Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

مغرور محبت 43
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no.43

آپ سے ایک بات پوچھوں غازی جی غازیان کے دل نے ایک ہارٹ بیٹ مس کی تھی اگر اس نادان

لڑکی کو پتا چل جاتا کے کیسی کو کیسا محسوس ہوتا ھے اس کا غازی جی بولنا تو وہ

شاید دوبارہ نہ بولتی ہممم ریسٹ واچ باندھتے ہوئے کہاں آپ رات کو اتنا لیٹ کیوں آئے تھے اس

نے خود کو مصروف ظاہر کرتے ہوئے کہاں غازیان یہی ٹھٹکا یہ بات تم کیوں پوچھ رہی ہوں اس نے

سرا اٹھا کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے پوچھا آپ اتنا لیٹ تو نہیں

آتے ھے پھر اتنا وقت کیوں لگا آپ کو کہی اور بھی گئے تھے آپ شادی سے غازیان مسکرایا نہیں

تھا لیکن اس کی آنکھوں سے لگا تھا کہ وہ ہنسا ھے نہیں کہئ نہیں گیا تھا میں ویسے ہانم ایک

بات بتاؤ تم کو کیسے پتہ کے میں اتنا لیٹ نہیں آتا تم تو ابھی آئی ہوں یہاں وہ تھوڑا گھبرائی

لیکن پھر خود کو کمپوز کرکے بولی وہ تو داؤد بھائی بتارہے تھے آپ جلدی آتے ھے گھر بس اس

لیے پوچھا ہمم صحیح شادی میں زرہ مسلہ ہوگیا تھا وہی دیر لگ گئی مجھے ایسا بھی کیا مسلہ

کہ آپ اتنا دیر سے آئے ہانم تم سے کسی نے کچھ کہاں ھے وہ تھوڑا سنجیدہ سا ہوکر بولا تو وہ

ایک دم گڑبڑائی نہ۔۔۔نہیں مجھے کسی نے کچھ نہیں بولا کوئی مجھے کیا بولے گا جھوٹ نہیں

پسند مجھے بتاؤ کیا بات ھے ایان نے کچھ کہاں ھے یہ پھر داؤد نے نہیں ایان بھائی سے تو کل سے

ملاقات ہی نہیں ہوئی کیوں اس سے ملاقات کیوں نہیں ہوئی تم سے ایک بار بھی نہیں ملا وہ

غازیان کے لحجہ سے وہ فکر محسوس کرسکتی تھی آپ پریشان نہیں ہوں داؤد بھائی رات کو ان

کے کمرے میں گئے تھے وہ ٹھیک ھے ابھی ملاقات ہوجائے گی نیچے ہمم چلو اور نیچے ہی بتاتا ہوں

کہ دیر کیوں ہوئی تھی غازیان نے کہاں تو سٹپٹا کر نیچے کی طرف بھاگی پیچھے وہ دل کھول کر مسکرایا تھا اس کی پھرتی پر ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
مجھے تم سب کو ایک بات بتانی ھے اس نے کہاں تو سب نے سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا

کل رات کو شادی میں ایک مسلہ ہوگیا تھا کیسا مسلہ داؤد نے پریشانی سے پوچھا کل جس لڑکے

سے زرنش کی شادی ہونی تھی اس لڑکے نے نکاح کے اینڈ مومنٹ پر انکار کردیا واٹ دونوں ایک

ساتھ بولے ہانم نے بھی نگاہیں اٹھا کر دیکھا بھائی کیا مطلب اس لڑکے نے منع کردیا لیکن کل

سے اب تک نیوز میں تو کوئی نیوز نہیں آئی غازیان بھائی داؤد پوری طرح اس کی طرف

متوجہ ہوگیا تھا ورنہ میڈیا کے کتنے میمبر تھے کوئی نیوز نہیں آئی کہ عمر عالم کی بیٹی کی

شادی نہیں ہوئی ہمم کیونکہ نکاح ہوا ھے زرنش کا لیکن زیشان سے نہیں ہوا ھے تو پھر کس سے

ہوا ھے ایان نے پوچھا تو غازیان کی نظر اس کی طرف گئی ایان کو پتا نہیں کیا محسوس ہوا اس

