Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 55

مغرور محبت 55
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 55

ان سب نے کافی محنت کے بعد کافی اچھا ڈنر تیار کر لیا تھا کافی محنت سے ہانم نے بریانی اور

کڑاھی بنائی تھی وہ جیسی بھی بنی۔لیکن۔بس کھانے لائق بن گئی۔تھی۔وہ۔اس میں ہی اتنا خوش

تھی اور اس کو پکی امید تھی غازیان مان جائے گا اس کا میک اپ زویا نے کیا تھا روئل بلو کلر

کی فراق جو پیرو تک ارہی۔تھی بال پشت پر بھکیرے ہوئے تھے اور آگے سے خوبصورت سی

ایک فرنچ بنائی ہوئی تھی گیلری کو زویا اور ایان نے مل کر بہت خوبصورتی سے سجایا تھا وہاں

میز پر کینڈل جلائی تھی ساتھ گلاب کے پھول۔بھی تھے اور ایک سوری کا لٹر بھی تھا جو ہانم

نے سب کی نظر سے بچا کر لکھا تھا جو صرف اس نے لکھا تھا اس لیٹر کے بارے میں کسی کو

علم نہیں تھا وہ سب کچھ تیار کرکے چارو بھی گھر سے نکل گئے تھے مینشن میں نیچے گیٹ پر

گارڈ تھے اور اوپر گیلری میں ہانم۔تھی جب سب چلے گئے تھے جب وہاں جاکر اس نے یہ۔لیٹر رکھا

تھا وہ اس کا انتظار کافی دیر سے کررہی تھی وہاں بیٹھے بیٹھے کافی وقت بیت چکا تھا وہ

آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا آج ان چاروں کا ارادہ میمونہ بیگم کے گھر ہی روکنے کا تھا وہ لوگ

ریسٹورنٹ سے ڈائرکٹ وہی آنے والے تھے ہانم کافی دیر اس کا انتظار کرتی کرتی وہی ٹیبل پر

سر رکھ کر سو گئی غازیان اس مشن کو لیکر بے حد سنجیدہ تھا اور یہ میشن۔بھی وہ خود ہی

لیڈ کررہا تھا اس لئے اس کے کندھوں پر ہی ساری زمیداری تھی ابھی بھی وہ۔ وہی مصروف تھا

اس لئے وقت کا۔پتہ۔ہی نہیں چلا وہ وہاں سے جلدی جلدی نکلا۔تھا گھر میں داخل ہوا تو کوئی

بھی اس کو نہیں دیکھا دیہان نے دیتے ہوئے وہ اپنے پورشن کی جانب بڑھا ایک نظر گیلری کو

دیکھا اور اپنے کمرے میں گھستا اس سے پہلے ریورس میں وہ پیچھے ہوکر گیلری کوغور سے

دیکھا جہاں وہ پری پیکر ٹیبل پر سر رکھے نیند میں تھی اور گیلری کو بہت ہی خوبصورت انداز

میں سجایا گیا تھا وہ وہاں داخل ہوا تو سب سے پہلے نظر ہانم کے معصوم چہرے پر گئی جہاں

بہت ہی سادہ انداز میں میک اپ کیا ہوا تھا بال کھولے ہوئے تھے وہ اس ٹائم غازیان درانی کا دل

دھڑکا گئی تھی اس کی نظر ٹیبل پر گئی جہاں بریانی اور کڑاھی رکھی ہوئی تھی اس نے ائی

برو اٹھائی اور سامنے والی کرسی پر بیٹھا بریانی کی ڈیش کے نیچے اس کو ایک لیٹر نظر آیا ہانم

کو ایک نظر دیکھ وہ لیٹر کھولا باہر بڑا بڑا سوری لکھا ہوا تھا وہ پڑھ کر زیر لب مسکرایا اور لیٹر کھول کر پڑھنا اسٹارٹ کیا

“”اسلام علیکم غازی جی””

