No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
مغرور محبت15
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 15
سرفراز ابھی تک پہنچا کیوں نہیں ڈی کے نے نومی سے اپنی گرجدار آواز میں پوچھا سر وہ
بس نکل گیا ھے ابھی یہاں تھوڑی دیر میں پہنچنے والا ہوگا اس نے سر جھکا کر آداب سے
جواب دیا ہمم ٹھیک باہر پتہ کرو رانا آیا کے نہیں جی جی سر ابھی پتہ کرتے ھے وہ جیسی لاونج
سے باہر جانے لگا سامنے سے رانا آتا ہوا دکھائی دیا تو وہ سر جھکا کر سائیڈ پر ہوگیا لو آگیا میرا
شیر کیسا ھے ڈی کے نے کھڑا ہوکر اس کا استقبال کیا اور رانا کے بغیل گیر ہوا میں ٹھیک
ڈی کے تو بتا کیسا ھے رانا صوفے پر بیٹھتے ہوئے خوشدلی سے بولا میں بلکل ٹھیک تو بتا سب کچھ ٹھیک چل
رہا ھے کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ھے رانا نے فکرمندی سے پوچھا نہیں یار سب ٹھیک ھے
کوئی ٹینشن والی بات تو نہیں ھے بس اللّٰہ اللہ کرکے ہفتہ کو ڈیلوری ساتھ خریت سے ہوجائے
میری یہی دعا ھے ڈی کے نے بول کر چہرے پر ہاتھ پھیرا ہاں ہاں کیوں نہیں سب کچھ ٹھیک
رہے گے ویسے لڑکیوں کو رکھا کہاں ھے ابے اپنے پرانے اڈے پر ھے لڑکیاں اچھا ٹھیک ھے یار مجھے
بس ایک پریشانی ھے اس ایگل کی کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے کے یہ کون لڑکی ھے اور اس غازیان
درانی پر مجھے بہت شک ہورہا ھے میں نے اپنے بندے کو اس پر نظر رکھنے کے لئے کہاں تھا تو وہ
بتا رہا تھا کہ ایک بلیک کلر کی پینٹ شرٹ اور منہ پر ماسک تھا مجھے وہ لڑکی ایگل لگ رہی
ھے اس غازیان سے تو میرے بہت حساب نکلتے ھے رانا نے اس کی بات سن کر زہر خندہ لحجہ
میں کہاں تو ڈی کے نے اچھنبے اس کی جانب دیکھا مجھے ایسا کیوں لگ رہا ھے رانا تو مجھ
سے کچھ چھپا رہا ھے سچ سچ بتا کوئی ٹینشن والی بات ھے ڈی کے نے رانا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہاں یار ڈی جو غازیان درانی کا جو باپ ھے
نہ رحمن درانی اس کی وجہ سے میرا بھائی اس دنیا میں مجھے چھوڑ کر چلا گیا میں نے رحمن
کو تو کتے کی موت مار دیا اور مارتے ہوئے اس کو کہاں تھا کہ اس کے خاندان کو نست نابود کردو
گا اس کا جو دوسر بھائی داود اور چھوٹا۔ بھائی ایان ان دونوں کو تو میں نے طور دیا تھا ان کی گڑیا کو
چھین کر لیکن اس غازیان نے ان لوگوں کو واپس سیٹل کردیا لیکن۔ اب میں نے سوچا ھے غازیان
درانی کو برباد کردو گا اس کی جو بیوی ھے نہ میرے ڈپارٹمنٹ کا ایس پی کی بیٹی سے شادی
کی اسی کے ہاتھوں اس کی بیٹی کو مرواؤ گا تب ٹوٹےگا وہ غازیان درانی اس کے بعد ایک ایک کر
کے اس کے بھائیوں کو ختم کردو گا رانا نے بول کر نفرت سے آنکھیں پھیری تو ٹینشن نہ لے تیرا
دوست تیرے ساتھ ھے ڈی کے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہاں ویسے جیسے ہم دونوں سوچ
رہے ھے کہ ایگل اور درانی ساتھ ہوئے تو مسلہ ہو جائے گا ڈی کے یار ہاں یار یہی تو مسئلہ ھے
چل چھوڑ ٹینشن نہ لے تو مجھے ویسے کسی لڑکی کا بتا رہا تھا وہ یہ سب کام اپنی نگرانی
میں کرواتی ھے لیکن جب وہ سب کروادیتی ھے وہ ریٹ پڑجاتی ھے کیا یہ بات صحیح ھے ابے ہاں
