Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

مغرور محبت 52
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 52

وہ لوگ اس وقت صدیقی صاحب کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے سامنے والے صوفے پر فاروق

صدیقی اور ان کی بیگم بیٹھی تھی اور ان کے ٹھیک سامنے میمونہ بیگم غازیان اور داؤد بیٹھے

ہوئے تھے فوزیہ بیگم ایک ٹک صرف غازیان کو دیکھ رہی تھی ان سب کے بیچ ایک گہری

خاموشی تھی جو۔ بات میمونہ بیگم نے کی تھی وہ بات صدیقی صاحب کو سمجھ نہیں آرہی تھی

مطلب اتنی جلدی رخصتی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ان کو دیکھے میں جانتی ہوں یہ بات آپکے لئے

بہت سرپرائز ھے کہ ابھی نکاح ہوا اور ابھی ہم لڑکی لینے آگئے دراصل ہمارے یہاں نکاح کے بعد

فورا رخصتی کرتے ھے ایسے نکاح کرکے چھوڑتے نہیں ھے یہ تو آپ لوگوں کی ڈیمانڈ تھی تو اس

لئے اتنی جلدی اکیلے داود نے آکر نکاح کرلیا لیکن ہم تو بڑے ھے رسم ورواج کو لیکر چلنا پڑتا ھے

اس لئے ابھی ہمیں آنا پڑا میمونہ بیگم نے بول کر دونوں کی جانب دیکھا جو بہت گہری سوچ میں

تھے داؤد کی نگاہ ہی زمین سے نہیں اٹھ رہی تھی اس کو کسی کی چیز کا احساس نہیں ہورہا

تھا اگر ہورہا تھا تو اس وقت ہانم کا احساس ہورہا تھا وہ اس کی وجہ سے اتنا رورہی تھی اور

غازیان کس قدر غصہ کررہا تھا اس پر صدیقی صاحب نے ایک نظر غازیان کو دیکھا اور پھر

میمونہ بیگم سے بولے آپکی بات تو ٹھیک ھے بہن جی لیکن ہمیں تھوڑا سوچنے کا وقت تو دے آپ

اس جمعہ کو رخصتی رکھ لے میری ایک ہی بیٹی ھے میرے کچھ ارمان ھے جنہیں میں پورا کرنا

چاہتا ہوں ایسے کیسے میں اپنی بیٹی کی شادی اتنی سادگی سے کردو انہوں نے سادگی سے اپنا

پہلو رکھا وہ جو کب سے ان سب کی باتیں خاموشی سے سن رہا تھا میمونہ بیگم کو۔

اشارہ کرکے تحمل سے اپنی روعب دار آواز میں بولا آپ کیا کرنا چاہتا ھے انکل اس جمعہ تک بیٹا

زیادہ کچھ نہیں اپنی بیٹی کو کھالی ہاتھ تو رخصت نہیں کرسکتا میں میری ایک بیٹی ھے کم

از کم کچھ نہیں تو تھوڑی بہت شوپنگ ہی کرلے اور کچھ جہیز کا سامان ان سب میں تھوڑا وقت

لگ جائے گا غازیان نے ان کی پوری بات سنی اور پھر آرام سے بولا لیکن انکل ہم آپ سے جہیز

نہیں لے سکتے یہ پھر اگر آپ اپنی بیٹی کو دو کپڑوں میں بھی دینا چاہتے ھے ہم وہ بھی نہیں

لے سکتے کیونکہ ہماری نظر میں جہیز مہز ایک لعنت ھے اور کوئی بھی شخص لعنت نہیں لینا

چاہتا ھے میں مانتا ہوں بیٹا کہ آپ لوگ کی نظر میں جہیز لعنت ھے لیکن میرے کچھ رشتہ دار

ھے وہ تو پوچھے گے نہ کے اتنی جلدی نکاح اور اسی دن ہم سب کے بغیر رخصتی بیٹا لوگ سو

سو باتیں بنائے گے انہوں نے ایک بار پھر آپنی بات رکھی اچھا تو ایک بات بتائے آپ کے لئے

اپکی بیٹی ایمپورٹنٹ ھے یہ پھر لوگ بیٹا وہ بات نہیں ھے کچھ دنیا داری بھی دیکھنی پڑتی ھے

دیکھے انکل میری بات تھوڑی غور سے سنئے گا اسلام میں یہ سب تو جائز نہیں ہوتا ھے اسلام

میں تو حکم ھے سادگی سے نکاح کرو اس کے بعد ایک ولیمہ کی تقریب رکھ لو جو کے ہماری سنت

بھی ھے تو اس لئے آپ کو جس کو بھی بلانا ہوں آپ ولیمہ میں جن جن کو دعوت دینی ہوں دے

