No Download Link
Rate this Novel
Episode 50
مغرور محبت 50
رائٹر ۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 50
غازی جی ایک بات پوچھوں آپ سے وہ شورما کھاتے ہوئے بولی غازیان نے چائے کا ایک سپ لے
کر گردن اثبات میں ہلائی آپ کیا داؤد بھائی کو
ڈانٹے گے یہ پھر سزا دیگے دونوں کرنے کا ارادہ
رکھتا ہوں اس نے تحمل سے جواب دیا نگاہیں سامنے بیٹھی اس پری پیکر پر تھی جس کو
دیکھ کر وہ گرین مونسٹر اپنا دل ہار بیٹھا تھا لیکن وہ اس کے سامنے کبھی قبول نہیں کرے گا
یہ بھی وہ۔جانتا تھا سن کر اس کی آنکھیں پریشانی کے باعث چھوٹی ہوئی لیکن یہ سب تو
داؤد بھائی نے ایان بھائی کے لئے کیا ھے نہ تو آپ میرے بھائی کو سزا کیوں دے رہے ھے اس نے
شوارما سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہاں یعنی ہانم کے لئے یہ بہت سیریس مسلہ تھا جس کی وجہ سے
اس نے اپنا کھانا سائیڈ پر رکھ دیا تھا آپ داؤد بھائی کو کچھ نہیں بولے گے غازی جی پلیز لیکن
میں ایسا کیوں کرو گا کیونکہ میں بول رہی ہوں تو پھر ایک کام کرتے ھے اگر اتنی ہمدردی اور
سائیڈ لینا آرہی ھے تو اس کی جگہ تم سزا بھگت لینا آپ ایسے کرے گے اس نے نم لحجہ میں کہاں
تو غازیان بے بس ہو نےلگا ہانم تم جانتی ہوں نہ تمھارے داؤد بھائی نے تمھارے ایان بھائی کے
ساتھ کیا حرکت کریں ھے وہ تو انہوں نے ان کی۔محبت جگانے کے لئے کی تھی دیکھیں اگر وہ ایسا
نہیں کرتے تو میمو جان نہیں مانتی اور تو آور ایان بھائی بھی اپنی فیلنگ ایکسیپٹ نہیں
کرپاتے اگر داود ایک بار مجھ سے شئیر کر لیتا تو کچھ چلا نہیں جاتا اس کا غازیان نےغصہ سے
کہاں اگر آپ سے بولتے تو آپ ان کو ڈانٹنے ایسی بات کیوں کررہے ہوں ہانم تم کچھ زیادہ ہی نہیں
بولنے لگی ہوں غازیان نے ائی برو اٹھا کر اس سے بولا تو وہی وہ گڑبڑائی نہ۔۔۔نہیں میں تو اتنا ہی
بولتی تھی پہلے بھی ہمم۔ جلدی ختم کرو پھر اندر چلے گے سردی ہورہی ھے یہاں اس۔نے نگاہ
دوسری طرف کرتے ہوئے کہاں تو پھر آپ داؤد بھائی کو کچھ نہیں بولے گے اس نے اپنا شوارما
ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا پلیز غازی جی میرے لئے آپ سب کو اس دفعہ چھوڑ دے پلیز
اس نے تھوڑی منت کرتے ہوئے کہاں غازیان نے اس کی معصوم سی آنکھوں میں دیکھا تو اس کو اپنا
دل ڈوبتا محسوس ہوا اس نے سرعت سے اپنی نگاہیں ہٹائی ہٹائی نہ غازی جی ہانم نے اپنا ہاتھ
غازیان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہاں تو اس کی نظر مہندی سے سجے ہاتھوں پر گئی اور پھر نگاہ
اس کے کانوں میں پہنے جھمکوں پر اور پھر اس کی معصوم آنکھوں پر ہمم کچھہ نہیں کہوں گا
