Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

مغرور محبت 49
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 49
وہ بے چینی سے اس کا انتظار کررہی تھی گھڑی۔میں وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رے تھے وہ

کافی دیر سے غازیان کا انتظار کررہی۔تھی اس وقت وہ سیکریٹ روم۔میں تھی جوکر کی باتوں

نے اس کا دماغ بلکل ماوف کردیا تھا اور سب سے خاطر ناک بات یہ تھی کہ وہ اس پر ۔نظر رکھ رہا

تھا یعنی اس کو اس پر شک ہورہا تھا یہ بات بہت حیران کن بھی تھی کہ اس نے کہاں چوک کی

جہاں پر وہ شک کررہا تھا ابھی وہ انہیں باتوں کی سوچ میں تھی دروازہ کھول کر غازیان انٹر

ہوا اور اس کے بعد زین ان دونوں کو دیکھ کر وہ سرعت سے کھڑی ہوئی اسلام علیکم اس نے

دونوں کو مشترکہ سلام کیا غازیان نے گردن ہلا کر سلام کا جواب دیا البتہ زین نے پوری جوش

سے اس کو اپنے سینے سے لگایا اور باآواز بلند سلام کا جواب دیا غازیان نے اس کی اداکاری کو

ناگواریت سے دیکھا کیا ہوا ھے گڑیا اتنی جلدی میں کیوں بلایا ھے تم نے مجھے سب ٹھیک ھے

وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتا ہوا بولا بھائی کچھ ٹھیک نہیں ھے زین بھی غازیان کے سامنے والی

کرسی پر بیٹھا روحہ سربراہی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی دراصل میں ابھی داؤد سے ملنے گئی

تھی اہم اہم ڈیٹھ ماری جارہی ھے بہنا زین نے سن کر لقمہ دیا دونوں نے اس کی۔ طرف سیریس

نگاہوں سے دیکھا تو وہ ایک دم سٹپٹا یا سوری جسٹ کیڈنگ اس کی طرف سے دھیان ہٹا کر

واپس غازیان کی طرف متوجہ ہوئی تو میں جب گھر جارہی تھی تو جوکر کی کال آئی اور اس نے

مجھے ملنے کے لئے بلایا غازی بھائی اس کو مجھ پر تھوڑا بہت ہی صحیح لیکن شک ہورہا ھے کیا

مطلب دونوں ایک ساتھ بولے کیونکہ یہ خطرناک بات تھی بہت عجیب باتیں کررہا تھا کس سے مل

کر آرہی ہوں کہاں گئی تھی یہ سب تو دونوں تھوڑا ریلکس ہوکر پیچھے ہوئے تم ٹینشن نہ لو

تمھاری ڈریسنگ کی وجہ سے اس نے تکہ مارا ہوگا لیکن بھائی بہت عجیب ھے وہ انسان عجیب

عجیب سی باتیں کررہا تھا مجھ سے ریلیٹیڈ آرے وہ تیرے کو پسند کررہا ہوں گا اہم اہم انسان

کا بچہ بن جا یہ نہ ہوں یہاں پر تیرا دم نکال دو اور تو پھر اہم اہم۔کرتا رہے غازیان ایک دم زچ

ہوکر دھاڑا تو اس نے دونوں کو دانت دیکھائے مزاق مزاق زین بھائی یہ سیچویشن سیریس ھے

اس میں مزاق مستی نہیں اوکے ویسے یار گڑیا تو اس بات سے پریشان ہورہی ھے کہ وہ تجھ سے

ایسی باتیں کررہا ھے اس لئے تو نے ہمیں یہاں بلایا ھے ارے نہیں یار روحہ جھنجھلا کر بولی

زین اگر تیرے حلق سے آواز بھی نکلی نہ اب قسم سے یہی کھدا کھود کر اندر ڈال دو گا اب تیرا منہ

صرف کام کی بات پر کھولے غازیان نے اس کو بری طرح جھڑکا روحہ نے دونوں کو حیرت سے

دیکھا لیکن سر جھٹک کر واپس متوجہ ہوئی بھائی جو میں نے آپ کو بتایا تھا اور ہمیں اندر

سے بھی یہی پتہ چلا ھے یہ لوگ کوئی پینٹنگ کی بات کررہے تھے یاد ھے آپ کو ہاں یاد ھے

مجھے اچھے سے کیونکہ یہ کیس میں ہی لیڈ کررہاھے ہوں اس پر ہی آبھی پوری انٹیلیجنس

ٹیم ورک کررہی ھے جی بھائی یہ لوگ بہت کچھ بڑا پلین کررہے ھے جو پاکستان ملک کے لئے بلکل