دیئے گا آپکی بیٹی اب ہمارے گھر کی بیٹی ھے وہ ہمارے گھر کی عزت ھے وہ ہمارے لئے ہمارے

خاندان کے لئے بہت معنی رکھتی ھے اس لئے اس سے جڑا ہر رشتہ ہم سے جڑتا ھے میں اپکو یقین

دلاتا ہوں میرا بھائی آپکی بیٹی کو بہت خوش رکھے گے آپ بے فکر ہوکر اس کی رخصتی ابھی

کردے غازیان کی بات میں وزن تھا وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگئے تھے پھر انہوں نے فوزیہ

بیگم کی طرف دیکھا جنہوں نے اثبات میں سر ہلایا انہوں نے غازیان کی جانب دیکھا جو انہیں

ہی دیکھ رہا تھا ہمیں منظور ھے وہ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولے فوزیہ بیگم اتنے سال بعد

غازیان کو دیکھ کر ایک دم خاموش ہوگئی تھی ان کے حلق سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی فوزیہ

آپ اوپر جائے اور روحہ کو تیار کرکے نیچے لے آئے انہوں نے بول کر ساخت بیٹھی فوزیہ بیگم کو

مخاطب کرا جو اثبات میں سر ہلا کر اوپر کی جانب بڑھی پیچھے ان کے جاتے ہی غازیان نے

سرد سانس خارج کی اور داؤد کی جانب دیکھا جو کسی گہری سوچ میں تھا میمونہ بیگم نے

غازیان کو دیکھا اور اس کی نگاہ کے تعاقب میں دیکھا تو اس کی نظروں کو داؤد کی طرف تھی

میمونہ بیگم نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا وہ جانتی تھی اس نے تھپڑ تو مار دیا تھا لیکن ابھی

وہ جانتی تھی کہ وہ کیسا محسوس کررہا ھے غازیان نہ ان دونوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا البتہ

وہ سزا بہت بری دیتا تھا یہ پہلا تھپڑ تھا جو اس نے داؤد کو مارا تھا اور اس کو واقع بہت برا فیل

ہورہا تھا وہ ہاتھ اٹھانا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے جھوٹ کی وجہ سے اس سے برداشت نہیں ہوا

اور ہاتھ اٹھ گیا انہوں نے ہاتھ رکھا تو اس نے ان کی طرف دیکھا کوئی بات نہیں انہوں نے دھیمی

آواز میں کہاں اس نے سن کر سر اثبات میں ہلایا اور نگاہ زینے کی جانب اٹھی جہاں سے روحہ

مہرون چادر میں فوزیہ بیگم کے ہمراہ نیچے آرہی تھی ان کو دیکھ کر تینوں اپنی جگہ سے کھڑے

ہوئے اور تھوڑی بات چیت کے بعد وہ اپنے ماں باپ کی دعا کو ساتھ صدیقی ہاؤس سے درانی

مینشن رخصت ہوگئی صدیقی صاحب وہی دروازے پر ہی جم کر کھڑے تھے ان کی آنکھوں

کے سامنے اس کا بچپن اس کی جوانی کسی فلم کی طرح چل رہی تھی وہ ابھی بھی اسی جگہ پر

کھڑے تھے جہاں سے روحہ رخصت ہوکر گئی تھی فوزیہ بیگم ان کی کیفیت سمجھ رہی تھی

وہ جانتی تھی کہ وہ کس قدر اس سے اٹیچ ھے وہ جانتی تھی کہ وہ کیسا فیل کررہے ھے

پھر بھی ہمت کرکے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا صدیقی صاحب اندر چلے وہ ساری عمر کے لئے

تھوڑی گئی ھے ہم سے ملنے آتی رہے گی آپ پریشان نہ ہوں طبیعت خراب ہو جائے گی پھر

وہ ہی نہیں چھوڑے گی نہ مجھے نہ آپ کو وہ مدھم سا مسکرائے ایک بات بتاؤ فوزیہ ہمم

پوچھے ایسا کیوں ہوتا ھے جس کو بچپن سے اپنے ہاتھ سے پالا اس کو اپنے ان ہاتھوں سے بڑا

کیا اور جب وہ بڑی ہوجائے تو کچھ دن بعد کوئی آتا ھے اور ان کو اپنے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھا

کر ہمیشہ کے لئے لے جاتا ھے وہ یہ نہیں سوچتا کہ پیچھے کھڑے ماں باپ کا دل کس طرح رورہا ھے

یہ تو دنیا کا دستور ھے نہ صدیقی صاحب بادشاہوں کو بھی اپنی بیٹی رخصت کرنی پڑتی

ھے بیٹی تو ہوتی ھے پرایا دھن ھے وہ تو ایک چڑیا ہوتی ھے جو اڑ کر پرائے دیس چلی جاتی

