No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
مغرور محبت28
رائٹر۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 28
زرنش دندناتی ہوئی زین کے آفس میں انٹر ہوئی یہ فائیل اپنے کس وجہ سے ریجیکٹ کی ھے میں
نے اس پر جب کام کرکے ایکسل کمپنی کو دینے کے لئے دے دی تھی تو تم نے کس وجہ سے اس
کو ریجیکٹ کردی ھے زین جو خود بھی اس فائیل پر ورک کرہا تھا اس کی طرف دیکھا مس
ساری باتیں ایک طرف آپ میرے روم میں آئی کیسے آپ نے مجھ سے آنے کی اجازت لی اس نے
کڑے تیوروں سے پوچھا تم بات کو مت پلٹو جو پوچھا ھے وہ بکو اپنی ٹون ٹھیک کرو لڑکی میں
تمھارا ملازم یہ پھر یہاں کام کرنے والا کوئی ورکر نہیں ہوں اس نے غصہ سے کہاں میں نے ایک۔اپنی
ایک بات پوچھی ھے کے تم نے میری فائیل کیوں ریجیکٹ کی ھے ایکسل کپمنی کو دینے والی اس
نے خود کو کپموز کیا اور تحمل سے بولی کیونکہ مس زرنش عالم اس میں بہت ساری غلطیاں
تھی جس کی وجہ سے یہ فائیل نہیں یہ جائے گی آپ کو زرہ بھی اندازہ ھے اگر فائیل میں کام غلط
ہوا تو سارا پروجیکٹ خراب ہو جائے گا اس لئے اگر آپ ایک دفعہ خود بھی دیکھوں گی تو خود
اندازہ ہوجائے گا مس زرنش عالم اس نے دانت پیس کر بولا ایک بات بتاؤ تم میں یہ اکڑ کس بات
کی ھے اس نے میز پر ہاتھ ٹکا کر کہاں اس بات کی ھے کہ میں جو بھی ہوں اپنے دم پر ہوں اپنے
باپ کے دم پر نہیں اور نہ ہی کسی کا بوائے فرینڈ بن کر لوگوں پر روب جھاڑتا پھیرتا ہوں ہ اس نے
کھلا تنز کیا اپنی اوقات میں رہوں اس نے تنبیہہ انگلی اٹھا کر وارننگ والے انداز میں کہاں تو زین
نے دلکش قہقہ لگایا وہ دنیا کے لئے تو دلکش قہقہہ ہوسکتا تھا لیکن زرنش کے لئے تو کسی زہر
جیسا ہی تھا تم مجھے بول رہی ہوں میں اپنی اوقات میں رہوں آف تم بول رہی ہوں اس نے ایک
بار پھر قہقہ لگایا زرنش کا اہانت کے احساس سے چہرہ سرخ ہورہا تھا کی۔۔کیا مطلب ھے تمھارا تم
نے خود کو کبھی دیکھا بھی ھے یہ پھر اپنی ڈریسنگ بھی دیکھی ھے اپنے باپ کے دم پر
اوڑتی ہوں اور مجھے بول رہی ہوں اوقات میں رہو میری ڈریسنگ میں کیا خرابی ھے ایک دفعہ
خود کو شیشہ میں غور سے دیکھنا سمجھ اجاےگا اور جاو یہاں سے وہ پیر پٹک کر جانے
لگی اور ایک بات اور اس کا ہاتھ دروازے کی ناب ہر تھا اس کی پکار پر روکی ضرر لیکن پلٹی نہیں
تم جو یہ بولتی پھرتی ہوں نہ کے تم غازیان بھائی کی گرلفرینڈ ہوں وہ تمھیں اپنے گھر کی
ملازمہ بھی رکھنا نہ پسند کرے کجا کے گرلفرینڈ اس لئے تمھارے دل اور دماغ میں جو خوش
فہمی کا پہاڑ ھے نہ اس کو گیرا دو انہوں نے ایک اچھی اور صاف دل لڑکی سے شادی کرلی ھے زرنش نے
پلٹ کر خونخوار نگاہوں سے اس کو گھورا ویسے ایک اور بات تم جیسی لڑکی کو تو کوئی اپنی
گلفرینڈ بھی نہ بنائے بیوی تو بہت دور کی بات ھے زرنش کی آنکھوں میں ایک دم نمی سی
چمکنے لگی سانس گھٹنے سا لگا گلے میں ایک بہت سی گیڑھا لگنے لگی وہ کچھ بولنا چاہتی