بھی سیف نہیں ہوگا وہ بول رہا تھا کہ یہ پینٹنگ پوری زندگی بدل سکتی مجھے سمجھ نہیں آرہا

ھے ایسا کیا ھے جس کے پیچھے پورا اندر ورلڈ پاگل ہوگیا ھے مجھے پتہ ھے غازیان کی آواز پر

روحہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا زین بھی اس کی طرف متوجہ ہوا وہ پینٹنگ کوئی عام

پینٹنگ نہیں ھے وہ پینٹنگ بہت خاص ھے اور پتہ ھے وہ خاص کیوں ھے اس کو بنانے میں جو

رنگ استعمال ہوئے ھے وہ کوئی عام۔رنگ نہیں ھے وہ رنگ زہر ھے جو دوسرے ملک بھیج کر دوائی

کے ذریعے پاکستان میں ایمپورٹ ہوگے وہاں یہ صرف سیمپل کے زریعے جائے گے ان سب کا پلین

بہت خطرناک ھے میں نے اس ،زہر تک رسائی حاصل کرلی ھے اب بس اس کو ٹیسٹ کرنے کے

لئے لیب بھیجنا ھے لیکن بھائی یہ سب آپ کو کیسے معلوم ہوا روحہ کی حیرت میں ڈوبی

ہوئی اوازحلق سے برآمد ہوئی زین بھی بولا اور وہ زہر آپ کو کیسے ملا روحہ یاد ھے تمھیں ہم

کو ڈی کے بندو کے سامنے پریٹینڈ کرنا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے پکے دشمن ھے جی یاد ھے

ڈی۔کے کا خاص آدمی موجود تھا سرفراز ہاں وہ ڈی کے کا رائیٹ ہینڈ ھے روحہ نے اس کی

معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی تھی نہیں وہ ڈی کے کا بندہ نہیں ھے غازیان نے جتنے

ارام سے یہ بات بولی تھی اتنی ہی خطرناک طریقے سے روحہ کے سماعت پر بم پھوٹا تھا وہ

ڈی کے کا بندہ۔ نہیں ھے تو کون ھے پلیز یہ مت کہنا کہ وہ انٹیلیجنس ٹیم کا بندہ ھے ہمم

وہ ھے انٹیلیجنس ٹیم کا میمبر غازیان نے اس کی بات پر مہر لگائی تھی نہیں نہیں یار بیچارے

کو کتنا زلیل کیا ھے میں نے بات بات پر کبھی مجھے کچھہ نہیں بولتا تھا وہ سامنے سے وہ

شروع میں ڈی کے کا ہی بندہ تھا لیکن جب میں نے اس کو دیکھا تھا میں اس سے باہر ملا تھا اس

کو سمجھایا اس کو اپنی ٹیم میں شامل کیا وہ سب کے سامنے ایسا فیل کرواتا تھا کہ وہ ھے تو

ڈی کے کا بندہ لیکن اصل میں وہ انٹیلیجنس ٹیم کا میمبر بن گیا تھا اس کے دل میں ملک سے جو

جزبہ اب ھے نہ شاید وہ کسی کے دل میں نہ ہوں روحہ مسکرائی تھی اس لئے یہ سب انفورمیشن

مجھے اس نے ہی دی تھی اور وہ زہر بھی جو پینٹنگ کے رنگوں میں استعمال کیا گیا ھے وہ

بھی اس نے ہی مجھے دیا ھے ابھی۔ وہ میرے پاس ھے اور گھر پر موجود ھے ہمم تو اس کا

مطلب ھے یہ سب اگر پاکستان میں آتا ھے تو بہت سی معصوم جانیں بے موت ماری جائے گی زین

نے کچھ سوچتے ہوئے کہاں صحیح کہاں ایسا ہی ہوگا غازیان نےاس کی بات سن کر اثبات میں سر

ہلا کر اس کی بات کی تائید کی تھی یہ سب لوگ پینٹنگ چھبیس جنوری کو لاونج کرنے والے ھے

ان لوگوں نے ایک گیرنٹ پارٹی رکھی ھے جس میں انڈر ورلڈ کے ڈون ملک کے غدار شامل ہوگے

اور وہاں خود جوکر بھی آئے گا اس نے کہاں ھے کہ میں اس کی اسیسٹنٹ بن کر جاؤ سمجھ نہیں

آرہا ھے مجھے وہ اتنی آسانی سے یہ سب کیوں کررہا ھے جو بھی ھے روحہ لیکن وہ ہمارے لئے