ھے ایسا نہیں ہونا چاہئے فوزیہ آپ نہیں جانتی یہ دستور کچھ باپوں کے لئے کتنا تکلیف دہ

ہوتا ھے جو اپنی پھول جیسی بیٹی دوسروں کے ہاتھوں میں سونپ دیتے ھے ان باپوں سے پوچھے

کوئی جن کی تو پوری کائنات ہی بیٹی ہوتی ھے ان کی آنکھیں آنسوں سے لبا لب ہورہی تھی آپ

اداس نہ ہوں دل چھوٹا نہ کرے جب وہ ہمیں یاد آئے گی تو ہم اس سے ملنے چل لے گے اور اگر

زیادہ یاد آئے گی تو اپنے گھر بلالے گے انہوں نے ان کو سمجھاتے ہوئے کہاں اس کو بھولوں گا تو یاد

کرو گا نہ میری بیٹی مجھے ہر وقت یاد رہتی ھے وہ جان ھے میری میرا بازو ھے وہ کچھ لوگ

بولتے ھے نہ فوزیہ بیگم فخر محسوس ہوتا ھے مجھے میری بیٹی روحہ ھے میں ایک سپاہی کا

باپ ہوں جو اپنے ملک کے لئے کچھ بھی کرسکتی ھے کچھ لوگ بولتے ھے کے باپ بیٹی کو انگلی

پکڑ کر چلنا سیکھاتا ھے میری بیٹی نے تو مجھے سیکھایا انہوں نے بول کر اپنا سر آسمان کی

جانب اٹھایا اللّٰہ میری بیٹی کے نصیب اچھے کرنا اس کو کوئی پریشانی نہ دینا اس کو ہر خوشی

دینا جو وہ چاہتی ھے آمین فوزیہ بیگم کی آنکھیں بھی آنسوں سے بھری ہوئی تھی دونوں

تھوڑی دیر وہی کھڑے اس رستہ کو دیکھتے رہے جہاں سے ان کی گاڑیاں گئی تھی پھر اپنے آنسو

صاف کرکے دونوں ایک ساتھ اندر کی جانب بڑھے ۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ لوگ مینشن میں داخل ہوئے تو ان کا استقبال بہت اچھا ہوا تھا ایان کی طبیعت نا ساز تھی اس

کے با وجود اس نے زویا کے ساتھ مل کر جلدی جلدی۔ان کے آنے سے پہلے بہت ساری ارجمنٹ

کرلی تھی لاونج میں وہ دونوں اور کچھ ملازم پھولوں کی پلیٹ تھاما کھڑے تھے جیسے ہی وہ

سب انٹر ہوئے ان پر پھول برسا کر ان کا ویلکم کیا تھا زویا اپنی پلیٹ ایک ملازمہ کو پکڑا کر

روحہ کی جانب بڑھی تھی جو مہرون چادر میں داؤد کے ساتھ کھڑی تھی اور مسکرا کر لاونج کو

دیکھ رہی تھی ویلکم بھابھی اس نے خوشدلی سے اس کو گلے لگا کر اس کا ویلکم کیا تھا بہت

بہت مبارک ہوں آپ کو وہ بول کر مسکرائی تھی جوابآ روحہ بھی مسکرائی تھی ایان بھی آگے آیا

ویلکم ہوم چھوٹی بھابھی میں آپکا چھوٹا دیور ہوں ایان درانی نام تو سنا ہوگا اس نے اسٹائل مار

کر سر پر ہاتھ پھیرا روحہ کھلکھلائی تھی شکریہ اس نے مسکرا کر کہاں پیچھے ہی میمونہ بیگم

اور غازیان کھڑے ہوئے تھے اور داؤد کی نگاہ صرف ہانم کو ڈھونڈ رہی تھی وہ نہیں دیکھ رہی

روحہ نےچارو طرف نگاہ گھماتے ہوئے پوچھا کون زویا نے اچھنبے سے اس سے استفار کیا وہ

سفیدی کی چمکار کہاں ھے اس نے ایک دم ہانم کی کمی محسوس کی تو اس کے منہ سے بے

ساختہ نکلا سب نے حیرانی سے دیکھا تھا غازیان نے دل میں کہاں تھا اب پتہ چلا گا ان دونوں کو

محبت کا داؤد جو اوپر کی طرف دیکھ رہا تھا اس کی بات سن کر آنکھیں بڑی ہوئی اور سرعت

سے اس کے پاس آیا اس کی بات کا مطلب ھے کہ یہ سب نہ وہ ہاں یہ سمجھ رہی تھی کہ یہاں

وائٹ پھول ہوگے اس لئے سفیدی کی چمکار کہاں اس نے ادھر ادھر نگاہ گھماتے ہوئے بات بنانے کی

