No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
مغرور محبت 24
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 24
وہ زویا کو چھوڑ کر روم میں آیا تو نظر ہانم پر پڑی جو دنیا مافیا سے غافل نیند کے مزے لے رہی
تھی وہ ارام سے چلتے ہوئے اس کے قریب بیٹھا اور اپنی ہتھیلی اس کے ماتھے پر رکھی ماتھا
جل رہا تھا ابھی بھی لیکن جیسے پہلے تھی اس سے کم وہ کھڑا ہوا اور باہر گیا ٹھیک دس منٹ
بعد جب وہ روم میں آیا تو ایک باؤل ہاتھ میں تھا جس میں ٹھنڈے پانی کی پٹی تھی قریب
بیٹھ کر اس کے سر پر رکھی ہانم تھوڑا کھسمسائی پھر واپس دوسری طرف منہ کرلیا
دوبارہ پانی میں ڈپ کر کے اس کے ماتھے پر رکھی تو اس نے جھنجلا کر پٹی ہٹانے کی کوشش
کی تو غازیان نے ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور ایک بار پھر ٹھنڈی پٹی اس
کے ماتھے پر رکھی کم ازکم یہ عمل اس نے آدھے گھنٹے تک کیا جب اس کو لگا کہ بخار تھوڑا کم
ہوا ھے تو باؤل اوپر والے کچن میں رکھا اور خاموشی سے اس کے پہلو میں لیٹا اور سر کے
نیچے ہاتھ رکھ کر اس کے معصوم اور ستے ہوئے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا اس کے دماغ میں
صرف ایک نام گھوم رہا تھا فائزہ جس نے ہانم کو اتنا بری طریقے سے رولایا تھا وہ کل اس کے کالج
جائے گا اس نے پورا دماغ بنایا ہوا تھا ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور کروٹ بدل کر آنکھیں موندلی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ کوئی کچی بستی تھی اس لئے بائیک تھوڑی دور ہی پارک کرکے وہ پیدل چل کر آرہی تھی رات
کا کوئی دو یہ ڈھائی کا وقت ہورہا تھا سب سے بے پرواہ وہ بس کسی کی تلاش میں تھی نظرے
ہر جگہ کا جائزہ لے رہی تھی ہر جگہ سناٹہ تھا نہ کوئی چرند تھا نہ پرند ہر جگہ گہرا سناٹہ سامنے
اس کو ایک دکان نظر آئی جہاں دور سے ہی پتہ چل رہا تھا وہاں اس وقت کیا ہورہا ھے اس کو
اپنے مطلب کی جگہ دیکھی جو وہ ابھی سست قدموں سے چل رہی تھی وہی بڑے بڑے قدم اٹھا
کر اس دکان کے پاس پہنچی تو سامنے چار لڑکے شراپ نوشی کررہے تھے اس نے اونچی آواز میں
پوچھا تم میں سے اختر کون ھے سب نے آواز کے تعاقب میں دیکھا تو بلیک پینٹ بلیک ہی شرٹ
اور بلیک کیپ اور چہرہ پر بھی بلیک ماسک لگایا ہوا تھا دیکھنے والوں کو یہی لگتا کہ لڑکا ھے لیکن
آواز سے پتہ چل گیا تھا کہ لڑکی ھے وہ کوئی چار لڑکے تھے تینوں کی آنکھوں میں صاف ہواس
دیکھائی دے رہی تھی آواز سن کر اختر کھڑا ہوا میں ہوں اختر میڈم جی کوئی کام تھا مجھ سے
اس نے خباثت سے ہنستے ہوئے کہاں پیچھے ہاتھ میں جو تیزاب کی بوتل چھپائی ہوئی تھی آہستہ
آہستہ اس کا ڈھکن ڈھیلا کرنے لگی ارے تو ہٹ میں بات کرو گا میڈم جی کچھ چائیے دوسرا
والا بھی لڑکا کھڑا ہوکر قریب آنے لگا جیسےوہ اس کے کندھے کو ٹچ کرتا اس نے اختر کے منہ پر
تیزاب پھیکا اور دوسرا والا کے برابر سے لوہے کی راڈ اٹھا کر سر پر ماری اور اس کے پیٹ میں ایک
گھماکر لات رسید کی دو اور لڑکے جو بلکل ناشے میں ہورہے تھے اختر کی دل دہلا دینے والی
چیخوں سے ہوش میں آئے روحہ کے قریب بڑھتے اس نے ایک کی گردن میں ہاتھ ڈال کر مڑوڑا اور
ایک کے پیچھے سے کمر پر لات رسید کرکے اس کا سر پکڑ کر دیوار میں مارا نظر گھروں کی طرف