اس نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہاں تھا تھینک یو غازی جی آپ کو پتہ ھے آپ بہت بہت
ذیادہ اچھے ھے مجھے بھی آپ بہت بہت زیادہ اچھے لگتے ھے اس نے چہک کر کہاں اور اپنا
شوارما کھانے لگی غازیان کے انابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور اس کے معصوم سے چہرے کو اپنی
نگاہوں کے حصار میں لیا ہانم کھاتے کھاتے ایک دم روکی اور اس کی طرف دیکھا غازی جی ایک بات
پوچھوں اس نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے پوچھا ہمم کیا غازیان نے اس سے نگاہ نہیں ہٹائی تھی وہ
ابھی اس کی معصوم سی صورت دیکھنے میں مگن تھا آپ کو ۔۔۔میں ۔۔کیسی لگتی ہوں غازیان
نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا اور تھوڑا روب سے پوچھا ہانم تم سے زرنش کوئی بکواس
کرکے گئی ھے نہیں نہیں انہوں نے تو کچھہ بھی نہیں کہاں وہ تو بہت اچھی ھے اس نے فورا
غازیان کی بات کی نفی کی مبادہ کہی وہ اس کو فون ہی نہ کر دے تو پھر یہ سوال کیوں وہ تو
میں نے ایسے ہی پوچھ لیا آپ نے دیکھا ایان بھائی نے بلکل ناول کے ہیرو کی طرح زویا کو
ایمریس کیا ھے یقیناَ انہوں نے بھی کوئی ناول پڑھا ہوگا اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہاں لیکن
میں ایسا کچھ نہیں کرو گا کیوں آپ کو میں اچھی نہیں لگتی ہانم نے تھوڑا بجھے ہوئے لحجہ
میں کہاں اچھا ایک بات بتاؤ تم میری کون ہوں ہانم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا مطلب
یار تمھارا میرے سے کیا رشتہ ھے اچھا ویسے میں تو آپکی بیوی ہوں اور زویا کون ھے ایان کی
اس نے دلچسپی سے اس سے سوال کیا ابھی تو وہ کوئی بھی نہیں ھے لیکن میمو جان نے کہاں
ھے نہ سادگی سے تھوڑے دن میں نکاح ہوگا تم
صرف ابھی کا۔بتاو ابھی وہ ایان کی کون ھے ابھی تو وہ کچھہ بھی نہیں ھے ان کی بلکل
صحیح ابھی اس کو کسی رشتے سے دیکھا جائے تو وہاں بھی اس کی منگیتر ھے اور تم میری
بیوی اور بیوی پر حق جمایا جاتا ھے اس کو بولا نہیں جاتا کہ تم۔مجے اچھی لگتی ہوں کہ تم سے
مجھے محبت ھے بیوی کو عمل کرکے بتایا جاتا ھے کہ مجھے تم سے کتنی محبت ھے غازیان نے
معنی خیزی سے کہاں تو ہانم سرخ سی پڑنے لگی تھی اس کی بات کا ۔مطلب سمجھ کر غازیان نے
اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھا اور مسکراتے ہوئے نگاہیں نیچے کریں جلدیں کھاؤ ہانم اندر چلے
تمھارے لئے یہ جگہ سیف نہیں ھے اس نے ارد گیرد نگاہ گھماتے ہوئے فکرمند لحجہ میں کہاں و بھی جلدی جلدی اپنا شوارما ختم کرنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