کوشش کریں غازیان کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ان دونوں کی حالتِ دیکھ کر لیکن وہ کسی اور

کے دیکھنے سے پہلے چھپا گیا تھا وہ میں پوچھ رہی تھی کہ ہانم نہیں دیکھ رہی ھے اپن کو کہاں

ھے داؤد نے اس کو آنکھیں دیکھائی تو اس نے فورآ اپنا جملہ ٹھیک کیا مطلب اپنے کو جی

بھابھی زرہ تھک گئی ھے اس لئے وہ اپنے روم میں آرام کررہی ھے ایان نے اس کی بات سن کر

فورا جواب دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ہانم کی کوئی بات ابھی کسی کو بھی پتہ چلے اچھا

ان سب باتوں کو چھوڑو زویا بھابھی کو داود کے کمرے میں لے جاؤ وہ وہاں تھوڑا آرام کرلے گی

جی مما آئے بھابھی وہ میمونہ بیگم کی بات پر سر اثبات میں ہلاکر روحہ کا ہاتھ تھامے داؤد کے

کمرے کی جانب بڑھی اور تم داؤد وہ جو ابھی بھی اوپر ہی دیکھ رہا تھا ان کی پکار پر گڑبڑا کر

ان کی طرف متوجہ ہوا جی۔۔۔۔۔جی میمو جان اس جمعہ کو ان دونوں کا نکاح ہوگا ایان اور زویا

کا اس کے بعد ان کے رزلٹ کے فورا بعد تم دونوں بھائیوں کا ولیمہ ہوگا کوئی مسلہ ھے تمھیں

انہوں نے اپنے سپاٹ انداز میں بولا نہیں کوئی مسلہ نہیں ھے میمو جان جیسا آپ کو مناسب

لگے ہمم ٹھیک ایان زوئی نیچے اجائے تو اس کو گھر بھیج دینا وہ اس کو بول کر جانے لگی تو

داؤد کی پکار پر روکی میمو جان وہ روکی ضرور تھی لیکن مڑی نہیں تھی غازیان ان کا چہرہ با

خوبی دیکھ سکتا تھا میمو جان میں جانتا ہوں میں نے جو حرکت کی ھے اس کی کوئی معافی

نہیں ھے لیکن ماں تو اپنے ہر بچے کو معاف کردیتی ھے نہ پلیز مجھے میرے اس عمل کے لئے

معاف کردے آئیندہ کبھی آپ سے کچھ نہیں چھپاوگا یہ سب بہت جلد بازی میں ہوا تھا

مجھے کسی کو کچھ بتانے کا وقت ہی نہیں ملا انہوں نے سن کر اپنی سرد سانس خارج کی اور

سپاٹ انداز میں بولی مجھے کوئی پروبلم نہیں ھے تم سے اور ویسے بھی میں ہوتی کون ھوں برا

منانے والی سگی ماں تھوڑی ہوں تمھاری
تمھاری ماں کی دوست ہوں کوئی بات نہیں

مجھے برا نہیں لگا آپ ایسی بات کیوں کررہی ھے غازیان تڑپ کر بولا داؤد کی آنکھوں میں بے

ساختہ نمی آئی تھی اور وہ گھوم کر ان کے سامنے آیا تھا اور گھٹنوں کے بل زمین پر ان کے

سامنے بیٹھا تھا اور ان کے ہاتھ تھامے تھے پلیز میمو جان ایسا نہ بولے آپ کا داؤد اتنی تلخ بات

برداشت نہیں کرسکتا ھے پلیز معاف کردے اپنے داود کو ہٹو میرے سامنے سے گھر جانا ھے مجھے

وہ اس کو جھڑکتے ہوئے بولی میں جب تک نہیں اٹھو گا جب تک آپ معاف نہیں کرے گی

میں نہیں ہٹو گا چاہے کچھ بھی ہو جائے اس نے کسی ضدی بچے کی طرح کہاں اور نہ آپ کو

جانے دو گا پلیز معاف کردے میں کوئی نہیں لگتی بیٹا تم لوگوں کی مجھ سے کیوں معافی

مانگ رہے ہوں ایان میمو جان کے پاس آیا میمو جان کردے نہ یار معاف پلیز آپ ایسے تو نہ بولے

ہم لوگوں نے تو جب سے ہوش سنمبھلا ھے تب سے آپ کو ہی پایا ھے تو پھر اپ ہماری ماں

کیسے نہیں ہوئی تمھیں پتہ بھی ھے ماں ہوتی کیا ھے ماں وہ ہوتی ھے جس سے بچے کچھ نہیں

