No Download Link
Rate this Novel
Episode 51
مغرور محبت 51
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 51
کیسی ھے اپ روحہ اس نے خوشدلی سے پوچھا میں ٹھیک تو کیسی ھے اس کو تھوڑا عجیب لگا
لیکن داود پہلے ہی بتا چکا تھا اس کے بات کرنے کا انداز اس لئے وہ انگنور کرگئی یہ کون۔ھے
سفیدی کی چمکار روحہ نے مسکراتے ہوئے ہانم کو دیکھتے ہوئے پوچھا اس نے ہلکہ سا قہقہ لگایا
یہ بھابھی ھے میری جو میری بہن بھی ھے وہ ہانم کو دیکھتے ہوئے مسکراتے لحجہ
میں بولا تو ہانم بھی اس کی جانب دیکھ کر مسکرائی اچھا لیکن۔ اپن۔تو اس کو سفیدی کی۔
چمکار بولے گی کتنی۔خوبصورت ھے یہ وہ خود کی تعریف سن کر سرخ سی ہونے لگی تھی
ارے یہ تو داود بلش کررہی ھے ابے اپن تو لڑکی ھے وہ دونوں ہانم کو بلش کرتا دیکھ قہقہ لگا کر
ہنسے تھے فوزیہ بیگم اور صدیقی صاحب داؤد کے ساتھ ائے لوگوں کو اندر مہمان خانہ۔میں
بیٹھا رہے تھے فوزیہ بیگم باہر ائی تو اس کو اتنے ہنس ہنس کر بات کرتے دیکھ اپنا ماتھا پیٹا اور
اس کے قریب جاکر سرگوشی میں دبہ دبی سا چلائی روحہ اندر جاو یہ کیا کررہی ہوں تم
صوفیہ۔اس کو اندر لے کر جاو صوفیہ اس کی کزن تھی ارے
ماتاری کیا ھے اپن بات کررہی ھے ابھی اس سے ہانم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی ابھی کرلینا
اوپر جاو وہ۔دبہ دبہ سا غرائی تو وہ منہ۔بناتی ہوئی اپنی۔کزن۔کے ساتھ اوپر چلی گئی انٹی میں
بھی چلی جاو ان۔کے ساتھ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا جی ضرور یہ کون۔ھے بیٹا اپ کی انہوں
نے مسکراتے ہوئے داود سے پوچھا یہ میری چھوٹی بہن اور میرے بڑے بھائی کی بیوی ھے
میرے ان سے دو رشتے ھے ایک۔یہ۔میری بہن۔بھی ھے اور۔دوسری میری بھابھی بھی ھے ان کو بے
ساختہ پیار ایا تھا ہانم پر یہ سن کر یہ غازیان کی بیوی ھے انہوں نے اس کے ماتھے پر لب رکھے
تھے انکھیں ایک دم نم ہونے لگی تھی جس کو وہ۔سرعت سے صاف کرگئی تھی داؤد کی نظروں
میں انے سے پہلے یہاں سے چلی جاو بیٹا پہلا ہی کمرے میں روحہ ہوگی جی انٹی۔داود بھائی میں
جاو ہانم نے داؤد سے اجازت لینا ضروری سمجھا جی بھابھی جائے اور خیال رکھئے گا اپنا جی
بھائی وہ بول کر اوپر کی طرف گئی او بیٹا تم بھی ڈرائینگ روم میں آجاؤ وہ اس کے کندھے پر
پیار بھری تھپکی دے کر بولی تو وہ بھی مسکراتا ہوا ان کے پیچھے ڈرائینگ روم۔میں داخل ہوا
جہاں صدیقی صاحب مولوی صاحب سے نکاح نامہ فیل کروارہے تھے وہ کمرے میں داخل ہوا تو
صدیقی صاحب کھڑے ہوکر اس کو اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھایا اور تھوڑی بات چیت کرنے لگے
داؤد نے تھوڑی دیر میں ان سے جلدی جانے کا مطلبہ کردیا جس کی وجہ سے وہ فوزیہ بیگم کو
اشارہ کیا تاکہ وہ روحہ کو ایک دفعہ بتادے کے نکاح کے لئے وہ لوگ آرہے ھے ۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ غصہ میں اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کررہی تھی اس کی دو تین کزن اس
