No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
مغرور محبت 46
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 46
زین خاموشی سے ٹی وی پر میچ دیکھ رہا تھا میمونہ بیگم کے جانے کے بعد وہ بھی کھانا رکھ
کر چلا گیا تھا اور ابھی ایک گھنٹہ پہلے آیا تھا اور میچ دیکھنے میں مگن تھا اندر کمرے میں
زرنش اپنا سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی صبح سے کافی نہ پینے کی وجہ سے سر درد کی وجہ سے
پھٹ رہا تھا اور بس اب سر دیوار میں ٹکر مارنے کو کررہا تھا ہمت کر کے کمرے سے باہر آئی تو زین
میچ دیکھنے میں مصروف تھا پتہ نہیں کیوں اس نے غصہ میں اس انسان کو گھورا جس نے خود تو
مزہ سے اس کے سامنے بیٹھ کر کافی پی تھی اور اس کو ایک گھونٹ بھی نہیں دیا تھا پیر پٹک کر
کچن میں داخل ہوئی اب سمجھ تو کچھ نہیں آرہا تھا کہ بنے گی کیسے پھر بھی کچھ سوچتے
ہوئے کافی کا جار ہاتھ میں اٹھا یا کچن سے کٹر پٹر کی آواز پر اس نے نگاہیں گھماکر کچن کی
جانب دیکھا تو وہ کچھ کرنے کی جدوجہد میں تھی آنکھیں لال ہورہی تھی چہرہ بہت مرجھا گیا
تھا ایک دن۔میں اور دائے گال پر صاف پانچوں انگلیوں کے نشان واضح تھے اس کو احساس
ہورہا تھا کچھ بھی تھا اس کو ہاتھ نہیں اٹںھانا چائیے اور یہ احساس میمو جان کے جانے کے بعد
سے ہی ہورہا تھا وہ کھڑا ہوا اور چلتے ہوئے اس کے قریب آیا جو چولحے پر پانی چڑھا رہی تھی
کیا کررہی ہوں اس نے پوچھا تو اس نے اپنی سرخ آنکھوں سے اس کی جانب گھور کر دیکھا اور چبا
چبا کر بولی میں یہاں کوشتی لررہی ہوں تم بھی جوائن کرلو زرنش تمیز سے اس نے روب سے کہاں
پلیز مت کرو یار اس نے زکام زدہ آواز میں کہاں میرا سر درد سے پھٹ رہا ھے میں نے صبح سے
کافی نہیں پی مجھے اگر اب کافی نہیں ملی تو میں مرجاؤ گی یہ اپنا دیوار سر میں مارلوگی کیا
بول رہی ہوں دیوار سر میں مار لوگی زین نے عجیب سا منہ بنا کر کہاں پلیز یہ دیکھوں میں
ہاتھ جوڑ رہی ہوں اگر کافی بنانی آتی ھے تو مجھے بنا کر دے دو اللہ کا واسطہ ھے تمھیں جو
کہوں گے وہی کروگی اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر کہاں زین نے اس کی حالت پر بے ساختہ قہقہ
لگایا اور ہنستے ہوئے کچن میں داخل ہوا یار زر تمھیں ایک کافی تک نہیں آتی بنانی اس نے کافی
فرینکلی ہوکر کہا تو وہ غش کھانے کے در پر تھی وہ تو شوکڈ کی کیفیت میں چولحے کے پاس سے
ہل تک نہیں پائی تھی اس نے تو بسں اس کو یہاں سے بھیجنے کے لئے کہا تھا کہ کافی بنادوں
اس کو زرہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ واقع کافی بنالے لگے گا اس نے اس کی شوکڈ زدہ چہرہ دیکھ کر
ایک بار پھر قہقہ لگایا اور ہنستے ہوئے اس کے گال پر ایک چٹکی کاٹی اور کافی پہٹنے لگا تم کو پتہ
ھے میں نے یہ کافی کس سے سیکھی تھی وہ کافی پہنٹتے ہوئے بولا کس سے وہ اس کے برابر