پلیز یہ لیٹر پورا پڑھنا آپ لیکن پلیز میرے سامنے نہیں آپ کو کچھ بولنا تھا لیکن میں آپ

کے منہ پر نہیں بول سکتی ہوں اس لئے لکھ کر بتارہی ہوں لیکن اس سے پہلے آپ مجھے پلیز پلیز

پلیز معاف کردے آئیندہ یہ غلطی بھول کر بھی نہیں کروگی پلیز اپنی ہانم کو ایک بار معاف

کردے اس کی مسکان گہری ہوئی تھی آپ سے ایک بات بولنی تھی بہت سیکریٹ ھے لیکن یہ

بات آپ کسی کو بتانا مت بری بات ہوتی ھے لیکن میں آپ کو بتاؤ گی لیکن آپ وعدہ کرے مجھ

سے یہ بات آپ کسی کو نہیں بولے گے نہ مجھے پتہ ھے ویسے تو آپ یہ بات کسی کو نہیں بولے

گے لیکن پتہ نہیں کیوں غازی جی ڈر لگ رہا ھے کہی آپ نے یہ بات کسی سے بول دی تو سب

کیسی کیسی باتیں کرے گے میرے بارے میں لیکن میں پھر بھی آپ کو بتاؤ گی غازی جی میں بات

کو گھماؤ گی نہیں سیدھا سیدھا بولو گی
میں نہ آپ سے بہت پیار کرتی ہوں لیکن یہ بات

کبھی آپ کے منہ پر نہیں بول سکتی ہوں غازی جی پلیز اپنی ہانم کو ایک بار معاف کردے آپ کی

ہانم آپ سے بات کئے بغیر نہیں رہ سکتی ھے آپ نے جب سے کہاں ھے کے میں بات نہیں کرو گا

کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ھے آپ کو پتہ ھے میں نے صبحِ سے کچھ نہیں کھایا ھے کیونکہ

مجھے آپ کے ساتھ ڈنر کرنا تھا جس میں صرف آپ اور میں ہوں وہ والا آپ نہ مجھے بہت اچھے

لگتے ہوں خاص کر آپکی یہ آنکھیں کاش ایسی آنکھیں میری بھی ہوتی لیکن کوئی بات نہیں

میری نہیں ہوئی تو ہمارے بے بی کی ہوگی بولتے ھے بچے مما بابا پر ہی جاتے ھے اس کی

مسکراہٹ گہری ہوتی جارہی تھی میں نے جو اوپر بات لکھی ھے کہ۔مجھے اپ۔سے پیار ھے پلیز یہ

بولنا مت کسی سے آپ تو اچھے والے غازی جی ھے نہ۔مجھے پتہ ھے آپ یہ بات کسی کو نہیں

بولے گے پلیز ایک بار مجھے معاف کردے پلیز غازی جی آخر میں بڑے بڑے الفاظ میں سوری

لکھا ہوا تھا جس کو پڑھ پڑھ اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ہانم نے اظہار محبت کیا ھے وہ چاہتا

تھا کہ وہ ایک بار اس کے منہ سے سنے لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ لڑکی کتنی شرمیلی اور

حساس ھے لیکن دل میں ایک خواہش تھی کہ وہ خود اطراف محبت کرے اس لئے اس نے وہ لیٹر

واپس بریانی۔کے ڈیش کے نیچے رکھ دیا تھا اس نے اس کا ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس کو ہلایا

تو اس کی آنکھ فورا کھولی اور بلکل اپنے سامنے غازیان کو بیٹھے دیکھا تو دل آج ایک رفتار سے

دھڑکا اس کی نیند کے خمار میں ڈوبی آنکھوں میں اس کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا لیکن

فورآ خود کو کمپوز کرکے بولا کیا ھے یہ سب یہاں اس پہر کیا کررہی ہوں اس نے اپنی آنکھیں