آسانی کررہا ھے یہی میں چاہتا تھا گڑیا مطلب زین نے ناسمجھی سے پوچھا ایک ساتھ سارے

مگرمچھوں کا خاتما کرے گے چھبیس جنوری والے دن یہ لوگ اپنی زندگی کا آخری سورج

دیکھے گے غازیان نے ایک عزم سے کہاں اور تمھارا کیا بنا اس نے بول کر روحہ کی جانب

دیکھا جو مسکرا کر اسی کی جانب دیکھ رہی تھی میرا کیا بننا ھے کل نکاح رکھا ھے پھوپھا نے

ہاں اسی سلسلے میں اس سے ملاقات کرنے گئی تھی میرے بغیر رکھ لیا بابا ۔نے نکاح زین نے دکھ

سے کہاں تو غازیان۔نے اس کو سپاٹ نگاہوں سے دیکھا تو اگر اب بھی ایک دفعہ جائے گا نہ تو وہ

معاف کردے گے بغیرت لیکن تو تھوڑی جائے گا تیرے پاؤں میں مہندی لگی ہوئی ھے نہ اس کو

چھوڑ گڑیا بتا کیا بات ہوئی پھر داؤد سے۔ میں نے داؤد کو اپنے بارے میں سب بتادیا ھے صرف

اس چیز کے میں کون ہوں اور کیا کام کرتی ہوں صحیح کیا ھے دیکھتے ھے کیا کرتا ھے وہ اگر

نکاح کل ہوتا ھے تو روحہ کل ہی رخصتی ہوگی تمھاری کیونکہ اب تم سیف نہیں ہوں وہاں اگر

گڑیا کی رخصتی ہوگئی تو مما بابا سیف نہیں ہوگے زین نے پریشانی سے کہاں تو کیوں اس

کرائے کے گھر میں پڑا ہوا ھے زلیلوں کی طرح اپنی۔بیوی کو لے اور اپنے باپ کے در پر گیر جاکر

اور ناک رگڑ رگڑ کر معافی مانگ اور میرے سامنے یہ بکواس مت کرنا وہ سیف نہیں ھے وہ نہیں ھے

کل تمھاری رخصتی ہوگی اور تم کل اپنے گھر دفعہ ہوجانا اس اپارٹمنٹ کی جان چھوڑ کر جارہا

ہوں میں ہسپتال میری بیوی وہاں اکیلی ہوگی میری والی بھی اکیلی ہوگی وہ دھیمی سی آواز

میں ۔منمنیاں تو مرو ساتھ یہاں بیٹھ کر انڈہ دینے ھے بول کر روحہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور

لمبے لمبے ڈھنگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا یہ کیوں انگارہ اگل رہے ھے آپ پر روحہ نے

ناسمجھی سے غازیان کا رویہ دیکھ کر کہاں یار میرا جو نکاح ہوا ھے نہ میں نے اس کا غصہ میمو

جان پر نکال دیا اور ایان کی فیلنگ اندر سے نکلنے کے چکر میں بیچارے کو ہسپتال پہنچا دیا

پھر اتنا تو بنتا ھے ان کا ریکشن منع کیا تھا میں نے چھوٹے کے ساتھ یہ سب نہ کرو بہت حساس

ھے وہ اچھا ہاں نہ میری ماں ابھی تو پتہ نہیں یہ گرین مونسٹر پتا ۔نہیں کیا کرے گا ہمارے

ساتھ اچھا ایان کی طبیعت کیسی ھے اس نے اس کی بات سن کر اس کی طبیعت کے بارے

میں فکرمند لحجہ میں پوچھا اپنے مجنوں کی طبیعت بہتر ھے سالے کو کچھہ نہیں ہوسکتا تھا

اچھا اب میں بھی چلتا ہوں کل مما اور بابا۔ سے گالیاں بھی کھانی ھے اور ان کے ہاتھ کے کھانے

بھی وہ ایک آنکھ ونک کرتا ہوا بولا دونوں نے قہقہ لگایا اور ایک ساتھ باہر نکلے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یہ تینوں کوریڈور کی بینچ پر بیٹھی ہوئی تھی اور تینوں کے بیچ ایک خاموشی کا راز تھا زویا

جب سے آئی تھی اس نے ایک بھی بات کسی
سے نہیں کریں تھی آنکھیں موند کر سر کرسی

کے پیچھے رکھا ہوا تھا ہانم اور زرنش بھی خاموشی سے بیٹھے زویا کی طرف دیکھ رہے

تھے داؤد آئی سی یو سے باہر آیا تو سامنے ہی ان کو بیٹھے دیکھا اس کی نظر زویا پر گئی تو ایک

