Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44

مغرور محبت44
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 44
دروازہ نوک ہوا اس کی ساری توجہ دروازے کی طرف ہی تھی جس کا انتظار تھا شاید وہ آگیا تھا

صدیقی صاحب اور فوزیہ بیگم۔نے روحہ کی طرف دیکھا جو وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس

تھی اور اج تو دوپٹہ کا بھی اضافہ تھا رات کو بہت مشکل سے اس نے فوزیہ بیگم کو راضی کیا

تھا داؤد سے ملنے کے لئے دروازہ ایک بار پھر نوک ہوا آج گارڈ بھی گھر نہیں تھا اس وجہ سے خود

جانا تھا صدیقی صاحب جانے لگے تو وہ فورا کھڑی ہوئی باپو تو بیٹھ اپن لاتی ھے وہ بول کر

جلدی سے وہاں سے نکلی فوزیہ بیگم نے غصہ سے سر جھٹکا دروازے کھولا تو سامنے داؤد بلیک

کلر کی شرٹ اور بلیک ہی جینس اور ہاتھ میں پھولوں کا بوکے تھامے کھڑا تھا وہ اس کو دیکھ

کر مسکرائی اور اندر آنے کے لئے راستہ دیا گھر میں داخل ہوکر اس نے سلام کیا اسلام علیکم

کسی ھے آپ میں ٹھیک ھے آندر باپو اور ماتری دونوں ھے اپنا امپریشن آچھا رکھنا اور بات بہت

اچھے سے کرنا یار ماتاری نہیں مان رہی تھی بہت مشکل سے منائی ھے اپن یعنی آپ راضی ھے

داؤد نے آنکھوں میں جذبات لیکر پوچھا یار نہیں کر ابھی اپن کو بڑی ٹینشن ہورہی ھے مجھے اگر

ان کی طرف سے اپرول نہیں آیا سمجھ پھر بہت مشکل ھے آپ ٹینشن نہ لے میں دیکھ لو گا چلے

چلتے ھے اس نے اندر کی طرف دیکھتے ہوئے کہاں اور دونوں ایک ساتھ اندر کی جانب بڑھے فوزیہ

بیگم صرف صدیقی صاحب کی وجہ سے خاموش تھی ورنہ ان کا بس نہیں چل رہا تھا آنے والے

لڑکے اور روحہ دونوں کا سر پھاڑ دے دونوں نے ڈرئینگ روم کے پاس پہنچ کر ایک دوسرے کی

طرف دیکھا اور اللہ کا نام لیکر ااندر داخل ہوئے اس کا سب سے پہلا سامنا صدیقی صاحب سے

ہوا اسلام علیکم آنکل اس نے سعادت مندی سے سلام کیا اور مصافحہ کرنے کی گرز سے ہاتھ آگے

بڑھایا پہلے تو انہوں نے اس کے ہاتھ کو دیکھا پھر برا سا منہ بناتے ہوئے ہاتھ ملایا داؤد جبرآ مسکرا

کر روحہ کو دیکھا اور مزید اندر ہوا تو ان کے پیچھے ہی فوزیہ بیگم کھری ہوئی تھی ان کو

دیکھ کر بھی سلام۔کیا انہوں نے داؤد کو دیکھا پھر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا ان کو خوشگوار

حیرت ہوئی وہ ہر قسم کا لڑکا امیجین کر چکی تھی لیکن ان کے ذہین اور گمان میں بھی اتنا

ہنڈسم لڑکا تو دور دور تک نہیں تھا او بیٹا بیٹھو فورا بیٹھنے کے لئے کہاں روحہ نے ائی برو اچکائی

صدیقی صاحب کو بھی حیرت ہوئی اور بیٹا پانی وغیرہ پیئے گے انہوں نے اپنائیت سے پوچھا

روحہ کی آنکھیں شوکڈ کے مارے باہر نکلنے کو تھی یہی حال صدیقی صاحب کا تھا نہیں نہیں

انٹی پانی نہیں چائیے اچھا اور خیر خیریت سے آگیا آپ گھر مل گیا آسانی سے آپ کو جی جی

