Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

مغرور محبت 6
رائٹر ۔۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 6

غازیان جم میں انٹر ہوا تو خادم کھڑا ہوا تھا اور ایان پوشپس لگارہا تھا پچیس چھبیس ستائیس

انتیس تیس ایکتیس بس نہیں ہورہا ھے خادم بھائی ابھی تو گرین مونسٹر بھی نہیں ھے

جب تک روک جاتا ہوں غازیان نے اسے بے تاسر نگاہوں سے دیکھا اور اس کی طرف بڑھا سائیڈ

سے بیلٹ ہاتھ میں لیپٹا کس کو روکنا ھے غازیان کی آواز پر اس نے گردن گھوما کر دیکھا تو اوپر کا سانس اوپر اور

نیچے کا نیچے ہی رہ گیا نہ۔۔۔۔نہیں نہیں خادم بھائی ہی روکنا کا بول رہے تھے وہ ہڑبڑاتے ہوئے بولا اسٹارٹ کرو اور

ساتھ ساتھ بولو آئندہ کسی کے پھڈے میں نہیں پڑو گا وہ ایک دم ڈھاڑا ایان کی روانی میں

مزید اضافہ ہوا اس کا غصہ دیکھ اور تیز تیز آواز میں بولنے لگا آئیندہ نہیں کروگا ایک بار چھوڑ دے

بولنے لگے پھر آہستہ سے خود سے سرگوشی کی اللّٰہ کرے ان کی بیوی ان کو دن رات مارے اللّٰہ

کرے ان کے کپڑے پریس کرتے ہوئے جلادے امین غازیان نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں

کے سامنے ہانم کا ڈرا سہما چہرہ لہرایا اور مدھم۔سا مسکراتا ہوا خود بھی ایکسسرسیز کرنے لگا

ایان نے آنکھ بچا کر اس کی طرف دیکھا تو کانو میں ہینڈ فری تھی ایک دم نیچے کی طرف گیرا

ایان میں دیکھ رہا ھوں اس سے پہلے میں آٹھوں عزت سے واپس اسٹارٹ کرو اللّٰہ کے واسطے

بھائی معاف کردے ائیندہ۔نہیں ہوگا پلیز معاف کردے کیا بولا تھا میں نے تمھیں اس سے پہلے کہ

یہ سب نہ ہوں کوئی کمپلین نہیں آنی چاہئے لیکن تم کو سمجھ نہیں آتا گے نہ بلکہ اب کھڑے

ہوں اور کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرو بھائی پلیز ایک بار چھوڑ دے آئیندہ پکا کچھ نہیں کرو گا

صبح داؤد بھائی نے پاؤں میں پائپ مارا تھا میرے سے چلا بھی نہی جارہا ھے غازیان نے نظر

گھماکر اس کے پاس کو دیکھا اور ایک سائیڈ سمائل دی

اس کا مطلب تھا کہ وہ جاسکتا ھے وہ اچھلتا کودتا باہر۔کی طرف بھاگا اور داؤد کے کمرے میں

گھسا تو وہ سامنے خود ہر پرفیوم چھڑک رہا تھا کیا ہوگیا ھے بھائی کس چڑیل کو اپنا عاشق

کروانا ھے اتنا خشبو لگا کر جائے گے وہ اس کو میرر سے دیکھ کر مسکرایہ ویسے ڈاکٹر صاحب کہاں کی سواری ھے

یار کلینک ہی جارہا ھوں میری کونسی گلفرینڈ ھے جس سے ملنے جاؤ گا اس نے بے بسی سے

کہاں تو اس بات پر ایان۔نے آنکھیں گھمائی کتنی لڑکیوں نے سامنے سے پرپوز کیا تھا لیکن صاحب

کے معیار پر کوئی اتر ہی نہیں رہی تھی
ایان نے اس کی بات کو انگنور کیا یار میں تو

بولتا ہوں بھابھی سے ملنے چلے
نہیں ایان ابھی نہیں صبح ملے گے ناشتہ کی میز پر اس ٹائم وہ

خود بہت پریشان اور ڈری ہوئی ہوگی اس لئے صبح ملے گے اب میں بھی چلتا ہوں اللّٰہ حفظ

