Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

مغرور محبت 22
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 22
گاڑی درانی مینشن میں روکی تو ہانم نے دونوں کی طرف دیکھا بھی نہیں اور دروازہ کھول کر

اپنے روم کی طرف بھاگی اس کو بہت رونا آرہا تھا لیکن وہ کسی کے سامنے رونا نہیں چاہتی

تھی لیکن کوئی پیچھے سے اندازہ لگاسکتا تھا کہ وہ رورہی ھے یہی چیز ایان کو بے چین کررہی

تھی تو وہ کچھ بتا نہیں رہی تھی وہ دونوں بھی گاڑی سے باہر نکلے زویا یار تم جاؤ بھابھی کے

پیچھے اور پتہ کرو یہ اتنا سیڈ کیوں ھے اور میں یقین کے ساتھ بول سکتا ہوں بھابھی کو کسی نے

کچھ بولا ھے مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ھے بھابھی کو کسی نے کچھ بولا ھے اور پتہ نہیں

کیوں میری چھٹی ہنس بول رہی ھے ان کی جو دوست ھے اس نے ان کو کچھ بولا ھے زویا نے

پرسوچ نگاہوں سے اس راستہ کو تکتے ہوئے کہاں جہاں سے ابھی ہانم بھاگتے ہوئے گئی تھی تم جاؤ اور

پتہ کرو نہ کیا ہوا ھے تاکہ کم ازکم ان کو سمجھا تو سکے کیا بات ہوئی ھے دراصل اور صبح بھی

ہم سب نے بات کور کرلی ورنہ زرنش بھی کچھ الٹا سیدھا ضرور بولتی ایان میرا تجربہ کہتا ھے

بھابھی کو اس ٹائم اکیلے میں کچھ وقت گزارنے دو ان کو دل ہلکا کرنے دو ایک دفعہ رو لے گی تو دوبارہ ایسے

نہیں روئے گی لیکن وہ بہت معصوم ھے اور اگر ان کی طبیعت خراب ہوگئی ایان نے فکرمندی

سے کہاں میں مانتی ہوں یار جس نے بھی کچھ بھی اگر ان کو کہاں ھے ان کے لئے بہت

مشکل ھے سب کچھ فیز کرنا لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا ابھی انہیں اکیلے میں کچھ وقت گزارنے

دو سب ٹھیک ہو جائے گا ان کو کم از دو گھنٹے اکیلے گزارنے دو اس کے بعد میں دیکھ لوگی اور

تم بھی جاکر آرام کرلو پھر میں بھابھی کے پاس آجاؤ گی تم ٹینشن نہ لو یار تم نے دیکھا ھے کس

طریقے سے ان کی آنکھیں لال ہورہی تھی یہ سب میری وجہ سے ہوا ھے یار نہ میں ان کے بابا کے

خلاف ویڈیو بناتا نہ بھائی ان سے غصہ میں شادی کرتے نہ ان کو کوئی ایسے بولتا اس کے

چہرے سے ہی پتا لگ رہا تھا کہ وہ کتنا شرمندہ ھے زویا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا وہ بھائی

کے نصیب میں تھی ایان تم ایسے پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا اور دیکھنا یہ جو لوگ ان

کو ایسا بول رہے ھے ایک وقت میں یہ سب لوگ بھول جائے گے چل میں اب چلتی ہوں اور دو گھنٹے تک آؤ گی ہاں یار تھوڑا جلدی ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
دروازہ بند کرکے اس کے ساتھ ہی لگ کر بیٹھتی چلی گئی تھی۔ خاموش کمرے میں صرف اس

کی سیسکیوں کی آواز گونج رہی تھی کیوں کیوں میرے ساتھ یہ سب ہوا ھے میں نے کسی کا

کیا بگاڑا تھا اللہ میاں آپ تو اپنے بندوں سے اتنا پیار کرتے ھے تو پھر یہ سب میرے ساتھ کیا ہورہا

ھے پلیز اللّٰہ میاں میری آزمائش ختم کردے میرے مالک تیری بندی اتنی آزمائش برداشت نہیں کر

سکتی مجھے تو یقین تھا میری فائزہ میرے ساتھ ایسا کبھی نہیں کرے گی لیکن اس نے تو دروازے

