Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

مغرور محبت 19
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 19

ویٹنگ ایریہ میں بیٹھے ہوئے اس کو آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوگیا تھا وہ بےزاری سے ادھر ادھر دیکھ رہی

تھی قریب سے ایک وارڈ بوائے گزرا تو اس کو اواز دیکر روکا اوئے بات سن ڈاکٹر احسن کہاں ھے اپن

اس کا انتظار کررہی ھے کب سے سر ابھی آپریشن تھیٹر سے باہر آئے تھے اب ڈاکٹر داؤد کے روم میں

ھے وہ بول کر نیچے کی طرف چلا گیا سالا اپن کو بولا کہ تو انتظار کر اور خود پارٹی کررہا ھے

سالا میں کیا پاگل ھے جو انتظار کرتی رہے خود سے بڑابڑاتی ہوئی کھڑی ہوئ اور نیچے کی جانب

قدم بڑھائے ابھی وہ زینے کی طرف پہنچی ہی تھی آپنے نام کی

پکار پر مڑی مس روحہ صدیقی آپ ہی ھے وہ مڑی تو آئی تھنگ اس نے تھوڑا تفتیش سے

کیوں تیرے کو اس سے شیرنی بٹوانی ھے اس نے غصہ سے کہاں سامنے والا اس کے جواب پر پورا

گڑبڑا گیا ابے میں ہی ہوں تو کون دیکھا مجھے لگا ہی تھا کیونکہ اتنی خوبصورت لڑکی وہی ہوسکتی

ھے اس نے ناگواریت سے دیکھا اور تو ڈاکٹر احسن ہوگا میرے کو لگا تھا پتہ ھے کیوں اس نے

مسکرا کر بولا جی کیسے پتہ چلا اس کی توند نکلی ہوئی ہوگی کیسا پہچانا میں نے اس نے بول

کر داد طلب آئی برو اٹھائی تو وہ کھنسیانا سا ہنسا روحہ نےاس کو شرمندہ ہوتے دیکھا تو ہنس

کر بولی چل دل پر نہ لے میں مزاق کررہی تھی جی میں آپ کو آپکا کام بتادیتا ہوں اس نے فورآ

بات بدلی وہ روحہ کو بھی ہر لڑکی کی طرح ہی سمجھا تھا کہ اس کے ساتھ بھی فلرٹ کرلے گا لیکن سامنے تو روحہ تھی آپ ڈاکٹر

داؤد کی اسیسٹنٹ ھے آپ کو ان کے لئے کافی بنانی ھے سب سے مین کام باقی وہ آپ کو بتاتے

رہے گے یعنی آپ ان کی پرسنل اسیسٹنٹ ہوگی باقی ان کے ساتھ ایک جونیئر ڈاکٹر ھے مس

ماہین وہ ان کے ساتھ ہوتی ھے آپ کو ان کے لئے بھی کام کرنے پڑے گے ہاں یہ بتایا تھا تو نے اپن

کو اب یہ بتا یہ ڈاکٹر داؤد کیا آئٹم ھے اس نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہاں میرے کو یہ بتا کے وہ کس ٹائپ کا ھے آپن کے ساتھ اگر

الٹی بات کرے گا تو اپن کا دماغ بھی ایسا ھے میں نہیں چھوڑے گی آرے نہیں نہیں وہ بہت

اچھے ھے لڑکیوں کی بہت عزت کرتے ھے تم مل لو مجھے ریسیپشن نے بتادیا تھا تم آگئی ہوں

میں نے داؤد کو بھی بتادیا ھے وہ سیکنڈ روم اسی کا ھے چلی جاؤ اور اپنا بتادینا کے تم روحہ

ہوں چل ٹھیک اپن چلتی ھے اچھا ایک اور وہ ابھی اپنا قدم بڑھاتی اس کی دوبارہ پکار پر

روکی دیکھو میں نے تمھیں بتایا تھا کہ اس کو تو تڑاخ سے بات کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے اس