یار زرنش مجھے نہ بہت ڈر لگ رہا ھے کل کا سوچ سوچ کر اس نے اپنی فیلنگ اس سے شئیر کرتے
ہوئے کہا کیوں ڈر کیوں رہے ہوں کچھ نہیں ہوگا آپ کے ماما بابا ہی تو ھے زرہ ڈانٹے گے کچا
تھوڑی چبا جائے گے اس نے اس کی فکر دور کرتے ہوئے کہاں لیکن تم کو نہیں پتہ میری مما کیسی
ھے اس نے موڑ کاٹتے ہوئے کہاں کیا مطلب اس نے اچھنبے سے پوچھا یار مطلب وہ تھوڑی نہیں بلکہ
بہت غصہ والی ھے مجھے تو تمھاری بھی ٹینشن ہورہی ھے میری ٹینشن لیکن میری ٹینشن آپ کو
کیوں ہورہی ھے اور کس چیز کی ہورہی ھے یار تمھیں نہیں پتہ وہ نہ مجھے چھوڑتی ھے نہ
روحہ کو اور خیر سے تم تو ان کی بہو ہوگی تمھاری سوچ ھے وہ تمھارا کیا حشر کرے گی
زرنش کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا اور تھوڑا گھبرا کر بولی کی۔۔۔کیا مطلب ھے آپ کی بات کا
اس کی گھبرائی ہوئی آواز سن کر وہ محفوظ ہوا تم نے انڈین سیریل دیکھے اس میں اکسر دیکھاتے
ھے کہ ساس نے بہو کو ماردیا بہو کچن میں کام کررہی تھی اور ساس نے اس کے دوپٹہ میں آگ
لگادی اگر تم زرہ سی بھی غلطی کرو گی نہ تو تمھارے ساتھ بھی یہی سب ہوگا زین بتمیزی
کرنے کی کوشش مت کرے مجھے پتہ ھے آپ جھوٹ بول رہے ھے وہ تیزی سے ہڑبڑا کر بولی تو
اس نے گاڑی میں فلگ شگاف قہقہ لگایا یار تم کتنی کیوٹ ہوں اس نے عادتاً اس کے گال پر
چٹکی کاٹی اور کسی گھر کے سامنے گاڑی کو روکی تو زرنش نے حیران ہوکر سامنے دیکھا یہ
آپ کے امی ابو کا گھر ھے لیکن آپ نے تو کہاں تھا کہ ہم۔کل جائے گے میرے کپڑے دیکھے میں ان
کپڑوں میں کیسے جاو گی اندر اس نے تھوڑا پریشان ہوکر آکہاں آرے بدھوں یہ میرا گھر نہیں
ھے سامنے غور سے دیکھو اس نے ناسمجھی سے پہلے زین کو دیکھا اور اس کے بعد غور سے
سامنے گھر کو دیکھنے لگی نظر جیسے ہی نیم پلیٹ پر گئی تو وہ پوری زین کی طرف موڑی یہ
یہ تو زیشان کا گھر ھے آپ مجھے یہاں کیوں لیکر آئے ھے سوئیٹ ہارٹ تمھیں کیا لگتا ھے
مجھے کچھ نہیں لگتا ھے آپ گاڑی اپارٹمنٹ لیکر چلے ہم اس کی کمپلین پولیس میں کرے گے
کوئی اولٹی سیدھی حرکت کرنے کی ضرورت نہیں ھے آرے بیوی ہم کوئی اولٹی سیدھی
حرکت نہیں کرے گے بس اس کی دو چار ہڈی تورے گے اور کچھ نہیں کرے گے بول کر گاڑی سے
اترا وہ بھی جلدی سے دروازہ کھول کر اس کے پیچھے اتری اور اس کو ڈپٹنے والے انداز میں
بولی نہیں زین اپ ایسا کچھ نہیں کرے گے ہم کوئی غیر قانونی کام نہیں کرے گے ہم اس کی
باقاعدہ کمپلین کرکے اس کو اندر کروائے گےاس نے اس کی بات کو انگنور کیا اور کار کی ڈیگی
کھولی اور اس میں سے دو موٹے موٹے ڈنڈے نکالے اور ایک ڈنڈا زرنش کو پکڑایا اور مسکرا کر
زرنش کے پریشان چہرے کو دیکھا یار نہ کرے کیوں مروانا چاہ رے ھے اپ ارے میری جان تم