آنٹی مجھے مس روحہ نے اڈریس سمجھا دیا تھا کمرے میں پانچ منٹ کے لئے خاموشی چاہ گئی

تھی اس خاموشی کو صدیقی صاحب کی آواز نے تورا ہمم تو آپ ھے وہ لڑکا جس سے روحہ ہمیں

ملانا چاہتی تھی کام کیا کرتے ھے آپ جی میں پیشے کے حساب سے ڈاکٹر ہوں ماشاءاللہ فوزیہ

بیگم کی زبان سے بے ساختہ نکلا صدیقی صاحب نے ان کی جانب سنجیدگی سے دیکھا اور واپس

اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کی فیملی میں کون کون ھے جی مجھ سے ایک بڑے بھائی ھے

اور مجھ سے ایک چھوٹا اور میری میمو جان ویسے تو وہ ہماری ہمسائی ھے لیکن بچپن سے

ماں بابا کے گزرنے کے بعد ہماری ۔میمو جان نے ہمیں پالا ھے وہ اور ایک انکی بیٹی جو میری

بلکل چھوٹی بہن جیسی ھے ماشاللہ فوزیہ بیگم نے سن کر کہاں آپ دونوں تو جانتے ھے میں

کس لئے یہاں آیا ہوں میں بات کو گھوما پھیرا کر۔ نہیں کرو گا میں آپکی بیٹی روحہ کو پسند۔

کرتا ہوں۔اس کو اپنے گھر کی عزت اور اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں میں جلد ہی نکاح چاہتا ہوں آس

نے دو ٹوک بات کریں تم کو پتہ ھے میری بیٹی کے کیسے شوق ھے صدیقی صاحب بولے تو فوزیہ

بیگم نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور ان کو۔خاموش ہونے کے لئے کہاں جی میں سب جانتا

ہوں ان کے بارے میں اور ان کے سارے شوق کے بارے میں آپ لوگوں کو نہیں پتا آپ کی بیٹی

کتنی اچھی ھے اس کے لئے پہلے اپنی فیملی ھے اس نے مجھ سے کہاں اگر میرے مما اور بابا مانے

گے تو میں تم سے شادی کرو گی ورنہ نہیں آنٹی آپ نے اپنی بیٹی کی بہت اچھی تربیت کریں ھے

اس نے بول کر فوزیہ بیگم کی جانب دیکھا کہ وہ تو کریں ہی ھے انہوں نے روحہ کی طرف دیکھا

جو خاموش تماشائی بنی سب کو دیکھ رہی تھی تم اپنی فیمیلی میں سے کسی کو کیوں نہیں لے

کر آئے ہوں فاروق صدیقی صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا سر میں تو لانا چاہتا تھا لیکن مس

روحہ نے کہاں ایک بار وہ آپ لوگوں سے مجھے ملانا چاہتی ھے ٹھیک ھے ابھی تم جاو جو بھی

ہوگا تمھیں روحہ بتادے گے وہ کھڑے ہوکر بولے تو کمرے بیٹھے سارے نفوس ان کے ساتھ کھڑے

ہوئے سر میں آپکی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہوں جب سے دیکھا ھے تب سے آپ سے ایک چھوٹی

سی ریکوسٹ ھے پلیز انکار مت کرنا پلیز ہمم ٹھیک ھے انہوں نے بول کر مصافحہ کے لئے ہاتھ

بڑھایا جس کو تھام کر سب کو اللہ حافظ کرکے وہ گھر سے نکل گیا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°
زویا مجھے تم سے بات کرنی ھے پلیز ایک بار بات سنو میری مجھ سے کیوں ناراض ہوں تم کل سے

میرے ایک بھی میسیج کا جواب نہیں دے رہی ہوں میں نے کیا کرا ھے زویا خاموشی سے

لائبریری میں بیٹھی اپنی پڑھائی میں مگن تھی جب ایان اس کے سر پر سوار ہوا ایان یہ لائبریری