یار لیکن پچھلی بار جب میں نے اسی وجہ سے یہ کنٹریکٹ کسی اور کو دیا تھا تو رستہ میں ہی
ریٹ پڑھ گئی تھی اس لئے سارا نقصان میرا ہوا تھا اس لئے میں نے واپس اس کو رکھ لیا ھے ڈی
کے نے بول کر گھڑی کی جانب دیکھا تو کسی کا انتظار کرہا ھے ہاں یار سرفراز کا وہ روحہ کے
پاس گیا ھے بتانے تین لڑکیاں مزید بڑھ گئی ھے اور ڈیلوری کل نہیں ہفتہ کو ہوگی یار ڈی کے
مجھے ایک بات ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ھے اس لڑکی کی کیا مطلب ڈی کے نے تھورا حیران
ہوکر پوچھا مجھے اس لڑکی میں جھول لگ رہا ھے اس نے کچھ پرسوچ انداز میں کہاں یار تو تھوڑا کھول کر بتا رانا یار تو خود بتا
یہ لڑکی پھچلی ڈیلوری کے وقت نہیں تھی تو راستہ میں ہی ریٹ ہوگئی اور حکومت نے سارا
مال ضبط کرلیا اور اس سے پہلے والی ڈیلوریوں میں یہ ہوتی تھی تو سامان ڈیلور ہونے کے بعد
پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ھے جب تک ہم اس لڑکی سے کونٹیکٹ میں نہیں تھے سب کچھ
ٹھیک چل رہا تھا جب سے اس سے رابطے میں آئے ھے تب سے یہ سب چودر پنچایت ہورہی ھے یار
مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ھے پتہ نہیں کیوں لیکن میری چھٹی ہنس بول رہی ھے یہ جو اج کل اپنے
کام میں ایگل آڑے لگا رہی ھے ہوں نہ ہوں اس ایگل سے کوئی تعلق تو ھے روحہ کا رانا بول رہا
تھا اور ڈی کے اس کی بات کو بہت تحمل سے سن رہا تھا اتنے میں سرفراز انٹر ہوا اسلام علیکم اس
نے بلند آواز میں سلام کیا ابھی ڈی کے کچھ بولنے لگا تھا دونوں سرفراز کی طرف متوجہ ہوا تمھارا
ہی انتظار کررہا تھا میں ڈی کے سرفراز کی طرف گھوما کیا انفورمیشن ھے انفورم کردیا تم نے
روحہ کو جی سر میں نے ان کو انفورم کردیا ھے اور یہ بھی بتادیا ھے کہ ڈیلوری جمعہ کو نہیں
ہفتہ کو ہوگی ہمم ٹھیک ھے وہ کیا بول رہی ھے سر وہ کچھ بولتی اس سے پہلے وہ بزنس مین
نہیں ھے غازیان درانی جس پر آپ کو شک ھے کہ یہ ہمارے کام میں آڑے لگا رہا ھے اچانک وہ وہاں
آگیا تھا روحہ کی اور اس کی بہت خطرناک قسم کی لڑائی ہوئی ھے اپ جانتے ھے روحہ کو ایک دم
غصہ آجاتا ھے وہ بھی بہت زیادہ غصہ میں آگیا تھا لڑائی کس بات پر ہوئی وہ روحہ کا ریسٹورنٹ
خریدنا چاہ رہا ھے اور آپ کو پتہ ھے نہ کس قدر اپنے باپ کے ریسٹورنٹ سے لگاؤ ھے ہم لوگوں کو
بھی منع کرتی ھے کہ میرے باپ کی روزی روٹی کی جگہ ھے یہاں مت آیا کرو وہ بتا رہا تھا اور
دونوں کے چہرے پرسکون ہورہے تھے اچھا ایک کام کرو سرفراز تم جاؤ اور ایک دفعہ اڈے پر چکر لگا لو
جی بوس بول کر وہ ناک کی سیدھ میں مینشن سے باہر نکل گیا تو ڈی کے واپس رانا کی طرف متوجہ ہوگیا ۔۔۔۔۔
=×=×=×=×=×=×=×=
ہانم غازیان کا ہاتھ تھامے نیچے آئی وہ اوپر ہی پیزہ اور برگر کا آڈر دے چکا تھا ایان اور داؤد
اپنے کمروں میں جانے کے بجائے لاونج میں ہی سر ہاتھوں میں دیئے بیٹھے تھے غازیان نے ان دونوں
کی طرف اپنی گرین آنکھوں سے دیکھا اور ہانم نے ان دونوں کو دیکھ کر نظرے دوسری جانب
کرلی ان دونوں کو جب کسی کی نظر خود پر محسوس ہوئی تو سر اٹھا کر دیکھا تو ہانم