چھپاتے ھے یہ جو غازی کھڑا ہوا ھے تم سب کہتے ہوں نہ یہ میرا لاڈلہ بیٹا ھے یہ بھی اپنی

ماں سے اپنی کوئ بھی پریشانی شئیر نہیں کرتا جب تک میں وہ بات خود نہ کردو اپنے اس منہ

سے کچھ نہیں بولتا ھے ماں سے تو ہر بچہ اپنی ہر بات شئیر کرتا ھے نہ تو پھر یہ کیوں نہیں کرتا

ھے یعنی یہ۔مجھے اپنی ماں ہی نہیں مانتا ھے غازیان نے اپنی آنکھیں چھوٹی کرکے ان کو دیکھا

میمو جان یار میں نے کیا کیا ھے ؟ غازیان نے توپوں کا رخ خود کی جانب آتے دیکھا تو جھنجلا

کر بولا ہاں بہی کچھ نہیں کیا اس نے یہ تو بلکل دودھ کا دھلا ہوا وہ وقع ہی میمونہ بیگم

تھی جو کسی کو بھی نہیں بخشتی تھی تم کوئی بات شئیر کرتے ہوں بولو یار اپ مجھے

فضول میں لپیٹ رہی ھے اس نے خفگی سے کہاں خیر تم سے کیا ہی بولوں میں تم تو ویسے بھی

کیسی کی نہیں سنتے ہوں اور یہ ایان جو بیمار بن کر کھڑا ھے مجھے بتانے کے بجائے سیگریٹ

پھونک رہا تھا شرم نہیں ائی تمھیں اس گھر میں سیگریٹ پیتے ہوئے وہ اس کی طرف مڑ کر بولی

ایان نے اپنے دانت دیکھائے میمو جان آپکا مجرم میں نہیں وہ ھے جو گھٹنوں کے بل بیٹھے ھے آپ

مجھے کیوں لپیٹ رہی ھے یہ بکواس کروالو بس کچھ بولو تو کیوں ہم پر کیوں آرہی ھے تم سب

ایک ہی ڈھک کے تین پات ہوں اور تم داؤد درانی تمھیں نہیں معاف کرو گی میں چاہے کچھ بھی

ہو جائے وہ بول کر اس کے برابر سے جانے لگی تو آپ معاف نہیں کرے گی وہ کھڑا ہوکر نم۔ سے

لحجہ میں بولا وہ روکی بھی تھی وہ ساتھ میں مڑی بھی تھی جو اپنی نم آنکھوں سے ان

کی جانب دیکھ رہا تھا میں جانتا ہوں میں نے غلط کیا ھے میمو جان لیکن معافی مانگ رہا ہوں

نہ یار پلیز معاف کردے آپ پلیز اس نے بے بس لحجہ میں کہاں غازیان دیکھ داود کو ہی رہا تھا

لیکن مخاطب میمونہ بیگم سے ہوا کردے معاف اس کو میمو جان اس کو اپنی سزا مل چکی ھے

اس نے سنجیدگی سے کہاں اب باقی وہ جو اس کی پاٹنر تھی اس کو ملے گی لیکن بھائی وہ ایک

بار پھر بولا اس کی وکالت میں ایک لفظ بھی بولا تو داؤد درانی امید کرتا ہوں جو تھپڑ تمھیں

ابھی پڑا تھا وہ بھولے نہیں ہوگے پلیز بھائی آپ ایک اور مار لے بھابھی کا کوئی قصور نہیں ھے

اس نے ایک اور دفعہ کوشش کی داؤد وہ میری بیوی ھے میں نے اس کے ساتھ جو بھی کرنا ھے وہ میری ۔مرضی

ھے خدا کی قسم تم میں سے کسی نے بھی اس کی سائیڈ لی وہ یہاں تم میں سے کسی ایک کے

ساتھ بھی نہیں رہے گی میں اس کے ساتھ آسلام آباد شفٹ ہوجاو گا یہ لاسٹ وارنگ ھے تم دونوں

کے لئے آئیندہ کے بعد میں جب بھی ہانم سے بات کرو گا میرے سامنے مت انا اسنے تنبیہہ انگلی

اٹھا کر ان دونوں کو وارن کیا میمو جان یہ نہیں کرے گا آئیندہ معاف کردے اس کو وہ بول کر

مینشن سے چلا گیا تھا میمونہ بیگم۔نے مڑ کر اس کو جاتے دیکھا تھا اور ان داؤد کی طرف متوجہ

ہوا صرف غازی کی وجہ سے تمھیں معاف کررہی ہوں داؤد اور یہی بولوں گی ہانم کو جب وہ ڈانٹ

