Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

مغرور محبت 20
Episode no 20

زوئی یار سچ بتانا وہ دونوں اس وقت لایبریری میں بیٹھے اسیمینٹ کپملیٹ کرنے میں لگے ہوئے

تھے دونوں کیا صرف زویا باقی ایان تو گپے مارنے میں لگا ہوا تھا کیا بتانا ھے زویا نے کتاب پر سے

نظر اٹھا کر مصروف انداز میں کہاں یار تمھارے جو بابا ھے پروفیسر حیدر جانتی ہوں نہ ان کو

کیا ہوگیا ھے ایان بابا ھے میرے آرے تو جھنجلا کیوں رہی ہوں اگر میرا اسیمینٹ نہیں بنانا تو بتا

دوں ایسے بہیو کرو گی تم اپنے ایان کے ساتھ یار چپ ہوجاو پلیز زویا نے منت کرتے ہوئے کہاں اور میں

کہاں جھنجلا رہی ہوں میں تو بس بتا رہی ہوں بابا ھے وہ میرے اچھا ان سب

باتوں کو چھوڑ میری بات سن یار میرا کونسنٹریٹ خراب ہورہا ھے اور ہر حال میں

تمھارا اسیمینٹ آج ہی سمبیٹ کروانا ھے کیوں ایان نے اچھنبے سے پوچھا کیونکہ اسیمینٹ کی

لاسٹ ڈیٹ کل تھی تو اج کا ٹائم تھا ان کے پاس آرے صبح بابا پوچھ رہے تھے مجھ سے تو میں نے

یہ بول دیا تھا کہ تم نے بھی اسیمینٹ کپملیٹ کرکے سمبیٹ کروادیا اوووووو زویا تم نے مطلب

پروفیسر حیدر زمان کی بیٹی نے میرے لئے مطلب ایان درانی ولد رحمن درانی کے لئے اپنے

چشمے والے منہ سے جھوٹ بولا ایان آہستہ بولو ابھی لائبریرین باہر نکال دے گی آرے یہ بات تو

بتانے والی ھے گاؤں والوں آرے او گاؤں والوں وہ چئیر پر کھڑا ہوکر چیخا زویا نے اپنا سر تھاما

باقی جو سب اپنی اپنی کتابوں میں سر دیکر بیٹھے ہوئے تھے سب نے اس کی طرف دیکھا وہاں

کی لائبریرین نے بھی اپنا چشمہ نیچے کرکے دیکھا گاؤں والوں سنو میرے لئے ایان درانی ولد رحمن

درانی کے لئے زویا حیدر زمان نے جھوٹ بولا اللّٰہ کہی میں بہوش ہی نہ ہوجاو سب نے اس ڈرامے

کو گھورا اور سب واپس اپنی اپنی کتاب پر جھک گئے کیونکہ سب جانتے تھے اس سے بڑا

نمونہ کوئی نہیں ھے لائبریرین نے بھی سر جھٹک کر واپس وہ بھی کسی کتاب پر جھک گئی

کیونکہ وہ جانتی تھی اس کا کوئی حل نہیں ھے ایان نیچے اؤ زویا دبہ دبہ سا چلائی آرے آرہا ہوں

ویسے زویا مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا ھے یار تم نے میرے لئے جھوٹ بولا وہ کرسی پر

بیٹھتے ہوئے حیرانگی سے بولا ایان میں نے اس

لئے جھوٹ بولا کیونکہ تم میرے دوست ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ تمھاری ریپوٹیشن بابا کہ

سامنے خراب ہوں تو ہونے دو ویسے بھی ان کے سامنے میری ریپوٹیشن خراب ہی رہے گی ہمیشہ

اور ویسے بھی صحیح کرکے کرنی کیا ھے زویا نے اس کی طرف تاسف سے دیکھا اور لیپ ٹاپ پر

ٹائپ کرنے لگی ویسے زویا یار جو بات میں نے پوچھنی تھی وہ رہ گئی پوچھوں اور کیا بوچھنا

ھے تمھیں اس نے قدرے جھنجھلاتے ہوئے بولا ابھی آیان بات شروع کرتا اس کے فون کی

چھنگارتی ہوئی آواز خاموش ماحول میں گونجی تو ایک بار پھر سب نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا

جو لاپرواہی سے بات کرنے میں مصروف تھا جی بھائی ہم نکل رہے ھے اچھا ٹھیک ھے جی صیحح

ھے اس نے فون رکھا چلو بہی غازی بھائی کا فون تھا وہ بول رہے ھے کہ ان کی زوجہ محترمہ کو لے