کو مسلہ اور بولی آپکا انتظار کررہی تھی غازی جی آپ کو پتہ ھے یہ سب نہ۔میں۔نےخود اپنے

ہاتھوں سے بنایا ھے آپ کے لئے کھ کر بتائے کیسا بنا ھے کس کس نے مدد کریں ھے تمھاری اس نے

اپنی آواز میں روعب پیدا کرتے ہوئے پوچھا سب نے مدد کریں ھے روحہ نے زویا نے داؤد بھائی نے

ایان بھائی نے سب نے آپ پلیز کھ کر بتائے نہ کیسا بنا ھے اور یہ تو بتایا ہی نہیں آپ نے میں

کیسی لگ رہی ہوں وہ کھڑی ہوکر چہک کر بولی غازیان مدھم سا۔مسکرایا تھا وہ کھڑی ہوکر گول

گھومی تھی ہمم اچھی لگ رہی ہوں بیٹھ جاؤ کھانا کھالیا تم نے آپ کو پتہ ھے میں نے صبحِ سے

کچھہ ۔نہیں کھایا ھے ہانم صبح سے بھوکی ھے اور۔میں۔نے آپکے لئے بھوکے رہ کر کھانا بنایا ھے

اور وہ کس لئے بھوکے رہ کر کھانا بنایا ھے زیادہ دماغ چل رہا تھا تمھارا اپ۔ناراض ھے نہ اور۔

دوحہ نے بتایا ھے کہ مرد کے دل۔کا۔راستہ پیٹ سے ہوکر جاتا ھے اس لئے میں ۔نے آپ کے لئے یہ

بنائی ھے آپ کھائے تو اس نے پلیٹ میں بریانی نکال کر غازیان۔کے سامنے رکھی اس نے بھی اس

کے لئے پلیٹ میں بریانی نکل کر اس کو دی کھاؤ اس کے بولنے کی دیر تھی ہانم نے دوسری کوئی

بات ہی نہیں سنی وہ۔شروع ہوگئی تھی کھاتے کھاتے پوچھا کیسی بنی ھے ہممم اچھی بنی ھے

غازی جی بہت اچھی بنی ھے نہ اسنے ایک اس سے پوچھا ہمم بہت اچھی بنی ھے اس نے ایک

اور چمچہ منہ۔میں ڈال کر۔کہاں تو آپ نے مجھے معاف کردیا کس نے کہاں ابھی تو آپ نے کہاں

بریانی۔اچھی ھے میں نے بریانی کو کہاں ھے کہ وہ اچھی بنی ھے میں نے یہ کب کہاں کہ میں۔ نے

تمھیں معاف کردیا ھے اس نے دوبدو جواب دیا
پلیز کردے معاف ہانم تو سب کو معاف کردیتی

ھے اس کو ہی۔کوئی۔معاف نہیں کرتا ھے آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی۔تھی ہانم رونا نہیں

مجھے ابھی غصہ نہیں آرہا ھے اور نہ ہی میرا موڈ ھے کرنے کا اس لئے رونا ۔بلکل۔نہیں اس نے

جلدی سے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا بتائے نہ کیا آپ نے کردیا معاف ہاں لیکن۔ہانم یہ

آخری بار تھا اگر تم ۔نے مجھ سے جھوٹ بولا میں کبھی بھی تم سے بات نہیں کرو گا نہیں میں

کبھی نہیں بولوں گی میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے آپکی ہانم کبھی جھوٹ نہیں بول گی امید

کرتا ہوں تم۔اس۔وعدہ۔کو۔ایمانداری سے نبھاؤ غازی جی وہ نہ آپ کو کچھ دینا تھا لیکن آپ

ابھی نہیں پڑھنا اس کو اکیلے میں پڑھنا لیکن دیکھے یہ بات کسی کو نہیں بتانا ٹھیک ھے پھر