ٹینشن کیوں لے رہی ہوں میں نے اپنی سورسز سے پتہ کروایا ھے کہ اندر اس کی فیمیلی کسی شادی
میں کہی دور گئی ہوئی ھے اندر صرف وہ اور اس کے دو دوست ھے جو بلکل نشے کی حالت
میں ہوگے بس ہم دو دو ڈنڈے مار کر اپنا اپنا بدلہ لے گے اور واپس زرنش اتنی پریشان تھی اس کی
بات پر غور ہی نہ کرسکی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گیٹ کے پاس آیا اور دروازے پر چھڑ کر اندر کودا
زرنش کی نگاہیں چارو طرف چل رہی تھی اندر کود کر اس نے دروازہ کھولا اور اس کا ہاتھ پکڑ
کر اندر کی جانب کھینچا بیگم کیا کررہی ہوں ادھر ادھر کے نظارے کرنے تھوڑی لایا ہوں تمھیں
جو ادھر ادھر دیکھ رہی ہوں آرے نہیں میں دیکھ رہی تھی کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا ھے اف
میرے خدا تم کیا کبھی کسی کے گھر گھس کے اس کی کٹ نہیں لگائی میرے سر میں کھڈا نہیں
ھے جو میں یہ سب کرو گی اس نے تڑاخ کر جواب دیا اچھا میڈم چلے اندر یہ پھر یہاں سے
ہی واپس جانے کا ارادہ ھے ہاں نہ چلتے ھے زین کوئی پروبلم نہ ہو جائے یار کتنی بڑی ڈرپوک ہوں
تم زین العابدین فاروق صدیقی کی بیوی ھوں اور تم ڈر رہی ھوں تف ھے مجھے تم پر چلو وہ اس
کا ہاتھ پکڑ کر اس گھر میں داخل ہوا جہاں سامنے ہی زیشان اور اس کے دو اور دوست نشے
میں دھت تھے زرنش نے سامنے اس کو دیکھا تو آنکھوں میں خون اترا یار یوسف سامنے دیکھ
میرے کو زرنش عالم دیکھ رہی ھے تیرے کو دیکھ رہی ھے زیشان لڑکھڑاتی آواز میں بولا تو
اس کے دوست نے زرہ سی آنکھ کھول کر دیکھا اور بے ڈھنگا سا قہقہ لگایا ابے میرے کو تو زرنش
بھی دیکھ رہی ھے اور اس کے ساتھ ایک لڑکا بھی دیکھ رہا ھے تیرے کو نہیں دیکھ رہا نہیں
نہیں دیکھ تو رہا ھے اس نے اپنی دونوں آنکھیں اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے کھول کر سامنے
دیکھتے ہوئے کہاں یار مجھ کو لگتا ھے ابھی یہ زبیر اس کو یاد کرکے بول رہا تھا کہ میں نے غلط
کیا مجھے لگتا ھے اس کی روح آئی ھے مجھ سے بدلہ لینے لیکن سالا میں نے کیا غلط کیا تو بتا
اس نے بھی تو میرے ساتھ غلط کیا تھا نہ اور پوری سالا یونی کے سامنے میرے منہ پر
ریجکشن ماردیا تھا تو میں نے بھی وہی تو کیا تو یہ کیوں بول رہا تھا کہ غلط کیا ہمممم وہی وہی
یہ سالا دوغلہ ھے اس کو چھوڑ تو مجھے ایک پیگ بناکر دے زین نے زرنش کو اشارہ کیا تو وہ
ڈنڈا ہاتھ میں تھامی اگے کو بڑھی اور وہ جو پیگ بنانے کے لئے بوتل اٹھانے لگا تھا وہی اس کو
زور دار قسم کا ڈنڈا ہاتھ پر رسید کیا آہ کیا پاگل ھے اتنی زور سے ماررہی ھے تیری ایسی کی