رات کو لیٹ ہوجاوگا بھائی کو بتادینا بول کر اس کے بال بھکیر کر مینشن سے نکلتا چلا گیا اور ایان

بھی اپنے روم میں چلا گیا صبح یونی بھی تھی اس لئے وہ۔بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا

“””””””””””””””””””””””””
خاور مالک گھر میں انٹر ہوئے تو روبینہ بیگم لاونج میں انہیں کے انتظار میں ٹہل رہی تھی

وہ ان کے سامنے آئی کہاں ھے میری بیٹی وہ سائیڈ سے نکلنے لگے کیونکہ وہ رانا کی باتوں سے حدرجہ ڈسٹرب تھے

وہ جانے لگے تو انہوں نے ان کی کلائی پکڑی کہاں ھے میری بیٹی اب کی بار وہ چیخی خاور

مالک نے لال آنکھوں سے ان کی طرف گھورا
وہی ھے جس کے ساتھ تمھاری بیٹی بھاگی ھے

اس کے پاس ھے جس نے میری ساکت پوری ہلاکر رکھ دی ھے انہوں نے کہاں تو آج ان کا لحجہ ٹوٹا ہوا تھا بکھرا ہوا تھا اور ایک آنسو ٹوٹ کر ان

کے گال پر پھیسلا ہاتھ چھوڑو روبینہ میرا مجھے آرام کرنا ھے ان سے برداشت نہیں ہورہا تھا ٹھیک

ھے ہاتھ تو میں چھوڑ دوگی بس مجھے اتنا بتادے کے آپ ہانم کو صحیح سلامت گھر کب لائے گے

آپ کے انہوں نے آرام سے پوچھا کیوں لاؤ میں اس کو وہ بے بسی کی انتہا پر تھے

ماردو گا میں اس کو زندہ نہیں چھوڑو گا میری عزت دو کوڑی کی کر کے رکھ دی ھے تم کو

پتہ ھے رانا کیا بول رہا تھا تمھاری بیٹی کو اس نے اغوا نہیں کیا وہ بد زیانی خیفیت سے چیخے

ان کی آواز سے انوشے بھی باہر دروازہ کے ساتھ کھڑی ہوگئی

وہ جاکر خود آرام سے بیٹھی تھی کسی نے زبردستی نہیں کی تھی روبینہ بیگم

اور نکاح بھی اپنی مرضی سے کیا دیکھا تھا نہ ٹی وی پر کتنے آرام سے اس شخص کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی

ا باہر سب مجھ پر ہنس رہے ھے اور بول رہے ھے وہ دیکھوں وہ جارہا ھے گھر سے بھاگی ہوئی

بیٹی کا باپ کچھ لوگ مجھ کو ترحم بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ھے ان کی آنکھیں ریڈ ہورہی

تھی اور آنسوں بھی آنکھوں سے راوا تھے انوشے۔نے اپنے باپ کو اتنا ٹوٹا بیکھرا کبھی نہیں دیکھا

تھا وہ ان پر سختی ضرور کرتے تھے لیکن وہ بھی ہر بیٹی کی طرح اپنے باپ سے بہت محبت

کرتی تھی اس کو ڈھیروں غصہ آیا اپنی بہن پر
روبینہ بیگم نے ساخت نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی

جو میں دیکھ رہی ھوں وہ آپ کیوں نہیں دیکھتے ھے آپ کے لئے دوسرے امپورٹینٹ کیوں ہوتے ھے آپکی خود کی بیٹی وہ کچھ معنی نہیں

رکھتی ھے کیا پتہ آپکی بیٹی کو کیڈنیپ کیا ہوں وہ جانا نہیں چاہتی ہوں زبردستی کی ہوں نکاح

نہیں کرنا چاہتی ہوں زبردستی کیا ہوں دیکھا تھا آپ نے ایک بھی پیکچر میں وہ ہنس رہی تھی وہ

چہرے سے ہی کرنی ڈری ہوئی لگ رہی تھی میں مانتی ہوں ہماری بہت بدنامی ہوئی ھے مگر آپ

اس سب کا قصور میری ہانم کو نہیں دے سکتے اگر ہانم نے اس سے نکاح کیا ھے تو یہ بھی دیکھے

وہ لڑکا جانتا ہوگا وہ آپکی بیٹی ہے اور اسی دن اس نے ہانم سے نکاح کیا جس دن آپ نے اس کے