ھے پلیز باہر جاؤ یہ پھر کسی اور جگہ بیٹھ کر پڑھ لو مجھے پریشان مت کرو زویا میں بات

کررہا ہوں تم سے اس نے اپنے لحجہ کو سخت کرتے ہوئے پوچھا اور میمو جان کو کیا بات کرنی

ھے ہم تینوں سے جو بات کرنی ھے وہ میں نے تم کو رات کو بتادیا تھا پلیز میرے سامنے بننے کی

ضرورت نہیں ھے اس نے جھڑکنے والے انداز میں کہاں اور بات کو ختم کردیا زویا ایک دفعہ میری

بات تو سنو کیا سنو میں تمھاری بات بہی جاؤ یہاں سے دماغ نہ خراب کرو میرا اس کو بول کر

وہ واپس اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوئی زویا میں تم سے محبت کرتا ہوں اس نے ضبط سے

مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہاں یار میں نہیں چاہتا کہ تم ارسلان سے شادی کرو میں اس سلسلے میں

تم سے بات کرنا چاہتا ہوں زویا کا دل بے اختیار ڈھڑکا لیکن اس نے بے بسی سے آنکھیں میچی اب

کچھ نہیں ہوسکتا ھے ایان پلیز جاؤ یہاں سے زویا پلیز ایک بار تو میری بات سن لو ایان نے

التجائیں انداز میں کہاں اگر تم نہیں جارہے تو میں کہی اور چلی جاتی ہوں وہ بول کر باہر جانے

لگی تو ایان نے غصہ سے اس کا بازو پکڑا اور کھینچتا ہوا باہر کی طرف لے گیا وہ اس کو

ایسی جگہ پر لایا تھا جہاں ایک دو لوگ ہی موجود تھے ایان کیا بتمیزی ھے یہ اس نے اپنا

بازو چھڑواتے ہوئے کہاں میں تم سے کیا بول رہا ہوں تم سے اور تم کیا بول رہی ہوں میں نے صرف

اتنا ہی بولا ھے اب کچھ نہیں ہوسکتا ھے ایان جب میں نے تم سے کہاں تھا تم نے کیا بولا تم

مجھے تم اپنی صرف دوست سمجھتے ہوں تم میرے دوست اب تم مجھے وہی سمجھوں اور

اچھا ھے نہ یار میں تمھارے ساتھ خوش بھی نہیں رہ سکتی پتہ ھے کیوں یار تم کہاں اور

ارسلان کہاں تم سے ایک سمیسٹر تو کمپلیٹ نہیں کرا جاتا اور ارسلان ایک ڈاکٹر ھے میں بہت

خوش رہوں گی میرے بابا بھی بہت خوش ھے کہ ان۔کے بھائی کے بیٹے سے میری شادی ہورہی

ھے تم کون ہوں اور میں اپنے بابا اور مما دونوں کے آگے ہاں کرچکی ہوں لیکن تم تو محبت کرتی

تھی نہ۔مجھ سے ایان کی آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی تھی لحجہ بھی نم ہورہا تھا کرتی تھی

لیکن جب تم نے انکار کیا اور میں نے ارسلان کے بارے میں سوچا تو مجھے وہ برا نہیں لگا اچھا

ھے قابل ھے میں خوش رہوں گی اس کے ساتھ اور میرا کیا ہوگا اس نے سر نیچے کرکے کہاں تم۔

نے تو کہاں تھا نہ کے تم مجھ سے محبت نہیں کرتے ہوں تو اب کیا ہورہا ھے تمھیں یہ پھر ایک

رات میں محبت ہوگئی مجھ سے یہ سب کسی اور کے سامنے کرنا ایان جو تمھیں جانتا نہیں ہوں

پلیز اور آئیندہ کے بعد مجھے چھونے کی کوئی ضرورت نہیں ھے دور رہنا میرے سے وہ سفاکی

سے بول کر پیچھے اس کو بے حال کرکے چلی گئی تھی ایک بار موڑ کر نہیں دیکھا تھا کہ اس کے