تیسی کتے تو نے مجھے انکار کیا بھری محفل میں مجھے چھوڑ کر بھاگا ایک اور ڈنڈا اس کی کمر پر
مارا زرنش یاد کرو اس نے تمھارے بابا کی عزت بھی خراب کرنے کی کوشش کی تھی زین نے
جلتی پر تیل کا کام کیا زیشان آٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے بھاگنے لگا تو اس نے اپنی قوت سے اس کی
ٹانگ پر ڈنڈا مارا اس کا دوست خوف کے مارے اکڑو صوفے پر بیٹھا اس کو مارکھاتے دیکھ رہا
تھا یاد کرو زرنش اس کی وجہ سے تمھارے بابا تم سے ناراض ھے اس نے سن کر زور دار قسم کا
ڈنڈا اس کے سر پر مارا یاد کرو زرنش اس کی وجہ سے تمھاری مجھ سے شادی ہوئی اور پہلی
ہی رات میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا یہ سننا تھا اس نے اس کے منہ پر ایک زور دار قسم کا ڈنڈا مارا
تو اس کی دل دہلا دینے والی چیخے پورے گھر میں گونجی وہ بلکل ادھ مرا ہوکر نیچے زمین پر
لمبا لیٹ گیا تھا بیوی اس کو چھوڑو اس کے دوستوں کو بھی لگاؤ سالے یہ لوگ بھی اس کے
ساتھ تھے ن۔۔۔نہیں میں نے کچھ نہیں کیا میرے کو کیوں ماررہی ہوں بیوٹیفل لیڈی پلیز ڈونٹ
ماری می اس کی انگلیش سن کر اس کو ہنسی ائی لیکن ایک ڈنڈا اس کو بھی لگایا دوسرے والے
کو مارنے لگی تو ان کی ہی بات یاد آکر اس کو چھوڑ کر واپس آئی اور زین کو بھی دعوت دی
زین تم بھی آؤ لگاؤ ان کو دو دو ہاں ہاں کیوں نہیں اگر یہ منحوس انسان کرلیتا تو یہ مصیبت
میرے گلے نہیں پڑتی اس کی پیٹ میں ایک ڈنڈا رسید کرکے بولا زرنش جو اس کے دوست کی
درگت بنانے میں مگن تھی زین کی گوہر افشانی سن کر اس کی تیوری چڑھی اور وہی ڈنڈا گھماتا
ہوا اس کے پاؤں پر مارا اہ ظالم لڑکی اپنے میاں کو کیوں ماررہی ہوں اس کو مارو بتمیز انسان آپ
مجھے مصیبت بول رہے ھے وہ اپنی ناک کے نتھنے پھلائے ہوئے بولی تمھاری تو وہ اس کو مارنے
بھاگا وہ اپنی جان بچا کر ہنستے ہوئے اس کی پہنچ سے دور ہوئی ایسے ہاتھ نہیں آتی زرنش
ہمت ھے تو پکڑ کے دیکھاؤ وہ اس کو انگھوٹا دیکھا کر چیڑانے والے انداز میں بولی تو اس نے
چیلنجنگ آئی برو اٹھائی اور ایک دم نگاہ نیچے کرکے تیز اواز میں چیخا یہ کیا ہوا اس کی تو
سانس ہی بند ہوگئی ھے سر سے خون نکل نکل کر لگتا ھے مر گیا ھے وہ پریشان ہوتے ہوئے بولا اور
نیچے بیٹھا زرنش ڈر کر اس کی طرف آئی جیسی وہ اس کے قریب ائی وہی اس نے اپنی سخت
گرفت میں اس کو جکڑا آہ وہ جو پریشانی کی کیفیت میں اس کو دیکھنے لگی تو وائفی کیا بول
رہی تھی اپ کہ میں پکڑ نہیں سکتا آب تم چھوڑواکر دیکھاو مجھ سے خود کو وہ مسکراتا
ہوا اس کو جلاتا ہوا بولا وہ خود کو اس کی آہنی گرفت سے چھوڑوانے کی نہ کام کوشش کرنے لگی