تھی لیکن حلق سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی تو دروازہ کھول کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
زین نے ناگواریت سے سر جھٹکا اور اپنے کام میں واپس سے مشغول ہوگیا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ دیکھے سر ریسیپشن کے لئے یہ بیسیٹ ھے اس لڑکی نے کوئی پچیسواں ڈریس ان دونوں کے
سامنے رکھا تھا غازیان نے اس کی طرف دیکھا تو وہ عجیب عجیب سے منہ بنارہی تھی یہ رہنے دے
کچھ اور ھے تو دیکھا دے ہانم نے اس کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر زرہ بے زاری نہیں تھی
بلکہ بہت نارمل طریقے سے اس کے ہر ریجیکٹ کیے ڈریس کو منا کررہا تھا اور نیا ڈریس منگوارہا
تھا سر ایک لاسٹ میکسی دیکھ لے نیوی بلو کر کی ھے میم پر سوٹ بھی کرے گی لیکن مجھے
تو ریڈ پہننا ھے میرا فیوریٹ کلر ریڈ ھے لیکن میم وہ تو برائڈیس برات پر پہنتی ھے اس نے منہ
بنا کر غازیان کی طرف دیکھا آپ ریڈ ہی میکسی لے آئے لیکن سر ریسیپشن پر میں نے کیا بولا ھے
آپ کو اس نے روعب سے کہاں تو دونوں ڈیزائنر ریڈ کلر میں میکسی دیکھنے اندر گئی ہانم نے
مسکرا کر غازیان کی طرف دیکھا یہ برے نہیں ھے بس غصہ کرتے ھے بہت ہلکی سی سرگوشی
دل میں کی اور خود ہی مسکرائی غازیان نے اس کی مسکراہٹ کو چونک کر دیکھا سر ریڈ میں
نہی ھے آپ ایک دفعہ نیوی بلو میں دیکھ لے اگر اچھی لگے تو ٹھیک ھے ورنہ پھر آپ کی مرضی
وہ لوگ بھی ان کو دیکھا دیکھا کر تھک گئے تھے غازیان نے ہانم کی طرف دیکھا جو اشتتیاق سے
میکسی دیکھ رہی تھی غازی جی یہ اچھی ھے غازیان نے اس کے لبوں کو دیکھا جہاں سے اس کا
نام بولا گیا تھا دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی کیا بولا تم نے اس نے بے ساختگی میں پوچھا یہ والا
ڈریس اچھا ھے کیا ہوا تو کلر میری پسند کا نہی ھے لیکن ڈیزائن بہت اچھا ہم یہ لے لیتے ھے کیسے
رہے گا وہ مگن سے انداز میں بولی تو غازیان نے سر جھٹکا یہ پیک کردے پندرہ منٹ بعد وہ لوگ
اس شوپ سے نکلے غازیان نے ہانم کا ہاتھ سختی سے پکڑا ہوا تھا مال بہت بڑا تھا اس کو ڈر تھا کہ
کہی وہ کھو نہ جائے جیسے ایک ماں اپنے بچہ کا ہاتھ سختی سے پکڑتی ھے سیم۔ایسے ہی غازیان
نے اپنی بیوی کا ہاتھ سختی سے پکڑا ہوا تھا وہ اس کو لیکر باہر کی طرف جارہا تھا ہم لوگ میری
چوڑیا نہیں لے گے ہانم میں نے منع کیا ھے نہ وہ۔نہیں میں تمھیں گولڈ کی چوڑیاں دلوادوگا لیکن
مجھے تو کانچ کی چوڑیاں پسند ھے اور اس کے ساتھ گجرے بھی ہانم اس نے تنبیہہ اس کا نام
پکارا تو وہ خاموش ہوگئی پھر میمو جان اور زویا کا سوچ کر دل ہی دل میں خوش ہوئی کہ ان
سے بول کر کانچ کی چوڑیاں منگوالوں گی یہ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر ایک ریسٹورنٹ میں گئے تھے۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سارے لاونج میں بیٹھے میمونہ بیگم کا انتظار کررہے تھے جو ان سب کو بلواکر پتہ نہیں کہاں