کے غصہ کرنے پر ہنس رہی تھی کیونکہ نہ وہ۔کسی کو کرنے دے رہی تھی نہ وہ خود کرپا رہی
تھی ہانم تھوڑی دیر تک تو اس کو دروازے کے قریب کھڑی ڈوپٹہ کے ساتھ جھنجلاتی دیکھتی
رہی پھر ہمت کرکے بولی روحہ میں کردو اپ کا ڈوپٹہ ٹھیک ہانم۔نے جب اس کو زیادہ جھنجلاتے
دیکھا تو اپنائیت سے بولی وہ اس کی آواز سن کر غصہ سے موڑی لیکن اس کی معصوم سی صورت
اور اپنائیت بھرا لحجہ دیکھ غصہ جھاگ کی مانند بیٹھا یار تو کیسے کرے گی تیرے کو آتا ھے
کرنا جی میں کردیتی ہوں میری مما نے سیکھایا تھا وہ بول کر اس کے قریب بڑھی اور ڈوپٹہ
ٹھیک کرنے لگی روحہ آپ ایک ہی بہن ھے وہ ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے بولی نہیں اپن کا ایک
بھائی ھے لیکن ابھی ماتاری اور باپو زرہ اس سے ناراض ھے تو آتا جاتا نہیں ھے او اچھا کوئی بات
نہیں انشاللہ جلدی مان جائے گے وہ دوپٹہ ٹھیک کر کے سامنے سے دیکھتی ہوئی بولی اور تیرے
گھر میں کون ھے میری مما بابا اور ایک چھوٹی بہن ھے ارے واہ یار تیری بہن بھی ھے اپن کی
کوئی بہن نہیں ھے اس نے اداسی سے کہاں کیوں ایسا بولتی ھے ہم بھی تو ایک ساتھ ایک ہی گھر
میں رہے گے تو بلکل بہنوں کی طرح رہے گے وہ اس کے گرد حصار باندھتے ہوئے بولی تو وہ
مسکرا کر اس کے گرد حصار باندھ گئی دروازہ نوک کرکے فوزیہ بیگم اندر آئی ان کو ایسا دیکھ
مسکرا کر بولی ابھی اتنی محبت ھے بعد میں بھی ایسا ہی رہنا کہ بعد میں ایک دوسرے کے بال
نوچ رہی ہوں دیورانی جھٹانی بن کر تو دونوں نے قہقہ لگایا نہیں نہیں آنٹی ایسا کبھی نہیں
ہوگا ہانم روحہ کی جانب دیکھ مسکرا کر بولی تو اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا اچھا میں بھول
گئی وہ نکاح کے لئے مولوی صاحب آرہے ھے تم زرہ گھوگھٹ نکال کر بیٹھ جاؤ ماتاری باپو کہاں
ھے روحہ نے بے ساختہ پوچھا وہ نیچے داؤد کے ساتھ ھے ابھی نکاح کے ٹائم آئے گے ہمم اس کی
آنکھیں بھرنے لگی تھی وہ میرر میں اپنا سراپہ دیکھ کر چہرے پر گھوگھٹ نکال کر بیٹھ گئی
وہ اپنے آنسوں آج بھی کسی کو نہیں دیکھانا چاہتی تھی لیکن فوزیہ بیگم ماں تھی وہ اس کی
کیفیت سمجھ رہی تھی کیونکہ وہ خود بھی ایک عورت تھی وہ جانتی تھی کہ یہ وقت ہر لڑکی
کے لئے کیسا ہوتا ھے وہ اس کے قریب ہوئی اور اس کے سر پر اپنے لب رکھے اور آپ اپنے آنسو
صاف کرتے ہوئے نیچے ان لوگوں کو بتانے گئی آج ان کو زین بہت یاد آرہا تھا تھوڑی دیر میں مولوی
صاحب فاروق صدیقی صاحب اور کچھ لوگ ساتھ آئے تھے مولوی صاحب نے اجازت مانگی اور
نکاح شروع کیا ۔۔روحہ فاروق صدیقی آپ کا نکاح داؤد درانی والد رحمان درانی سے کیا جاتا ھے کیا
آپ کو یہ نکاح قبول ھے وہ قبول ھے بولنا چاہتی تھی لیکن آنسو تھے کہ تھم نہیں رہے تھے حلق
سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی فاروق صدیقی گیٹ کے پاس آنکھوں میں آنسوں لئے بس
اپنی بیٹی کی طرف دیکھ رہے تھے مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا روحہ فاروق