لیکن یہ کہاں ممکن تھا وہ کہاں نازک حسینا اور وہ کہاں کسرتی وجود کا مالک زین ہم تو یہاں ان
کی پٹائی کرنے آئے ھے نہ تو آپ مجھے کیوں پیٹنا چاہتے ھے اس نے اس کی قربت کو محسوس
کرکے کپکاتے ہوئے لحجہ میں کہاں تو وہ ہنستا ہوا اس کے ماتھے پر ایک عقیدت بھرا بوسہ دیا اور
زیشان کی طرف متوجہ ہوا جو آدھ موئی حالت میں پڑا ہوا تھا وہ اس کے نزدیک دو زانو بیٹھا تو
کیا سمجھا تھا کہ تو نے ایک لڑکی کی زندگی خراب کردی سالہ تو نے جس لڑکی سے پنگا لیا تھا
نہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں تھی بہت غلط کیا تم جیسے کو تو یہ تک احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی
یہ ڈر ہوتا ھے ایک مکافات بھی ہوتا ھے جو وہ اوپر والے کی زات کرتی ھے تیری بھی دو بہنیں
ھے ان کے بارے میں ہی سوچ لیتا لیکن تم جیسے لوگ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہوں کسی کی
فیملی کسی کی زندگی کے بارے میں نہیں تم جیسے لوگوں کو تو جینے کا بھی کوئی حق نہیں
ھے جو کسی کی زندگی میں شامل ہوکر ان کی زندگی برباد کرنے کے منصوبے بناتے ھے لیکن
تمھیں پتا ھے وہ جو اوپر بیٹھی اللّٰہ کی زات ہوتی ھے نہ وہ سب سے بڑی ہوتی ھے جو بے گناہ
اور معصوم لوگوں کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونے دیتی اور کھڑا ہوکر ایک زور دار قسم کی لات
اس کے منہ پر رسید کریں زرنش کی آنکھیں تشکر سے نم ہورہی تھی آج اس کا دل پہلی بار کسی
کے لئے شدت سے ڈھڑکا تھا وہ نادان لڑکی تو خود بھی انجان تھی کہ وہ کسی سے بے پناہ
محبت کرنے لگی تھی اور وہ سامنے پتھر دل بننے والا مرد وہ بھی کسی کو انجانے میں ہی
صحیح لیکن اپنا دل دے چکا تھا اس کا ہاتھ تھاما اور اس کے گھر سے نکلتا چلا گیا۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا کرنے کا ارادہ ھے بھائی گیارہ تو بج گئے ھے ہانم نے گھڑی کی طرف ٹائم دیکھتے ہوئے
پریشان ہوکر پوچھا ہانم اور غازیان ہسپتال میں ہی ایان کے پاس روکے تھے زویا کو غازیان نے
رات کو ہی ڈرائیور کے ہاتھوں گھر بھیج دیا تھا ہانم اور داود دونوں کینٹین میں موجود ناشتہ
کرہے تھے جب اس نے پریشانی سے پوچھا یار بھابھی کچھ سمجھ نہیں آرہا ھے کیا کرو یہاں
سے اگر ہم دونوں غائب ہوتے ھے تو دونوں پکڑے جائے گے اور گرین مونسٹر کو پتہ چل جائے گا
کچھ ایسا بہانہ ہوں کہ ان کو ہم پر شک بھی نہ ہوں اور ہمارا بھی کام۔بن جائے بھائی میرے پاس
ایک ائیڈیا ھے ہانم نے تھوڑا سوچتے ہوئے کہاں کیسا آئیڈیا بھابھی دیکھے غازی جی سے یہ بولتے
ھے مجھے فائزہ کے گھر جانا ھے کالج کے نوٹس لینے اور آپ کو کپڑے بدلنے ھے تو ہم لوگ پہلے