غازیان کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی اور غازیان ان دونوں کو دیکھ کم اور گھور زیادہ رہا تھا ان
دونوں کو جب اپنی طرف حیرانی سے دیکھتا پایا تو ڈانٹنے والے انداز میں بولا کیا کررہے ہوں
تم دونوں اس وقت یہاں دماغ جگہ پر ھے تم دونوں کا کوئی وقت ھے اس ٹائم بیٹھے ہوئے ہوں
وہ غصہ میں ڈھاڑا دونوں اس کے رویہ پر گڑبڑا کر کھڑے ہوئے اور ہانم نے بھی اچھنبے سے اس
کی جانب دیکھا اوپر تو بول رہا تھا کہ ان کو بھی بول دے گا داؤد گھبرا کر بولا جی۔۔۔جی بھ۔۔
بھائی ہم کمرے میں جا رہے تھے داؤد کمرے کی طرف بڑھا اور ایان اوپر بھاگنے لگا روک جاؤ اب
میں نے کھانا آڈر کرا ھے یہ کھالو اس کے بعد چلے جانا اور آئیندہ نہ دیکھوں تم دونوں کو میں اس
وقت تک جاگتا ہوا بول کر ہانم کو لیکر ڈائینگ کی طرف بڑھا وہ دونوں بھی اس کی طرف
بڑھے ہانم تھوڑا لڑکھڑا کر چل رہی تھی تو داؤد جلدی سے ہمقدم ہوا بھابھی اگر آپکے پاؤں میں
پین ہورہا ھے تو کوئی میڈیسن دو کیا ہانم نے داؤد کی طرف دیکھا اور خفگی سے منہ پھیر لیا
غازیان نے حیرت سے دونوں کی طرف دیکھا مطلب ایان کے ساتھ ساتھ داؤد کی بھی دوستی
ہوگئی خود بیٹھنے سے پہلے ہانم کے لئے کرسی کھنچی اور اس کو آرام سے بیٹھایا داؤد اور ایان
معنی خیز سے ہنسے اور سامنے والی اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور غازیان بھی سربراہی کرسی
پر بیٹھا اتنے میں خادم ہاتھ میں پیزہ کے باکس اور شاپر بیگ میں برگر لیکر داخل ہوا تو داؤد
سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھا کیونکہ ہانم کا دوپٹہ کندھے پر تھا جو داؤد کو اچھا نہیں لگا
غازیان نے اس کو اتنی جلدی اٹھتے دیکھا تو ہانم کی طرف نظر گئی جو دنیا سے بے خبر ڈائینگ
ٹیبل پر سطہر کھینچنے میں لگی ہوئی تھی ہانم وہ اپنی ساحرانہ آواز میں اس کا نام پکارا تو اس
نے اپنی معصوم آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا ڈوپٹہ سر پر لو یہ بولنے کی دیر تھی ایان نے بھی
ہانم کی طرف دیکھا پھر داؤد کی طرف دیکھا جو سب کچھ لیکر اسی طرف آرہا تھا ایان بھی
فوراً اس کی ہلیپ کرنے کی غرض اور منظر سے ہٹنا کے لئے بھی اٹھ گیا لیکن کیوں ہانم نے اولٹا
سوال اسی سے کیا میں بتاؤ کیوں اور ایک بات اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں بیٹھالو جب بھی
کمرے سے باہر آؤ گی دوپٹہ سر پر اوڑھ کر آؤ گی اس نے انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں
کہاں تو ہانم نے تھوڑا ناراض ہوکر اپنی آنکھیں جھکا لی لیکن دوپٹہ ابھی بھی کندھے پر تھا تم
کو سمجھ نہیں آیا میں نے ابھی کیا بولا ھے ایان اور داؤد نے پیزہ اور تین برگر کے بکس رکھتے
ہوئے غازیان کی طرف دیکھا جو اپنی گرین آنکھوں میں اشتعال لیکر ہانم کی جانب متوجہ
تھا اور ہانم کو تو جیسے ہوش ہی نہیں تھا وہ پتہ نہیں کیا کررہی تھی ڈائینگ ٹیبل کے ساتھ
ہانم اس دفعہ نام پر زور دیا تو ہانم نے اس کی طرف دیکھا جو غصہ سے اسی کی جانب دیکھ
رہا تھا اور آنکھیں بھی بڑی بڑی کریں ہوئی تھی دوپٹہ سر پر لو آواز نہیں آرہی تمھیں ابھی بولا