پر اپنا سر رکھا اور ہچکیوں سے روئی ماما آپ کہاں ھے پلیز اپنی ہانم کے پاس اجائے آپ یاد

آرہی ھے میری فائزہ میرے بابا سب مجھ سے ناراض ھے پلیز اپنی ہانم کے پاس اجائے نہ کہاں

ھے اپ یار اس نے آنکھیں بند کی تو اس کے سامنے اسکول کے سین لہرانے لگے فائزہ تیز

جھولا مت دو میں گرجاو گی آرے پاگل جب تک میں ساتھ ہوں تب تک میری ہانم کبھی گیر نہیں

سکتی تو وہ یاد کرکے زخمی سا مسکرائی ایک اور آنکھوں کے سامنے سین لہرایا فائزہ یہ میری

سیٹ ھے اس کو ہٹا یار میں بیٹھو گی ابے تو یہاں بیٹھ جا نہ میں بات نہیں کرو گی آگر یہ

نہیں ہٹی تو یار تم ہٹ جاؤ یہاں سے یہ میری ہانم کی جگہ ھے جیسی وہ لڑکی اٹھی ہانم فائزہ

کے گلے لگی ہم کبھی جدا نہیں ہوگے چاہیے کچھ بھی ہوجائے فائزہ تو نے تو کہاں تھا نہ ہم کبھی

الگ نہیں ہوگے تو آج کیوں ہوا یہ سب گھٹنوں میں سر رکھ کر آواز کے ساتھ رونے لگی غازیان

جو آپنے آفس میں بیٹھے اپنے روم کی فوٹیج دیکھ رہا تھا جتنا وہ رورہی تھی وہاں اتنے اس

کے ماتھے پر بل پڑ رہے تھے کون ھے یہ فائزہ اس نے زیر لب کہاں اور پیچھے کرسی پر اپنا سر رکھا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
رات کے دس بجے کے قریب اس کی ڈیوٹی ٹائم مکمل ہوں گئی تھی تو وہ لفٹ میں چڑھی تو پیچھے سے داؤد بھی

انٹر ہوا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر صرف مسکرانے پر اکتفا کیا داؤد نے بات کرنے کی گرز سے اس سے

پوچھا تو مس روحہ کیسا دن رہا آج آپ کا ہسپتال میں سارا دن آپ اپنا بابا کے ہوٹل میں

ہوتی ھے مزہ مزہ کے کھانے کی خوشبوں آتی ہوگی اور یہاں تو آپ کو دوائیوں کی اسمیل آرہی

ہوگی تو بتائے دن کیسا گزرا آپ کا ہسپتال میں ارے اتنا فورمل کیوں ہورہا ھے آپن کو تو روحہ

بھی بول سکتا ھے مس نہ بھی لگائے تب بھی چلے گا اور اپن اپنا باپ کو بابا نہیں باپو بولتی

ھے تو اس نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور رہا دن کا بات تو اچھا تھا بس اس بچی کا کیس اپن سے اس کے

ماں باپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھا جارہا تھا بہت بے بس تھے اس کے ماں باپ جو داؤد ابھی مسکرا

رہا تھا چہرہ پر ایک دم سنجیدگی آئی آئے دن ایسے کیس آتے رہتے ھے آپ اگر ابھی نروس ہوگی

تو آگے کیسے یہاں جوب کرے گی مس روحہ ارے تو پھر مجھے مس بول رہا ھے اس نے اس کو ایک

بار پھر ٹوکا ارے نہیں وہ عادت ہوگئی ھے جب سے میں آپ سے ملا ہوں تب سے آپ کو مس ہی

کہاں ھے اس لئے بھی لفٹ کا دور کھولا تو دونوں ایک ساتھ نکلے اب تو آپن دونوں ایک دوسرے کو

جانتے ھے اور کافی اچھی بات چیت ہوگئی اپن کی ویسے تو میں کسی سے اتنا بات نہیں کرتی

لیکن تو اپن کو اچھا لگا ھے تو دوستی کرے گی مجھ سے آپ اس نے خوشدلی سے اپنا ہاتھ بڑھایا

جس کو روحہ نے مسکراتے ہوئے تھام لیا تو آج سے ہم دونوں ایک اچھے دوست ہوئے ہاں بلکل