نے نگاہیں چرائی غازیان یہی ٹھٹکا بھائی عالم انکل ٹھیک ھے ہمم وہ ٹھیک ھے اس نے نظریں

ایان سے ہٹا کر داؤد پر مرکوز کریں زرنش کا نکاح کسی اور سے نہیں اپنے زین سے ہوا ھے کیااااااا

تینوں کی شوکڈ سے بھری آواز حلق سے نکلی یہ کیسے ہوسکتا ھے داؤد اور ایان ایک دم کھڑے

ہوئے بھائی یہ کیا بول رہے ھے آپ ایان نے قدرے جھنجھلا کر کہاں غازیان ابھی بولنے کے لئے اپنے

لب کھولتا اس سے پہلے میمونہ بیگم اور زویا مینشن میں انٹر ہوئے غازیان یہ میں کیا سن رہی

ہوں زین سے زرنش کا نکاح ہوا ھے کل رات انہوں نے آتے ہی سب کو انگنور کیا اور سیدھا سوال

داغا میمونہ بیگم کو دیکھ کر غازیان اور ہانم سرعت سے کھڑے ہوئے میمو جان آپ بیٹھے میں

آپ کو پوری تفصیل بتاتا ہوں غازیان نے سب کے شوکڈ زدہ چہرے دیکھ کر تحمل سے کہاں غازیان

ابھی میرے پاس عمر صاحب کی کال آئی تھی انہوں نے کہاں ھے کہ زین سے رات کو نکاحِ ہوا

ھے زرنش کا اور ہم سب کو کچھ معلوم ہی نہیں ھے وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی غازیان بھی

اپنی کرسی پر بیٹھا اور سب کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا کل میمو جان اس لڑکے نے نکاح کے اینڈ

موقع پر انکار کردیا تھا ساری میڈیا موجود تھی وہاں اگر داؤد موجود ہوتا تو میں اس کا نکاح

کروادیتا ایک لڑکی کی زندگی کا سوال تھا اور سر سے ہمارے کتنے پرانے تعلقات ھے ان کی حالت

بھی بہت خراب تھی جو مجھے ٹھیک لگا میں نے کردیا لیکن غازیان زین کو سخت چیڑ ھے اس

لڑکی سے بہت چیرتا ھے وہ اس دن بھی بول رہا تھا کہ کیا چیز ھے یہ لڑکی اور تم جانتے ہوں نہ

وہ کیسی لڑکی چاہتا تھا کہ جو لڑکی پردہ کرتی ہوں حجاب لیتی ہوں خود کو ڈھک کر رکھتی

ہوں لیکن اپنی زرنش میں تو ایسی کوئی خاصیت نہیں ھے تم مانو یہ نہ مانو غازی یہ

صحیح نہیں ہوا ھے جانتا ہوں میمو جان کوئی اور حل موجود نہیں تھا میرے پاس اگر داؤد ہوتا

وہاں تو کوئی پروبلم نہیں ہوتی لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا اور اگر ان کی نہیں بنی تو وہ

دونوں سمجھدار ھے آگے جو کرنا ہوگا کرلے گے آپ پریشان نہ ہوں بیٹا ٹینشن تو ہوتی ھے نہ زین

اپنا بچہ ھے اس کو لیکر تھوڑی بہت تو پریشانی ہوتی ھے ہممم تھوڑا ناراض ہوگا لیکن وقت کے

ساتھ ٹھیک ہو جائے گا اور اتنا قابل ھے وہ اپنی بیوی کو قابو کرلے گا داؤد دل ہی دل میں اللّٰہ کا

شکر کررہا تھا کہ وہ کل نہیں گیا ابھی تو اس کو بھی روحہ کے گھر جانا تھا ویسے میں ابھی اس

کے اپارٹمنٹ پر جاؤ گی دیکھوں کیا کررہا ھے
یہ لڑکا تم دلہن کو اور اس کو یہاں لے آتے میں نے

کہاں تھا میمو جان اس کو لیکن اس نے منع کردیا اور زرنش کو لیکر اپارٹمنٹ کی طرف چلا گیا

غازیان کی نظر ایان پر جارہی تھی جو بار بار زویا کی طرف دیکھ رہا تھا جس کی نگاہیں نیچے