میں ہی کھڑی ہوئی تھی شیلف پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اپنے بابا سے انہوں نے سیکھائی
تھی اچھا واہ تمھاری فیمیلی میں کون کون ھے اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا جب وہ اس سے
اچھے سے بات کررہا تھا تو اس نے سوچا وہ بھی کرلے کوئی حرج نہیں زر لاسٹ ٹائم سمجھا رہا
ہوں وہ بھی پیار سے تم مجھے آپ بولو گی اور اگر نہ بولو تو وہ اترا کر بولی امید کرتا ہوں رات
والے تھپڑ تم اتنی جلدی بھولی نہیں ہوگی اس نے کافی کپ میں ڈالتے ہوئے کہاں وہ بھی بھولنے
والی چیز ھے وہ تو میں زندگی بھر نہیں بھولو گی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بجھے سے لحجہ
میں بولی تو اگر اب تم نے مجھ کو آپ نہیں کہاں تو میں وہ تھپڑ تمھیں ایک بار پھر یاد کرواسکتا
ہوں تو اس لئے تم مجھے آپ سے ہی مخاطب کرو گی آگر زندگی چاہتی ہوں تو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا کافی کا کپ اس کے ہاتھ میں
تھاماتے ہوئے بول کر واپس اپنے میچ کی طرف چلا گیا زرنش نے پیچھے سے اس کو منہ چڑایا
اور اس کے برابر میں جاکر بیٹھی یہاں کیوں بیٹھی ہوں اندر جاکر سوجاؤ رات زیادہ ہورہی
ھے مجھے ابھی نیند نہیں آرہی ھے دیر سے سونے کی عادی ہوں اور اب تو کافی پی رہی ہوں
تو اور دیر سے نیند آئے گی وہ کافی کا سپ لیتے ہوئے بولی ویسے کافی اچھی بنائی ھے آپ نے
تھینکس اس نے خوشدلی سے اس کی تعریف کریں میں بہت اچھا کوک ہوں اس نے چینل
چینج کرتے ہوئے کہاں تو پھر آپ مجھے کیوں بول رہے ھے پھر کھانا بنانا سیکھنے کا اس نے برا
سا منہ بناتے ہوئے کہاں زین نے اس کے منہ بنانے پر قہقہ لگایا کیونکہ گھر عورت سنمبھالتی ھے
اور مرد باہر کا کام سنمبھالتا ھے اس لئے اگر میں ہی کھانا بناؤ اور میں ہی باہر کماؤ تو پھر تم کیا
کرو گی گھر میں بیٹھ کر موٹی ہوجاو گی کوئی نہیں ہوتی میں موٹی اس نے نگاہ ٹی وی پر
مرکوز کرکے کہاں زین نے اس کی طرف سنجیدگی سے دیکھا اور نظر گھوم پھیر کر اس
کے دائے گال پر گئی جہاں انگلیاں صاف دیکھائی دے رہی تھی ایک بات پوچھوں زین نے
سنجیدگی سے پوچھا تو اس نے اپنا رخ اس کی جانب کیا تھپڑ بہت زور سے لگے تھے اس نے
اثبات میں سر ہلایا تو میکانکی انداز میں اس کا ہاتھ اس کے گال پر گیا زرنش کو ایسا محسوس
ہوا جیسے اس کے جسم میں کسی نے کرنٹ چھوڑ دیا اور دل بھی ایک الگ ہی تال پر تھڑکا اب بھی
درد ہورہا ھے اس نے آہستہ آہستہ اس کے گال پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تو اس کے اتنے پیار
سے پوچھنے پر اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا آنکھوں میں بے ساختہ
نمی جما ہونے لگی زین نے اپنے لب بھینچے آئی ایم سوری اس نے ضبط سے کہاں تم چپ نہیں