چل باہر چلتے ھے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور روحہ اپنی بائیک کی طرف اس نے ہیلمیٹ

پہنا اور اس کو دور سے ہاتھ ہلاکر اللّٰہ حافظ کرکے تیز رفتار سے بائیک اڑاتی ہوئی لے گئی داؤد نے تاسف سے اس کی سپیڈ کو دیکھا وہ کل اس

کو ٹوکنے کا ارادہ رکھتا تھا اس نے بھی گاڑی اسٹارٹ کی اور گھر کی طرف گامزن ہوگیا ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تو پھر کہاں سٹے ھے تیرا غازی بھائی میرا جو اپارٹمنٹ تھا وہی پر رہ رہا ہوں ہمم اگر کوئی

پروبلم ھے تو مینشن آجا وہی پھر روک جا نہیں یار ابھی وہاں نہیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گڑیا

کی شادی داؤد سے ہوجائے ماما بابا مان جائے پھر آؤ گا آپ کا جینا حرام کرنے ٹیشن نہ لے آپ کا ہی

جینا حرام کرو گا میں اور ویسے خود نے بھی تو شادی منا لی اوئے ہوئے میری ٹیریٹ کہاں ھے بہی

زیادہ فری نہیں ہوں انسان بنو ابھی گڑیا آرہی ھے ایڈریس مل گیا ھے اس اڈے کا وہاں جاکر

ساری لڑکیاں بازیاب کروالے گے ہاں بلکل لیکن بھائی گڑیا مجھ سے بات کرے گی مجھے معاف

تو کردے گی نہ زین مشکل ھے سب کے لئے جو تو کرکے گیا تھا سب کی نگاہ میں تو اس ٹائم سب

سے برا تھا میں مانتا ہوں تیری کوئی غلطی نہی تھی تیرا جانا اس وقت بہت ضروری تھا اگر تو

اس ٹائم نہیں جاتا تو اس فیلڈ میں کبھی نہیں اتا تو یہ بات گھر والے کیوں نہیں سمجھ رہے ھے بابا

بھی نہی ماما بھی میں نے جتنی بار کال کی ھے اتنی بار انہوں نے زلیل کرکے فون بند کردیا یار

مجھے تو گڑیا پر حیرت ہوتی ھے وہ بھہ اس فیلڈ کی ھے لیکن وہ یہ بات نہی سمجھتی انسان

کے لئے کتنا مشکل وقت ہوتا ھے جب اس کی فیمیلی اس سے خفا ہوں تو پریشان نہ ہوں سب

ٹھیک ہو جائے گا ابھی صرف اپنا دھیان مشن پر رکھوں ہمارا سارا فوکس ابھی صرف دلاور خان

پر ہونا چائیے جتنی بربادی وہ ہمارے ملک میں رہتے ہوئے پہلا رہا ھے اس کو اتنا ہی برا مارنا ھے

زین اس کی موت اتنی بدترین ہوگی کے وہ ان سب لوگوں کے لئے عبرت کا نشان ہوگا جس جس

نے ہمارے مالک کے ساتھ غداری کرنے کی کوشش کی ھے جی بھائی کسی ایک کو بھی نہیں

چھوڑے گے آپ میں اور گڑیا اس نے ایک عزم سے غازیان کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا جس میں

صرف ملک کے غداروں کے لئے نفرت ہی نفرت تھی ویسے بھائی اتنا وقت ہوگیا ھے گڑیا کہاں رہ

گئی وہ ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتا ایگل دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوئی اسلام علیکم بھائی

اس نے انٹر ہوتے ہی غازیان پر سلامتی بھیجی غازیان اس کو دیکھ کر کھڑا ہوا اور قریب آکر

اس کے سر پر ہاتھ رکھا وعلیکم السلام بھائی یہ کون ھے وہ پہچان تو گئی تھی لیکن دل ابھی بھی یہی بول رہا تھا کہ نہیں ہوسکتا زین پلٹا تو

کئ سانحہ کے لئے وہ ایک دم ساخت سی ہوگئی اور ہوش میں تو تب آئی جب زین اس کے قریب آیا وہ