گھر جائے گے اور وہاں سے تیار ہوکر روحہ کے گھر کے نکل جائے گے غازی جی کو لگے گا ہم۔ فائزہ کے
گھر گئے ھے اس نے مزہ سے منصوبہ بناتے ہوئے پوچھا کوئی جو ان کی گفتگو سن رہا تھا اس کے
دل کو بہت افسوس ہوا تھا اور جبڑے غصہ سے بھنچے تھے کیسا آئیڈیا بھابھی ائیڈیا تو اچھا ھے
اگر انہوں نے اپ کو اجازت نہیں دی تو یہ تو مسلہ ہوجائے گا نہ یار اپ ابھی سے کیوں نیگیٹو
بات کررہے ھے کون نیگیٹو بات کرہا ھے غازیان کی آواز پر داؤد کے منہ سے چائے فوارے کی مانند
نکلی ہانم بھی ایک دم گھبراہ کر کھڑی ہوئی ن۔۔۔نہیں کوئی نیگیٹو بات نہیں کرہا ھے ہانم نے گھبرا
کر کہاں داؤد بھی سرعت سے کھڑا ہوا تم دونوں اتنا گھبرا کیوں رہے ھوں سب ٹھیک ھے وہ کرسی
کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بولا جی جی بھائی سب ٹھیک ھے وہ دونوں بھی اس کے بیٹھتے مسکراتے
ہوئے بولے ہمم۔اچھا وہ اپنا فون نکال کر اس میں اپنی میل پڑھنے لگا تو داؤد نے ہانم کو آنکھ سے
اشارہ کیا تو اس نے اپنا سر ہلا کر ہمت کرکے غازیان سے جھوٹ بولنے کی کوشش کرنے لگی
غازی جی آپ سے ایک چیز کی اجا۔۔۔اجازت چائے تھے اجازت پر اس کی زبان زرہ لڑکھڑائی کسی
اجازت ہاتھ ابھی مسلسل موبائیل پر کچھ ٹائیپ کرہے تھے وہ اج میں کالج نہیں گئی نہ تو آج کا
لیکچر مس ہوگیا ہوگا تو میں سوچ رہی ہوں داؤد بھائی کے ساتھ جاکر فائزہ سے نوٹس لے آؤ ہم
باہر باہر سے ہی واپس آئے گے پلیز ہمم ابھی تھوڑی دیر میں میرے ساتھ چل لینا اس کی بات
سن کر داؤد اور ہانم نے ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھا نہیں وہ آپ کے ساتھ نہیں جاسکتے ھے
ہانم کے منہ سے بے ساختہ نکلا تو داؤد نے اپنا ماتھا پیٹا خود ہانم نے بھی اپنی زبان دانتوں میں
دبائی غازیان نے اپنی نگاہ اٹھا کر۔ ہانم کی جانب دیکھا میں کیوں نہیں جاسکتا وہ دراصل غازی
جی وہ بات بنانے کی کوشش کرنے لگی وہ بھائی اس لئے کے میں گھر ہی جارہا ہوں کپڑے چینج
کرنے تو میں بھابھی کو لے جاو گا آپ کو تو افس میں بھی کام ہوگا اور ایان کی بھی چھٹی ہونے
والی ھے تو اپ سب اچھے سے سنبھال لے گے اور ایان کو بھی سنبھال۔لئے گا کیونکہ وہ
انجیکشن بھی نہیں لگواتا ھے آپ ہوگے تو آپ کو دیکھ کر لگوالے گا اور اگر میں یہاں روکا تو وہ
مجھ سے کبھی نہیں لگوائے گا ہمم اس نے فون پاکٹ میں رکھتے ہوئے کہاں اور ہانم کی طرف
دیکھا اور اثبات میں سر ہلایا اوکے جاؤ لیکن جلدی آجانا اور اس کا خیال رکھانا داود تمھاری
زمیداری پر بھیج رہا ہوں جی بھائی اپ بے فکر رہے بھابھی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ جارہی ھے