تھی ویسے کون کون جائے گا اپارٹمنٹ غازیان نے زویا کو دیکھتے ہوئے پوچھا میں اور زوئی تو

جائے گے اور ہمیں ایان لیکر جائے گا ٹھیک ھے انہوں نے بول کر ایان کی طرف دیکھا اس نے

اثبات میں سر ہلایا اگر تم اجازت دو تو ہانم کو بھی لے جاؤ ہانم کے چہرے پر ایک بڑی سی

مسکراہٹ آئی نہیں اس کا کالج ھے فورا غریب کی مسکراہٹ چھین لی گئی تو آکر جائے گے نہ ہم

تو حل بلکل تیار تھا اس کے پاس سب نے ہانم کی طرف دیکھا تو وہ تھوڑی پزل ہوگئی نہیں تم

تھگ جاؤ گی اکر سوجانا کوئی ضرورت نہیں ھے جانے کی آپ زوئی اور ایان کے ساتھ جانا داؤد تم

چلو گے نہیں میمو جان مجھے ایک ضروری کام سے جانا ھے ہانم سن کر مسکرائی غازیان نے اس

کی مسکراہٹ کو تھوڑا حیرت سے دیکھا تھا لیکن سر جھٹک کر واپس میمو جان کی طرف متوجہ

ہوا اور ہاں یاد آیا مین بات تو میں بھول ہی گئی اچھا تم تینوں جلدی فارغ ہوکر رات کو آجانا گھر

تم تینوں سے زوئی سے ریلٹیڈ ایک بہت اہم بات ڈیسکس کرنی ھے ایان نے بے ساختہ نگاہ اٹھا کر

زویا کی طرف دیکھا تھا اس کا دل بہت تیزی سے ڈھڑک رہا تھا اس کو محسوس ہورہا تھا کہ بہت

برا ہونے والا ھے وہ تو مانتا بھی نہیں تھا کہ اس کو محبت ھے تو پھر کیوں اس کو تکلیف ہورہی

تھی ہاں وہ نہیں مانتا تھا کہ اس کو زویا زمان سے محبت ھے لیکن اس کو محبت تھی زویا سے

اس کو مغرور محبت تھی وہ مانتا نہیں تھا لیکن اس کو بہت محبت تھی اپنی زویا سے اس کا دل

کسی انہونی کا احساس اس کو بار بار دلا رہا تھا غازیان نے ایان کی طرف پھر زویا کی طرف

دیکھا ایک کے چہرے پر دنیا جہان کی بے سکونی تھی تو دوسرے کا چہرہ بلکل مرجھایا ہوا تھا

جی میمو جان اجائے گے اور میں چلو گی ہانم۔نے فورا پوچھا ایک بار پھر سب نے اس کی طرف

دیکھا ہاں ہاں میری بہو بیگم کو لازمی لانا صحیح ھے غازی اور اگر تم میری بہو کو نہیں

لائے تو تمھارے کان میں خود کھینچوں گی صحیح ھے ہانم جی صیحح ھے اس نے خوش

ہوتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا غازیان نے اس کو دیکھ کر اپنا سر نفی میں ہلایا اس کو کچھ نہیں

ہوسکتا تھا سب مسکرا رہے تھے لیکن دو دل بہت بے چین تھے ایک دل بہت اداس تھا تو دوسرا دل بہت بے سکون تھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ رات کا گیا صبح واپس آیا تھا گیٹ کے پاس اس کا گارڈ تعینات تھا اس لئے وہ تھوڑا بے فکر

تھا گھر میں داخل ہوا اور کمرے کی طرف ایا وہ اسی کے کپڑوں میں بستر پر لیٹ کر مزہ سے

سورہی تھی اور جو کپڑے اس نے پہنے تھے وہ پورے کمرے میں پڑے ہوئے تھے اس نے اتنی بے

ترتیبی کو دیکھ کر سر نفی میں ہلایا اور سامان ترتیب سے رکھنے لگا وہ اس کے پاس سے اس کا

دوپٹہ اٹھانے لگا تو اس کے گال پر رات کے مارے گئے تھپڑ کے نشان موجود تھے اس کو زرہ