صدیقی آپکا نکاح داؤد درانی والد رحمان درانی سے کیا جاتا ھے کیا اپ کو یہ نکاح قبول ھے
فوزیہ بیگم نے اس کا کندھا ہلایا تو اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا بابا ۔۔۔۔بابا فوزیہ بیگم نے گیٹ
کے پاس کھڑے صدیقی صاحب کو دیکھا جن کا بس نہیں چل رہا تھا وہ کسی کے گلے لگ کر بے
تحاشا روئے وہ ایک بار پھر نم آواز میں بولی بابا کہاں ھے صدیقی صاحب نے خود کو کمپوز کیا
اور اس کے قریب ہوکر اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیا ہوا میرا بچہ مولوی صاحب کو جواب دو
آنسوں کی وجہ سے آواز بھاری ہورہی تھی ہانم تو باقاعدہ آنسوں سے رورہی تھی یہ سین دیکھ کر
مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا روحہ فاروق صدیقی آپکا نکاح داؤد درانی والد رحمان درانی
سے کیا جاتا ھے کی آپ کو یہ نکاح قبول ھے اس نے مظبوطی سے صدیقی صاحب کا ہاتھ تھاما اور
مظبوط اواز میں بولی قبول ھے قبول ھے قبول ھے صدیقی صاحب نے جھک کر اس کے سر پر
اپنے لب رکھے اور نکاح نامے پر اس کا سائین لئے اور نیچے کی طرف بڑھے ہانم کونے میں کھڑی آب
بھی رورہی تھی فوزیہ بیگم کی نظر روتی ہوئی ہانم پر اٹھی تو پریشان سی ہوکر اس کے قریب
ہوئی کیا ہوا بیٹا آپ کیوں رورہی ھوں مجھ۔۔۔مجھے اپنے مما بابا یاد آرہے ھے آنٹی وہ ہوتے
میرے نکاح پر تو ایسے ہی روتے لڑکیوں کو کیوں اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑتا ھے وہ کیوں چھوڑتی
ھے اپنے مما بابا کو ۔وہ اور مزید شدت سے روئی انہوں نے اس کی بات سن کر ماتھا پیٹا میرا بچہ
ایسا وقت تو سب لڑکیوں پر آتا ھے نہ میری جان ایسے تھوڑی روتے ھے وہ بول کر اس کو اپنے
سینے سے لگایا ہانم کے رونے کی آواز سن کر روحہ نے اپنا گھونگھنٹ اٹھا کر اس کو دیکھا جو
فوزیہ بیگم کے سینے سے لگی رورہی تھی اس کو غازیان کے آواز کان میں گونجے ہانم کا خیال
رکھنا وہ بہت حساس ھے وہ سرعت سے خود کو کمپوز کر کے کے اٹھی اور اس کے قریب گئی
آرے اپن کا نکاح تھا تو کائے کو رورہی ھے اپن تو ٹھیک ھے دیکھ یار اس نے ہانم کے کندھے پر ہاتھ
رکھتے ہوئے کہاں تو اس نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ابے تو تو بلکل لالا ہوگئی ھے
تیرے تو گال بھی لال ہوگئے ھے جیسے بندر کے نہیں ہوجاتے وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے
مسکرائی میری انو بھی ایسے ہی کہتی تھی تو اس نے سن کر قہقہ لگایا نیچے سے مبارک باد کی
آواز آرہی تھی لگتا ھے نیچے نکاح ہوگیا ھے ہانم بیٹے آپ نیچے چلے گی جی آنٹی میں داؤد بھائی
کو مبارکباد دو گی اچھا بیٹا آجاؤ اور تم اپنا تھوڑا میک اپ ٹھیک کرلو وہ روحہ کو بول کر
ہانم کے ساتھ نیچے کی طرف بڑھی وہ لوگ ڈرائینگ روم۔میں داخل ہوئے تو داؤد کو سںب
میٹھائی کھلا رہے تھے داؤد نے ہانم کو دیکھا تو میٹھائی لے کر اس کی جانب بڑھا یہ میٹھائی