احساس ندامت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس کے قریب گیا اور ہمت کرکے بولا زوئی

گڑیا ایان اب پہلے سے کافی بہتر ھے وہ ٹھیک ھے اب تم پریشان نہ ہوں اس کی آواز پر اس نے

آنکھیں کھولی اور داؤد کی طرف دیکھا آپ نے یہ سب کیوں کیا اس نے نم لحجہ میں کہاں سوری

یار وہ بس تھوڑا ہچکچاہٹ ہورہی تھی لیکن پھر خود کو کمپوز کرکے بولا ایان اپنی فیلنگ کو

ایکسیپٹ نہیں کررہا تھا اس لئے تمھارے بابا کے ساتھ مل کر زین اور میں نے یہ پلین بنایا تھا اور

مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ میرے بھائی کی یہ کنڈیشن ہوجائے گی پلیز معاف کردے نہ یار

اس نے اس کی بات سن کر سرد سانس خارج کی اور ساری باتوں کو انگنور کر کے بولی کیا میں

اندر جاسکتی ہوں اس سے مل سکتی ہوں اور دو تھپڑ لگا سکتی ہوں اس کے اس نے ایک ایک لفظ

چبا چبا کر کہاں ہاں ہاں ضرور جاؤ میں یہی بولنے آئے تھا وہ اس کے قریب سے گزرنے لگی تو

وہ یقدم بولا دو تھپڑ نہیں لگانا اس کو میری طرف سے بھی دو لگانا مطلب چار تھپڑ ہمم یہ

بچے گا نہیں مجھ سے بول کر آئی سی یو روم میں داخل ہوئی ڈاکٹر داؤد آپ سے بات کرنی ھے

ایک ڈاکٹر کی آواز پر داؤد اس طرف متوجہ ہوکر ان سے بات کرنے لگا ہانم نے مسکرا زرنش کی

طرف دیکھا تو سامنے سے وہ بھی مسکرائی ہائے میرا نام زرنش ھے اس نے ہمت کر کے کہاں کافی

دیر سے یہ دونوں ساتھ بیٹھے ہوئے تھے لیکن ایک دوسرے سے بات نہیں ہوئی تھی آسلام علیکم

میرا نام ہانیہ ھے لیکن پیار سے سب ہانم بلاتے ھے بہت پیارا نام ھے بلکل تمھاری طرح ہانم کھلکلائی

آپ بھی بہت پیاری ھے ہم کینٹین چلے راستہ میں ہی تھوڑی بہت بات کرلے گے اور کچھ کھ

بھی لے گے ہانم کی تو کمزوری ہی کھانا تھی فورآ منہ میں پانی آیا اور وہ ایک دم کھڑی ہوئی

چلے چلتے ھے آپ کو بھوک لگ رہی ہوگی نہ میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں تھوڑا سا میں بھی چک

لوگی آپ اتنا بول رہی ھے زرنش اس کی جلدی پر مسکراتی ہوئی کھڑی ہوئی ہمم چلے لیکن ایک

پروبلم ھے اس نے اپنا ماتھا کھجاتے ہوئے کہاں کیسی پروبلم ہانم نے پریشان ہوکر پوچھا میرا

پرس گاڑی میں ھے اور گاڑی زین کے پاس ھے تو پیسے نہیں ھے میرے پاس آپ کے پاس ھے کچھ

پیسے میرے پاس بھی نہیں ھے پیسے تو اور نہ ہی گھر پر ھے اب کیا کرے گے اس نے اداسی سے

کہاں اور واپس کرسی پر بیٹھی تو زرنش بھی اس کے برابر میں بیٹھی کوئی بات نہیں ابھی

زین اور غازیان آرہے ہوگے پھر ہم چلے گے کچھ کھانے پینے لیکن پتہ نہیں غازی جی اور زین

بھائی کب تک ائے اس نے اداسی سے کہاں لیکن کوریڈور میں کھڑے داؤد پر اس کی نظر پڑی تو

چہکتی ہوئی واپس کرسی سے کھڑی ہوئی پیسے تو مل گئے ھے وہ کیسے وہ بھی اس کے ساتھ

کھڑی ہوئی داؤد بھائی تو ھے نہ یہاں ابھی ہم ان سے لے لیتے ھے بعد میں دے دےگے لیکن اچھا

نہیں لگے گا اس نے تھوڑا جھجکتے ہوا کہاں ارے نہیں نہ میرے تو بھائی ھے میں لیکر آتی ہوں وہ