الفاظوں سے اس کا کیا حشر ہوا ھے زویا تم صرف میری ہوں چاہے کچھ بھی ہو جائے اس نے

خود سے کہاں لیکن اگر تم میری نہ ہوئی نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا میں تمھیں کسی کا نہیں

ہونے دوگا اس نے ایک عزم سے کہاں اور بے بسی سے اس راستہ کو دیکھا جہاں سے وہ گئ تھی

اس دن اسنے اس کی محبت ٹھکرائی تھی اج وہ اس کی زات اس کی محبت اپنے پیرو تلے کچل کر چلی گئی تھی ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سر ابھی میری سمارٹ جوکر سے رابط ہوا ھے وہ ہم سے ملنا چاہتا ھے سرفراز نے ادب سے سر

جھکا کر سامنے بیٹھے ڈی کے کو جوکر کا پیغام پہنچایا تمھارا رابطہ کیسے ہوا وہ جو ریلکس

انداز میں صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا سرفراز کی بات سن کر سیدھا ہوکر بولا اس کے

سر اس کی خود کال آئی تھی وہ ہماری پینٹینگ خود خرید کر بیچنا چاہتا ھے اس نے کیا ڈیمانڈ

لگائی ھے ڈی کے کی خوشی چھپی نہیں چھپ رہی تھی سر یہ سب تو اس نے نہیں بتایا ھے اس

نے کہاں ھے کہ وہ آپ سے خود ایک میٹنگ کرنا چاہتا ھے میٹنگ کرنا چاہتا ھے اچھا پھر میں

رانا سے بات کرتا ہوں وہ کیا بولتا ھے وہ بول رہا تھا کہ وہ ایک پارٹی ارینج کرے گا اس میں آپ

کو انوائیٹ کرنا چاہتا ھے وہی وہ آپ سے اس سے ریلیٹیڈ بات کرنا چاہتا ھے سرفراز اگر ہماری

ملاقات اس دی اسمارٹ جوکر سے ہوگئی نہ تو زندگی سنور جائے گی صحیح بول رہے ہوں تم

سرفراز اگر ایک بار اس سے ملاقات ہوگی تو مزہ آجانا ھے تم نہیں جانتے وہ اس دنیا کا کینگ ھے

وہ منظر عام پر نہیں آتا لیکن ہر ایسے کام۔میں وہ ملوث ہوتا ھے وہ تو کسی کے سامنے تک نہیں

اتا آج تک کسی نے اس کا چہرہ تک نہیں دیکھا ھے میری تو ابھی تک حیرت ختم نہیں ہورہی ھے

اگر وہ ہم سے خود ملاقات کرنا چاہتا ھے تو تم نہیں جانتے یہ ہمارے لئے کتنے عزاز کی بات ھے

لیکن سر ایک مسلہ ھے وہ کیا ڈی کے نے پریشانی سے پوچھا سر وہ روحہ باجی کا بھی نام لے رہا

تھا وہ جو ابھی خوش ہورہا تھا ایک دم ماتھے پر بل پڑے وہ اس کو کیسے جانتا ھے سر آپ جانتے

ھے روحہ یہ سب کام ہی کرتی ھے وہ تو ویسے بھی جسم۔کے اعضا کی اسمگلنگ کرتا ھے اور

روحہ باجی بھی ہسپتال میں کام کررہی ھے تو ہوسکتا ھے انہوں نے کچھ ڈیلور کرا ہوں ہمم

ہوسکتا ھے لیکن وہ بول کیا رہا تھا سر وہ بول رہا تھا کہ روحہ باجی اس میٹنگ کا حصہ لازمی

ہونی چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ تو ٹھیک ھے سرفراز لیکن رانا کا کیا کرے گے ہم وہ اس کو زرہ

پسند نہیں کرتا ھے اس نے پینٹنگ والے پروجیکٹ کا سختی سے روحہ کو بتانے سے منع کیا ھے سر

لیکن ابھی ہمارے لئے رانا سر ایمپورٹنٹ نہیں ھے ہمارے لئے سر ابھی دی اسمارٹ جوکر امپورٹینٹ