ہورہی تھی میرے پاس تمھیں چپ کروانے کا کوئی اور طریقہ میسر نہیں تھا اس لئے میرا ہاتھ
اٹھ گیا اور مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا کہ میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا اس نے اس کو شرمندہ دیکھا
تو چہرہ پر ایک مسکراہٹ ائی اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا آئیندہ نہیں مارنا اس کے لئے میں نے
تمھیں معاف کیا نہیں کبھی نہیں لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ھے تمھیں ایک بار پھر
تھپڑ پڑے گے اس نے سنجیدہ سا ہوکر کہاں تو اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا اؤر
پتہ ھے کیوں پڑے گے تم کو تھپڑ کیوں تمھیں کتنی بار بول چکا ہوں آپ بولو مجھے تم تم کیا
لگایا ہوا ھے آپس سوری اس نے دانت دیکھائے تو وہ بھی مسکراتے ہوئے اس کے گال سے ہاتھ نیچے
کیا ویسے زر میں نے کچھ سوچا ھے وہ پیچھے صوفے پر ٹیک لگاتا ریلکس انداز۔میں بولا کیا
سوچا ھے کیوں نہ ہم دونوں اپنے رشتہ کو ایک موقع دے زرنش نے حیرت سے آنکھیں بڑی کریں
کیا مطلب آپ کی بات کا میری بات کا مطلب یہ ھے میں جانتا ہوں جس رشتہ میں تم اور میں
بندھے ھے وہ بہت الگ رشتہ ھےاس کی اہمیت میرے نزدیک بہت ھے وہ بہت پاک اور مقدس
رشتہ ھے لیکن ہم دونوں ہی اس رشتہ کو ایکسپٹ نہیں کرسکتے ھے میں مانتا ہوں ہم
دونوں میں محبت نہیں ھے لیکن ہم دونوں کا کوئی ایسا رشتہ نہیں ھے جس میں ہم دونوں
ایک دوسرے سے نفرت کرے اس لئے میاں بیوی کا رشتہ کو ایک موقع نہ دو لیکن دوستی کے رشتہ
کو ہم دونوں ایک موقع دے سکتے ھے تو کیا بولتی ہوں کرو گی مس زرنش زین العابدین
مجھے سے دوستی اس نے اپنی ہتھیلی اس کے آگے پھیلا کر پوچھا جس پر وہ بے ساختہ
مسکرائی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر مسکراتے ہوئے رکھ دیا وہ بھی مسکرایا اب تو ہم دونوں
دوست ھے زرنش کپ سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی ہممم تو کچھ تم اپنے بارے میں بتاو کچھ
میں اپنے بارے میں بتاتی ہوں چلو ٹھیک ھے پہلے تم بتاو اس کےبعد میں بتاو گا اپنا بارے میں بہت سارا والا کچھ اوکے تو سنو ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
غازی جی آپ کو ایک بات بتاؤ ہانم ایکساٹیڈ ہوتے ہوئے بولی غازیان اس وقت اپنا آفس کا
کام اپنے روم۔میں ہی کررہا تھا ہانم برابر میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی ہممم بولو مصروف
سے انداز میں کہاں آپ کو پتہ ھے ہماری جو انگلیش کی مس ھے نہ مس فرزانہ ان کی شادی
ہوگئی ھے تو وہ اپنے سسرال چلی گئی ہممم پھر ہاتھ تیزی سے ٹیپ رائیڑ پرچل رہے تھے وہ بہت
مصروف تھا لیکن ہانم کی بات بھی سن رہا۔تھا اور ہمم کرکے ہی صحیح جواب دے رہا تھا تو آپ
کو پتہ ھے ان کی جگہ ہمارے نئے سر آئے ھے غازیان کے ہاتھ ایک دم تھمے اور نگاہیں اٹھا کر