غائب تھی زویا اور ایان نے راستہ میں ہی داؤد کو ایمرجنسی کا بول کر بلوالیا تھا یار لیکن سب
کچھ ایک دن میں کیسے ہوگا داؤد کی جھنجلاٹ سے بھرپور آواز زمان ہاؤس کے لاونج میں
گونجی حیدر صاحب بھی تھوڑے بھکلائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے کے یہ سب کیسے ہوگا وہ بھی
ایک دن میں بہی ایک سیکنڈ میری بات سنوں ایان نے سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تو سب کو
ٹینشن میں تھے اس کی طرف دیکھا دیکھوں بہی ہم لوگ کیوں اتنی ٹینشن لے رہے ھے جب میمو
جان نے ڈیسائیڈ کرلیا ھے کہ ولیمہ ہوگا تو یعنی وہ ساری پلیئنگ بھی کرچکی ہوگی اس لئے
فضول میں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ھے ابھی وہ آئے گی سب کو سب کے حصے کا کام
بانٹ دے گی اس لئے چل گائیز بول کر پیچھے صوفے پر ٹیک لگایا ہاں ایک طرح سے بات ٹھیک
بھی ھے ایان کی داؤد نے اس کی بات سے متفق ہوا اگر ہم سب ایک ایک کام خود کے ذمے لیتے ھے
تو ٹینشن کس بات کی ہیلو گائیز داؤد جو ابھی بول ہی رہا تھا اتنے میں ہاتھ میں نیگیٹس کی
ٹیرے تھامے میمونہ بیگم کچن سے برآمد ہوئی تو تینوں سرعت سے اپنی جگہوں سےاٹھے زویا نے
ان کے پیچھے اتے مالازمہ سے چائے اور بیسکیٹ وغیرہ تھامے ایان نے نیگیٹس اور داود نے رومال
سے ان کے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا اور ان کا ہاتھ تھام کر صوفے پر بیٹھایا گائیز ریلکس ہوکر یہ
نیگیٹس اور بیسکیٹ انجوئے کرو میرے بچوں یار میمو جان اپ زرہ یہ بتائے یہ کیا شوشہ چھوڑا
ھے اپ نے ولیمہ کا وہ بھی اتنی جلدی ایان نے چائے میں بیسکیٹ ڈپ کرکے کھاتے ہوئے کہاں
جی بیگم اپنے اس نئے فیصلے پر زرہ آپ روشنی ڈالے پلیز زویا کے ہاتھ سے کپ تھامتے ہوئے بولے
ارے ارے ریلکس گائیز سب ہوجائے گا میرا غازیان سب دیکھ لے گا اب تم سب کے جو کام ھے وہ
سنو زرہ داؤد تم کھانے والوں کو دیکھوں گے ٹھیک ھے اتنی شورٹ نوٹس پر پتہ نہیں کون
راضی ہوں لیکن میں کرتا ہوں کچھ ہمم جو بھی ہوں تم دیکھ لینا اور ایان مائے بوائے تم اور مدثر
دیکھوں گے ڈیکوریشن والوں کو اوکے میمو جان اس نے نیگیٹس منہ میں ٹھونستے ہوئے کہاں اور
بچی میری لیٹل پرنسیسز تم ہانم کو دیکھوں گی مطلب اس کی پارلر کی بکنگ اس کا ڈریس
جیولری یعنی ہماری پوری دلہن تمھارے حوالے اور بیگم آپ کیا کرے گی حیدر صاحب نے جب
دیکھا کہ وہ سب کو سارے کام دے چکی ھے تو ان کو بھی یاد دلایا کے وہ بھی تو ابھی فارغ ھے
انہوں نے تو کوئی کام ہی نہیں لیا آرے حیدر صاحب آپ کو تو میں نے کوئی کام ہی نہیں دیا
آپ ایک کام کرنا آپ اپنی بیگم کی صرف تعریف کرنا کیسے میرے بچوں اوووو ایان نے چھیڑا اہم
اہم داؤد نے بھی ایان کا ساتھ دیا تو حیدر صاحب خجل سا مسکرائے لیکن ہماری میمو جان تو ان