ھے اگر وہ ڈیل ہمارے ساتھ سائین کرتا ھے سر ہم مالا مال ہو جائے گے سرفراز نے اس کو حقیقت

سے روشناس کروایا تو اس نے سن کر سر اثبات میں ہلایا صحیح بول رہے ھے تو میں رانا کو بتاؤ

گا لیکن اس کو سمجھا دو گا کہ روحہ ضروری ھے سرفراز تم اس کو خبر کردو جو تاریخ وہ دے

اس کو ڈن کردو اوکے سر جیسا آپ کہے وہ تابعداری سے بول کر ڈی کے کے روم سے نکل گیا

اور وہ پیچھے ایک گھیری سوچ میں ڈوب گیا تھا آخر اس روحہ میں ایسا کیا ھے جو دی اسمارٹ جوکر اس کو میٹنگ میں چاہتا ھے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فائزہ میں نے کیا سنا ھے ہانم نے سرگوشی نما انداز میں بولا وہ دونوں کلاس میں موجود تھی

ہانم اس کے کان میں گھس کر بولی ہمم بولو وہ سامنے دیکھتے ہوئے بولی یار ابھی یہ پیچھے

والی لڑکیاں بول رہی تھی کہ اینگلش کے نیو سر آئے ھے کیا یہ بات سچ ھے ہاں فائزہ نے سرسری

سے انداز میں کہاں اچھا فائزہ یہ لوگ یہ بھی بول رہی تھی وہ بہت ہنڈسم بھی ھے اور نام

بھی بہت اچھا ھے کیا نام ھے مجھے تو نہیں پتا فائزہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہاں التمش

نام ھے سر کا یار نام تو بڑا پیارا ھے اب دیکھتے ھے بندہ پیارا ھے کہ نہیں یہ لوگ تو بڑی تعریف

کررہی تھی کہ وہ بہت ہنڈسم ھے ہانم انسان بن جا تیری شادی ہوچکی ھے فائزہ نے ہنستے ہوئے

گھور کر کہاں ہانم بھی اس کی بات سن کر کھلکلائی آرے نہیں تم غلط مطلب لے رہی ہوں

میں بول رہی ہوں کہ میں نے سنا ھے کہ وہ دیکھنے میں اچھے ھے اب انسان کیسے ھے وہ تو

ان۔کے پڑھانے کے بعد ہی پتا چلے گا چل بے چل زیادہ بن مت مجھے پتہ ھے تو کیا بول رہی ھے

ایسی بات نہیں ھے فائزہ میں یہ نہیں بولنا چاہ رہی تھی اس نے رونی شکل بنا کر کہاں ارے

میری ماں چپ کرجا میں تو بس مزاق میں ایک بات کررہی تھی مجھے معلوم ھے بہی تو بہت

محبت کرتی ھے غازیان بھائی سے تو ان کے علاؤہ کسی کو نہیں چاہتی ھے مجھے پتہ ھے

بس یہ لیکچر لینے دے پھر۔ تیرے سر اور ہسبنڈ کی بات کرے گے اس نے جھنجلا کر اس کی رونی

صورت دیکھ کر کہاں ہانم سرخ سی ہونے لگی تھی اور اپنا منہ نیچے کی جانب کرلیا تھوڑی

دیر بات وہ ٹیچر اپنا لیکچر دیکر چلی گئی تھی ان کے جاتے ہی کلاس میں اس ٹیچر کو لیکر چے

موگیاں اسٹارٹ ہوگئی تھی سب کی نگاہ کلاس کے مین ڈور کی جانب تھی تھوڑی دیر بعد سر

التمش داخل ہوئے وہ نوجوان خوش شکل تھا جسامت بھی کافی اچھی تھی اور چہرہ سے

بھی خوبرو تھابھی اس کے داخل ہوتے ہی سب کھڑی ہوئی ہانم اور فائزہ کو وہ بہت اچھا لگا تھا