بھائی کو کیڈنیپ کیا آپ یہ سب کیوں بھول جاتے ھے آپ ایک پولیس افسر ھے وہ کیوں نہیں

سوچتے کتنے دشمن ھے آپکے میری ہانم نہیں کرسکتی ھے ایسا خاور مالک نے ان کی جانب بے

تاسر نگاہوں سے دیکھا اور نفی میں سر ہلایا اگر اس شخص نے مجھ سے بدلہ لیا ھے ہانم کے زریعہ

تو اس کو موقع ہانم نے دیا ھے میں یہ کبھی نہیں بھول سکتا اس نے میری عزت اپنے قدموں تلے

روند دی نفرت ھے مجھے اس سے اس گھر میں کوئی اس لڑکی کا نام تک نہیں لے گے اگر لیا تو وہ

میرے لیا مرجائے گا وہ غصہ سے ڈھاڑا اور اپنے کمرے کی جانب چلے گئے روبینہ بیگم بھی

پیچھے صوفے پر بیٹھ گئی اور سر دونوں ہاتھوں میں گیرا لیا اور انوشے بھی ان کو دیکھ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئی
::::::::::::::::::::::::::::::::
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ دنیا سے بے خبر دونوں ہاتھوں کو گال کے نیچے رکھ کر آرام سے

سورہی تھی غازیان نے غور کیا تو ہاتھ اسی گال کے نیچے رکھے ہوئے تھے جہاں تھپڑ مارا تھا وہ

نیچے قریب بیٹھ کر اس کا ہاتھ اس کے منہ کے نیچے سے ہٹایا تو اس نے عجیب سا منہ بنا کر

منہ پھیر لیا ہاں البتہ کروٹ اسی کی طرف تھی اس کو اچھا نہیں لگا تھا اس کی نیند میں خلل

کرنے والا اور غازیان کو بھی اس کا منہ پھیرنا بلکل نہیں بھایا تھا اسی لئے وہ مزید اس کی

قریب ہوا اور ایک ہاتھ سے اس کے منہ کو اپنی جانب کیا اور انگلی سے چہرے پر سطہر

کھینچنے لگا وہ تھوڑا سا برا منہ بنا کر دوسری طرف کروٹ لے لی غازیان غیر ارادی طور پر

دوسری جانب بیڈ پر بیٹھا اور دوبارہ سے سطہر کھینچنے لگا غازیان کو ایسا

محسوس ہورہا تھا وہ کوئی روئی کے گولوں کو چھو رہا ھوں اس کو ایسا کرنے میں بہت مزہ

آرہا تھا عمومآ اس نے کئی لڑکیوں کی ناک میں نتھ دیکھی تھی اس عمر کی لیکن اس کی ناک

بلکل خالی تھی وہ وہاں سے آپنا دیہان ہٹا کر واپس ان روئی جیسے گالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا اس کو ایک دم اپنا صبح والا تھپڑ

یاد آیا تو اس نے اپنے بھاری ہاتھ کی طرف دیکھا پھر ایک نظر ان گالوں کو دیکھ اٹھا اور واشروم میں بند ہوگیا اور

تھوڑی دیر بعد اپنے آرام دہ کپڑوں میں باہر آیا اس کی طرف ایک دفعہ دیکھنے کی بھی غلطی

نہی کریں تھی سیدھا وہ کمرے سے باہر آیا تھا اوپر والے لاونج میں ایک دم سناٹہ ہورہا تھا اس

نے ایک نظر داؤد اور ایان کے بند دروازوں کو دیکھا اور اوپر والے حصے کے دائے سائیڈ ایک سلائیڈنگ

دروازہ تھا اس کے اندر دیکھے تو ایک بڑا سا صوفہ رکھا ہوا تھا اور سامنے ایک گیلری تھی

جس سے باہر گارڈن کو دیکھ سکتے ھے تھوڑی دیر وہ گیریل کو تھامے باہر لان کو دیکھتا رہا پھر

مڑ کر سامنے صوفے پر سے گلاس کو اٹھا کر پانی کو گھونٹ گھونٹ پیا اور گلاس کو رکھنے کے

بجائے واپس گیریل کے پاس آکر کھڑا ہوگیا وہ لان کو دیکھ رہا تھا آج دوپہر کا منظر اس کی