سب کے ساتھ مل کر اپنے ہی شوہر کو چھیڑنے لگی زویا اپنے باپ کی سائیڈ ہوئی یہ کوئی بات
نہیں ہوئی آپ سب میرے معصوم بابا کو ایسے نہیں تنگ کرسکتے میرے ایک لوتے بابا ھے آرے
پاگل سب کے ایک ہی بابا ہوتے ھے مدثر نے اس کی عقل میں بات ڈالی ہاں تو جو بھی ھے میرے
بابا کو ایسے مت ستائے آپ سب اور مما آپ کیا اپنے بیٹوں کو دیکھ کر مجھے اور اپنے شوہر کو
بلکل پرایا کردیتی ھے ویری بیڈ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی آرے میری پیاری بیٹی کوئی نہیں
کرتی انہوں نے اس کو پچکارہ آرے میمو جان کیا آپ نے اس کو وہ والی بات نہیں بتائی داؤد نے
نیگیٹس کھاتے ہوئے ایک دم سیریس انداز میں بولا تو سارے اس کی طرف متوجہ ہوئے کونسی
بات انہوں نے حیرت سے پوچھا وہ ہی والی بات یار اس نے بات کرتے ہوئے ایان کو آنکھ ماری تو
وہ بھی سمجھ گیا آرے وہی والی بات ایان نے بھی ساتھ دیا اب تو زویا کو بھی کھل بھلی
مچی کونسی بات اس نے بھی آگے آکر پوچھا میمو جان حیران پریشان ان دونوں کو دیکھ رہی
پتہ نہیں کیا بات ھے ایان تو بتا میں اپنے منہ سے اتنا بڑا سچ کیسے بتاؤ اس نے دکھ بھرے انداز
میں کہاں نہیں بھائی آپ بڑے ھے آپ ہی بتائے زویا بیٹے برا نہیں ماننا یار لیکن جو سچ ھے وہ
بتارہا ہوں کیا بھائی بتا بھی دے اس نے جھنجلا کر کہاں یار تم کو ہم لوگوں نے کچرے سے اٹھایا
تھا یار مما سمجھا لے اپنے بیٹے کو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور پلیز آپ لوگ کوئی نہیں
بات لے آئے مارکیٹ میں پلیز سب نے ایک ساتھ قہقہ لگایا یار ایک کام کرتے ھے داؤد کھڑا ہوتا ہوا
بولا کام ابھی سے اسٹارٹ کرتے ھے تو سب کچھ جلدی جلدی ختم ہو جائے گا اور ہماری بھی تو
شاپنگ ہوگی نہ میمو جان میرے زمہ صرف کھانا دیکھنا ھے نہ اس نے ایک دفعہ اپنا کام پکا ان سے
پوچھ لیا ہاں اور ایان اور مدثر ڈیکوریشن کام دیکھے گے اور زویا دلہن کو باقی میں مہمانوں کو
دیکھ لو گی اور رات کو جب وہ دونوں بھی اجائے گے تو مہمانوں کی لسٹ تیار کرلے گے ٹھیک
ھے رات کا کھانا میں درانی مینشن میں کھاؤ گی اور تو بنائے گا میرے لئے صحیح ھے داؤد جی
میمو جان جیسا آپ کہے چلے میں چلتا ہوں رات کو ملاقات ہوگئی وہ بول کر باہر کی طرف نکلا
میں بھی چلتا ہوں مدثر بھی کھڑا ہوتا ہوا بولا تو میں کی یہاں انڈے بیچوں گا میں بھی چلتا
ہوں وہ دونوں نکلنے لگے تو زویا نے پیچھے سے پکارا ایان بات سنوں ہاں جیسی بھابھی ولیمہ کا
ڈریس لے کر اجائے مجھے فون کرکے بتادینا اچھا ٹھیک ھے میں تمھیں میس بیل ماردوگا کال
کیوں نہیں کروں گے میں غریب انسان ہوں میرے پاس کوئی بیلنس نہیں ھے سمجھ آئی اگر مس
بیل میں کام۔چلانا ھے تو صحیح باقی خود دس دس منٹ بعد چکر کھاکر چیک کرتی رہنا آئی بڑی
اونحہ اور باہر کی طرف چلا گیا اور زویا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔
جاری ھے ❤️
