Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

مغرور محبت 45
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 45

وہ خاموش سی گم صُم بیٹھی اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کل سے اب تک اس

کے ساتھ کیا کیا ہوگیا لیکن اس کے دماغ نے ایک بار بھی زیشان کا نہیں سوچا تھا کہ وہ زیشان

احمد کو معاف کردے گی اس کے دماغ تک میں نہیں آیا تھا کہ وہ تو اس کو سزا بھی دلاسکتی

ھے وہ تو سمجھی تھی کہ اس کا چیپٹر ختم ہوگیا ھے لیکن صبح زین کی باتوں سے اس نے اپنا

پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ بخشے گی نہیں اس کو وہ ابھی انہیں سوچ کے تانے بانے میں اٹکی

ہوئی تھی گیٹ پر بیل ہوئی تو وہ چونکی کہ اس ٹائم کون آیا ھے ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ

دروازہ کھولے کے نہیں دوبارہ بیل ہوئی تو وہ اٹھ کر دروازے تک آئی کون ھے دروازہ کھولوں زرنش

میں میمونہ ہوں اور ساتھ زویا بھی ھے اس نے سن کر دروازہ کھولا سامنے ہی میمونہ بیگم ساتھ

میں زویا تھی ایان ان کے ساتھ نہیں ایا تھا کیسی ہوں زرنش میمونہ بیگم اندر ہوکر اس کے

گلے لگی تو وہ بھی بھجے دل کے ساتھ دونوں سے ملی ائے بیٹھے اس نے اخلاقیات کے سارے

ریکارڈ توڑتے ہوئے کہاں وہ دونوں حیرت زدہ چہرے کو ساتھ بیٹھ گئی اور کیسی ہوں اور

زین کہاں ھے میمونہ بیگم صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی مجھے کیا ہونا ھے زندہ ہوں اور زین آفس

گئے ھے یار ایسی بات کیوں کررہی ہوں ادھر بیٹھوں زویا نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہاں اور

اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا یار زرنش جو ہونا تھا وہ ہوگیا یار لیکن اب اپنی زندگی کو اچھے سے

گزارو یار زین بھائی تو اتنے فنی ھے یار تمھیں ان کے ساتھ زندگی گزار کر اچھا لگے گا ہممم صیحح

پانی لیکر آؤ اپ دونوں کے لئے نہیں ادھر بیٹھوں میرے پاس اور یہ بتاؤ زین کہاں ھے او تم اس

کے کپڑوں میں کیوں ہوں ڈریسز نہیں ھے تمھارے پاس نہیں آنٹی وہ دراصل میرے کپڑوں کا بیگ

تو زیشان کے گھر جاچکا تھا اور پھر جو سب رات کو ہوا پتہ تو لگ ہی گیا ہوگا آپ دونوں کو

اس وجہ سے اتنی جلدی میں سب ہوا بیگ واپس کیسے آتا اور زین بھی نہیں روکے تھے نکاح ہوتے

ہی رخصتی کرا کر لے آئے تھے ہممم کوئی بات نہیں میں کپڑے بھیجوادو گی ایان کے ہاتھ

تمھاری اپنے بابا سے بات ہوئی ان سے کیا بات کرو ان کے لئے تو میں ایک بوجھ تھی اگر نکاح نہیں

ہوتا تو بابا کی ساری زندگی کی کمائی ہوئی عزت مٹی میں مل جاتی اور زرنش کا کیا ھے اس کی

شادی کسی سے بھی کروادو کوئی فرق نہیں پڑتا ھے آرے میری چندہ ایسی کوئی بات نہیں ھے تم

خود بتاؤ اگر تمھاری برات واپس چلی جاتی تو تمھیں کیسا احساس ہوتا آج تمھارا گھر میں ایک

سکون ہوگا کہ گھر کی بیٹی اپنے گھر کی ہوگئی لیکن اگر یہ سب نہ ہوتا تو تمھارا باپ تو ویسے