اس نے سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اپنا تعارف کروایا میرا نام التمش ھے میں آپ لوگوں کا

انگلش کا پروفیسر ہوں میں آپ سب کو انگلش پڑھاؤ گا چلے اب ایک ایک کر کے اپنا انٹرو دے

ساری لڑکیاں باری باری کھڑے ہوکر اپنا اپنا تعارف دینے لگی ہانم ایسی چیزوں سے بہت گھبراتی

تھی اور وہ اب بھی بہت نروس ہوگئی تھی فائزہ بار بار اس کو سمجھا رہی تھی اتنے میں ان کی

باری آگئی پہلے فائزہ کھڑی ہوئی اور اپنا تعارف دیا اوکے نیکسٹ اس نے فائزہ کا تعارف سن کر

ہانم کی طرف پوائنٹ آؤٹ کیا ہانم نے سہمی ہوئی نگاہوں سے فائزہ کی طرف دیکھا اس نے

آنکھوں سے اس کو کھڑے ہونے کا اشارہ کیا تو وہ گھبراتے ہوئے کھڑی ہوگئی جی تو مس آپ اپنا نام

بتائے التمش نے مسکراتے ہوئے پوچھا می۔۔۔۔میرا نام ہانیہ خاور مالک ھے اس نے ہمت کرکے بولا تو

سب لڑکیاں ایک دم ہنسنے لگی تو اس نے بے بسی سے سب کی طرف دیکھا اور آنکھوں میں نمی

جما ہونے لگی التمش نے جب اس کی آنکھوں میں نمی دیکھی تو وہ ایک دم چیخا شٹ اپ ایور ی

ون کیسے ھے اپ لوگ جب ایک انسان اگر کنفیوز ہورہا ھے تو اپ لوگ اس کو مزید کررہے ھے اپ

لوگ اس کی کلاس فیلو ہوکر ایسی حرکت کرے گی زرہ تمیز نہیں ھے آپ لوگوں میں بہت

ڈیساپوائنٹ کیا ھے اور کس لئے آپ سب اس کے نام بتانے کے اوپر ہنس رہے ھے فائزہ کو بھی بہت

غصہ آرہا تھا اس لئے وہ کھڑی ہوکر فوا بولی سر ہانم نے اپنے نام کے آگے اپنے ہسبنڈ کا نام نہیں

لگایا اس لئے یہ لوگ ہنس رہے ھے آپنے بابا کا نام لگایا ھے اس نے سب کو خونخوار نگاہوں سے

گھورتے ہوئے چبا چبا کر کہاں بیٹھے آپ مس فائزہ اور آپ مس ہانیہ اس میں اتنا گھبراہ کر نام

بتانے کی کیا ضرورت تھی آپ کو اور آپ سب اگر وہ ابھی اپنا سر نام نہیں چینج کرنا چاہتی ھے تو

آپ سب کو کیا پروبلم ھے کیا آپ سب اپنے فادر کا نام استعمال نہیں کرتی ھے ابھی وہ پڑھ رہی

ھے تو وہ اپنے باپ کا نام استعمال کررہی ھے تو آپ سب کو کیا پروبلم ھے اور اپ مس ہانیہ ایک

بات یاد رکھنا جتنا اس دنیا سے گھبراہ کر زندگی گزاروں گی اتنا ہی لوگ تم کو مزید ڈرائے گے ہمت

سے بولا کرو اپنے ہسبنڈ کا نام اب ایک دفعہ اعتماد کے ساتھ بولو اپنا پورا نام اس نے نم

آنکھوں سے پوری کلاس کو دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے التمش کی جانب دیکھا اور اعتماد

سے بولی میرا نام ہانیہ غازیان درانی ھے التمش بھی مسکرایا اور گردن کے اشارہ سے اس کو

بیٹھنے کا کہاں اور باقی کا انٹرو کنٹینو کرا ہانم کو یہ شخص بہت اچھا لگا تھا اس کا زکر وہ

غازیان آیان داؤد زویا سب سے کرنے کا ارادہ رکھتی تھی
جاری ھے ❤️

۔