ھے نہ کمرے سے باہر سر پر دوپٹہ ہوں تمھارا ہانم نے سرعت سے دوپٹہ سر پر لیا اور معصومیت
سے بولی میں نے اس لئے نہیں لیا تھا کہ آپ نے بولا تھا کہ جب کمرے سے باہر نکلو ابھی تو میں
کمرے سے باہر ہی تھی نہ ایان اور داؤد جو چئیر پر بیٹھ کر ان دونوں کی گفتگو ملازہ فرمارہے
تھے دونوں نے حیرت سے اس کی طرف غازیان نے بھی اس کو گھورا مطلب کیا تھا اس بات کا
غازیان ابھی مزید کچھ بولتا آپ نے اپنے اور ان دونوں کے لئے کچھ نہیں منگوایا اس نے لارج
پیزہ اپنی جانب کھسکا کر کہاں اور ساتھ میں دونوں برگر بھی بھابھی میں اور داؤد بھائی برگر
کھاتے ھے غازیان بھائی بس پیزہ کھاتے ھے میں نے آپ سے نہیں پوچھا ہانم نے خفگی سے کہاں
غازیان اس پیدی سی لڑکی کو ہی دیکھ رہا تھا جس میں ان چوبیس گھنٹوں میں کچھ زیادہ کی
زبان آگئی تھی ویسے بھابھی یہ فاسٹ فوڈ نہیں کھانا چاہیے صحتِ کے لیے اچھا نہیں ہوتا داؤد نے
سوچا شاید کچھ تو مل ہی جائے تو آپ نہ کھائے دوسرے پیس کا بڑا سا بائیٹ لیکر بولی غازیان
بس خاموشی سے اس کو دیکھ رہا تھا اور ایان اور داؤد حسرت سے اس کو اتنے مزہ سے پیزہ اور
برگر کھاتے ہوئے دیکھ رہے تھے ایان نے جل کر غازیان کو دیکھا جو ریلکس انداز میں ہاتھ
باندھے پیچھے کو ٹیک لگائے غور سے ہانم کو کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ایان داؤد کی طرف
جھکا اور سرگوشی نما آواز میں بولا بھائی مجھے ایک بات نہیں آرہی ھے سمجھ داؤد نے اس
کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا یار بھابھی نے شام میں دو پلیٹ بریانی کی کھائی تھی اور
ماشاءاللہ سے آدھے سے زیادہ پیزہ انہوں نے اکیلے ہی نمٹا دیا ھے یار ان کا کھانا دراصل جا کہاں
رہا ھے سمجھ نہیں آرہا ھے مجھے صحت سے تو ایسا لگتا ھے برسوں سے کچھ نہیں کھایا اور
خوراک یہ سرگوشی اتنی ضرور تھی کہ غازیان تک بھی پہنچ گئی داؤد کچھ بولنے کے لئے اپنے
لب کھولتا اس سے پہلے غازیان کی سنجیدہ آواز ڈائینگ ٹیبل پر گونجی ایان کسی کے کھانے کے
بارے میں بات کرنا بری عادت ہوتی ھے لاسٹ ٹائیم سمجھا رہا ہوں آئیندہ اس قسم کی کوئی
بکواس بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا غازیان نے بولا ایان کو تھا لیکن وہ دیکھ ہانم کو
ہی رہا تھا ایان نے شرمندگی سے اپنا چہرہ نیچے کرلیا تھا ہانم نے بھی کوئی پندرہ منٹ میں پورا
پیزہ نمٹا دیا تھا اب برگر کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا جس کو غازیان نے سرعت سے اس کے آگے سے
اٹھا کر ان دونوں کو دیا تھا اور وہ دونوں بےشرم بھی بس اسی کی آس میں تھے ملتے ہی کھانا
شروع کردیا اور ہانم منہ کھولے اپنے آگے سے غائب سامنے والوں کے منہ میں جاتا دیکھ رہی
تھی اور غصہ سے اپنے نتھنے پھلائے غازیان کی طرف مڑی یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی آپ نے
کہاں تھا میں نے تمھارے لئے منگوایا ھے اور آپ نے ان دونوں کو دے دیا دیٹس نوٹ فئیر ہانم
غازیان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی غازیان نے اپنی آنکھیں بڑی کی تو سرعت
سے اس کی آنکھیں نم ہوئی جس کو چھپانے کے لئے اس نے اپنے پلکوں کے باڑ نیچے جھکا لئے