بھی دل کا مریض ھے اس کی کیا کنڈیشن ہوتی جہاں ابھی ایک سکون ھے وہا ں موت کا سوگ

ہوتا اور لوگ سو سو باتیں بناتے میں مانتی ہوں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے لوگ کیا بولتے

ھے کیا نہیں یہ فرق شاید تمھیں نہیں پڑتا لیکن تمھارے بوڑھے باپ کو لازمی پڑتا وہ ہر رات مرتا

یہ سوچ کر کے میری بیٹی کی برات واپس چلی گئی اور جو جو وہ بول کر گیا تھا اگر اس ٹائم

نکاحِ نہ ہوتا تو ساری زندگی تمھاری عزت پر ایک داغ رہ جاتا وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی اور

جو اپنی نگاہیں نیچے کی طرف کرے خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی اور تمھیں معلوم

ھے زویا نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا لڑکی کی عزت تو بہت نازک ہوتی ھے یار اگر اس پر زرہ

برابر بھی درار اجائے تو بہت کچھ بدل جاتا ھے اور اس شخص نہ جو جو بولا ھے وہ اچھے الفاظ

تو نہیں تھے نہ یار ابھی وہ لوگ اس سے باتیں کرکے اس کو سمجھا ہی رہے تھے زین دوپہر کا

کھانا لیکر گھر میں داخل ہوا دروازہ کھولا دیکھ اس کے ماتھے پر بے تحاشا بل پڑے اس کے دماغ

میں پہلا خیال ہی یہ آیا تھا زرنش گھر سے باہر گئی ھے جلدی سے انٹر ہوا تو سامنے صوفے پر

میمونہ بیگم اور زویا بیٹھے ہوئے تھے ان کو دیکھ ماتھے کے بل کم ہوئے اور ان کو سلام کیا اسلام

علیکم سلام کرکے سامان ٹیبل پر رکھنے لگا وعلیکم السلام کہاں تھے تم اپنی نئی نویلی دلہن

کو چھوڑ کر میمونہ بیگم نے اس کی طرف دیکھ سلام کا جواب دیا اور ساتھ سوال بھی داغا اس

کی نظر زرنش پر گئی جو گم صُم صوفے پر سر نیچے کرکے زویا کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی

اب ہر وقت تو اس کے پلو سے لگ کر نہیں بیٹھ سکتا نہ میں کام دھندا بھی کرنا پڑتا ھے ورنہ اب

ہر کوئی اپ کے بیٹوں کی طرح نہیں ہوتا ھے نہ امیر بہی ہم سادھا سے غریب لوگ ھے جو ایک

وقت کا نہ کمائے تو رات کا کھانا نہیں کھ سکتے اس لئے ہمیں دن رات کا کام کرکے اپنے گھر کا

چولہا جلانا پڑتا ھے اس نے سیدھا تنظ کیا تھا کیا مطلب ھے تمھاری بات کا تم کیا کھڈے

کھودتے ہوں جو ایسی باتیں کررہے ہوں اور جب غازی نے تم کو بولا تھا کہ دلہن کو لیکر مینشن

چلو تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی مجھے کسی کے احسان کی ضرورت نہیں ھے میری

زمیداری ھے نہ یہ پہنادوگا اتنے کپڑے کے اس کا بدن ڈھک جائے گا اور نہیں چائیے آپ کے کسی

بھی بیٹے کا کوئی احسان اس نے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہاں زین تمیز کے دائرہ میں رہ کر

مجھ سے بات کرو بھائی ھے وہ تمھارا اور بڑا بھی آئی سمجھ میں بلکل برداشت نہیں کرو گی

غازیان کے بارے میں کوئی بھی بکواس اگر بھائی ہوتے نہ تو یہ سب نہیں کرتے جو انہوں نے کیا ھے

اور اگر آپ ان کی وقالت کرنے آئی ھے تو چلی جائے مجھے نہیں چائیے ایسی میمو جان جس

کے لئے صرف ان کا بیٹا ہی امپورٹینٹ ہوں بہت زیادہ بول رہے ہوں تم انہوں نے کڑے تیوروں سے