اس کو سینے سے لگاتا اس سے پہلے وہ جھٹ سے ایسے پیچھے ہوئی جیسے وہ کوئی اچھوت ہوں

یہ یہ کیا کررہے ھے غازیان بھائی اس نے ضبط سے پوچھا گڑیا یہاں بیٹھو نہ۔۔۔۔نہیں یہ یہاں کیا

کررہے ھے بھائی وہ پیچھے کی طرف ہوتی ہوئی بولی ان سے کہے جائے یہاں سے کیوں آئے ھے

میری زندگی میں وہ ایک دم چیخی تو زین نے قرب سے آنکھیں میچی غازیان قریب ہوا اور اس

کو سینے سے لگایا بھائی یہ کیوں آئے ھے یہاں واپس پوچھے ان سے چلے گئے تھے نہ یہاں سے

جب ہمیں ان کی ضرورت تھی اس نے روندھی ہوئی آواز میں کہاں زین قریب آیا میری بات تو

سنو گڑیا یار تو بھی ایسے کرے گی تو میں ماما بابا کو کیسے مناؤ گا پلیز تو نہ کر یار اپنے بڑے

بھائی کو معاف کردے یار کیوں کرے ہم آپ کو معاف کس لئے کرے ہم آپ کو معاف جب آپ ہم

سب کو چاہئے تھے تو کہاں تھے آپ وہ غازیان سے الگ ہوکر بدزیانی کیفیت میں چیخی زین گھٹنوں

کے بل بیٹھا پلیز ایک بار معاف کردے میں ٹریننگ کے لئے گیا تھا یار تو جانتی ھے تو خود بھی تو

اس فیلڈ میں ھے تو ایسا کیوں کررہی ھے اپنے بھائی کو معاف کردے اس نے اپنا رخ موڑ لیا تم

لوگ نہیں ہوتے تھے وہاں کوئی نہیں ہوتا تھا میرے پاس رات کو جب میں تنہائی میں بیٹھتا

تھا تو مجھ سے پوچھتے کیسا فیل کرتا تھا تو بھی تو گئی تھی نہ ٹریننگ پر تو سب جانتی ھے

یار ہماری کیسی ٹیرینگ ہوتی ھے تجھے پتہ ھے میں ضرور تم لوگوں سے دور تھا میں یہ بھی

مانتا ہوں میں نے غلط کیا لیکن میں تم سب کی ہر خبر رکھتا تھا تو کہاں ھے کیسی ھے بابا کہاں

ھے کیسے ماما کیسی ھے میں تو ہر خبر رکھتا تھا پلیز گڑیا ایک بار معاف کردے یار کبھی نہیں جاؤ

گا وہ مجبوری تھی میری یار تو اپنے بھائی کو معاف نہیں کرسکتی غازیان پیچھے صوفے پر

بیٹھ گیا تھا اس نے رخ اس کی جانب کر کے دیکھا تو وہ رورہا تھا وہ بھائی تھا اس کا کیوں

نہ اس کو دل پگھلتا ایک بچپن ساتھ گزرا تھا وہ ہر وقت یادکرتی تھی وہ ایگل ضرور تھی وہ

پتھر ضرور تھی لیکن اپنوں سے جوڑے رشتوں کے لئے حدرجہ حساس تھی وہ غازیان کی ہی

طرح تھی اپنے ہر رشتہ کے لئے بے حد حساس ہاں وہ معاف کرسکتی تھیں کیونکہ وہ اپنے بھائی کو

ایسے روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی زین کا منہ نیچے

تھا اس کا منہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں تھاما ایسے نہیں روتے بھیا آپ کی گڑیا آج بھی آپ کو

روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی اس نے روتے ہوئے کہاں تو اس نے اپنی آنکھیں صاف کرکے اس کی

طرف دیکھا تو پاٹنر تو ہی رولا رہی ھے معاف کردے کب سے معافی مانگ رہا ہوں تجھ سے

معاف ہی نہیں کررہی ھے وہ خاموشی سے اس کے گلے لگ گئی یہ صاف اشارہ تھا کہ اس نے

معاف کردیا بس اس کو اب اپنے ماں باپ کو منانا تھا اور یہ کام اب بہت اسان تھا کیونکہ اس کی گڑیا راضی ہوگئی تھی ۔۔۔
جاری ھے ❤️