کھائے آپ کے بھائی کا نکاح ہوگیا ھے اس نے میٹھائی اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہاں آپ کو
بھی بہت بہت مبارک ہوں بھائی اس نے تھوڑی سی کھ کر داؤد کو بھی کھلائی بھابھی آپ
روئی کیوں ھے داؤد نے ماتھے ہر ڈالے پوچھا آپکی بھابھی بیٹے جی اوپر ایموشنل ہوگئی تھی فوزیہ
بیگم ان دونوں کے پاس اتے ہوئے بولی کس چیز پر اس نے نا سمجھی سے پوچھا وہ یہ نکاح ہوتے
دیکھ ایموشنل ہوگئی تھی او۔۔ہوں بھابھی آپ بھی نہ آپ کو نہیں پتہ آنٹی ہماری بھابھی بہت
حساس ھے ہر چھوٹی بات پر اپنی ان معصوم آنکھوں کو زحمت دیتی ھے تو دونوں ایک ساتھ
ہنسی ان کو ہنستا دیکھ صدیقی صاحب بھی ان کے جانب آئے بہئ کس بات پر ہنسا جارہا ھے
ہمارے داماد کے ساتھ کچھ نہیں بس ایسے ہی ہنس رہے تھے داؤد فاروق صاحب کو دیکھ ان کی
جانب متوجہ ہوا انکل اب آپکی اجازت ہوں تو ہم۔چلے ایکچلی میرا بھائی ہسپتال میں اڈمیٹ ھے اب
تھوڑی دیر میں گھر پہنچنے والا ہوگا او اب کیسی طبعیت ھے اسکی جی اب بہتر ھے اب
چھٹی بھی ہونے والی ہوگی چلے بیٹا جی جیسا اپکو مناسب لگے آپ اپنا خیال رکھیے گا آنکل اور
آنٹی بہت جلد میں آؤ گا اپنی آمانت کو لینے اس نے مسکراتے ہوئے کہاں کیوں نہیں جب
دل چاہے آپ آسکتے ھے اپنی آمانت کو لینے انہوں نے بھی خوشدلی سے کہاں ہانم فوزیہ بیگم سے
گلے ملی اور داؤد فاروق صدیقی صاحب سے مل کر ۔خدا حافظ کرکے مینشن کی جانب نکل گئے ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
میمونہ بیگم اندر مینشن میں آئی تو غازیان سر پیچھے کو گیرائے لاونج کے صوفے پر آنکھیں
موندے بیٹھا ہوا تھا وہ اس کے قریب گئی اور اس کے بالوں پر اپنی انگلیاں چلائی ان کا لمس
محسوس کرکے اس نے اپنی آنکھیں کھولی کیا ہوا غازی اتنا پریشان کیوں لگ رہے ہوں نہیں
کچھ نہیں پریشان نہیں ہوں زوئی کو بلانے آئی ھے ہاں کافی دیر ہوگئی تھی صبح سے اس نے
کچھ کھایا نہیں ھے تو سوچا بولالو تھوڑا کھالے گی اچھا اوپر ایان کے روم۔میں ھے غازی
کچھ ہوا ھے نہ تمھارے چہرے سے محسوس ہورہا ھے تم پریشان ہوں نہیں میمو جان میں
پریشان نہیں ہوں اس نے اپنی نگاہ نیچے کرکے کہاں غازی ماں ہوں میں تمھاری بتاؤ کیا بات ھے
اس نے میمونہ بیگم کے چہرے کی جانب دیکھا جہاں صرف اس کے لئے فکر ہی فکر تھی اس نے
اپنی نگاہ واپس نیچے کی وہ یہی سمجھ گئی تھی کہ وہ بتانا نہیں چاہتا اس لئے انہوں نے مزید
کھریدا نہیں اچھا چلو چھوڑو یہ بتاو ہانم اور داود کہی گئے ھے میں نے دیکھا تھا کہی جارہے
تھے وہ دونوں ہاں لیکن اگر میں نے آپ کو بتادیا تو بہت تکلیف ہوگی بلکل میری طرح غازیان کا
لحجہ بہت دکھی تھا اس کو بہت دکھ ہورہا تھا پتہ نہیں کیوں لیکن اس کو ایک امید تھی کہ دونوں میں سے کوئی ایک
ضرور شئیر کرے گا خاص کر ہانم ایسا کیا ھے جس کو جان کر مجھے تکلیف ہوگی انہوں نے
تھوڑا تفتیش سے پوچھا آپکے بڑے بیٹے نے بھی وہی حرکت کی تھی اور دوسرے نے بھی وہی حرکت کردی ھے
اس لئے میمو جان میرے میں ہمت نہیں ںے آپ سے بولنے کی غازیان کا لب و لحجہ بہت اداس