کہا کیا زیادہ کہاں بول رہا ہوں میمو جان سچ بول رہا ہوں جو نہ آپ کو برداشت ہورہا ھے نہ آپ

کے بیٹے کو ہوتا ھے اور کیا غلط بولا میں نے آپ کے لئے تو غازی بھائی ہی امپورٹینٹ ھے نہ میں

کون ہوں بہی آپ کی اولاد ھے وہ آپ کے لئے وہ ہی تو امپورٹینٹ ہوگے نہ مجھے کونسا کوئی پیار

کرتا ھے میرے تو خود کے ماں باپ مجھ ایکسیپٹ نہیں کرنا چاہتے آپ تو پھر بھی ان کی

ماں ھے آپ کیا میری سائیڈ لے گی وہ نظرے پھیر کر بولا میں یہ سب سننے نہیں ائی ہوں

یہاں پر ان کے ماتھے پر بے تحاشا بل پڑے تھے اور وہ ایک دم کھڑی ہوئی تھی جب تمھاری ٹون اور

تمھارا دماغ ٹھیک ہوجائے تو گھر آجانا اور میں تم سے نہیں ملنے ائی تھی اپنی بہو سے

ملنے آئی تھی اور ہاں بلکل صحیح کہاں ھے تم نے میں غازیان کی ہی ماں ہوں اور مجھے فخر ھے

وہ میرا بیٹا ھے پتہ ھے کیوں کیونکہ اس کو اپنی ماں سے بات کرنے کی بہت تمیز ھے تمھاری طرح

ایسے بتمیزی سے بات نہیں کرتا ھے وہ کسی کا غصہ کسی پر نہیں نکلتا ھے اگر وہ غصہ میں

بھی ہوتا ھے نہ میرے سامنے اپنی آنکھ تک نہیں اٹھاتا ھے ہاں ہوں میں غازیان درانی کی ماں اور

مجھے فخر ھے اس کی ماں ہونے پر چلو زویا یہاں سے بہت بڑی غلطی کردی میں نے یہاں آکر

زرنش ان سب میں خاموش تماشائی بنی سب کو دیکھ رہی تھی زین کی آنکھیں بھی نیچے ہوگئی

تھی وہ ان سے ایسے بات نہیں کرنا چاہتا تھا
لیکن کل کی فسٹیریشن ان پر نکل دی تھی اس

کو اندازہ ہی نہ ہو اکہ وہ کیا کیا بول گیا ھے زویا بار بار ان کا ہاتھ دبا کر خاموش کروانا چاہ

رہی تھی لیکن جب وہ بولنے پر آئی تو ایسا بولی کہ اس کو اتنا شرمندہ کردیا کہ آئیندہ بات کرنے

سے پہلے دس بار سوچے پرس اٹھا کر اس کے سامنے آئی اور ایک گھماتا ہوا تھپڑ اس کے گال

پر رسید کیا چٹاخ یہ تھپڑ زین کے اعصاب تک جھنجوڑ گیا تھا یہ تھپڑ اس لئے ھے کہ جو نشان

زرنش کے گال پر ھے وہی اب تمھارے گال پر ہوگا اور یہ تھپڑ اس لئے بھی ھے جو تمیز تم بڑوں سے

بات کرنے کی بھول چکے ہوں امید کرتی ہوں اس تھپڑ کے بعد اچھے سے آئے گی تمھیں پھر وہ

روکی نہیں تھی زویا کا ہاتھ پکڑ کر اپارٹمنٹ سے ہی نکلتی چلی گئی تھی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیسا لگا تم دونوں کو داؤد وہ لوگ رات کا کھانا کھ رہے تھے جب روحہ نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے

پوچھا کیونکہ دونوں داؤد کے جانے کے بعد سے تھوڑے خاموش تھے صدیقی صاحب نے اس کی

جانب دیکھا اور واپس اپنی پلیٹ کی جانب جھک گئے اس کا مطلب تھا وہ اس ٹوپک کو

ابھی ڈسکس نہیں کرنا چاہتے تھے اس نے فوزیہ بیگم کی طرف دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ

وہ روئی ہوں باپو بتا نہ۔ کیسا لگا ھے اس کا فون آرہا تھا پوچھنے کے لئے کہ کیا جواب دوں پھر

صدیقی صاحب نے اپنی نگاہ اٹھا کر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور سرد سی آواز میں اس سے

استفار کیا تم کو کیسا لگتا ھے داؤد روحہ کو ان کے لحجہ میں تھوڑا کڑک پن لگا لیکن سر جھٹک

کر جواب دینے لگی اچھا انسان ھے داؤد دوسروں جیسا نہیں ھے مصیبت میں مدد کرنے والا ھے

محبت کرنا جانتا ھے سب کا خیال رکھتا ھے اس نے لاپرواہ انداز میں جواب دیا روحہ میں

سیریس ہوں صیحح بولو ان کے اتنے سرد آواز پر اس نے ایک دم سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا

آرے باپو آپن نے بتایا تو ھے تیرے کو کیا ہوا ھے خاموش روحہ جو تم ہوں اس ٹون میں بات کرو

مجھ سے اس ٹائم میں اپنی بیٹی سے بات کرنا چاہتا ہوں روحہ نے اپنی پلکیں جھپکائی کیا بولے

اپن تیرے سے ابھی کیا بولا تھا میں نےسمجھ نہیں آرہا ھے اس ٹائم میں اپنی گڑیا سے بات کرنا

چاہتا ہوں نہ کہ روحہ سے جو تم ہوں اسی انداز میں بات کرو مجھ سے روحہ نے اپنے لب بھینچے

اپن کو عادت ھے ایسے ایچ بات کرنے کی روحہ صدیقی اگر تم نے ابھی اور اسی وقت اپنی ٹون

ٹھیک نہیں کریں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا فوزیہ بیگم خونخوار اندازِ میں پھنکاری کیا ہوا

ھے تم دونوں کائے کو اپن کی بجاریلے ہوں روحہ صدیقی صاحب نے تنبیہہ اس کا نام پکارا تو وہ

سیدھی ہوکر بیٹھی بولے کیا بات کرنی ھے آپ دونوں نے مجھ سے اس نے مصلحت اس میں

جانی کے وہ اپنے اصل میں واپس آجائے روحہ تمھیں تمھارے باپ کی قسم ھے کچھ نہیں

چھپاؤ گی تم مجھ سے فوزیہ بیگم قسم دے کر بولی اچھا بولے نہیں چھپاؤ گی کچھ بھی یہ لڑکا

کوئی اور نہیں ہمارا داؤد تھا نہ میرے رحمان بھائی کا داؤد تھا اس نے سنجیدگی سے فوزیہ

بیگم کی جانب دیکھا اور جواب دیا ہاں ایک لفظی جواب تم سب سے مل چکی ہوں انہوں نے

نم لحجہ میں کہاں نہیں صرف غازی بھائی سے اور داؤد سے اور چھوٹے سے نہیں ملی انہوں

نےایان کو یاد کرتے ہوئے پوچھا نہیں ابھی چھوٹے سے نہیں ملی غازی جانتا ھے تم داؤد کے ساتھ

کام کرتی ہوں اچھے سے جانتے ھے لیکن کبھی شو آف نہیں کرے گے کہ ہم دونوں کون ھے تم

جانتی ہوں سب کچھ اس کے ںعد بھی تم اس سے ملی تمھیں زرہ احساس نہیں ہوا تمھاری ماں

کو کتنی تکلیف ہوگی انہوں نے اس کی جانب دیکھا آپ کو احساس کیوں نہیں ہوتا ھے کہ آپ کہ اس عمل نے کتنے سارے لوگوں

کو تڑپایا ھے اور جس انسان کی وجہ سے آپ اپنے امی ابو کا گھر چھوڑ کر اور مجھے میرے

بھائیوں سے دور کرکے یہاں لے آئی تھی وہ اس دنیا میں نہیں ھے چلے گئے ھے وہ اس دنیا سے یہ