ہانم کی جانب دیکھا جو پین سے ہاتھ پر کچھ لکھنے کی کوشش کررہی تھی اور ساتھ ساتھ
بول بھی رہی تھی آپ کو پتہ ھے وہ اتنے اچھے ھے آپ نے دیکھا ھے ان کو غازیان کے ماتھے پر بل
پڑے آپ کو پتہ ھے وہ اتنے زیادہ گورے ھے
اور ان کے چہرے پر داڑھی بھی نہیں ھے وہ تو
اتنے پیارے ھے دیکھنے میں غازیان نے آنکھیں چھوٹی کر کے ہانم کو گھورا جو بغیر شرم کے
اپنے شوہر کے سامنے ہی دوسرے مرد کی تعریف کررہی تھی اور بڑے دھڑلے سے بول رہی تھی وہ
بہت پیارے ھے اور آپ کو پتہ ھے وہ اتنے زیادہ اچھے ھے اتنا پیار سے بات کرتے ھے بولتے ھے مس
ہانیہ اپنا نام اعتماد سے بتائے غازی جی آپ کو معلوم ھے وہ نہ ابھی وہ اپنا فقرہ مکمل کرتی
غازیان بیچ میں سے ہی ڈھارا مجھے کیا معلوم کب سے لگایا ہوا ھے آپ کو پتہ ھے آپ کو پتہ ھے
میں تمھارے ساتھ تھا وہاں۔ عقل ہی نہیں ھے تین سال کی ہوں تم وہ جل بھن کر بولا اور نام
کیا ھے تمھارے پروفیسر کا جس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہی تم پڑھائی تم سے ہوتی ھے نہیں
ھے بکواس کروالو تم سے ٹیسٹ یاد کرلیا ھے تم نے ہانم تو اس کے اتنے غصہ والے رویہ کو دیکھ
کر حیران پریشان تھی ابھی تو بلکل ٹھیک تھا پتہ نہیں اچانک کیا ہوا آپ ایسے کیوں بول رہے
ھے وہ تو اتنے اچھے ھےاپ کو کیا ھے میرے سر سے جلن ہورہی ھے تو آپ بھی اپنی داڑھی ہٹادے
لیکن غازی جی آپ پر تو اچھی لگتی ھے لیکن پتہ ھے وہ تو بغیر داڑھی کے بھی اتنے پیارے
لگتے ھے ہمارے سر ہانم ایک بار پھر تم نے اگر ایک بار بھی سر کا نام بھی لیا آئی سیور میں نے
تمھارا وہ حشر کرنا ھے تمھاری سوچ ھے بلکل خاموش اور ٹائم دیکھا ھے تم نے اس ٹائم تک
جاگ رہی ہوں چل کر سو صبح کالج نہیں جانا اب تو میں روز جاؤ گی وہ تو اتنے اچھے اور
پڑھتے بھی اتنا اچھا ھے لیکن غازی جی میں نے تو سر کا نام ہی نہیں لیاھے آپ کو پتہ ھے وہ کیا
بول رہے تھے شٹ اپ وہ غصہ کی زیادتی سے چیخا اٹھو فورا اٹھو حانم تو اس کے ایک دم
دھاڑنے پر گھبرا کر صوفے سے اٹھی عزت کے دائرے میں بیڈ پر جاؤ اور خاموشی سے سوجاؤ
ورنہ ابھی تم کو دس کلو میٹر تک بھگاو گا ٹیریڈ میل پر اس کی بات سن کر ہانم سرعت سے بستر
میں گھسی اور کمبل سر تک تانے سو نے کی کوشش کرنے گی اور وہ بھی سر جھٹک کر
واپس اپنے کام میں مصروف ہوا تھوڑی دیر بعد اس۔نے کمبل سے سر نکال کر اس کو لیپ ٹاپ پر
کام کرتے دیکھا اس کو بڑا مزہ آرہا تھا اس کو غصہ دلانے میں اور اس کے جو ایکسپریشن تھے
بہت مزہ دے رہے تھے اس کو جان بوجھ کر وہ بار بار ایک ہی بات کررہی تھی غازی جی ایک
لاسٹ بات بولو ہانم انسانوں کی طرح سوجاؤ اس نے لیپ ٹاپ پر ہی نگاہیں کرکے بولا پلیز ایک
بات سن لے اس نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں اور اس کی جانب دیکھا جو تھوڑا سا سر