آؤ کیونکہ آج ان کا پہلا دن ھے شادی کے بعد تو زویا نے اچھنبے سے پوچھا یار وہ بول رہے ھے

بھابھی کو سب دیکھ کر کوئی عجیب بات کرے یہ پھر کچھہ بھی کہے وہ ویسے پہلے نہیں جانا

چاہتی ھے اور نہیں جائے گی ہاں یہ تو ھے ایان ویسے یہ کمپلیٹ ہوگیا ھے یہ دے دو مدثر کو وہ

سمبیٹ کروادے گا اور ہم دونوں چلتے ھے ہاں یہ صحیح ھے اور بول کر دونوں لائیبریری سے

نکالنے لگے دروازے تک پہنچنے ہوگے ایان ایک پاؤں پر مڑا بات سنے بات سنے تالی بجا کر سب

کو اپنی جانب متوجہ کیا ہم جارہے ھے آپ لوگ غور سے پڑھائی کرے اگر میرے جانے کے بعد

کسی نے بھی شور مچایا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اچھے بچوں کی طرح پڑھنا ھے سب نے اور

ٹیچر کو بلکل تنگ نہیں کرنا ھے ایان بس کرو اور چلو وہ تمھارا سر پھاڑ دے گی بہت غصہ میں

گھور رہی ھے اس نے لائیبریرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاں سوری ایوری ون وہ سب سے

معزرت کرتے ہوئے اس کو گھسیٹ کر باہر کی طرف لے گئی ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
فائزہ بات سنو میری فائزہ کلاس کمپلیٹ ہوتے ہی ہانم فائزہ کے پیچھے لپکی وہ بھی بینا پرواہ کیا

جلدی جلدی کینٹین میں چلی گئی اس کو ہانم کی آواز آرہی تھی لیکن اس نے دھیان دینا

ضروری نہیں سمجھا ہانم بھی کینٹین میں آئی اور ادھر ادھر دیکھا تو وہ اس کو سامنے چار

لڑکیوں کے گروپ کے ساتھ نظر آئی تو وہ تیز تیز قدموں سے اس کے قریب پہنچی مجھے بات

کرنی ھے تم سے اس نے سب کو انگنور کرکے ڈائرکٹ فائزہ سے کہاں زینب یار انکل سے

سموسے لے آؤ فائزہ نے اس کی بات کو ایسا کردیا جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہوں ہانم کو یہ سب

بہت عجیب لگ رہا تھا لیکن ایک بار پھر بولی فائزہ مجھے تم سے بات کرنی ھے پلیز میری بات

تو سنو یار زینب اس کو بولو مجھے اس سے کوئی بات نہیں کرنی ھے فائزہ نے ہانم کو جواب

دینے کے بجائے ساتھ وآلی لڑکی کو مخاطب کیا ایک دفعہ میری بات سن لو فائزہ تم دوست ہوں

میری ایک دفعہ مجھے خود کو ایکسپلین تو کرنے دو وہ اپنی کرسی سے کھڑی ہوئی اور اس کے سامنے آئی تم کو پتہ ھے ہانم مجھے تم سے بات

کرنے میں اتنا سا بھی انٹرسٹ نہیں ھے اور پتہ ھے ایسا کیوں ھے تم ایک گھر سے نہیں کالج سے

بھاگی ہوئی لڑکی ہوں تم کو اپنے بوڑھے ماں اور باپ تک کا خیال نہیں آیا تم نے ایک دفعہ یہ نہیں

سوچا تمھارے اس قدم سے ہم لوگ ہمارا کالج اور تمھاری چھوٹی بہن کی زندگی پر کتنا اسر پڑے

گا ہانم نے اپنی پلکے جھپک کر اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش کرنےلگی اس کو امید نہیں

تھی وہ اس کی بات سننے کے بجائے سب کی طرح اس کو بھاگی ہوئی لڑکی کہے گی تم میری

بات تو سنو فائزہ حلق سے با مشکل ہی آواز نکلی جو سامنے والے کی چیخ سے کہی دب کر رہ گئی کیا سنو میں

تمھاری بات وہ ایک دم چیخی تو ارد گیرد لڑکیاں گول دائرے کی شکل میں ان کے پاس کھڑی ہوگئی اور آہستہ آواز میں چہ موگیا کرنے لگی

تمہیں میں نے ایک اچھی لڑکی سمجھا تھا لیکن تم اپنے ماں باپ کی عزت کو قدموں تلے

روند کے چلی گئی میں تمھاری بات سنو تم آئی کیوں ہوں بہن میرے پاس تمھیں اتنی شرم نہیں آئی کہ تمھاری ماں پر کیا گزرے گی تمھارا باپ کیا