وہ محفوظ رہے گی وہ کرسی سے کھڑا ہوتے ہوئے بولا چلے بھابھی دیر ہورہی ھے وہ ہسپتال کے
خارجی دروازے کی جانب بڑھا ہانم بات سنو وہ اس کی آواز پر روکی دیہان رکھنا اپنا اس نے
اپنی کیفیت چھپاتے ہوئے اس سے کہاں ہانم مہز سر ہلا کر داؤد کے پیچھے گئی غازیان نے اس کی
پشت کو دیکھ رہا تھا اس کو بہت دکھ ہورہا تھا ہانم اس سے جھوٹ بول رہی تھی وہ سمجھتا
تھا کہ وہ ایک بار ہی صحیح لیکن اس سے ایک دفعہ شئیر کرے گی لیکن اس نے ایک دفعہ بھی
نہیں کیا تھا اور ابھی بھی جھوٹ بول کر جارہی تھی اس نے اس کی ساری باتیں سن لی تھی کہ
اور یہ بھی کہ یہ جھوٹ بول کر جانے کا آئیڈیا کس کا ھے اس کے عصاب ایک دم تنے تھے اس کے عصاب سے یہ ہی
ظاہر ہوتا تھا یہ جھوٹ داؤد کا تو پتہ نہیں لیکن ہانم کے لئے بہت مہنگا پڑنے والا تھا اس نے سرد
سانس خارج کریں اور اندر ہسپتال میں ایان کے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
×××××××
وہ دونوں جلدی جلدی گھر پہنچے اور جلد سے جلد وہاں سے کپڑے چینج کرکے نکلے تھے ہانم نے
ریڈ کلر کی فراق پہنی تھی جو اس کے پیرو کو چھو رہی تھی داؤد نے وائٹ شلوار قمیض اور
اوپر بلیک مردانی شال لی تھی وہ دونوں سادگی میں بھی کمال ڈھ رہے تھے جلد سے جلد وہ دنوں
مینشن سے نکل کر صدیقی ہاؤس کے لئے نکلے تھے وہ دنوں گاڑی میں بیٹھنے لگے تو اوپر چھت
سے ان دونوں کو تیار ہوکر جاتے ہوئے میمونہ بیگم نے اپنی چھت سے دیکھا تو اور کچھ
سمجھتے ہوئے ان کے نرمی میں ڈھلے عصاب تنے تھے وہاں وہ بھی تیار ہوکر اپنی نگاہ دروازہ پر
ہی ٹکائے اس کے انتظار میں تھی اس کو امید تھی کہ وہ ضرور آئے گا لیکن جب سے فوزیہ بیگم
کو یہ بات پتہ چلی تھی کہ روحہ نے اپنا ماضی اس کو بتا دیا ھے وہ ایک ہی بات بول رہی تھی
کہ وہ نہیں آئے گا تم لوگ دیکھ لینا روحہ وائٹ فراق اور ریڈ دوپٹہ میں تھی جو اور چہرے پر
ہلکا پھلکا میک اپ اس کے سراپے پر غضب ڈال رہا تھا گاڑی کے ہارن کی آواز پر اس کا دل بے
اختیار ڈھڑکا تھا وہ دونوں ایک ساتھ گاڑی سے اترے تھے ان کی گاڑی کے پیچھے ایک گاڑی اور
تھی داؤد کے چند دوست بھی آئے تھے گواہوں کے طور پر وہ ہانم کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا
تھا وہ سامنے ہی کھڑی تھی فوزیہ بیگم کے ساتھ وہ اس کو دیکھ ہمیشہ کی طرح مسکرایہ تھا اور
قریب ہوکر سلام کیا تھا ہانم بھی مسکراتی ہوئی ان کے پاس گئی تھی اور روحہ کو خوشدلی سے
گلے لگا کر سلام کیا تھا اسلام علیکم روحہ کیسی ھے آپ میں ٹھیک ھے تو کیسی ھے ہانم کو تھوڑا
عجیب لگا لیکن داؤد اس کو پہلے ہی بتا چکا تھا اس کے بات کرنے کا طریقہ اس لیے وہ انگنور کرگئی تھی ۔۔۔۔
جاری ھے ❤️