بات آپ کو کیوں نہیں آتی ھے سمجھ مما آپ کو وہ ان کو یہ بات سمجھاتے ہوئے بولی تو میں کیسے بھول جاؤ کے وہ میرے باپ کے

قاتل ھے اور وہ لوگ انہیں کہ بچے ھے آپ نے دیکھا تھا رحمن ماموں کو نانا کا قتل کرتے ہوئے

اس نے دو ٹوک انداز میں پوچھا تو انہوں نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو پھر لیکن بھابھی نے

خود بتایا تھا کہ تمھارے بھائی نے تمھارے ابو کا قتل کیا ھے کیا انہوں نے دیکھا تھا اپنی آنکھوں

سے قتل کرتے ہوئے ان کو نہیں لیکن وہ اچھے سے ان کے ہر برے اچھے فعل سے واقف تھی جب

انہوں نے ڈرگز سپلائے کرنا شروع کیا تھا یہ بات کسی کے علم میں نہیں تھی لیکن وہ جانتی تھی

اور وہ تو ان کے سب سے قریب تھی نہ بیوی تھی ان کی تو وہ نہیں جانے گی تو کون جانے گا ان کو

کیسےتھے وہ اگر ایسا ھے بھی تو مما ان سب میں داود غازی بھائی اور چھوٹے کا کیا قصور ھے

ان سب میں اپ ان سب کو ایسے بے سہارا چھوڑ کر اگئی جب ان کو سب سے زیادہ اپکی ضرورت

تھی مجھے نہیں پتہ میں نے کیا کرنا تھا کیا ھے میری مرضی لیکن تم داود سے شادی نہیں کرو

گی یہ میرا آخری اور فل اینڈ فائنل فیصلہ ھے اس لڑکے کو فون کرکے انکار کرو تم جوب پر بھی

نہیں جاؤ گی اپنے باپ کے ساتھ ریسٹورنٹ سنبھالوں گی اور زیادہ ذیادہ اپنی ڈیوٹی بس اور

کچھہ نہیں یہ بات سن کر اس کے ماتھے پر بے تحاشا بل پڑے اور وہ ایک دم کھڑی ہوئی باپو

اپنی ہیوی کو تو اپنی زبان ایچ میں سمجھا دیو اپن کو یہ نہ بولے اس نے بگڑتے ہوئے صدیقی

صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہاں روحہ جیسا میں کہاو گی تم وہی کرو گی وہ بھی اس کے

مقابل کھڑی ہوتے ہوئے بولی میں تمھاری ماں ہوں تم میری ماں نہیں تم نے مجھے پیدا نہیں کیا

ھے میں نے تمھیں کیا ھے ائی سمجھ باپو اپن مر جائے گی اس کے بغیر اس نے فاروق صدیقی

صاحب کی طرف دیکھ کر بے بسی سے کہاں فوزیہ بیگم نے اس کا رخ اپنی جانب کیا تو مر

جاؤ لیکن اگر تم نے داؤد کا نام اپنی زبان سے لیا تو میں تمھیں خود اپنے ہاتھوں سے ماردو گی تو

ماردے ماتاری ایسی زندگی کا بھی کوئی فائدہ نہیں ھے جس میں داؤد ساتھ نہ ہوں اپن تو

بچپن سے اس کو چاہتی ھے اب سب کچھ ٹھیک ہورہا ھے تو ایسے نہیں کرسکتی ھے میں کچھ

بھی کرسکتی ہوں ماں ہوں میں تمھاری جب اپنی اولاد کو معاف نہیں کرا ھے ابھی تک تو

تمھیں بھی یہ قدم نہیں اٹھانے دوگی ماتاری میں روحہ ہوں وہ زین تھا جو اپنے ہی گھر میں واپس

نہیں آیا میں وہ نہیں ہوں میں روحہ ہوں روحہ فاروق صدیقی سیکرٹ ایجینٹ ایگل اپنے

بھائیوں کی گڑیا میں کبھی اپنے داود کو نہیں چھوڑوں گی اس نے اپنی دونوں آنکھیں فوزیہ

بیگم کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے بولی مجھے منظور ھے روحہ صدیقی صاحب کی آواز سے