داؤد کے قریب گئی تو داؤد نے بات کو مختصر کرکے ہانم کی طرف متوجہ ہوا جی بھابھی کوئی

کام تھا ہمیں کینٹین جانا ھے اور میرے پاس پیسے نہیں ھے بھوک بھی لگ رہی ھے تھوڑی

تھوڑی اس لئے لائے دے پیسے بول کر اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلائی داؤد بے ساختہ

مسکرایہ اور جیب سے والٹ نکال کر چند ہزار کے نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھے یہ سارے نہیں

چاہئے صرف ایک نوٹ دے دے صحیح جیسے آپ کہیے بھابھی اس نے مسکراتے ہوئے سارے نوٹ

اپنی جیب میں واپس رکھے اس نے خوش ہوتے ہوئے پیسے زرنش کو دیکھائے اور واپس داود کی

طرف مڑی بھائی آپ اجازت دے تو میں زرنش کے ساتھ کینٹین چلی جاو جی بلکل جائے اور لیکن

اپنا خیال رکھیے گا آگر گرین مونسٹر کو پتہ چلا۔ آپ کو زرہ سی بھی تکلیف ہوئی ھے تو جانتی

ھے نہ کیا حشر ہوگا مجھ معصوم کا ویسے ہی وہ مجھے کاٹنے کو دوڑ رہے ھے میری ہڈی ہڈی الگ

کردے گے وہ بولا تو ہانم کا قہقہ کاریڈور میں گونجا تو اس نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا

جس کی آنکھیں رونے کے باعث لال ہورہی تھی ہنستی رہا کرے پیاری بھابھی آپ روتی ہوئی

اچھی نہیں لگتی ھے بہت اہم آپ ہمارے لئے کیونکہ آپ میری چھوٹی بہن ھے اس نے ہانم کے

سر پر ہاتھ رکھا زرنش بہت پیار سے ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی کتنا مان تھا ان کے

رشتہ میں اس کی آنکھوں میں بے ساختہ نمی چمکی آپ بھی پریشان نہیں ہوئے گا آپ کی بہن

آپ کو گرین مونسٹر کے شر سے بچا لے گی تو دونوں نے قہقہ لگایا چلے بھائی میں کینٹین

جارہی ہوں اوکے زرنش وہ دونوں جانے لگے تو داؤد کی آواز ہر ایک ساتھ موڑی ہاں بولو داؤد

میری پیاری بھابھی کا خیال رکھنا اکیلا مت چھوڑنا ان کو ہاں ٹینشن نہ لو ابھی آرہے ھے ہم

اوکے وہ دنوں چلتی ہوئی کوریڈور سے گزر گئی داؤدجب تک دیکھتا رہا تھا جب تک وہ دونوں

نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی تھی مجھے تمھیں کچھ بولنا ھے ہانم زرنش نے ایک بار پھر

بولنے کی ہمت کریں جی بولے ہانم خوشدلی سے بولی آئی ایم سوری اس نے ندامت سے کہاں

سوری لیکن کیوں ہانم نے حیرت سے پوچھا یاد ھے ہماری پہلی ملاقات جس میں ۔میں نے تمھیں

بھاگی ہوئی لڑکی بول دیا تھا اس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں کوئی بات نہیں میرے لئے اتنا

ہی بہت ھے کہ آپ کو اپنی بات محسوس ہوگئی تم بہت پیاری ہوں اس نے بے ساختہ اس کے گال

پر چٹکی کاٹی تو ہانم ایک دم سرخ سی ہونے لگی آرے تم بلش کررہی ہوں میں تو لڑکی ہوں آرے

تمھارے ابھی مجھ سے یہ حال ھے تو غازیان کے سامنے کیسے جاتی ہوں پاگل وہ ہنستے ہوئے بولی

اپ مجھے ایسے نہیں بول سکتی ہانم نے نتھنے پھولا کر کہاں کیونکہ میں رشتے میں اپ سے بڑی

ہوں اور وہ کیسے تمھیں اپنی ایج کا پتہ ھے اور میری ایج معلوم ھے وہ اس کی بات سن کر

تمسکرانہ انداز میں بولی کوئی نہیں پھر بھی آپ سے بڑی ہوں وہ تحمل سے بولی اور وہ کیسے ہانم

بی بی زرہ آپ ہمیں بتانا پسند کرے گی بلکل دیکھے میں آپ کو سمجھاتی ہوں میمو جان کے

چار بیٹے ھے سب سے بڑے بیٹے غازی جی اس کے بعد زین بھائی پھر داؤد بھائی پھر آیان بھائی