رہا ہوں یہ کوئی بھی یہ کسی بھی قسم کی سزا دے رہا ہوں تو ان کے بیچ میں نہ بولنا ورنہ ہانم

کے لئے اچھا نہیں ہوگا تم جانتے ہوں غازیان کے غصہ کو وہ صبر بھی نہیں کرے گا اور اپنے لئے

اور اس کے لئے ساری زندگی کا افسوس چھوڑ دے گا انہونے سمجھاتے ہوئے کہاں تو دونوں نے

اثبات میں سر ہلایا زویا بھی نیچے آگئی تھی روحہ کو داؤد کے روم میں چھوڑ کر داؤد بھائی

آپ کو روحہ بھابھی بلا رہی ھے زویا نے آکر نیچے بغیر ماحول کی سنگینی سمجھے سادہ لفظوں

میں کہاں زوئی گھر چلو رات ہوگئی ھے صبح آجانا جی مما چلے گڈ بائے بھائی بائے ایان وہ

دونوں کو بول کر میمونہ بیگم کے ہمراہ گھر کی طرف بڑھی ایان جی بھائی بھابھی کہاں ھے

داؤد نے سب کے جاتے ہی بے ساختہ پوچھا میں نے کہاں تھا کہ آپ سے بھائی کا روم۔ ھے وہ انٹر

ہوئی ہوگی اور وہ لوک ہوگیا ہوگا جب تک بھائی نہیں چاہئے گے تب تک وہ کھول نہیں سکتا تم

لوگوں نے ایک دفعہ چیک کیا تھا کیا پتہ ان۔لوک ہوں یار کیا تھا لیکن لوک تھا اور پتہ ھے بھائی

اندر سے گھٹی گھٹی رونے کی آواز بھی آرہی تھی یار ایان میں یہ نہیں چاہتا تھا مجھے اور

بھابھی ہم دونوں کو اندازہ نہیں تھا بات اتنی بڑھ جائے گی اس نے بے بسی سے نگاہیں نیچے

کرکے کہاں اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا ھے بھائی اپ ٹینشن نہ لے گرین مونسٹر جتنے سخت دیکھتے

ھے اتنے ہی نرم دل کے مالک ھے وہ بہت محبت کرتے ھے بھابھی سے اور ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ

ذیادہ غصہ کرجائے ایان نے اس کی پریشانی کو تھوڑا کم کرتے ہوئے کہاں شاید ٹھیک بول رہا ھے

تو داؤد بھائی شاید نہیں یقیناً میں ٹھیک بول رہا ہوں اور پتہ ھے آپ کے ساتھ یہ سب کیوں ہوا

آخر میں وہ تھوڑا شراتآ بولا کیوں اس نے الجھ کر اس کی جانب دیکھا کیونکہ آپ نے اپنے اس

پلین میں مجھے شامل نہیں کیا تھا اس لئے تجھے کیا کرتا کتے شامل سالے تو پہلے ہی

سیگریٹ پھونک کر بہوش ہوگیا تھا میں آیا تھا تیرے کو ہی بتانے لیکن آپ صاحب تو پہلے ہی ٹن

ہوچکے تھے اور ویسے سب باتوں کو رکھ تو سائیڈ میں اور یہ بتا تو نے سیگریٹ پی کیسے

اس نے دوانگلی اٹھا کر اس کو دیکھائی اور سیگریٹ پینے کا سائین دیا بھائی بلکل ایسے بڑا

مزہ آیا مجھے روک سالے بتاتا ہو تجھے ابھی وہ اس کے پیچھے مارنے بھاگا وہ سرعت سے اوپر

کی طرف اپنے روم میں بھاگا داؤد نے اوپر آکر ایک نظر ہانم کے گیٹ کی جانب دیکھا اور تاسف سے سر جھٹک کر کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

رانا تو کیوں نہیں سمجھ رہا ھے اگر روحہ نہیں ہوگی تو وہ کام نہیں کرے گا ڈی کے نے رانا کو

سمجھانے والے انداز میں کہاں وہ دونوں ڈی کے مینشن میں بیٹھے تھے اور ڈی کے کافی دیر سے

اس کوسمجھانے کی کوشش کررہا تھا لیکن وہ ہر بار ہر بات کی ۔نفی کررہا تھا دیکھ ڈی کے تو

سمجھ نہیں رہا ھے مجھے اس لڑکی میں جھول لگ رہا ھے تیرے کواندازہ نہیں ہورہا ھے وہ کیا

چیز ھے یعنی جوکر اس کی بات کررہا ھے یعنی وہ اس سے پہلے ملا ہوگا وہی تو دیکھ رانا اگر

جوکر کو اس میں جھول محسوس نہیں ہوا تو تم کیوں ڈر رہے ہوں اور ہاں وہ ملی ہے کیونکہ وہ