لئے ارے ہاں نہ ہلکٹ اب جا یار دماغ کی بجادی ھے تو نے میری بول کر داؤد کے روم کی

طرف بڑھی وہ بھی تاسف سے سر جھٹک کر نیچے کی جانب چلا گیا ٹکٹکٹک اس نے دروازہ

نوک کیا تو اندر سے ایک بھاری آواز آئی یس کم ان اس کی آواز پر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل

ہوئی وہ آنکھوں پر چشمہ لگائے اپنی فائیل میں لگا ہوا تھا اور سامنے ہی ماہین بھی بیٹھی کسی

فائیل کا مطالعہ کررہی تھی روحہ نے جب سامنے داؤد کو دیکھا وہ جو فارمل طریقے سے بات کرنے

کا ارادہ رکھتی تھی داؤد کو سامنے دیکھ کر واپس روحہ بنی ابے چکنے تو روحہ کی آواز سن

کر داؤد نے حیرانگی سے سر اٹھایا اور ماہین نے بھی اس کی بات سن کر پیچھے مڑی داؤد فورآ

اپنی سیٹ سے اٹھا آرے آپ یہاں سب خیریت ہاں ابے سب خیریت ھے ابے کہی تو ایک سیکنڈ تو ڈاکٹر

داؤد تو نہیں ھے اس نے تھوڑا بے چین ہوکر پوچھا جی میں ڈاکٹر

داؤد ہوں اس نے مسکرا کر جواب دیا تو وہ بھی خوشدلی سے مسکرائی اس کی نظر میں داؤد

ایک اچھا اور شریف انسان تھا جو اس کو پہلی نظر میں پسند آیا تھا شکر یار تو اپن کا بوس ھے توجھے پتہ ھے آپن اتنا گھبرا گئی

تھی پتہ نہیں کون سالا ہلکٹ ہوگا اور بول کر دھپ سے کرسی پر بیٹھی داؤد بھی مسکرا کر

کرسی پر بیٹھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو اس کو یاد کررہا تھا اور اس کو کہاں امید تھی کہ وہ

اس سے مل پائے گا ماہین نے حیرت سے اس کو دیکھا اور اپنا برابر میں بیٹھی لڑکی کو جو بینا

اس اجازت کے اس کے سامنے سے پانی کا گلاس اٹھا کر پی رہی تھی اور وہ۔بھی مسکرا کر اس کو

دیکھ رہا تھا پانی پی کر آستین سے اپنا منہ صاف کیا میں تیری اسیسٹنٹ ھے تیرے کام اپن کرے

گی جی مجھے ڈاکٹر احسن۔ نے بتایا تھا کہ آپ نے آنا ھے لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ آؤ

گی میری اسیسٹنٹ کی جگہ داؤد تو سب کچھ بھول کر بس اس کو پینٹ شرٹ کے بجائے ان

کپڑوں میں دیکھ کر حیران تھا لیکن اس کو وہ ان کپڑوں ۔میں زیادہ پیاری لگی تھی اہمم ماہین نے

اپنا گلہ کھنکار کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تو

دونوں نے اس کی طرف دیکھا آرے ہاں مس روحہ ان سے ملے آپ یہ میرے ساتھ ہوتی ھے

ڈاکٹر ماہین آپ کو ان کے بھی کام کرنے پڑے گے ہاں بتایا اپن کو ڈاکٹر احسن نے چل بتا کیا کرنے

کا ھے اپن کو اس نے ہاتھ ہلا کر کہاں ماہین کو یہ لڑکی بہت بری لگ رہی تھی ایک دفعہ اس نے

غلطی سے تم کر کے مخاطب کرلیا تھا اس کو بہت زلیل کرا تھا وہ اس کی ایک نظر کے لئے اتنا

تیار ہوکر آتی تھی لیکن وہ دیکھتا تک نہیں تھا اور ابھی کیسے مسکرا مسکرا کر بات کررہا تھا