افسوس نہیں ہوا تھا سر جھٹک کر اس کے پاس سے دوپٹہ اٹھا کر فولڈ کرکے سائیڈ پر رکھا اور

سائیڈ گلاس سے اٹھا کر پانی۔کا۔گلاس پیا آدھا پانی پی کر باقی کا اس پر پھینکا وہ ہڑبڑا کر

اٹھی کیا ببتمی۔۔سامنے زین کو دیکھ باقی کے الفاظ منہ میں رہ گئے اور بے ساختہ بیڈ پر

پیچھے کی طرف تھوڑا کھسکی کس کی اجازت سے تم نے میرے کپڑے استعمال کیا ھے اس نے

کڑے تیوروں سے پوچھا میرے پاس اپنے کپڑے نہیں تھے اس لئے تمھارے اس نے بول کر ایک دم

اس کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے اس کو دیکھ رہا تھا مطلب آپ کے کپڑے استعمال کرلئے

تھے زین نے اثبات میں سر ہلایا ناشتہ بنانا آتا ھے تمھیں اس نے رضائی سمیٹتے ہوئے پوچھا نہیں

اس نے سر جھکا کر جواب دیا وہ ایک رات میں ہی اس سے بہت خوف زدہ ہوگئی تھی کیوں

تمھاری ماں نے تم کو کچھ سیکھا کر نہیں بھیجا اس نے جو تنز مارا تھا یہ تنز اس کے لیے بہت

تکلیف دہ تھا آپ اسے نہ بولے میری مما نہیں ھے اس نے نم لحجہ میں کہاں میرے سامنے یہ

نوٹنکی مت کرنا زرنش تم مانتی نہیں تھی اس عورت کو اپنی ماں لیکن وہ ہر ممکن کوشش سے

تم کو اپنہ بیٹی بنانا چاہتی تھی اس لئے میرے سامنے یہ نوٹنکی نہیں چلے گی اور عزت کے

دائرے میں مجھے ناشتہ چاہے جیسے ہر بیوی اپنے شوہر کے لئے صبح ناشتہ تیار کرکے دیتی ھے ایسے ہی تم بھی دو گی اور اگر ناشتہ نہ بنانا ایا

تو کھانا بھی نہیں ملے گا بھوکی رہنا پھر سارا دن وہ سنجیدگی سے بولتے ہوئے واش روم۔میں

بند ہوا زرنش نے بے بسی سے واش روم۔کے بند دروازے کو دیکھا اور آنکھوں کی نمی صاف کرکے

بستر سے اٹھی اور کمرے سے باہر آئی لاونج کے سامنے ہی اوپن کچن تھا پہلے بالوں کا جوڑا بنایا

اور کچن میں داخل ہوئی لیکن اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے کبھی کچن کی

شکل تک نہ دیکھنے والی آج کچن میں ناشتہ بنانے کھڑی ہوئی تھی جب کچھ سمجھ نہیں آیا

تو نیچے زمین پر بیٹھ کر رونے لگی گھٹنوں میں سر رکھ وہ ہچکیوں سے رورہی تھی زین فریش

ہوکر باہر آیا تو اس کو روتا دیکھا میں بہت ظالم ہوں زرنش اگر ناشتہ نہ بنا تو واقع پورا دن بھوکا

رکھوں گا اس نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اس روتے بسورتے وجود کو دیکھ کہاں اس نے پر نم اور

شکوہ کناں آنکھیں آٹھا کر اس کی طرف دیکھا مجھے نہیں اتا ھے کھانا بنانا میں نے کبھی انڈہ

نہیں ابالا ھے میں ناشتہ کیسے بناؤ رات کو کھانا بھی نہیں کھایا تھا بھوک لگ رہی ہے مجھے ہمم

کب تک سیکھو گی کھانا بنانا کیونکہ مجھے گھر کا کھانا ہی پسند ھے بس جلد سیکھ لو گی اس

نے اپنی ہتھیلی سے اپنے گالوں سے آنسوں صاف کیے جاکر فریش ہوکر او میں جب تک ناشتہ لگاتا

ہوں وہ اثبات میں سر ہلاکر اس کے برابر سے گزار کر واش روم کی طرف بڑھی وہ جلدی جلدی