محسوس کرے گا فائزہ سب دیکھ رہے ھے اس نے نگاہ نیچے کرکے بولی تو اس نے ہاتھ اٹھا کر

تمسکرانہ انداز میں تالی بجائی واہ واہ جب تم کو پوری دنیا کو تمھارے اس کارنامہ کا پتہ ھے کہ تم

اس کے ساتھ بھاگی ہوں تمھیں سب نے اس شخص کے ساتھ نکاح کی تصاویر دیکھ لی تو یار

اب کیا شرمانا اور رہی بات تم سے بات کرنے کی

یار اب مجھ سے کیا بات کرو گی اب تم معمولی ہانیہ مالک نہیں ہانیہ غازیان درانی ہوں درانی

ایمپائر کے مالک کی بیوی اب تم ہم معمولی
لوگوں سے بات کرکے کیا کرو گی وہ ساخت

نگاہوں سے اس کو سن رہی تھی اس کو لگا تھا وہ بولے گی لیکن وہ سب کے سامنے اور ایسی

باتیں اس کے زہن و غمان میں بھی نہیں تھا اور ایک بات اور میری زندگی سے دور چلی جاؤ میرے قریب

آنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ھے بہن ہم بہت شریف لوگ ھے میری امی نے سختی سے منع کیا

ھے تم سے ربطہ کرنے سے خدا کے لئے مجھ سے دور رہنا اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہاں اور بیگ اٹھا کر کینٹن سے جانے لگی میری بات تو سنتی

جاؤ ہانم نے روندھی ہوئی آواز میں کہاں تو فائزہ روکی ضرور لیکن پلٹی نہیں ایک بار تم نے مجھ

سے یہ نہیں پوچھا کے دراصل بات تھی کیا ہانم تم ٹھیک ہوں تمھارے ساتھ ہوا کیا ھے اس نے

بھی ارد گیرد کی پروہ کیے بغیر تیز آواز میں بولی تم میرے

قریب تک نہیں آئی اور میں اگر آئی تو مجھے یہ سب بول رہی ہوں تم تو میری دوست ہوں نہ تم

ہی بولتی تھی نہ ہانم جب پوری دنیا بھی تمھارے خلاف ہوگی تو فائزہ تمھارے ساتھ ہوگی

لیکن آج کہاں گئی وہ فائزہ کہاں گئی وہ فائزہ جس نے کہاں تھا ہانم ڈرو مت میں ہو نہ ہمیشہ

تو اب کہاں گئی وہ فائزہ وہ فائزہ جو ہمیشہ ہانم کے ساتھ ہر موقعہ پر کھڑی رہتی تھی کوئی

کچھ کہتا تھا تو لڑنے مرنے کے لئے ریڈی رہتی تھی تو اج کہاں گئی وہ فائزہ آنکھوں سے آنسوں

سیلاب کی مانند جاری تھے رونے کی وجہ سے آواز بھی کافی بھاری ہوگئی تھی تم نہ کہاں تھا اگر

پوری دنیا بھی مجھے تم سے ملنے نہیں دے گی تب بھی تم مجھ سے ملوں گی چاہے کچھ بھی

ہو جائے اب کہاں گئی وہ فائزہ میں تم سے اتنا زرور کہوں گی اگر اپنے وعدہ پورے کرنے کی

ہمت نہ ہوں تو کبھی وعدہ کرنا نہیں چائے تم کو پتہ ھے فائزہ دوستی کتنی انمول رشتہ ہوتا ھے

حضرت علی فرماتے ہیں سب سے غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں اور تم مجھے بول

رہی ہوں نہ تم ہانیہ مالک نہیں ہانیہ درانی ہوں میں معمولی سے بہت خاص ہوگئی لیکن میں تو

غریب ہوں میرے پاس تو دوست ہی نہیں ھے دوست بناتا ہر کوئی ہے پر نبھا تا کوئی کوئی ہے

میں یہ بولتی تھی نہ لیکن تم ہمیشہ اس بات کو جٹھلادیتی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ھے لیکن میں

ہمیشہ بولتی تھی کہ ایک سفر آتا ھے جب آپ اکیلے رہ جاتے ھے میں بولتی تھی کہ میں کیا پتہ

دوستی نبھا نہ پاؤ تو یاد ھے تو کیا بولتی تھی اس بار بولتے ہوئے لحجے میں تمسکرانہ پن تھا