تھا آج میمونہ بیگم کو وہ ایسا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا غازی پلیز ایسے بات مت کرو مجھے
نہیں اچھا لگ رہا ھے تمھارا ایسا لب ولہجہ میری جان تمھاری میمو جان ہمیشہ تمھیں ہارا ہوا نہیں
مظبوط دیکھنا چاہتی ھے داؤد کیا نکاح کرنے گیا ھے انہوں نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا ہاں اس نے
ٹوٹے ہوئے لحجہ میں کہا۔ مجھے کہی حد تک تو اندازہ ہوگیا تھا وہ کہاں گئے ھے مطلب
اپکو کیسے پتہ اس نے بے حد دھیمی آواز میں بولا دیکھا تھا میں نے اس کو اور تمھاری بیوی کو
تیار ہوکر جاتے غازی دکھ اس بات کا نہیں ھے کہ وہ نکاح کرنے گیا ھے دکھ اس بات کا ھے اس نے بتانا
تک گوارہ نہیں کیا ہانم نے تم سے یہ بات شئیر کی تھی انہیں ہانم کا خیال آتے ہی پوچھا
جھوٹ بول کر گئی ھے وہ مجھ سے اس کے لئیے میں ابھی تک کوئی معنی نہیں رکھتا مانتا ہوں
کہ زبردستی نکاح کیا تھا میں نے اس سے لیکن میمو جان آپکا غازی محبت کرتا ھے اس سے میں
نے ولیمہ والی رات ہی سب کچھ بتادیا تھا اس کو لیکن کیا کرا اس نہ اگر اس گھر میں رشتہ بنائے
بھی ھے تو وہ ایان اور داؤد سے بنائے ھے اگر وہ کسی کو اس گھر میں چاہتی ھے تو وہ ان دونوں
کو ہی چاہتی ھے لیکن میمو جان بیوی وہ میری ھے اور اس کا ہر رشتہ میری وجہ سے بنا ھے اگر
میں یہ رشتے بنا سکتا ہوں تو پھر ختم بھی کرسکتا ہوں غازی ایسا نہ بولو اس میں عقل نہیں
ھے بہت صاف دل اور نرم دل کی مالک ھے اس کو پیار سے سمجھانا کے اگلی بار تم سے جھوٹ
نہ بول کر جائے انہوں اس کو سمجھاتے ہوئے بولا میمو جان پتہ نہیں کیوں یار لیکن آپکے غازی کو
اج زندگی میں دوسری بار بہت دکھ ہورہا ھے ایک دفعہ جب ہوا تھا جب مجھے پتہ چلا تھا کہ
میرا باپ ایک قاتل ھے اس نے میری دادا دادی اور میری ماں کو مارا تھا وہ ہیرو تھے میرے
لیکن وہ بھی جھوٹ بولتے تھے غازیان شاید آج زندگی میں پہلی بار یہ بات بول رہا تھا اور آج
دوسری بار آپ کے غازی کو دکھ ہوا ھے جب میری بیوی مجھے جھوٹ بول کر گئی ھے میمو
جان میں اپنے باپ کا تو کچھ بگاڑ نہیں سکا تھا لیکن ہانم کو میں نہیں چھوڑو گا اس کے ساتھ
تو میں وہ کرو گا زندگی میں دوبارہ کبھی جھوٹ بولتے ہوئے دس بار سوچے گی اس نے
کسی غیر مرئی نقتے کو گھورتے ہوئے غصہ سے کہاں غازی تھوڑا دماغ سے کام لو وہ کہی اور
نہیں گئی یہ کسی اور کے ساتھ نہیں گئی ھے مجھے اس بات کا بلکل فرق نہیں پڑرہا ھے کہ وہ کس کے
ساتھ اور کہاں گئی ھے مجھے افسوس ھے تو صرف اس بات کا کہ اس نے مجھ سے جھوٹ بولا
ھے ریلکس ہوجاو اور یہ بتاو اس لڑکی کا کیا کرنا انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا وہ
لڑکی کوئی اور نہیں اپنی گڑیا ہی ھے ہمم جانتی ہوں اگر وہ کوئی اور ہوتی تو تم اب تک داود کو
زندہ زمین میں گاڑ چکے ہوتے انہوں نے اطمینان سے کہاں یار میمو جان سب کیسے معلوم ہوجاتا