ھے تو میں کون ہوں غازی جی کی بیوی یعنی میمو جان کے بڑے بیٹے کی بیوی تو اس حصاب

سے میں آپکے بڑے جیٹ کی بیوی ہوں تو آپ میرے چھوٹے دیور کی بیوی ھے تو آپ میری

دیورانی ہوئی تو اس حیثیت سے آپ تو مجھے سے چھوٹی ھے اور میں آپ سے بڑی بولے صحیح

کہاں نہ میں نے اس نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا ہانم بھی اس کے ساتھ کھلکھلاتی ہوئی کیسی کے

وجود سے ٹکرائی تو ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی لیکن سامنے جب اس شخص کی طرف نگاہ اٹھی تو

آنکھیں بلکل ساخت ہوگئی تھی زرنش حیران ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگی سامنے کوئی آور

نہیں ہانم کے بابا یعنی ایس پی خاور ملک تھے انہوں نے آپنے لب بھینچ کر ہانم کی جانب دیکھا

تو اس نے خوف سے اپنے خشک پڑتے ہونٹ پر زبان پھیری اور ہمت کرکے بولی کیس۔۔۔کیسے ھے

آپ ۔۔۔۔بابا ٹھیک ھے آپ لحجہ ایک دم نم ہوگیا تھا زرنش کو کچھ کچھ سیچوین سمجھ آنے لگی

تھی اس لئے تھوڑی سی پیچھے ہٹ گئی زندہ ہوں سلامت ہوں تمھارے سامنے انہوں نے آنکھوں

میں ہزار شکوہ لئے کہاں ایسا تو نہیں بولے بابا آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ کرکے گیرنے لگے تھے

بس یہی وہ موقع تھا جہاں خاور مالک کا دل پگھلا تھا اور انہوں نے سب کچھ بھلائے اپنی

بیٹی کو سینے میں بھینچا تھا ہانم تو ان کے سینے سے تڑپ اٹھی تھی اور بلک بلک کر رونے

لگی وہ اس کی پیٹھ تھپک رہے تھے بابا آپ بہت یاد آرہے تھے انو مما سب بہت یاد آرہے تھے اس نے

سر اٹھا کر آنسو بھری آنکھوں سے کہاں تم بھی ہمیں بہت یاد آرہی تھی ایک آنسوں ٹوٹ کر ہانم

کے بال میں جذب ہوا تھا زرنش کی آنکھوں سے بھی آنسوں بہہ نکلے تھے غازیان اور زین بھی

داؤد سے پتہ کرکے کینٹین کی طرف ہی آرہے تھے لیکن سامنے کا منظر دیکھ دونوں وہی ٹھہر گئے

زین کی نگاہ زرنش ہر گئی جو اپنے آنسو صاف کررہی تھی اس کو دکھ ہوا تھا اس کی حالت پر

بابا میں بھاگی نہیں تھی آپکی ہانم بھاگی نہیں تھی میں جانتا ہوں انہوں نے اس کا منہ اپنے

ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر اس کے ماتھے پر ایک محبت بھرا بوسہ دیا تھا جس کو محسوس

کرکے ہانم۔نے آنکھیں موندی تھی مجھے لگتا تھا کہ تمھارے اور انو کے ہونے سے مجھے کوئی فرق

نہیں پڑتا ھے لیکن جب سے تم گئی ہوں وہ گھر مجھے کاٹنے کو دوڑتا ھے اپنے بابا کو معاف کردو

ہانم اپنے بابا کو اس عمل کے لئے معاف کردو میری جان میرا بچہ انہوں نے بول کر واپس سے

اس کو اپنے سینے میں بھینچا تھا آپ ایسا نہ بولے پلیز آپ کی ہانم ایسے الفاظ نہیں سن سکتی

ھے بابا انہوں نے اس کو اپنے سینے سے لگایا تھا ان کی نظر ساتھ کھڑے آفیسر پر گئی تو ان کو۔

یاد آیا وہ یہاں ایک کیس کے سلسلے میں ائے تھے جب انہوں نے سامنے سے ہانم کو آتے دیکھا تو

خود پر قابو نہیں رکھ پائے اور اس کو اپنے سینے میں بھینچا معاف تو وہ بہت پہلے ہی کر چکے

تھے بس آج خود پر قابو نہیں رکھ پائے تھے گھر چلو اپنے بابا کے ساتھ یہ سن کر غازیان نے ضبط