باہر نکال کر اس کی طرف دیکھ رہی تھی اچھا بولوں ہمارے انگلیش کے پروفیسر کا نام التمش
ھے مجھے نہ یہ نام بہت اچھا لگا ھے ہم نہ ہمارے بیٹے کا نام بھی التتمش رکھے گے تم نہیں مانوں
گی نہ اور نہ ہی بند کرو گی اس پروفیسر کی گردان کرنا غازیان لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتے ہوئے
بولا اچھا اچھا سوری میں تو آپ کو بس نام بتارہی تھی ہانم اگر تم نے اب اس پروفیسر کا نام
اپنی زبان پر بھی لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اور واپسی لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا
لیکن میں تو اپنے بیٹے کا نام التمش ہی رکھو گی وہ خود سے بڑبڑائی اورسرتک تانے کمبل میں
سونے لگی لیکن آج اس کو نیند نہیں آرہی تھی پھر تھوڑی دیر بعد آٹھ کر نیچے کی طرف پانی
کے بہانے گئی ایان اور داود کو اپنے اس سر کے بارے میں بتانے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
صدیقی صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو وہ کسی تصویر کو سینے میں بھینچے زاروں قطار
رورہی تھی اور ان کو اندازہ تھا وہ تصویر
غازیان کی ہی ہوگی ان کو جس بات کا ڈر تھا
وہی وہ کرہرہی تھی وہ ان کے قریب بیٹھے اور ان کو اپنے سینے سے لگایا بس کرجاو چپ ہوجاو
سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا انہوں نے معزرت
کرنا مناسب سمجھا میں بس تم کو اتنا بتانا
چاہتا تھا کہ تم جو کررہی ہوں وہ غلط ھے اگر تمھارے بھائی نے ایسا بھی کیا کردیا تھا جو تم
اتنا کررہی ہوں اور تم نے دیکھا تھوڑی تھا ان کو یہ سب کرتے ہوئے اور اگر تم نے وہ ابھی اپنا
فقرہ مکمل کرتے وہ بیچ میں روندھی ہوئی آواز میں بولی انہوں نے ایسا کیا تھا صدیقی صاحب
میرے امی ابو کو مجھے سے دور کرنے والے وہ ہی تھے صدیقی صاحب نے ان کی پیٹ تھپکی اور
تحمل سے بولے اگر انہوں نے ایسا کیا تھا تو وہ جو اللہ ھے نہ انہوں نے بھی ان کو سزا دی تھی
یاد ھے کیسے موت ہوئی تھی ان کی لیکن تم نے پھر بھی جو غازیان کے ساتھ کیا تھا وہ صحیح
نہیں تھا انہوں نے دکھ سے کہاں یاد ھے تمھیں کیسے رورہا تھا کیسے روک رہا تھا تم کو کے مت
جاؤ ہمیں چھوڑ کر لیکن تم سب چھوڑ کر آگئی تھی اور پھر اس کے بعد تم نے موڑ کر بھی نہیں
دیکھا لیکن وہ بھولا نہیں تھا نہ تمھیں نہ روحہ کو نہ زین کو آگر وہ چاہتا تو وہ نہیں آتا اس
رات روحہ کے پاس نہ بچاتا وہ ہماری روحہ کو ان درندوں سے نہ لے کر پہنچتا ہسپتال لیکن ہمارا
غازیان اس رات روحہ کے پاس تھا جس وقت ہمیں زین کی ضرورت تھی میں مانتا ہوں ہمارا
زین کہاں تھا لیکن اس کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے تھا اور اگر غازیان وہ سب باتیں یاد کرکے ہمارے
پاس نہ پہنچتا آج ہماری روحہ ہمارے پاس موجود نہیں ہوتی صدیقی صاحب میں کیا کرتی