ھے آپ کو غازیان نے ان کی جانب دیکھ کر بے یقینی سے کہاں ماں ہوں میں تمھاری تم سب
میرے باپ نہیں ہوں اور ان سب کے بہت پر پرزے نکل گئے ھے غازیان ان سب سے ایک ملاقات جم
میں کرنی پڑے گی صحیح کہاں آپ نے اور اس ہانم سے کمرے میں ایک ملاقات ضرور کرنی پڑے
گی یہ نہیں بچے گی ہر۔بار اس کے آنسوں سے پگل جاتا ہوں لیکن اس بار نہیں میمو جان لیکن
غازی تھوڑا ہلکہ ہاتھ رکھنا بہت معصوم ھے وہ بلکل کسی چھوٹے بچے جیسا دل ھے تھوڑی سی
تیز آواز پر سہم جاتی ھے نہیں میمو جان پلیز آج کوئی نہیں آئے گا بیچ میں اس نے منت
کرتے ہوئے کہاں تو وہ خاموش ہوگئی پھر تھوڑی دیر بات بعد وہ بولا میمو جان ابھی ہی جائے گے
گڑیا کو رخصت کرنے ٹھیک ھے ایک بات بتاو غازی جی بولے داؤد جانتا ھے وہ گڑیا ھے انہوں
نے کسی خدشے کے تحت پوچھا نہیں اس کو نہیں پتہ ھے اور آپ بھی ایسا ہی شو کرنا کہ وہ
کوئی اور لڑکی ھے اس کو ابھی نہیں بتانا ھے کہ وہ گڑیا ھے تھوڑے وقت بعد میں خود بتادو گا
ہمم ٹھیک ھے جیسا تمھیں مناسب لگے میری جان کب تک پہنچے گے یہ لوگ میسیج آئے ھے
گڑیا کا بتا رہی ھے نکل گئے ھے وہاں سے پہنچنے والے ہوگے ۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ دونوں ہنستے مسکراتے مینشن۔میں داخل ہوئے سامنے ہی پیچھے پشت پر ہاتھ باندھے غازیان
درانی انہیں کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا ساتھ میمو نہ بیگم بھی تھی اور زویا بھی غازیان کے
پیچھے کھڑی ہوئی تھی ہانم کا سانس روکا تھا غازیان کے تنے عصاب دیکھ کر داؤد کی غلٹی
ابھر کر معدوم ہوئی غازیان اپنی شہانہ چال چلتا ہوا اس کے مد مقابل آیا اور اپنی گرجدار
آواز میں داؤد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا کہاں سے آرہے ہوں تم دونوں اس کا
پوچھنے کا انداز ہی ایسا تھا داؤد کے ماتھے پر ننھے پسینے کے قطرے جگمگانے لگے وہ ۔۔۔ہم
بھابھی کی دوست کے گھر سے آرہے ھے بتایا تو تھا اس۔ نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہاں ہمم
صحیح میمو جان یہ لوگ فائزہ کے گھر سے آرہے ھے دیکھ رہی ھے آپ غازیان نے ساتھ کھڑی
میمونہ بیگم کو مخاطب کرکے کہاں ہمم غازی دیکھ رہی ہوں اور تم جب تک میں نہ بولو
تمھاری آواز میرے کانوں میں نہ آئے وہ داؤد سے بول کر ہانم سے مخاطب ہوا ہاں بہی کہاں سے
آرہی ہوں اور اب میں بلکل سچ سننا چاہو گا چلو یہ بتاؤ ابھی سچ بولو گی یہ جھوٹ سچ ب۔۔بولو
گی ہمم تو پھر یہ بتاؤ داؤد ٹھیک بول رہا ھے ہانم نے ڈر کر پہلے نفی میں سر ہلایا غازیان نے
ایک آئی برو اچکائی اس نے فورآ اثبات میں سر ہلایا میمونہ بیگم نے دیکھ کر ہنکار بھرا اس نے
تاسف سے سر جھٹکا ہمم تو داؤد تم واقع فائزہ کے گھر سے آرہے ہوں ج۔۔جی بھائی وہی سے آرہے
ھے چٹاخ اس زناٹے دار تھپڑ کی آواز پورے لاونج میں گونجی تھی کسی کو بھی امید نہیں
تھی ہانم خوف کے باعث ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئی زویا نے شوکڈ کی کیفیت میں منہ پر ہاتھ