غازیان ابھی کچھہ بولتا اس سے پہلے اس کے فون پر رنگ ہوئی موبائل پر ایگل کالنگ لیکھا ارہا
تھا اس کی بات سننے کے لئے ایکسکیوز کر کر کے باہر کی طرف بڑھا ہانم خود سے بڑبڑائی
سمجھتے کیا ھے خود کو ہر وقت بس اپنی ان گرین آنکھوں سے ڈراتے رہتے ھے گرین مونسٹر
کہی کے ایان اور داؤد جو اس کی بڑبڑاہٹ کو نیچے منہ کرکے غور سے سن رہے تھے اس کے
گرین مونسٹر پر دونوں نے حیرت سے سر اٹھایا ایان نے قدرے بے چینی سے پوچھا بھابھی آپ نے
ابھی کیا بولا ھے ہانم جو ابھی بھی خود سے بڑبڑانے میں مصروف تھی ایان کے مخاطب کرنے
پر اس کی طرف متوجہ ہوئی میں نے آپ دونوں سے بات نہیں کرنی تو پلیز مجھ سے بات مت
کرے داؤد نے اچنھبے سے پوچھا لیکن بھابھی ہم نے کیا کیا ھے آپ دونوں صبح مجھے بول رہے
تھے میں آپ کی چوٹی بہن ہوں ایان بھائی نے تو ڈیکلیئر بھی کردیا تھا مجھے اپنی چھوٹی بہن
آپ دونوں کے سامنے غازی جی نے مجھے ٹریڈ میل پر بھاگیا میرے پاؤں سے خون بھی نکل رہا
تھا لیکن آپ دونوں نے کچھ بھی نہیں کیا بولتے ہوئے آنکھیں بھیگ گئی تھی جس کو دیکھ کر
دونوں اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے قدموں میں بیٹھے تھے داؤد نے سنجیدگی سے اس کو
تکا اور بولنا شروع کیا بھابھی آپ ہماری بلکل چھوٹی بہن ھے غازیان جو واپس اندر آرہا تھا ان
دونوں کو ایسے بیٹھا دیکھ وہی روک گیا بھابھی میں اور ایان غازیان بھائی سے بہت محبت کرتے
ھے وہ ہمارے لئے ہمارے باپ ماں دونوں ھے میں اور ایان ایسا نہیں ھے کہ ہم ان سے ڈرتے ھے اس
لئے ہم نے کچھ نہیں بولا ایسا نہیں ھے بھابھی ہم ان کی بے انتہا عزت کرتے ھے اس لئے اگر وہ کچھ
غلط بھی کررہے ہوتے ھے نہ تو ہم دونوں چپ رہتے ھے کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ھے اس چیز میں
کوئی نہ کوئی مصلحت ھے اور دیکھے مصلحت تو تھی وہ آپ کو آپکی پڑھائی نہ کرنے کی وجہ
سے سزا دے رہے تھے اور تو کوئی بات نہیں تھی ہانم ان دونوں کو بہت غور سے سن رہی تھی
داؤد چپ ہوا تو ایان نے بولنا شروع کیا تو بھابھی پلیز آپ ناراض مت ہوں کے آپ کے
بھائیوں نے آپکا ساتھ نہیں دیا آپ کے ساتھ ہم دونوں ہمیشہ رہے گے چاہے کچھ بھی ہو جائے تو
بتائے اپ نے آپنے دونوں بھائیوں کو معاف کیا داود نے اپنائیت سے پوچھا تو ہانم نے مسکرا کر
اثبات میں سر ہلا دیا اور اسی وقت غازیان بھی دائنگ ایریا میں آیا چلو باقی کی باتیں صبح
کرلینا ابھی رات بہت ہوگئی ھے ایان صبح میری میٹنگ ھے اس لئے تمھاری زمیداری ھے ہانم کو
کالج چھوڑنے کی بھی اور لینے کی بھی ٹھیک ھے جی بھائی جیسا آپ کہے ہانم نے غازیان کی
طرف دیکھا وہ ان چوبیس گھنٹوں میں تھوڑا اپنا اپنا سا لگ رہا تھا اور ابھی کی تھوڑی سی
کئیر پر ہی وہ تھوڑا بہت تو اچھا سوچ رہی تھی
اس کے بارے میں ہانم کا ہاتھ پکڑا تو وہ ہوش
میں آئی اور اس کے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گئی اور وہ دونوں بھی اپنا اپنا برگر کمپلیٹ
کرکے ایان اوپر اور داؤد نیچے اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔۔
جاری ھے ❤️