جب مجھے بھابھی نے بتایا تھا کہ بھائی نے ہی امی ابو کا قتل کیا ھے وہی ان کے قاتل ھے تو
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا مجھ پر کیا گزری تھی اس رات کو۔جو انہوں نے مجھے بتایا
اس کے بات اس بات کو جس دھڑلے سے بھائی نے مانا تھا مجھے اس وقت جو سمجھ آیا تھا میں کر گزری تھی
(ماضی)۔۔۔
بھابھی مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں ارہا ھے کہ ہم پر یہ کیسی قیامت ٹوٹ گئی ھے امی ابو
کیسے چلے گئے اس دنیا سے ایک بار صرف ایک بار وہ انسان میرے سامنے اجائے میں اس شخص
کو زندہ نہیں چھوڑو گی وہ اپنے سامنے بیٹھی پر نور چہرہ جو سفید ہالے کے حجاب میں مقید
تھا ان کو دیکھ کر وہ دکھ سے بولی وہ انسان ہمیں مل جائے جس نے ہمارے ماں باپ کو مارا ھے
فرحت بیگم نے نم آنکھوں سے اپنی نند کی طرف دیکھا جس کو وہ اپنی بہنوں سے بھی زیادہ
چاہتی تھی مجھے نہیں پتہ ھے فوزیہ میری کتنی زندگی بچی ھے لیکن میرا دل کہتا ھے میں بہت
جلد یہ جہاں چھوڑ کر چلی جاؤ گی میں نے اپنی دوست کو بول دیا ھے کہ میرے بچوں کا خیال
رکھے لیکن میں تم سے بھی بولتی ہوں میرے تین پھولوں کا خیال رکھنا میں تمھیں ایک بہت بڑا
راز بتانا چاہتی ہوں کیونکہ میں اس راز کے ساتھ اس دنیا سے نہیں جانا چاہتی میں گناہ کو
ترجیح نہیں دینا چاہتی کیا مطلب بھابھی کیسی باتیں کررہی ھے آپ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا
ھے اور آللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہوں آپ کا سایہ آپکے بچوں پر سلامت رہے فوزیہ تم میری بات کو
ٹھنڈے دماغ سے سننا تمھارے ماں باپ کا قاتل کوئی اور نہیں تمھارا بھائی رحمان درانی ہی ھے
ان کے سر پر ساتھوں آسمان ایک ساتھ گیرے تھے اور وہ ایک دم کھڑی ہوئی اور غصہ کی زیادتی
سے چیخی دماغ ٹھیک ھے آپ کا میں مانتی ہوں آپ کو بھائی نہیں پسند ان کی عیاش زندگی سے
اپ کو سخت نفرت ھے لیکن آپ میرے بھائی پر اتنا گندہ الزام نہیں لگاسکتی آگر آپ ان کو اپنا
شوہر نہیں مانتی تو کیا ہوا کم از کم اپنے بچوں کے باپ کی حیثیت سے ہی ان کے بارے میں سوچ
کے ان پر الزام لگاتی غازیان جو اپنی ماں کے پاس آرہا تھا کھڑکی کے آؤٹ میں ہوگیا اندر کی آوازیں
سن کر وہ کھڑی ہوئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر واپس ان کو بیٹھایا میری بات تحمل سے سنو
میں تمھیں ساری تفصیل بتاتی ہوں ایک بار میری بات سنو اور مجھ پر یقین کرنا وہہ جو کام
کررہے ھے آج کل تم جانتی ہوں نہ کیا کرتے پھیر رہے ھے یہ ساری باتیں ابو کو پتا چل گئی تھی
وہ ڈرگز اسمگل کررہے ھے وہ برے کاموں میں ملوث ہوگئے ھے اس وجہ سے انہوں نے ان سے
بات کی ان کو سمجھانے کی کوشش کریں لیکن جب انہوں نے یہ بات نہ مانی تو مجبوراً ابو کو ان