کسی ایک گینگ کے ساتھ کام نہیں کرتی ھے اس نے میرے ساتھ کام کرنے سے پہلے ہی بات بتائی

تھی اور ابھی وہ کسی ہسپتال میں ڈاکٹر کی اسیسٹنٹ ھے اور وہ روحہ ھے اس کے لئے کوئی

کام مشکل نہیں ہوتا ھے یقیناَ وہ اس کے لئے بوڈی پارٹس اسمگل کررہی ہوگیا کیا پتہ اس

سلسلے میں ملا ہوں میں کیا بولو کتنا تو سمجھایا ھے تمھیں نہیں آرہی ھے سمجھ تو

بھگتنا اس کو جب یہ لڑکی تمھیں اور اس جوکر کو ڈس دے گی تب تم سب کو میری بات سمجھ

آئے گی یار تو چھوڑ نہ اس کو اور وہ ویسے بھی ہماری طرف سے نہیں آئے گی وہ جوکر کی

اسیسٹنٹ بن کر آئے گی دیکھ لے تیرے کو جو ٹھیک لگ رہا ھے مگر میں پھر بھی یہی بولو گا

اس سے دور رہنا تم ہاں تو پریشان نہ ہوں میں نے ابھی تک اس کو پلین تک کا نہیں بتایا ھے آخر ہم اس کا کرنے کیا والے ھے یار ایک بات سن مجھے

سمجھ نہیں آرہی ھے یہ بات کے ہم لوگ ملک کو برباد کرنا چاہتے ھے لیکن ابھی تک مجھے یہ بات

سمجھ نہیں آئی ھے ہم ایسا کیوں کررہے ھے ہمیں تو اس کام کے پیسے بھی نہیں ملے گا ڈی کے نے

اس کی جانب دیکھا اور ایک مکرو قہقہ لگایا میرے دوست تو ابھی تک میری اسٹریٹجی

سمجھا ہی ۔نہیں کیا مطلب کیسی آسٹریٹجی اس نے اچھنبے سے پوچھا جب یہ زہر دواؤں کے

زریعے لوگوں کی بوڈی میں انجیکٹ ہوگا اور پانی کے ذریعے غریب بستیوں میں جائے گا۔ اور

ہر جگہ موت ہی موت ہوگی تب ہم لائے گے انٹیٹوڈ اور اس ٹائم دونگنی قیمت میں لوگوں تک

فراہم کرے گے باہر کھڑے سرفراز نے ان کی بات سن کر سر اثبات میں ہلایا اور باہر جاکر غازیان

کا اطلاع دینے لگا اوروہ دونوں چھبیس جنوری کی پارٹی کی پلیئنگ کرنے لگے ۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یار زر مجھے نہ ایک بات ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ھے وہ کیا اس نے گاڑی کا موڑ کاٹتے ہوئے

پوچھا میں اگر مما بابا کے سامنے گیا اور انہوں نے مجھے پیٹا تو کیا تم مجھے بچاؤ گی یہ پھر

مار کھاتے دیکھتی رہو گی زین نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا دیکھے مار کھانے کی چار

اقسام ہوتی ھے نمبر ون اب وہ آپ کو پائپ سے مار رہے ہوگے تو میں بلکل سامنے نہیں او گی

کیونکہ مجھے پائپ کی مار سے کھسا ڈر لگتا ھے مار نمبر دو اگر وہ آپ کو بیلٹ سے ماردہے ہوگے

تو آپ کو دو بیلٹ تو لگے گے کیونکہ وہ ایک ہاتھ میں لپٹتے لپیٹتے مارے گے اور دوسرہ لپیٹنے کے

بعد اور جب وہ بیلٹ ہاتھ میں لپیٹ لے گے تو میں ایک دم۔واپس۔گاڑی میں آکر بیٹھ جاؤ گی

کیونکہ اگر ایک دفعہ ہاتھ میں بیلٹ لپیٹ لیا جائے تو وہ جب تک نہیں کھولتا جب تک مارنے

والا تھک نہ جائے اور جو بیچارہ بیچ میں آتا ھے وہ بھی مار کھاتا ھے مار نمبر تین اگر آپ کی مما

نے آپ کو اپنی چپل سے مارا تو دیکھےمیں نہیں چاہتی ہوں کہ میں ماں اور بیٹے کے بیچ میں او

اس لئے معازرت میں اتنی بتمیز لڑکی نہیں ہوں جو ایک ماں کو اس کے بچے کو مارنے کا حق

چھین لو اس لئے اس چیز کی مجھ سے امید نہ رکھنا اور سزا نمبر چار اگر وہ آپ کو ہاتھ سے