دوست سے دوستی ایسے نبھاو جیسے تم اس کے غلام ہو مگر صرف اس کے ساتھ جو اس قابل ہو۔

پھر یاد ھے میں نے کیا بولا تھا بہترین دوستی کے لیے انسان کو دو باتوں پر دل سے عمل کرنا

چائیے دوست سے غصے میں بات مت کرو
دوست کی غصے میں کی گئی بات دل پے مت لو

اس لئے میں نے تمھاری کسی بات کو دل پر نہیں لیا ھے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی اور

لحجہ میں درد چیخ چیخ کر بول رہا تھا جس کو محسوس کر کے فائزہ کی آنکھیں بھی نم ہوئی ہاں تکلیف بہت ہوئی ھے لیکن تم میری

دوست ہوں ابھی ناراض ہوں لیکن مجھے پتہ ھے جب تم کو سچ پتہ چلے گا سب سے پہلے تم ہی

میرے پاس آؤ گی کیونکہ پتہ ھے اچھے دوست کے اندر آپ کے لیے اتنی محبت چھپی ہوتی ہے

اور مجھے معلوم ھے تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہوں اور میری دوستی میں اتنی طاقت ھے

جیسے ایک معمولی بیچ پورا درخت بن جاتا ھے ایسے ہی ہماری دوستی ھے دوست تو ایسا بناؤ جو آئنے اور ساے کی طرح ہو کیونکہ آئینہ

جھوٹ نہیں بولتا اور سایہ ساتھ نہیں چھو ڑ تا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مطلبی دوست ساۓ کی

طرح ہوتے ہیں اجا لوں میں چلے آتے ہیں اور اندھیرے میں ساتھ چھوڑ جاتے ہیں لیکن مجھے

پتہ ھے تو یہ سب کسی وجہ سے کررہی ھے میں تجھے کبھی غلط نہیں سمجھوں گی ہم دونوں کیا بولتے تھے کھبی بھی

دوست کو آزماو مت کیا پتا اس وقت وہ مجبور ہو اور تم ایک اچھادوست کھو بیٹھو اس لئے

میں جانتی ہوں میری فائزہ ایسی نہیں ھے اس کے پیچھے کوئی ریزن ھے کیونکہ میری فائزہ

کبھی مطلبی نہی ہوسکتی اس لئے جب بھی تم کو سب کچھ معلوم ہوگا تو تمھاری یہ دوست

تمھارے لئے حاضر ہوگی تم جب بھی میرے گلے سے لگوں گی میں سب بھول جاؤ گی لیکن دیر

مت کرنا فائزہ کے میں تمھارا انتظار کرتی رہ جاؤ اور بہت وقت ہوجائے جب وہ بولنا شروع ہوئی

تو ماحول ایک دم شانت ہوگیا تھا کینٹین میں صرف اس کی آواز گونج رہی تھی اب وہ

خاموش ہوئی تو سب کچھ جیسے روک سا گیا تھا ایک دم سناٹہ سا ہوگیا تھا جس ساناٹہ کو پیون کی آواز نے توڑا آپ میں سے ہانیہ درانی

کون ھے ہانم فائزہ کی پشت دیکھ رہی تھی وہ محسوس کرسکتی تھی کہ وہ رو رہی ھے وہ اس

آواز کی سمت مڑی میں ہوں آنکھوں سے آنسوں صاف کرکے بولی آپ کو لینے کے لئے آگئے ھے اپ اجائے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
سب میٹنگ روم میں بیٹھے نیو پاٹنر کا ویٹ کررہے تھے وہ کچھ زیادہ ہی لیٹ ہوگیا تھا

غازیان اپنے موبائل میں کچھ ٹائیپ کررہا تھا اور باقی کے اسٹاف کی نگاہ غازیان پر تھی کیونکہ

اس کو انتظار کرنا سخت نہ پسند تھا اور یہاں سے دس منٹ اوپر ہوچکے تھے اب تو زرنش بھی بے

زاری سے کرسی پر بیٹھی پاؤں جھلارہی تھی اتنے میں میٹنگ روم کا دروازہ کھلا اور ایک

شخص ہوڈی میں بھگتا ہوا غازیان کے برابر والی کرسی کے قریب جاکر روکا زرنش اس کو پہچاننے

کی کوشش کررہی تھی سب کی نگاہ اسی پر تھی غازیان نے کوفت سے اس کی طرف دیکھا

انسان کی طرح اپنا انٹرو دو اندر اس ہوڈی والے نے اپنے ٹیرے منہ بنائے اور ہوڈی اتار دی زرنش

اور باقی کے اسٹاف کا ایک ساتھ منہ کھولا ۔۔۔
جاری ھے ❤️