کو یہ دھمکی دینی پڑی کہ وہ یہ سب باتیں پولیس کو بتادے گے وہ پھر بھی نہیں مانے پھر
ان دونوں نے فیصلہ کیا کے وہ یہ بات پولیس کو بتادے گے وہ ایک ساتھ ہی کمپلین کرنے گئے تھے
اور جب یہ دونوں باہر اپنی گاڑی میں نکلے تو انہوں نے ان کا ایکسڈنٹ کروادیا وہ بہت بے
یقینی سے اپنی بھابھی کی باتیں سن رہی تھی جن میں ان کو سو فیصد سب درست لگ رہا تھا
اور یہ سب باتیں خود میں نے اپنے کان سے سنی تھی اور تمھیں معلوم ھے وہ ابھی اپنی بات کو
پوری کرتی پیچھے سے رحمان درانی کی اواز پر وہ دونوں گھومی بہت اچھا کیا تم نے اس کو
سب بات بتادی غازیان اپنے باپ کو دیکھ کر مزید اندر کی طرف ہوا ورنہ میں خود اس کو
بتانے والا تھا فوزیہ بیگم نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا اور بے یقینی کی کیفیت
میں بولی بھائی آپ جھوٹ بول رہے ھے نہ ایسا نہیں ہوسکتا ھے آپ امی ابو کے ساتھ ایسا نہیں
کرسکتے یہ سب جھوٹ ھے نہ بولے ایسا میں کرچکا ہوں اور میں کیا کرتا میرے پاس کوئی
اور دوسرا راستہ نہیں تھا وہ بار بار مجھے پولیس میں جانے کی دھمکی دے رہے تھے اور بول رہے تھے کہ وہ یہ کردے گے وہ کردے گے تو
میں کیا کرتا جو۔مجھے سمجھ آیا میں نے کردیا اور پتا ھے تمھارے سامنے یہ سب کیوں میں۔مان
رہا ہوں کیونکہ تم بھی بار بار پولیس میں جارہی ھوں دیکھوں اگر تم نے اپنے قدم پیچھے نہیں لئے
تو مجھے صرف دس منٹ لگے گے تمھارے میاں اور بیٹے کو اڑانے میں کیا بولتی ہوں ایک کال
کردو اور کام تمام فوزیہ یاد رکھنا میرے لئے صرف پیسہ ضروری ھے اور کچھ نہیں اس لئے
اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالو کہ میرا تم سے کوئی تعلق ہوگا مجھے فرق تک نہیں پڑے گا اگر تم بیوہ
ہوگئی گھن آتی ھے تمھیں اپنا بھائی بولتے ہوئے تمھیں زرہ شرم نہیں آئی اپنے ماں باپ کو مرواتے
ہوئے نہیں مجھے قسم سے بلکل نہیں آئی انہوں نے مزاق اڑانے والے انداز میں کہاں لیکن تمھارے
شوہر کو مروانے میں مجھے تھوڑی سی آئے گی شرم تو پھر کیا بولتی ہوں کرو کال اور کام تمام
کروادو ان کا کوئی ضرورت نہیں ھے جارہی ہوں میں میں تمھاری زندگی سے کبھی نہیں او گی
لیکن میری بددعا ھے تمھیں اللہ کرے تم کتے کی موت مرو تمھاری موت اتنی بھیانک ہوں پوری
دنیا دیکھے اور تم سے عبرت حاصل کرے جو ماں باپ کے ساتھ ایسا کرتے ھے ان کے ساتھ ایسا ہوتا
ھے اور انشاللہ تمھارے ساتھ یہ سب ہوگا کیونکہ یہ ایک بیٹی کی بددعا ھے اور وہ وہاں روکی
نہیں تھی زین اور روحہ کو لیکر درانی۔مینشن چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلی گئی تھی وہ
مکرو قہقہہ لگاکر ہنسے تھے اور ان کی نظر فرحت بیگم کی طرف پڑی گالی عورت تیری ہمت
کیسے ہوئی یہ سب اپنے منہ سے اگلنے کی تو نے آج یہ بات اس کے سامنے بھونکی ھے تو یہ بات