رکھا اور میمونہ بیگم نے کوئی ریکشن نہیں دیا تھا ایسا لگتا تھا کہ وہ پہلے سے جانتی ہوں اس
تھپڑ کا تھپڑ بہت شدت سے مارا گیا تھا اس کا پورا منہ گھوم گیا تھا چہرہ اہانت کے احساس سے لال سرخ ہوگیا تھا مسلسل جھوٹ بول رہے
شرم نہیں آرہی ھے تمھیں وہ غصہ کی زیادتی سے ڈھاڑا یہ سیکھایا تھا میں نے تمھیں اب عزت
سے بتاؤ کہاں سے آرہے ہوں تم دونوں اس نے اپنی سرد اور گرجدار آواز میں پوچھا داؤد نے تو
جیسے اپنے لب سی لئے تھے اور ہانم نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں تک میچ لی تھی ایان کو شور
کی آواز آئی تو وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر کر آیا تو سامنے کی انٹرس پر غازیان سخت غصہ میں
لگ رہا تھا بتاؤ ورنہ داؤد مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا میں تمھیں لاسٹ ٹائم وارن کرہا ہوں بولو وہ
ایک بار پھر پوری قوت سے ڈھاڑا بھائی میں وہ ن۔۔نکاح کرنے گیا تھا اس نے اپنی نگاہیں جھکا
کر کہاں ہانم کی تو ڈر کے مارے ہچکیاں بندھ گئی تھی وہ ایک دم سہم گئی تھی اس کو پہلے
دن والا غازیان اور اس کا تھپڑ یاد آرہا تھا غازیان نے افسوس سے اسکا چہرہ دیکھا تھا بہت
اچھے داؤد درانی بہت اچھے میمونہ بیگم نے تالی بجا کر کہاں فخر محسوس ہورہا ھے مجھے تم پر
آج اس کے سامنے آئی اگر نکاح کرنے جارہے تھے تو ڈنکے کی چوٹ پر جاتے ایسے چھپ کر اپنی
بھابھی کے ساتھ جانے کی کیا ضرورت تھی اور تم ہانم انہوں نے کڑے تیورو سے روتی بسورتی
ہانم کو آڑے ہاتھوں لیا شرم نہیں آئی تمھیں اپنے شوہر کو جھوٹ بول کر جاتی ھوں اس نے
شرمندگی محسوس کرتے ہوئے سر جھکایا میمو جان ایک سیکنڈ زرہ ان میڈم سے تو میں
پوچھ لو بہی ہاں پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کیا بول کرگئی تھی غازیان نے داؤد پر سے نگاہ ہٹا کر
ہانم کی طرف مرکوز کی میں وہ نہ وہ بات بنانے کی کوشش کرنے لگی تم مجھ سے جھوٹ بول کر کیسے گئی تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے سامنے
جھوٹ بولنے کی غازیان کی آواز میں ایک ایسا روب تھا بیچارے ایان نے کچھ نہیں کیا تھا وہ
تک کانپ گیا تھا وہ تو پھر ایک معصوم اور چھوٹا دل رکھنے والی لڑکی تھی وہ کیسا نہ
ڈرتی تمھاری وہ اس کے قریب بڑھنے لگا تو ایان اور داؤد دونوں سرعت سے اس کے سامنے آئے
بھائی پلیز اس میں بھابھی کا کوئی قصور نہیں ھے اللّٰہ کی قسم۔ان۔کو یہ سب کرنے کے لئے میں
نے کہاں تھا اس لئے جو بھی سزا ھے جو بھی مار ھے جو بھی ڈانٹ ھے وہ میرے لئے بھابھی کے
لئے کچھ نہیں ھے وہ بے قصور ھے انہوں نے قسم سے کچھ نہیں کیا آپ کو جو سزا دینی ھے مجھے
دے میں نے کہاں تھا ان کو ایسا کرنے کا داؤد نے نگاہ نیچے کرکے کہاں غازیان بھائی پلیز اس بار
بھابھی کو چھوڑ دے نیکسٹ ٹائم۔میں گیرانٹی لیتا ہوں ایسا کبھی نہیں ہوگا اس۔ نے آیان اور
داؤد کو ایک نظر دیکھا اور پوری قوت سے دھاڑا تم دونوں عزت کے ساتھ سامنے سے ہٹو ورنہ