سے جبڑے بھینچے نہیں بابا ایان بھائی کی طبیعت خراب ھے اس نے اپنے آنسوں صاف کرکے

بولنے لگی وہ یہاں اڈمیٹ ھے اس لئے میں۔ابھی نہیں چل سکتی ہوں لیکن میں غازی جی کے

ساتھ آؤ گی مما اور انو سے ملنے اور آپ سے بھی پیچھے غازیان کے تنے عصاب اس کے جواب پر

نرمی میں ڈھلے تھے اللہ تم کو خوش رکھے میری جان تمھارے بابا تمھارا انتظار کرے گے ابھی میں

چلتا ہوں لیکن مجھے انتظار رہے گا تمھارا ٹھیک میری جان جی بابا اس نے اپنی اولٹی ہتھیلی سے

اپنے آنسوں صاف کیئے اور اس کو ایک بار پھر اپنے سینے سے لگا کر اس کے سر پر اپنے لب رکھے

اور خدا حافظ کرکے چلے گئے پیچھے وہ روتے روتے مسکرائی تھی اور آسمان کی طرف دیکھ کر

اللہ کا شکر ادا کیا زرنش مسکراتی ہوئی اس کے گلے لگی تھی مبارک ہوں تمھیں ہانم آپ کو بھی

وہ بھی خوشدلی سے اس سے ملی تھی غازیان اور زین بھی ان کی طرف بڑھے مبارک ہوں

بھابھی آپ کے بابا آپ سے راضی ہوگئے ان کی

آواز پر دونوں مڑی تھی اور غازیان کو سامنے دیکھ چہک کر بتانے لگی بابا ملے تھے ابھی غازی

جی اور انہوں نے مجھے معاف بھی کردیا ھے اور انہوں نے کہاں ھے کہ وہ میرا انتظار کرے گے ہم۔

چلے گے نہ میرے گھر ہاں بلکل چلے گے لیکن تمھارے مما بابا کے گھر تمہارا گھر اب درانی

مینشن ھے مسز غازیان درانی اس نے اس کی
سوچ میں اضافہ کرنا اپنا فرض سمجھا زرنش اور

زین نے اپنی مسکراہٹ چھپائی ہانم نے سن کر منہ بنایا میرا تو وہ بھی گھر ھے ایسے نہیں بولے کہ

مما بابا کا گھر ہانم۔کے دو گھر ھے وہ گردن اکڑا کر بولی ویسے بھابھی ڈیٹس نوٹ فئیر زین کی

خفگی بھری آواز ہر ہانم نے اپنا رخ اس کی جانب کیا کیوں بھائی کیا ہوا میں نے آپ کو آتے ہی

مبارک باد دی لیکن مجھ بیچارے کی مبارک باد کو اپنے سنا ہی نہیں زرنش تم نے دیکھا انہوں نے

اپنے میاں کو دیکھ ہم کو بھلا دیا نہیں نہیں بھائی وہ تو میں بولنے والی تھی ہانم گھبرا کر

بولنے لگی چھوڑو اس کو ایک نمبر کا نوٹنکی ھے چلو تم میرے ساتھ کینٹین کچھ کھلاتا ہوں اور

تم اپنی بیوی کو لے کر گھر کی طرف نکلو رات زیادہ ہورہی ھے ہم ھے ہسپتال میں جی بھائی

اوکے خدا حافظ وہ بول کر شرفت سے زرنش کا ہاتھ پکڑ کر خارجی دروازے کی جانب بڑھا اور غازیان کینٹین کی جانب ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ آئی سی یو ۔میں داخل ہوئی تو سامنے نگاہ اٹھی جہاں ایان آنکھیں کھولے چھت کو گھور

رہا تھا ہاتھ پر ڈریپ لگی ہوئی تھی چہرہ ہر احساس سے عاری تھا اس کو دیکھ کر اس نے

سانس اندر کھینچیں اور سرد سانس خارج کرکے خود کو کمپوز کیا اور اس سے تنظیہ مخاطب

ہوئی واہ ایان درانی واہ بہت سکون مل رہا ہوگا تم کو سب کو بے سکون کرکےوہ جو ابھی اسی

کو یاد کررہا تھا اس کی آواز سے اس کی طرف دیکھا جہاں وہ لال سرخ آنکھوں سے اسی کی

طرف دیکھ رہی تھی اس کو دیکھ وہ ہلکا سا مسکرایہ تھا اس کو یقین تھا وہ دشمن جان

لازمی آئے گی تمھیں کیا ملتا ھے ظالم انسان مجھے تکلیف دے کر وہ روندھی ہوئی آواز میں