سب بولے گے ہانم اچھی لڑکی نہیں ھے اس نے وہ۔لیٹر اس کو دیتے ہوئے کہاں اس نے وہ لیٹر

تھام کر ٹیبل کے سائیڈ پر رکھا اور ایک حکم صادر کیا اس میں جو لکھا ھے وہ پڑھ کر سناؤ

وہ اپنی گھمبیر آواز میں بولا۔نہیں غازی جی یہ آپ پڑھنا میں۔نے کہاں ہانم۔مجھے سننا ھے پڑھنا

نہیں ھے اس نے اپنی۔معصوم آنکھوں سے اس کی گرین آنکھوں میں دیکھا اور سرعت سے آنکھیں

نیچے کریں ہانم میں ہمہ تن گوش ہوں مجھے سننا ھے تم نے کیا لکھا ھے اس میں لیکن پہلے آپ

وعدہ کرے کسی کو نہیں بتائے گے نہیں بتاؤ گا بولو کیا بات ھے ایک دفعہ فائزہ بتارہی تھی جس

لڑکے کو دیکھ کر آپکا دل دھڑکے اور وہ آپ کو اچھا لگے اور آپ کو اس کا بات کرنا اس کا کھانا

پینا اس کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا سب کچھ اچھا لگا تو یعنی آپ کو اس سے پیار ھے مجھے بھی آپ کا

یہ سب بہت اچھا لگتا ھے مجھے بھی اپ سے پیار ھے غازیان کا دل بہت تیزی سے ڈھڑک رہا تھا

اس کواتنی امید نہیں تھی وہ بول دے گی لیکن وہ بول رہی تھی اور وہ سانس روکے اس کا

اظہار محبت سن رہا تھا اس کو محسوس کررہا تھا مجھے غازی جی آپ کی یہ آنکھیں بہت

اچھی لگتی ھے بہت ذیادہ آپ بھی بہت اچھے لگتے ھے بس یہی سب لکھا تھا اس میں وہ بول

رہی تھی اور ساتھ ساتھ سرخ سی پڑھ رہی تھیں غازیان مبہوت ہورہا تھا اس نے اس کا ہاتھ

تھاما اور اس کی پشت پر اپنے لب رکھے ہانم کا دل اتنی زور سے دھڑکا مانو باہر اجائے اس نے بے

اختیار دوسرے ہاتھ سے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا غازیان نے اس کا چہرہ دیکھا اور ہاتھ آگے

بڑھا کر اس کا دوسرا ہاتھ بھی تھاما۔ہانم۔بہت پیار ھے تم سے امید کرو گا اب کبھی مجھ سے

جھوٹ نہیں بولوں گی کبھی نہیں بولوں گی اس نے فوراً اثبات میں سر ہلاکر کہاں اچھا اب کھڑی

ہوں اور کمرے میں چلو رات بہت ہوگئی ھے اور سردی بھی ھے تمھیں لگ جائے گی وہ کھڑا ہوتے

ہوئے اس کے آگے اپنی چوڑی ہتھیلی پھلائی جیسے تھام کر وہ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے کی

جانب بڑھی ہانیہ درانی۔کامیاب ہوگئی تھی اپنے غازی جی کو۔منانے میں اس کی ناراضگی ختم

ہوگئی تھی وہ دونوں خوش تھے اوپر چاند بھی خوش تھا ان کے ملن پر لیکن۔کسی کو علم۔نہیں

تھا کہ غازیان شاید ایک بار پھر ٹوٹے گا جسے جب ٹوٹا تھا جب اس کو اپنے باپ کی۔سچائی

کا۔معلوم۔ہوا تھا شاید اس بار وہ بہت اس سے بھی برا ٹوٹے گا لیکن اگر یہ ٹوٹا تو پوری دنیا کو

برباد کردے گا کیونکہ زخمی شیر اور خطر ناک ہوتا ھے ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چائے ہاتھ میں تھامے لان۔میں آئی تھی جہاں وہ بینچ پر بیٹھا چاند کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا

آج چاند پورے اب وتاب سے جگمگا رہا تھا زین چائے اس نے کہاں تو وہ اپنے خیالوںں سے نکل کر

اس کی طرف متوجہ ہوا تھینکس وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا ارادہ رکھتی تھی

لیکن اس نے ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیٹھایا اس نے چائے کا آپ لیکر زرنش کی جانب دیکھا جو چاند

کی طرف ہی۔دیکھ۔رہی۔تھی زر ایک بات پوچھوں ہمم پوچھوں تمھیں میرا گھر کیسا لگا

میرے مما بابا کیسے لگے یہ تمھارا اکیلے کا گھر تو نہیں ھے اور وہ تمھارے مما باب اکیلے کے تو نہیں

ھے اس نے نروٹھے پن سے کہاں یار زرنش میں سیریس ہوں میں بھی سیریس ہوں زین یہ گھر

میرابھی ھے یہ مما بابا میرے بھی ھے مجھے نہیں پتہ کے میں بیوی اچھی ہوں کہ نہیں میں

بہوں اچھی بننا چاہتی ہوں میں نے زندگی میں کبھی کسی کو ایک دن میں کسی کو اتنی محبت

کرتے خود سے نہیں دیکھا جتنی ان دونوں نے مجھے ایک دن میں دی میں ایکسپلین نہیں

کرسکتی میں کتنا خوش ہوں مجھے ۔نہیں پتہ تھا کہ شادی کے بعد زندگی اتنی اچھی ہوتی۔ھے

مجھے ہر وقت گھومنا پھیرنا پسند تھا گھر تو پسند ہی نہیں تھا کوئی بھی اچھا نہیں لگتا تھا

بس اپنا آپ اچھا لگتا تھا ویسے ایک بات بولو زر ہمم۔ بولوں ہر کسی کی نہیں ہوتی شادی کی

زندگی کے بعد کی۔لائف صرف میری بیوی کی ہوتی ھے وہ فخریہ بولا تھا اس نے اس کے کندھے

پر اپنا سر رکھا زین کو وہ۔کچھ خوش پریشان اور تھوڑی اداس بھی لگی زر بابا یاد آرہے ھے کیا

میں تمہاری ملاقات کروادیتا ہوں نہیں یار جب تک ان کو اپنی بیٹی یاد نہیں آئے گی میں نہیں

ملو گی ان سے اور آپ بھی مجھے فورس نہیں کریں گے نہیں میں کبھی نہیں کرو گا تمھارے

ڈیڈ ھے تمھیں جیسے مناسب لگے تم۔ویسا کرنا اور چاند کی طرف دیکھا زین تھینک یو میری

زندگی میں آنے کے لئے میری زندگی کو اتنا حسین بنانے کے لیے اس کے چہرے پر ایک

خوبصورت مسکراہٹ آئی زین آئی لو یو اس نے دھیمے سے کہاں تھا وہ ایک دم۔سیدھا ہوا اور تیز

چیک کربولا کیا کہاں تم نے ابھی کچھ بھی نہیں وہ صاف مکری جھوٹ نہیں جھوٹی سچ

بتاؤ کیا کہاں تم نے۔ بہی نہیں کرو یار زر ایک بار تو بول ابھی کیا بولا تھا آئی لو یو بولا۔تھا تم۔تو

کبھی نہیں بولو گے لیکن میں اپنی فیلنگ چھپاتی نہیں ہوں جو دل میں ہوتا ھے وہ۔منہ۔پر

ہوتا ھے اسلئے میں نے تم کو بتادیا دیکھو میرے جو دل میں ہوتا ھے وہ بولتا نہیں ہوں کر کے بتاتا

ہوں فضول بتمیزی نہیں وہ اس کی پہنچ سے دور ہوئی ارے ایسے کیسے ابھی تو تم ہاتھ لگی

ہوں وہ ہنستے ہوئے اس کے پیچھے بھاگاوہ بھی کھلکھلا کر اس سے دور ہوئی ان کی کھلکھلاہٹ