گئی تو کچھ گھر کی لائٹ جلتے دیکھی اختر کی چیخوں سے محلہ والے اٹھنا شروع ہوگئے تھے
اس لئے ان سب کو ایک نظر دیکھ کر جلدی سے اس علاقے سے۔ نکلی اور پیچھے مڑ کر دیکھا
جہاں سب ان چاروں کی طرف آرہے تھے وہ پیچھے سے پر اسرار سا مسکرائی اور دل میں
بولی تم جیسے کو اس سے بھی بتر موت ملنی چائیے اپنی بائیک اسٹارٹ کی اور راستہ
پیچھے چھوڑے اپنی بائیک کو اڑاتی ہوئی آگے نکل گئی ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آپ کو غازیان سے پوچھنا چاہیے تھا ایسے کیسے وہ کسی کو بھی میمبر شیپ دےسکتا ھے وہ
رات سے ہی عمر صاحب کا دماغ کھ رہی تھی وہ ایک ہی بات رات سے اس کو سمجھا رہے تھے کہ
اب کچھ نہیں ہوسکتا ھے ڈیڈ میں اس دو ٹکے کے انسان کے ساتھ کوئی کام۔نہیں کروگی یہ میرا
فائینل ڈیسیجن ھے ہر کسی کو مجھ سے مسلہ ھے ڈیڈ میں نے آپ کو بتادیا ھے زرنش لیکن ہم
کچھ نہیں کرسکتے ھے مجھ سے غازیان پہلے بات کرچکا تھا اور مجھے کیا پروبلم ہوسکتی تھی اس
لئے میں نے ہاں کردی تھی اب میں کچھ نہیں کرسکتا ویسے ایک بات بتاؤ انہوں نے آملیٹ کو
فوگ کی مدد سے کھاتے ہوئے پوچھا تمھیں اس لڑکے سے پروبلم کیا ھے اس کے سامنے زین کا
جتاتا ہوا انداز سامنے لہرانے لگا تو اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی ایک نمبر کا لوفر بتمیز اور
اننوئینگ انسان ھے زرہ بات کرنے کی تمیز نہیں ھے کہی سے بھی پروفیشنل نہیں ھے اس لئے مجھے زرہ پسند نہیں ھے کچھ نہیں کرسکتے آپ اپنی
بیٹی کے لئے ڈیڈ میں جارہی ہوں آفس گڈ بائے پیر پٹک کر آفس کے لئے نکل گئی وہ بس اپنی
اس جلد باز بیٹی کو تاسف سے دیکھتے رہ گئے اور سر نفی میں ہلایا ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ویسے بھائی مجھے لگتا ھے ہم بھائی کے دل میں محبت پیدا نہیں کرے گے وہ الریڈی ہانم بھابھی
کے عشق میں گوڈا گوڈا گرفتار ھے لکھ لے آپ داؤد ہسپتال جانے کے لئے ریڈی ہورہا تھا اور ایان
یونی ورسٹی کے لئے بلکل ریڈی بیٹھا داؤد کا دماغ کھانے میں لگا ہوا تھا لیکن تمھیں کیسے پتہ
کہ بھائی الریڈی بھابھی سے محبت کرتے ھے یار آپ نے دیکھا نہیں تھا کل کس طریقے سے میری
بیستی کررہے تھے اور آپ کو تو پتہ ھے ساتھ بجے کے بعد میمو جان کے بغیر زویا کی انٹری بند
ہوتی ھے اور اس کی انٹری تو اپنے خود کے گھر سے بھی بند ہوتی ھے لیکن کل ان کو جانا تھا تو
اس کو گھر بلوایا میری تو حیرت ہی ختم نہیں ہورہی ھے اور ایک چیز اور جب بھائی کسی ضروری کام سے جاتا ھے تو تھوڑا لیٹ آتے
ھے لیکن کل کتنی جلدی واپس آگئے تھے ہاں یار یہ چیز تو میں نے بھی کل نوٹ کی پتہ نہیں
کیوں ایان مجھے ایسا فیل ہورہا ھے کہ بھائی بھابھی کو پہلے سے جانتے ہوں صیحح کہاں نے
میں نے آرے وہی تو ورنہ دو دن میں کون کس کی اتنی فکر کرتا ھے میں اپ کو بتارہا ہوں بھائی
کو بھابھی سے مغرور محبت ھے مطلب داؤد نے اچھنبے سے پوچھا مطلب یہ کہ بھائی کو بھابھی
سے محبت تو ھے لیکن وہ کبھی اس چیز کو ایکسیپٹ نہیں کرے گے کہ ان کو بھابھی سے
محبت ھے وہ اپنی مغروریت میں ہی رہے گے لیکن بھابھی کا خیال ضرور رکھے گے میں۔نے
دیکھا یار کیسے وہ پریشان ہورہے تھے اچھا چل فلسفہ نگار یونی کے لئے نکل میں بھی ہسپتال کے
لئے نکلتا ہوں اس نے ہستے ہوئے کہاں ویسے داود بھائی مجھے آپ پر ایک شک ہورہا ھے ایان کھڑا