ہاتھ چلا کر ناشتہ ریڈی کرنے لگا تقریباً بیس منٹ میں اس نے ٹوس اور انڈہ تیار کرلیا تھا اور اپنے

لئے ایک کپ کافی کا وہ باہر آئی تو وہ ٹیبل پر ناشتہ سیٹ کررہا تھا اس کو ایک نظر دیکھا

گھٹنوں تک اس کی ٹی شرٹ اور ایک ٹراؤزر جو نیچے سے فولڈ کیا ہوا تھا بالوں کو جوڑے کی

شکل میں دیا ہوا تھا او بیٹھو اس کو دیکھ کر وہ بولا تو وہ بھی لب کاٹتے ہوئے اس کے سامنے والی

کرسی پر بیٹھ گئی اس کے سامنے رکھے کافی کے کپ کو ندیدو کی طرح دیکھنے لگی زین بریڈ پر

مکھن لگا رہا تھا اس کی نظر جب اس پر پڑی تو فورا اپنے کپ پر ہاتھ رکھا نہیں یہ میرا ھے میں

اگر کافی نہ پیو صبح تو سر میں بہت پین ہوتا ھے یہ میرا مسلہ نہیں ھے اگر پینی ھے تو خود

بنالو وہاں رکھی ہوئی ھے کافی اس نے صاف انکار کرتے ہوئے کہاں مجھے کافی بنانی بھی نہیں

آتی ھے زرنش یہ میرا مسلہ نہیں ھے اس نے بریڈ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہاں جس کو وہ

زبردستی کھانے لگی ویسے ایک بات بتاؤ اس کا کیا کرنا ھے اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب

دیکھا کس کا اس نے ناسمجھی سے پوچھا زیشان احمد کا اس کا کیا کرنا ھے اس کا چیپٹر میری

زندگی سے کلوز ہوگیا ھے اس نے اعتماد سے جواب دیا محبت نہیں تھی تم کو اس سے کافی

کا سپ لیتے ہوئے بولا کس نے بول دیا مجھے اس سے محبت تھی آرے ہاں تمھیں تو غازی بھائی

سے محبت تھی نہ صیحح کہاں نہ میں نے پلیز اسی بات مت کرو کیوں اس میں چھپانے والی

کیا بات ھے رات کو ہی بول رہے تھے نہ آپ کہ میں آپکی بیوی ہوں تو پھر اس شخص کا کیوں

ذکر کررہے ھے آپ زرنش نے اس کو اسی کی بات یاددلاتے ہوئے کہاں اس نے داد دیتی ہوئی آئی برو

اٹھائی یاد ھے اچھے سے اور امید کرو گا تم بھی یہ بات کبھی نہ بھولو خود کی حفاظت میری

امانت سمجھ کر کرو ایک بات یاد رکھنا زرنش عورت کی عزت بہت نازک ہوتی ھے بلکل کانچ

کی مانند اگر ایک بار بھی درار اجائے سب کچھ خراب ہوجاتا ھے جیسے ایک کانچ پر سے وہ نشان

کبھی نہیں جاتا ایسے ہی عورت کی زات پر کبھی کوئی نشان اجائے تو وہ کبھی نہیں جاتا اس لئے

بول رہا ہوں اپنی حفاظت میری امانت سمجھ کر کرنا جو عورت خود کو چھپاکر رکھتی ھے نہ وہ

بہت اعلیٰ مقام رکھتی ھے میری نظر میں تو امید کرو گا تم بھی اس بات کا خیال کرو گی باقی

تمھاری مرضی ھے اور اس زیشان کو اتنی آسانی سے مت جانے دو اس نے ساری دنیا کے سامنے

تمھیں رسوا کرنے کی کوشش کی ھے میرا فرض تھا تمھیں سمجھانا جو میں کر چکا ہوں میرا

ہوگیا ھے سامان رکھا ہوا ھے میری واپسی رات تک ہوگی خود پکا کر کھ لینا کوئی آئے تو دروازہ

پوچھ کر کھولنا اللّٰہ حافظ رات کو ملاقات ہوگی اس کو بول کر وہ روکا نہیں تھا وہ چلا گیا تھا

لیکن زرنش کو بہت بڑی کشمکش میں چھوڑ کر چلا گیا تھا
جاری ھے ❤️