پورے لان میں گونج رہی۔تھی اندر ان کی آوازیں سن کر فوزیہ بیگم اور صدیقی صاحب دل سے مسکرائے تھے ۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ چارو ایک ہی ریسٹورنٹ میں گئے تھے تھوڑی دیر ساتھ بیٹھنے کے بعد زویا اور ایان آٹھ کر الگ

ہوگئے تھے وہ دونوں الگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ دونوں الگ روحہ نے سامنے دیکھا تو ایان

کے ہاتھ میں زویا کا ہاتھ تھا یار داؤد اپن کیا بولتی ھے کیا بولتی ھے اپن داود نے پیار بھری

نگاہوں سے اس کے ہی ٹون میں کہاں یار تو کیوں اپن کی طرح بول رہا ھے کیوں کہ اپن بھی

تو تیرا ھے اور تیری ہی طرح سے بولے گا نہ اس نے مسکراتے ہوئے کہاں تو اس نے قہقہ لگایا لیکن

داؤد قسم سے تو بہت کیوٹ لگ رہا ھے بولتا ہوا ہاں یار اپن کو معلوم ھے اپن اچھا لگتا ھے بولتا

ہوا اس نے ایک بار پھر قہقہ لگایا اور ہنستے ہوئے ڈرنک اٹھا کر پینے لگی یار داؤد وہ دیکھ زویا اور

ایان کو یہ دونوں ڈیٹ ماررہے ھے دیکھ کیسے پیار بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے

ھے چل آجا ان کی ڈیٹ خراب کرتے ھے اس نے نگاہ گھما کر ان کی جانب دیکھا تو دونوں ایک

دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے میں مگن تھے اس نے ایک فلگ شگاف قہقہ لگایا یار روحہ کہاں

سے آتے ھے تمھارے پاس ایسے آئیڈییز اس کی ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی تھی یار یہ بھی ایک

ٹیلینٹ ہوتا ھے جو کسی کسی میں ہوتا ھے اور مجھے اپنے پر فخر ھے کہ یہ ٹیلنٹ اپن میں ھے

داؤد نے اس کی بات سن کر ایک بار پھر قہقہہ لگایا ۔مس روحہ آپ کا کچھ نہیں ہوسکتا ھے اس

نے ہنستے ہوئے ڈرنک واپس ٹیبل پر رکھی ابے یار ان سب کو چھوڑ اور یہ بتا تیرے کو کیا لگتا ھے

غازیان بھائی مان جائے گا اپنی سفیدی کی چمکار سے یار روحہ اگر وہ نہیں مانے تو بہت برا لگے گا

مجھے یار تمھیں نہیں معلوم بھابھی بے حد معصوم ھے اور پتا ھے بہت حساس بھی ھے

انہوں نے ایموشنل ہوکر میرا ساتھ دیا اور یہ سب ہوگیا تمھیں معلوم ھے روحہ جب میں تمھارے

پاس سے آیا تھا اور تم نے جب مجھے اپنے ماضی کے متعلق بتایا تھا تب میں نے صرف اتنا کہاں تھا

بھابھی ان کا ماضی انہوں نے مجھے اتنی سنائی تھی کہ اپ ان سے محبت کرتے ھے یہ پھر ان کے

ماضی سے اور مجھے تو اپنی روحہ سے محبت ھے پھر میری عقل میں بات آئی تھی کہ وہ بلکل

ٹھیک بول رہی ھے مجھے اتنی شرمندگی ہوئی تھی میں نے ان کو کچھ بتایا بھی نہیں تھا لیکن

تم نہیں جانتی مجھے یاد ھے ان کا ریکشن کیسا تھا یار داؤد میری صرف اس لڑکی سے دو ایک بار