مجھ سے برا اس وقت کوئی نہیں ہوگا یہ میرا اور میری بیوی کا معملہ ھے ہانم کی تو سانس
ہی روک گئی تھی غازیان کو اتنا غصہ میں دیکھ وہ خوف سے باقاعدہ کپکپارہی تھی بھائ پلیز
ایان نے منت کرنے والے انداز ۔میں کہاں ایان تو بیمار ھے لیکن اگر تم دونوں سامنے سے نہیں ہٹے
آئی سیور میں تیرا بھی اس وقت لحاظ نہیں کرو گا اس لئے بہت نرمی بول رہا ہوں سامنے سے ہٹو
غازی جی آئیندہ نہیں ہوگا ہانم کی روتی ہوئی آواز ان دونوں کے پیچھے سے آئی غازیان نے اپنے
لب بھینچے تھے اس کے آنسوں کو محسوس کرکے میمو جان کی نظر ہانم پر پڑی تو ان کو ایک دم
احساسِ ہؤا غازیان بہت زیادہ ہیپر ہورہا ںے انہوں نے قریب ہوکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور
آنکھ کے اشارے سے اس کو تھوڑا ٹھنڈے ہونے کا کہاں اور خود داؤد کی طرف متوجہ ہوئی کہاں
ھے تمھاری بیوی اس وقت انہوں نے بلکل سپاٹ انداز میں پوچھا اپنے گھر پر ھے وہ صرف ابھی
نکاح کیا ھے تم نہیں جانتے نکاح کے بعد رخصتی ہوتی ھے جو تم اپنی نام نہاد بھابھی کے ساتھ
گئے تھے نکاح کرنے بیوی کو وہی چھوڑ آئے وہ دونوں تقریباً ایک ساتھ بولے تھے میمو جان آپ
بھابھی کو ایسے نہیں بول سکتی ہاں میں تو کچھ بول ہی نہیں سکتی ہوں بہت پر پرزے نکل
گئے ھے نہ تم سب کے تم سب سے تو میں اکیلے میں نیپٹو گی غازیان ابھی بھی غصہ میں داود
ایان کے پیچھے چھپی ہانم کو اپنی گرین آنکھیں جو اس وقت غصہ کی زیادتی سے سرخ ہورہی
تھی اس سے گھور رہا تھا ابھی رخصتی ہوگی اس لڑکی سے تمھاری جس سے تم نکاح کرکے آئے
ہوں غازیان نے حکیمیہ لحجہ میں کہاں داؤد نے پریشان سی نگاہ سے اس کی جانب دیکھا لیکن
بھائی رخصتی ابھی کیسے داؤد درانی یہ حکم ھے تمھارے لئے ہم آبھی جائے گے اور اس گھر کی
بہو کو لیکر آئے گے اور تم بول کر وہ گرجدار آواز سے ہانم سے مخاطب ہوا جو اس کی آواز سے ہی
پوری کانپ گئی تھی اوپر کمرے میں دفعہ ہوجاو تمھیں تو میں رات کو بتاؤ گا سارے پر کاٹو گا
تمھارے جو نکل آئے ھے جاؤ اوپر وہ ایک بار پھر دھاڑا تو وہ ان دونوں کے پیچھے سے نکل کر اوپر
روم کی طرف روتے ہوئے بھاگی غازی گاڑیاں تیار کرواؤ ابھی جائے گے اس لڑکی کو اس گھر میں
لانے وہ بول کر آپنے گھر کی طرف بڑھی غازیان نے ایک غصہ بھری نگاہ داؤد کے وجود پر ڈالی
اور میمو جان کے پیچھے گیا ان کے نکلتے ہی داؤد اور ایان۔نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور
بے ساختہ نگاہ اوپر والے پورشن پر اٹھی میں جاؤ کیا ہھابھی کے پاس زویا نے دونوں کو اوپر
کی جانب دیکھتے ہوئے کہاں کوئی فائیدہ نہیں ہوگا مجھے اچھے سے اندازہ ھے انہوں نے گیٹ بند
کیا ہوگا اور وہ لوک ہوگیا ہوگا غازی بھائی کا روم ھے اور بھابھی پر ابھی وہ بہت غصہ ھے تو
چانس ہی نہیں بنتا کے گیٹ ان لوک ہوگا جب تک وہ نہیں چاہے گے گیٹ نہیں کھولے گا ایان نے
اوپر دیکھتے ہوئے پوری تفصیل اس کے گوش گزاری تو دونوں نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
جاری ھے ❤️