آنکھوں کے سامنے کسی سکرین کی طرح چل رہا تھا کیسے اس نے ان روئی جیسے گالوں پر تھپڑ

مارا تھا ایک دم گلاس پر گرفت سخت کردی گرفت سخت سے سخت ترین ہوتے جارہی تھی

اور چھناک کی آواز سے گلاس ہاتھ میں ٹوٹ گیا ہاتھ اچھا خاصا زخمی ہوا تھا لیکن اس کے سامنے ہانم کا معصوم سا چہرہ گردش کرہا تھا کیسے وہ اس

سے منت کررہی تھی کے اس کو گھر جانا ھے اور اس نے اس کے روئی جیسے گالوں پر اپنے بھاری

ہاتھ کا تھپڑ مارا تھا ہاتھ سے خون زمین پر گیر رہا تھا لیکن اس کا دل اور دماغ تو اس کے

معصوم چہرے میں اٹک گیا تھا یاد کرکے آنکھیں بند کر کے کھولی اور ہاتھ کو تیزی سے جھٹکا

جس سے خون کی بند بوند اس کے کپڑوں پر بھی آئی

داؤد جو ڈیوٹی پر گیا تھا مریض نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی واپس آگیا

تھا ان تینوں کے کمرے اوپر والے پورشن میں تھے لیکن یہ گیلری صرف غازیان کی تھی یہاں بیٹھ

کر وہ اپنا آفس ورک کرتا تھا داؤد جانے لگا تو اس کو کسی کا عکس محسوس ہوا دیکھا تو ایان کو سمجھ کر

پیچھے ہی چلا گیا لیکن وہاں ایان نہیں غازیان تھا وہ واپس پلٹنے لگا تو اس کی نظر اس کے

ہاتھ پر گئی تو وہ فوراً اندر داخل ہوا بھائی یہ کیسے ہوا اس نے ٹوٹا ہوا گلاس ہاتھ سے لیکر

ڈاسٹبین میں پھینکا یار کتنا خون نکل رہا ھے پلیز آپ یہاں بیٹھے میں ابھی آیا اس کا ہاتھ

تھامے صوفے پر بیٹھا کر اندر گیا اور دس سیکنڈ کے اندر اندر فرسٹ ایڈ باکس

اٹھا کر لے آیا بھائی دھیان کہاں تھا آپ کا یار کتنا زخمی ہوگیا آپکا ہاتھ دیکھے زرہ کا قدر زخمی ہوگیا ھے وہ پٹی بھی کرہا

تھا اور ساتھ بول بھی رہا تھا وہ دونوں اس کو پیٹھ پیچھے گرین مونسٹر بولتے ضرور تھے لیکن

اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور اس کی بہت فکر کرتے تھے اور اس کے بولنے کے انداز سے ہی

پتہ چل رہا تھا وہ کتنی محبت کرتا ھے اس سے
داؤد نے بولتے بولتے اس کی جانب دیکھا تو

غازیان نے صوفے کے پیچھے سر رکھا ہوا تھا اور آنکھیں موندی ہوئی تھی داؤد کو وہ صحیح

نہیں لگا بھائی آپ ٹھیک ھے اس نے تھوڑا جھجکتے ہوئے پوچھا داؤد دو منٹ میں یہاں سے

غائب ہوجاو ورنہ مجھ سا برا کوئی نہیں ہوگا اس وقت غازیان کی بھاری آواز

گونجی تو داؤد نے اس کو تاسف سے دیکھا وہ دونوں کبھی بھی دکھ میں ہوتے تھے تو اپنا رونا

اسی کے پاس لیکر آتے تھے لیکن یہ سب کچھ خود برداشت کرتا تھا کسی سے کچھ نہیں کہتا

تھا اس کے سینہ میں بہت سے راز دفن تھے یہ بات تو وہ بھی جانتا تھا لیکن کبھی ہمت نہیں

ہوئی تھی پوچھنے کی تھوڑی دیر تک وہ وہ اس کو دیکھتا رہا غازیان جانتا تھا وہ کیا جننا چاہتا