ہی ملاقات ہوئی ھے لیکن میں تیرے کو بتا سکتی ھے وہ لڑکی بہت حساس ھے بہت رحم دل ھے وہ

بہت جلد رشتے بنالیتی ھے تم دونوں کو دل سے وہ اپنا بھائی مانتی ھے بہت انمول لڑکی ھے

صحیح کہاں یار تم نے میری تو یہی دعا ھے بھابھی سے بھائی راضی ہو جائے ان کی واقع

کوئی غلطی نہیں ھے اللہ کرے وہ اپنا ہاتھ سیدھا کرنے لگی تھی وہ ڈرنک ایک دم چھلک کر

اس کے کپڑوں پر گیری دونوں سرعت سے کھڑے ہوئے ابے یار یہ کیا ہوگیا وہ اپنے کپڑے جھاڑتے

ہوئے بولی کوئی بات نہیں ایک کام کرو واشروم میں جاکر واش کرلو میں جب تک ان دونوں کو

بھی دیکھتا ہوں اور پھر گھر کے لئے نکلتے ھے ہاں ٹائم زیادہ ہورہا ھے میں واش کرکے آتی ھے

اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے ایک ویٹر سے راستہ معلوم کرکے واش روم کی جانب بڑھی تھوڑی دیر

میں جب وہ اپنے کپڑے واش کرکے نکلی اس کا دیہاں ابھی بھی کپڑوں ہی کی جانب تھا اور منہ

بھی نیچے کی جانب تھا وہ اپنے ہی دھن میں چل رہی تھی کہ کسی کے چوڑے سینے سے

ٹکرائی وہ گیرتی اس سے پہلے مقابل نے اس کی کمر سے تھاما دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے

ٹکرائی تھی اس تھامنے والے کی آنکھیں میں اس کا چہرہ دیکھ چمک آئی تھی روحہ نے دھکا مار

کر اس کو خود سے پرے دھکیلا اور کڑے تیوروں سے اس کی طرف بڑھی ابے اوئے لڑکی دیکھی

نہیں اور چانس ماررہا ھے سالے کتے ایسا کنٹاپ مارو گی کہ سیدھا اڑتا ہوا جائے گا وہ بے خود

ہوکر بس اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ابے دیکھ کیا رہا ھے یہ آنکھیں نکال کر گوٹیا کھیلوں گی

روحہ کی نظر بولتے ہوئے اس کی آنکھوں پر پڑی تو ایک دم بولتے بولتے روکی اور اس کے قریب

ہوئی کون ہوں تم مجھے ایسا کیوں لگ رہا ھے دیکھا ھے میں نے تیرے کو بول اس نے ایک

مسکراہٹ پاس کی اور وہاں سے پلٹا ابے او بات سن میری وہ اس کے قریب گئی وہ روکا نہیں تھا

لیکن مقابل کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی وہ اس کے قریب جاتی اس سے پہلے تین چار بچے

اس کے قریب آئے اور راستہ بلاک کردیا یار ہٹھو وہ ان سب کو ہٹا کر اسی طرف بڑھی جہاں سے

وہ گزرا تھا وہ جاچکا تھا روحہ کے دماغ میں ایک دم وہ آنکھیں لہرائی اور دماغ میں کچھ کلک ہوا

اور بے ساختہ زبان سے ایک ہی نام پھیسلا جوکر وہ بھاگی تھی لیکن وہ جا چکا تھا روحہ نے اس

کا چہرہ دیکھ لیا تھا لیکن ابھی کنفرم نہیں تھا کہ یہ وہ ہی تھا کہ کوئی اور لیکن دل بار بار ایک

ہی چیز بول رہا تھا کہ یہ آنکھیں اس کی ہی تھی اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا تھا اگر قریب سے

دیکھا تھا تو اس کی آنکھیں جس کی وجہ سے آج وہ پہچان گئی تھی اس کو
جاری ھے ❤️