مار رہے ہوگے تو کم از کم آپ کو چار تھپڑ لگنے دو گی اس کے بعد ایک اچھی بیوی ہونے کے ناطے

میں بیچ بچاؤ کر ہی لو گی یار زر تم اپنے ایک لوتے شوہر کو بلکل نہیں بچاؤ گی کتنی ظالم ہوں

تم زرہ شرم نہیں آرہی ھے مار کھانے کی اقسام بتا رہی ہوں اگر بتانا ہی ھے تو ان سے بچنے کے

طریقے بتاؤ یار وہ تو نہیں پتا کیونکہ جب اولاد ماں باپ کے شکنجے میں آتے ھے تو وہ ادھ مرا کر

کے ہی چھوڑتے ھے وہ دونوں اپارٹمنٹ سے نکل کر صدیقی ہاؤس کی طرف ہی روانہ تھے زین

ویسے تو بہت بہادر تھا لیکن اپنی ماں کے سامنے اس کی ہوا ٹائیٹ ہو جاتی تھی ابھی بھی اس کے

ہاتھ باقاعدہ کانپ رہے تھے اس لئے ڈرائیورنگ بھی زرنش کررہی تھی یار زر اگر مما آور بابا

زیادہ مار لگانے لگ جائے تو بچالینا ہاں ہاں دیکھا جائے گا اس نے لاپرواہ انداز میں کہاں تو

اس نے ائی برو اٹھائی ویسے ایک مشورہ بیوی آپ کے لئے بھی ھے اور وہ کیا مشورہ ھے میاں اس

نے مزہ لیتے ہوئے کہاں وہاں دیکھو پلیز تم بھی ایک اچھی بہوں ثابت ہونا وہ دونوں بہت ظالم

ھے تمھیں جلادے گے یاد رکھنا کچن میں جاؤ گی پیچھے سے تمھارا ڈوپٹہ پکڑ کر جلادے گے یار آپ

بتمیزی نہیں کرے اور ویسے بھی جو ہوگا دیکھا جائے گا اگر اتنے ہی ظالم ہوتے ھے نہ آپ کے مما

بابا تو غازی ہمیں نہیں بولتا کے تم لوگ گھر جاؤ وہ تو خود بھی ظالم۔ھے تمھاری سوچ ھے سب

کچھ خود پلین کیا تھا ابھی ایان کی کال آئی تھی بتارہا تھا داؤد نے روحہ سے نکاح کرلیا ھے

اور یہ اب باتیں بھائی صاحب کے علم میں پہلے سے ہی تھی لیکن بیچارے کو ایک رکھ کر چپیڑ

مارا ھے اور ہانم بھابھی کو بھی ابھی کمرے میں بند رکھا ھے تھوڑی دیر بعد ان کی بھی کلاس

لگائے گا یار وہ بہت معصوم ھے بیچارہ اور واقع اگر دیکھا جائے تو وہ اس کے مقابل جلاد ہی ھے

ویسے زین آپ سے ایک بات پوچھوں ہمم پوچھوں یار وہ اپارٹمنٹ تھا کس کا اس نے تھوڑا

سوچتے ہوئے پوچھا وہ غازی بھائی کا تھا جبھی تو اتنے دھڑلے سے مجھے وہ خالی کرنے کا بول

دیا اور تو اور بہن کا نکاح تھا آج اس میں بھی شامل نہیں ہونے دیا ظالم انسان زرنش نے اس کے

بولنے پر ایک زور دار قہقہہ لگایا تم اپنے میاں پر ہنس رہی ہوں گستاخ لڑکی تمھیں سزا ملے گی

اپنے شوہر نامدار سے بتمیزی کرنے کی زین نے اپنے لحجہ۔کو روعب دار بنانے کی ناکام سی کوشش

کریں جس پر بے ساختہ زرنش نے قہقہہ لگایا آپ بہت کیوٹ ھے وہ ہنستے ہوئے بولی آئی نو میں

پیدا ہی کیوٹ ہوا تھا تمھیں پتہ ھے زر جب میں پیدا ہوا تھا نہ تو ڈاکٹر نے بولا تھا مبارک ہوں آپ

کے گھر کیوٹنس کی دکان پیدا ہوئی ھے اور تمھیں پتہ ھے یہ جو غازی بھائی ھے انہوں نے

بھی مجھ سے خریدی تھی تھوڑی سی اس بار دونوں نے ایک ساتھ قہقہہ لگایا تھا اؤر زرنش نے

گاڑی صدیقی صاحب کے ہاؤس کے سامنے ایک جھٹکے سے روکی تھی زین نے ناسمجھی سے

اس کی جانب دیکھا پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو غلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی ۔
جاری ھے ❤️۔