جی آپ جائے میرے اور ڈاکٹر داؤد کے لئے ایک ایک کپ کافی لیکر آئے اس نے تھوڑا روعب سے کہاں داؤد ابھی جو بولنے لگا

تھا کے ابھی آپ بیٹھے لیکن ماہین کا بولنا اس کو اس وقت ناگوار گزرا اچھا چل اپن لیکر آتی ھے

تیرے لئے کافی لیکن اپن کو کچن کا نہیں پتا وہ بتادے کہاں ملے گا وہ کرسی سے اٹھ کر کہاں

چلے میں آپ کو دیکھا دیتا ہوں وہ اپنی کرسی بھی چھوڑ کر آٹھا ماہین یہاں بس اب بہوش ہونے

والی تھی کہ یہ مغرور شخص اٹھ کر پانی نہیں پیتا تھا خود سے اور جاکر اب خود کچن دیکھانے

کے لئے کھڑا ہوگیا ہاں چل مجھے اور بھی بتادے اپن کو کیا کیا کام کرنے کا ھے یار شکر ھے تو ھے

اپن کو بوس نہیں تو پتہ نہیں کون ہوتا داؤد اس کی بات سن کر ہلکہ سا قہقہ لگایا اور دونوں

ہنستے ہوئے دونوں نے باہر کی طرف قدم بڑھائے اور پیچھے ماہین حیرانگی سے دروازہ کو دیکھ
رہی تھی جہاں سے وہ دونوں گزرے تھے ۔۔۔
💕💕💕💕💕💕💕
وہ کالج میں داخل ہوئی تو سامنے ہی اس کو فائزہ دیکھ گئی تھی وہ شکر کا سانس بڑھتے

ہوئے اس کی طرف قدم بڑھائے فائزہ جو دو اور لڑکیوں کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی ہانم کو آپنی

جانب آتے دیکھا تو اس کو اندیکھا کرکے اندر کلاس روم میں چلی گئی ہانم نے حیرت سے

دیکھا کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ فائزہ نے اس کو دیکھ لیا ھے ادھر اُدھر دیکھا تو ایسا

محسوس ہوا کہ سب اس کو ہی دیکھ رہے ہوں تو گھبراہ کر کلاس روم میں آئی جو اس کی جگہ

تھی وہاں الریڈی ایک اور لڑکی بیٹھی ہوئی تھی وہ قریب گئی اور گھبراتے ہوئے فائزہ کی طرف

دیکھا لیکن اس کی نظریں نیچے کتاب پر تھی پھر بھی ہمت کر کے اس لڑکی سے مخاطب ہوئی

یہ میری سیٹ ھے آپ پلیز ہٹ جائے اس نے پیار سے کہاں تو اس لڑکی نے اس کی طرف ناگواریت

سے دیکھا اتنی ساری بینچ ھے کہی بھی بیٹھ جاؤ اس نے تڑاخ کرکے جواب دیا لیکن

یہ میری سیٹ ھے میں یہاں روز بیٹھتی ہوں ہانم نے بھی ہمت کرکے بولا فائزہ بولونا اس کو فائزہ نے اس کی جانب دیکھا

اور پھر رخ پھیر گئی ہانم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ اس کو بت بن کر دیکھ رہی تھی کہ یہ ہوا کیا ھے کلاس میں ٹیچر انٹر ہوئی

سب سیدھے ہوکر بیٹھ گئے ہانم ابھی بھی حیرت سے فا ئزہ کو ہی دیکھ رہی تھی ہانیہ درانی آپنی

سیٹ پر بیٹھے میس فرزنہ نے غصہ سے کہاں لیکن ہانم اگر ہوش میں ہوتی تو سنتی نہ کہ

انہوں نے مالک نہیں درانی کہاں ھے اس کو تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ کلاس میں ٹیچر آگئی ھے وہ