ہوتا ہوا بولا کیسے شک اتنا تو آپ کبھی تیار ہوکر نہیں جاتے ھے ہسپتال نئی نئی شرٹ نئی نئی پینٹ اور
آج تو بال ہی نہیں بن رہے ھے کسی ڈاکٹرنی یہ پھر نرس پر دل تو نہیں آگیا انسان بن جا ایان
مار کھائے گا تو میرے ہاتھ سے آرے آرے مار کیوں کھانی ھے میں ہی آپ کی لوسٹوری کو مکمل
کرواؤ گا مجھ غریب کو ہی مارے گے ایان نہیں کر وہ ہنستے ہوئے باہر بھاگا داؤد نے بھی اپنی
ڈریسنگ کو لاسٹ ٹائم دیکھا اور شہانہ چال چلتا ہوا ہسپتال کے لئے نکل گیا ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
آرے بیگم تم نے روحہ کو اٹھا دیا صدیقی صاحب نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا جی میں نے
اٹھا دیا ھے وہ آرہی ھے نیچے لیکن صدیقی صاحب مجھے یہ نوکری سمجھ نہیں آرہی کل یہ
بہت دیر سے آئی تھی پتہ نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا ھے آرے ہسپتال کا کام ھے وقت تو
لگے گا اور ویسے بھی تم کو ہی تھی اچھی بھلی وہ میرے ساتھ میرا ریسٹورنٹ دیکھ رہی تھی
اب مجھ بوڑھی ہڈیوں میں جان کہاں ھے کہ میں اکیلے دیکھوں کل بھی اتنی پریشانی ہورہی
تھی کس نے کہاں میرے باپو بوڑھا ہوگیا ھے فوزیہ بیگم نے روحہ کو نیچے آتے دیکھا تو جھٹ
سے کچن کے اندر گئی سالے اس کو وہی ایچ کاٹ کے پھینک دے گی اپن جس نے تیرے کو بوڑھا
کہاں تو تو ابھی جوان ھے یار وہ زینے سے نیچے ڈائنگ کی طرف آتے ہوئے بولی تو صدیقی
صاحب نے مسکرا کر روحہ کی طرف دیکھا او بیٹھوں ناشتہ کرو یار نہیں باپو اپن الریڈی لیٹ
ہوگئی ھے تو اپنا خیال رکھ اور دیکھ ہوٹل میں زرہ سی بھی پریشانی ہوں اپن کو فون کردیو اپن
اجائے گی ٹینشن لینے کا نہیں ٹینشن دینے کا اور زیادہ مسئلہ ہوریلا ھے تو کام والے زیادہ رکھ لے
ویسے بھی آج کل جوب کی بہت لوگوں کو ضرورت ھے ہاں ہاں تم ٹینشن نہ لو سب ٹھیک
ھے ویسے تیری آئٹم نہیں دیکھ رہی ھے صبح سے صرف اٹھانے آئی تھی اس نے کچن کی طرف
دیکھتے ہوئے پوچھا اس نے سن لیا نہ تم نے پھر اس کو آئٹم بولا ھے بہت غصہ کرے گی اس کے
پاس سالا کوئی کام ایچ نہیں ھے بس خالی فوکٹ میں غصہ کرتی رہتی ھے پتہ نہیں کب
سدھرے گی بول کر دونوں باپ بیٹی نے قہقہ لگایا چل اپن چلتی ھے ماتاری اپن جارہی ھے
خیال رکھنا اپنا آرے روحہ روک ایک سیکنڈ کچن سے ہی انہوں نے آواز لگائی اب پتہ نہیں کیا کام
ہوگا تیری آئٹم کو میرے سے وہ بول کر دھپ سے صوفے پر بیٹھی ویسے روحہ تم کل رات کو کہاں
تھی روحہ کو اس سوال کی توقع ہر گز نہیں تھی اس لیے وہ پوری گڑبڑا گئیں تھی اپن۔کہاں
ہوگی گھر پر ہی تھی اس نے تھوڑا گڑبڑاتے ہوئے کہاں تو صدیقی صاحب نے جانچتی نگاہوں سے
اس کو دیکھا روحہ مجھ سے بھی جھوٹ بولوں گی تمھاری ماں نے بتایا ھے کہ رات کو تم دیر سے
آئی تھی باپو یار اپن وہ بات بنانے کی کوشش کرنے لگی دیکھوں روحہ تم میرے لئے بہت اہم
ہوں ایک بات اپنے دماغ میں بیٹھالو کچھ الٹا سیدھا مت کرنا میں کبھی ساتھ نہیں دوگا تمھارا
اپنی زات سے کسی کو نقصان مت پہچانا روحہ نے سنجیدگی سے اپنے باپ کو دیکھا اور کھڑی
ہوئی باپو زندگی میں شاید ایک دفعہ سر جھکا تھا اپن کی وجہ سے اپنی زات سے تو ایک دفعہ
میری وجہ سے رویا تھا اب کبھی دوبارہ یہ نہیں کرو گی میرا وعدہ ھے تیرے سے چل میں نکلتی
ہوں روحہ میری بات سنوں چل خیر ھے باپو ماتاری کو بول دینا اپن چلی گئی لیٹ ہورہی تھی
جاری ھے ❤️