دونوں ماں بیٹی نے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا تم اس کو بولوں ہمیں منظور ھے لیکن

ہماری ایک شرط ھے پہلے نکاح ہوگا اور کل یہ پرسوں اس کا بعد جب رخصتی ہوگی تب اپنے

بھائی اور میمو جان کو لے آئے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس کو بھی یہ بات مت بتانا کہ

فوزیہ بیگم اس کے رشتہ میں پھپھو ھے صدیقی صاحب فوزیہ بیگم کی صدمے بھری آواز حلق سے

نکلی آپ ایسا نہیں کرسکتے ھے روحہ میری بھی بیٹی ھے اس کی زندگی کا فیصلہ آپ اکیلے نہیں

کرسکتے ھے میں بھی کچھ لگتی ہوں میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوگی اگر آپ اس کو اپنی بیٹی

مانتی تو اپنی بیٹی کی صرف خوشی دیکھتی یہ نہ دیکھتی کہ آپ کے تعلقات اپ کے بھائی کے

بچوں اور اس گھر سے کیسے ھے اپ کی بیٹی آپ کے سامنے بول رہی ھے کہ اگر داؤد اس کو نہ۔ملا

تو وہ مر جائے گی مجھ میں اتنا ظرف نہیں ھے ایک جوان اولاد مجھ سے میری دور ھے اور

دوسری کو بھی آپکی ضد کی وجہ سے خود سے دور کردو ابھی بھی وقت ھے سنمبھل جائے بیس

سال ہوگئے ھے اس بات کو جس چیز کو اپ ابھی بھی پیس رہی ھے بس کردے اس نفرت کی اگ

کو ختم کردے یہ نہ ہوں سب ختم ہوجائے اور آپکی نفرت ایسے ہی برقرار رہے آپکی بے جا ضد

کی وجہ سے زین بھی بے گھر ھے پتہ نہیں کس کے سہارےپر رہ رہا ہوگا فوزیہ بیگم نے ایک دکھ

بھری نگاہ سے دونوں باپ بیٹی کو دیکھا اور آپنے کمرے کی طرف چلی گئی باپو یار تیرے کو ایسی

باتیں نہیں بولنی چاہیے تھی ماتاری کو روئے گی وہ اب کیا کرو روحہ میں اب تھک گیا ہوں اپنے

جوان بیٹے کو خود سے دور کر کر کے میں مانتا ہوں اس نے غلط کیا تھا جب ہمیں اس کی

ضرورت تھی تب وہ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن مجھے پتہ ھے وہ کہاں گیا ھے اور میں یہ

بھی جانتا ہوں کہ تم بھی زین کو معاف کر چکی ہوں جی بابا میں نے ان کو معاف کردیا ھے بھائی

ھے وہ میرے اتنا تو کرسکتی ہوں میں ان کے لئے روحہ میں جاتا ہوں تمھاری ماں کے پاس دیکھتا

ہوں کہی رو رو کر اپنی طبیعت خراب نہ کر لے وہ جانے لگے پھر کچھ یاد آنے پر روکے روحہ ہاں

تم نے اپنے ماضی کے بارے میں داؤد کو بتادیا ھے سب روحہ کے چہرے پر سے ایک سایہ سا لہرایا

اور اس نے نفی میں سر ہلایا جلد اس کو بتادو اگر اس کو بعد میں معلوم ہوتا ھے تو بہت

پریشانی اور دکھ ہوگا اس کو پہلے سب بتادو اور معملات ٹھیک کرلو اور اس کو نکاح کا بولو اس

ہفتہ میں ہی ہمم کرتی ھے کچھ وہ بھی بول کر اہنی کمرے کی طرف بڑھی لیکن سیڑھی پر

کھڑی ہوکر اپنی جیب سے فون نکال کر داؤد کو اپنے ریسٹورنٹ بلاکر تیار ہونے چلی گئی وہ اج

ہی داؤد کو اپنے ماضی سے روشناس کروانا چاہتی تھی
جاری ھے ❤️
……………………