تو بس فائزہ کو دیکھ رہی تھی کہ اس نے دیں کر اس کو رخ پھیر لیا ہانیہ اپنی سیٹ پر بیٹھے وہ

چیخی ہانم ہوش کی دنیا میں واپس لوٹی اور مس کی جانب مڑی اپنی جگہ پر بیٹھے آواز نہیں

آرہی آپ کو مس یہ ہماری جگہ ھے ان سے بولے یہاں سے اٹھے کیوں آپ پانے گھر سے لیکر آئی ھے

اس نے اچھنبے سے ان کو دیکھا وہ کیسے پہلے پیار سے بات کرتی تھی لیکن آج وہ بہت روڈ

طریقے سے کہاں کہ اس کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگیں جس کو اس نے جھپک کر روکا اور

پیچھے والی بینچ پر جاکر بیٹھ گئی اور سر نیچے کرلیا۔۔۔۔۔
!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
یہ کس اسٹوپیڈ کو تم۔نے کام پر رکھ لیا ھے بلکل تمیز نہیں ھے اسے ابھی اسی وقت اس کو یہاں

سے چلتا کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا وہ دنداناتی ہوئی غازیان کے آفس میں داخل

ہوئی اور بدزیانی کیفیت سے چیخی وہ جو ابھی ریلکس انداز میں بیٹھا تھا اس کے اتنا بتمیزی سے

اندر آنے اور چیخنے پر بدمزہ ہوا کس کی اجازت سے میرے روم میں انٹر ہوئی ہوں وہ اس کی

بات کو سرے سے نظر انداز کر بولا تم کسی نے اجازت دی ھے تمھیں زرنش عالم وہ طیش سے

بولا تو زرنش جو زین کا غصہ اس پر نکلنے کا ارادہ رکھتی تھی سارا غصہ اس کو غصہ میں

دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھا وہ یہ بھول گئی تھی کہ سامنے کون ھے میں نے تمھارے باپ کو

اچھے سے سمجھادیا تھا کہ اگر ۔میرے ساتھ تم کام کرو گی تو اپنی حد میں رہ کر کام کرو گی

اس نے انگلی اٹھا کر کہاں سمجھایا نہیں تم کو انہوں نے بزنس پارٹنر ہوں اسی حد میں رہو

میرے سر پر چڑھ کر ناچنے کی ضرورت نہیں ھے اور کس کی اجازت سے تم روم آکر چلائی ہوں

تمھارے باپ کا آفس نہیں ھے یہ نہ ہی میں تمھارا زرخید غلام ہوں میرے کچھ اصول ھے اگر اس

کو نہیں ماننا تھا تو مجھے پہلے بتاتا دیتی میں یہ۔پروجکیٹ کسی اور کے ساتھ کر لیتا وہ

دراصل میں آرہی تھی وہ ہلکی آواز میں منمنائی تو غازیان نے ہاتھ کہ اشارہ سے اس کو روکا ایک

بات اپنے دماغ میں بیٹھالو آئیندہ کہ بعد اپنی حدود میں رہنا ابھی جاؤ اور اپنے کیبین میں

بیٹھوں اور ہاں وہ۔جانے لگی تو اس کی آواز پر روکی پاٹنر ہوں پاٹنر بن کر رہنا جیسے میرے اور

پاٹنر ھے تم بھی ویسی ہی ہوں سمجھ آئی اس کو صبح سے اس پر غصہ آرہا تھا جو اس پر ایسے

نکلا تھا زرنش اپنی اتنی عزت افزائی پر اہانت کے احساس سے پوری سرخ ہوگئی۔تھی پلیز جاؤ

یہاں سے دو بجے میٹنگ ھے ہمارے جو نیا پاٹنر ھے وہ بھی ائے گا۔۔۔وہ بھی اپنا پرس اٹھا کر روم

سے نکلی غازیان نے بھی سر جھٹکا اور فائیل کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
جاری ھے ❤️