بولی تو وہ تمسکرانہ انداز میں ہنسا ارے تمھیں کب سے مجھے تکلیف میں دیکھ کر تکلیف ہونے

لگی ھے زویا زمان ہوں کون میں جو تمھیں میری تکلیف سے پریشانی ہورہی ھے اور اتنا رورہی ہوں

وہ کاٹ دار لحجہ۔میں بولا تو اس نے اپنے لب کچلے تم بچپن سے ہی بہت مین انسان بہت برے

ہوں ایان درانی میری سوچ سے بھی زیادہ تم برے ہوں کیا ضرورت تھی اتنی سیگریٹ پھونکنے کی

وہ بولتی ہوئی اس کے بیڈ کے قریب آئی میری مرضی کچھ بھی کرو میری لائف ھے ہوں کون

میں جو تم اتنا بول رہی ہوں اہمیت کیا رکھتا ہوں جوتم اتنی بول رہی ہوں اس نے ضبط سے

آنکھیں ۔میچی اور انتہائی دکھ بھرے انداز میں بولی محبت کرتی ہوں تم سے بے پناہ جس کی

کوئی حد نہیں ھے مجھے تم سے تب سے محبت ھے جب سے مجھے محبت کے معنی پتہ چلے ھے

ایان درانی قبول کررہی ہوں میں زویا زمان کو ایان درانی سے بے انتہاء محبت ھے ایان نے سن

کر ایک گہرہ سانس فضا میں خارج کیا اور سکون سے آنکھیں موندی پلیز زوئی ایک بار پھر

بول دے پلیز وہ التجائیں انداز میں بولا مجھے تم۔سے محبت ھے تم روح میں بستے ہوں میری

بولتے ھے نہ کچی عمر کی محبت اللہ کسی دشمن کو بھی نہ کرئے زویا زمان تم سے کچی عمر سے

محبت کرتی ھے آئی لیو یو ایان آئی رئیلی لو یو ایان نے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف

اس کے لئے فکر اور پیار ہی پیار تھا ایک بات بتاؤ ترس تو نہیں آرہا ھے نہ تمھیں مجھ پر ایسا

کیوں بول رہے ہوں اس نے نم سی آواز میں کہاں نہیں صبحِ ہی تو تم مجھے میری محبت میری

زات تک کو پیروں تلے کچل کر چلی گئی تھیں اور اچانک سے میری طبیعت کے بعد کہی مجھ پر

رحم تو نہیں کھ رہی نہ میں غصہ تھی تم سے تم نے بھی تو مجھے بولا تھا کہ تم مجھ سے

محبّت نہیں کرتے ہوں تو مجھے غصہ آگیا تھا اور بابا کو بھی ہاں کردیا تھا مجھے کیا پتہ تھا تم

اپنی یہ حالت کرکے میرا دل جلاوگے وہ بول کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی تو ایان دل

کھول کر مسکرایہ اور اپنے ڈریپ والے ہاتھ سے اس کی آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا ان آنکھوں میں

آنسوں نہیں دیکھنے ھے زویا زمان ان آنکھوں میں صرف مجھے محبت دیکھنی ھے وہ بھی صرف

میرے لئے اور کسی کے لئے نہیں میں مانتا ہوں اس دن میں نے تم کو منع کردیا تھا لیکن

میں یہ بھی جانتا ہوں کیسے گزرا تھا وہ دن مجھ سے اگلے دن ہی میں نے تم کو بولا تو زوئی

تم نہیں جانتی کیسا فیل ہوا تھا مجھے تم۔نہیں جانتی ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے مجھ سے

میری سانس تک چھین لی ہو لیکن اب ایسا لگ رہا ھے جیسے میری سانسیں مجھے واپس مل

گئی ہوں آئی لیویو زویا کبھی دور مت جانا مجھ سے کبھی نہیں جاؤ گی وہ نم آواز سے بولی

شادی کرو گی نہ مجھ سے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہاں ہاں اس نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا

تو وہ سرشار سا مسکراتے ہوئے آنکھیں موندے گیا اس کو آنکھیں موندے دیکھ وہ اس کے برابر

میں ہی بیٹھ گئی تھیں اور ایان کب دواؤں کے زیر اثر سو گیا اس کو معلوم ہی نہ ہوا ۔۔

جاری ھے ❤️

دیکھیں کل کا ریسپونس بہت اچھا تھا اس لئے ایک لونگ اپیسوڈ پڑھے اور مزہ کریں اور اچھے اچھے ریویو دیں ۔۔