اور کسی اور کے سامنے بھی بھونکے گی اس لئے تجھے زندہ رہنا ضروری نہیں ھے اور وہ اگلا
سانس تک نہیں لے پائی تھی اور اسی رات اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی تھی اور یہ سب کچھ
غازیان نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس میں اتنی ہمت نہیں تھی جھٹا پایا تھا کہ وہ اپنے
فرعون صفت باپ کو روک پاتا وہ وہی بت بنا کھڑا دیکھ رہا تھا اس رات اس گھر سے ایک
جنازہ نہیں اٹھا تھا دو جنازہ اٹھے تھے دوسری جنازہ خود رحمان درانی کا تھا جو پولیس ریٹ
میں مارے گئے تھے وہ اور ان کا پاٹنر رانا کا بھائی ان دونوں کو پولیس انکاؤنٹر میں گولیوں
سے چھلنی کردیا گیا تھا اور اس رات ایک انسان کا دل بھی پھتر ہوا تھا جو ہنسنا تک بھول گیا
تھا جس نے اپنے سامنے اپنے باپ کو اپنی ماں کو مارتے دیکھا تھا جس نے دیکھا تھا اس کی پھپھو
اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی جب ان کو سب سے ذیادہ ان کی ضرورت تھی اس رات اس نے
دیکھا تھا اپنے چھوٹے چھوٹے بھائیوں کو روتے ہوئے اس رات اگر کسی نے اس کو سینے سے لگایا
تھا اس کی نم آنکھیں پہنچی تھی وہ تھی میمونہ بیگم جن۔کی آغوش میں اس کو اپنی ماں
کی خوشبو میسر ہوئی تھی لیکن اس نے اس رات تھان لیا تھا کہ وہ دنیا کے ایسا ناسوروں کو
اس دنیا سے ختم کردے گا اور اس نے ایسا کیا بھی تھا
(حال)…
میں مانتی ہوں صدیقی صاحب مجھے جانا چاہیے تھا انہوں نے اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہاں
ان تینوں کے پاس لیکن مجھے اس گھر سے
نفرت ہوگئی تھی میں چاہ کر بھی نہیں جا پائی
تھی لیکن دیکھا آپ نے غازی ایک بار بھی نہیں آیا میرے پاس میں ملنا چاہتی تھی اس سے جب
وہ ہماری روحہ کو ہسپتال لیکر پہنچا تھا لیکن وہ مجھ سے ملا ہی نہیں چلا گیا تھا وہ تھوڑی
دیر روک کر اس کے بعد وہ روحہ سے ملتا ھے آپ سے ملتا ھے لیکن۔ مجھ سے نہیں ملتا تھا اور
وجہ معلوم ھے مجھے یہی وجہ ھے کہ میں نہیں آئی تھی ان تینوں کے پاس لیکن مجھے نفرت
ہوگئی تھی صدیقی صاحب میرے بس میں نہیں تھا میں کیا کرتی ہممم آپ خاموش ہو جائے اور
یہ نکاح ہونے دے روحہ داؤد سے محبت کرتی ھے اور غازی داؤد اور روحہ دونوں سے بے انتہا
محبت کرتا ھے جس کی وجہ سے وہ آپ کو۔معاف کردے گا آپ پریشان نہ ہوں اور دعا کرے
آپ کی بیٹی داؤد کو اپنا ماضی بتانے گئی ھے اس کی زندگی میں کیا ہوا تھا جانے اس کو بدل
کررکھ دیا تھا اور دعا کرے وہ سمجھے آپکی بیٹی کو ورنہ میں جانتا ہوں جو پہلے نہ ہوا تھا
وہ اب ہوگا میری روحہ کو غازی نے سنبھال لیا تھا لیکن اس بار اس کو کوئی نہیں سنمبھال
نہیں پائے گا اللہ کرے جو آپ سوچ رہے ھے ویسے ہی ہوں لیکن میرا دل نہیں مان رہا صدیقی
صاحب کچھ نہیں ہوگا یہ سب اللہ پر چھوڑ دے وہ ان کو تسلی دینے لگے ۔۔
جاری ھے ❤️
