہاں کرکے بخار میں تپ رہی ھے اور اس کو بھی جو ہاں سن کر آئی سی یو پہنچ گیا ھے

لیکن جب زویا نے ہاں کریں تو میں نے زمان صاحب کو ہاں کردی مجھے لگا جو مجھ کو لگتا

ھے وہ سچ نہیں ہوگا اس لئے اس نے ہاں کردی ھے لیکن مجھے نہیں پتہ تھا یہ سب ایک گیم

چل رہا ھے ویسے بھی میرے بچوں کے بہت پر پرزے نکل آئے ھے دماغ جگہ پر نہیں ھے کسی

ایک کا بھی انہوں نے کاٹ دار نگاہ زین پر ڈال کر کہی تو اس نے اپنی نگاہ چرائی داؤد آئی سی یو

سے باہر آیا اور سب کو وہاں دیکھ کر بھنچکا کر رہ گیا غازیان نے اس کی جانب دیکھا تو وہ تھوڑا

گڑبڑایا تھا ہانم فورا کھڑی ہوکر داؤد کے قریب ہوئی اور فکر مند لحجہ میں بولی بھائی کیسی

طبعیت ھے ایان بھائی کی ہوش آیا ان کو
فکرمندی کی کوئی بات نہیں ھے بھابھی وہ

ٹھیک ھے کسی بات کی ٹینشن لے لی تھی جس وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوگیا تھا اس کا لیکن

اب طبعیت اسٹیبل ھے غازیان کھڑا ہوا تم تینوں کو میں چھوڑا گا نہیں وہ ٹھیک ہو جائے اب ایک

بار صحیح سے ایک ملاقات تم سب کی مجھ سے ہوگی داؤد نے زین کی جانب دیکھا تو اس نے گلے

پر ہاتھ پھیر کر مارنے والا سائین دیا داؤد کی غلٹی ابھر کر معدوم ہوئی میمونہ بیگم کا چہرہ

یہ سب سننے کے بعد ایک دم سپاٹ ہوگیا تھا زویا کی ہچکیاں بندھ گئی تھی ہانم اب اس کی

طبیعت کا سن کر اپنے آنسو صاف کررہی تھی وہ کھڑی ہوئی اور داؤد کے قریب آئی یہ اچھا نہیں

کرا ھے تم دونوں نے اس کی سزا لازمی ملے گی اور وہ جو اندر بیٹھا ھے نہ اس کو بھی کوئی

معافی نہیں ملے گی یاد رکھنا تم سب غازی میں گھر جارہی ہوں ایک نظر روتی بلکتی زویا پر

ڈالی مجھے یہ رشتہ منظور ھے ایان کے ہسپتال سے آنے کے بعد ان دونوں کا نکاح سادگی سے

کردے گے اور ان دونوں کی پڑھائی کے بعد دھوم دھام سے رخصتی غازیان نے سن کر اثبات

میں سر ہلایا اور وہ زمان صاحب کی طرف مڑی زمان صاحب آپ سے کچھ اکیلے بات کرنی ھے

زرہ گھر چلنا پسند کرے گے آپ وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی ہانم کو بے ساختہ زمان صاحب پر

ہنسی آئی لیکن غازیان کی گھوری پر دانت اندر ہوگئے غازیان نے سب کو سپاٹ نگاہوں سے دیکھا

اور زین کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تو وہ کچھ سمجھتا ہوا اس کے پیچھے گیا کوریڈور

میں ہانم زرنش روتی ہوئی زویا کو سنبھالنے کی کوشش کررہے تھے داؤد نے ان تینوں کی۔جانب

دیکھا تو اس کو روحہ بھی ان سب میں نظر آئی تو بھولی بھٹکی مسکان اپنی چھاپ دیکھا کر

اوجھل ہوئی اور وہ سر میں ہاتھ پھیرتا ہوا واپس آئی سی یو روم۔میں داخل ہوا تھوڑی دیر میں ایان کو وارڈ میں شامل کردیا تھا

جاری ھے ❤️