ھے لیکن وہ اپنا درد کسی کے آگے بیان نہیں کرتا تھا داؤد خاموشی سے اس کے قریب ہوا

اور ماتھے پر بوسہ دیا بھائی آپ ہمیں بہت عزیز ھے کبھی خود کو اکیلا مت سمجھیں گا آپکا داؤد

آپکے ساتھ ہمیشہ رہے گا غازیان نے ابھی بھی آنکھیں موندی ہوئی تھی اس کے بعد وہ اپنے

کمرے کی جانب چلا گیا غازیان نے اپنی آنکھیں کھولی اور آٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھا کم از کم وہ خود

سے ایک عہد کر کے اپنے کمرے کی جانب چلاگیا تھا جہاں وہ معصوم پرنسیسز پرسکون نیند

سورہی تھی ہاں وہ پرنسیسز ہی تھی لیکن ایک غصہ والے گرین مونسٹر کی ،،،،

#

روحہ صبح ہی اٹھ گئی تھی اور ایک اچھی بیٹی بننے کی ناکام کوشش کررہی تھی صبح سات بجے

اٹھ کر کچن میں ناشتہ بنانے کی ناکام کوشش کررہی تھی لیکن وہ ناشتہ کم بنارہی تھی خود سے باتیں

اور کچن کو جنگ کا میدان ضرور بنادیا تھا منہ پر بھی جگہ جگہ آٹا لگا ہوا تھا سالا یہ اتنا پتلا

کیوں ہورہا ھے وہ خود سے بڑبڑائی ایک دم موبائل میں رنگ ہوا تو غصہ سے

مڑی کس کو مصیبت پڑی ھے اتنی صبحِ صبح اس کے مرتے ہی سارا جگ کا پانی اور جگ زمین دوز ہوا وہاں جو

وہ کمرے میں خواب گروش کے مزہ لے رہی تھی کچھ ٹوٹنے کی آواز سے ہڑبڑا کر اٹھی لیکن ٹائم اتنا زیادہ

نہیں تھا اس لئے بلی سمجھ کر بھاگنے اٹھ گئی اور آج صدیقی صاحب نے آنا تھا تو وہ اٹھ کر

واش روم کی طرف فریش ہونے چلی گئی پھر کچن میں جائے گی اور وہاں اس نے پہلے اس جگ

کو دکھ سے دیکھا اس کے بعد گندے سندے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا اور کان پر لگایا کون

ٹوپا ھے جس کو اس ٹائم موت پڑرہی ھے
اب دوبارہ اس نمبر پر فون ایچ کیا تو سالے تیرے

کو موبائل کے اندر گھس کے مارے گی سامنے والی کی سنے بغیر اپنی ہانق کر غصہ

سے فون بند کردیا اور دوسری جانب ایان جو اپنے دوست کو فون ملا رہا تھا کہ یونی آجا وہ

اسے طرز گفتگو وہ بھی ایک لڑکی کی جانب سے غش کھانے کے در پر تھا لیکن واپس کندھے آچکا

کر اپنے دوست کو فون مالانے لگا روحہ نے غصہ میں فون پٹکا اور واپس آٹے کے ساتھ جدوجہد

کرنے لگی ایک تو یہ ٹوپا گندنے میں نہیں آرہا ھے سالے کے ساتھ ایسا کیا کرو کے یہ اماں کی طرح

گند جائے مطلب کے جسے وہ ایچ گنوندتی ھے اپنے الفاظ ٹھیک کیئے فوزیہ بیگم نے کچن میں

قدم رکھا تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچی جہاں ان کی ایک لوتی بیٹی آٹے سے اٹی ہوئی تھی اور نیچے

جگ ٹوٹا ہوا تھا جہاں وہ سپیڈر مین کو مات دیتے ہوئے وہی کانچ میں کھڑی آٹا گوندھنے میں

لگی ہوئی تھی شیلف پر جابجا آٹا گیرا ہوا تھا روحہ یہ کیا ھے ان کی صدمے سے بھری ہوئی

آواز حلق سے با مشکل ہی برآمد ہوئی تو وہ مڑی تو فوزیہ بیگم کچن کے گیٹ پر منہ میں ہاتھ رکھ

کر شوکڈ کی کیفیت میں کھڑی ہوئی تھی رات کو کچن جس حالت میں تھا اب اس کی کنڈیشن نہایت ہی خراب تھی

آرے ماتاری تو کائے کو اتنی جلدی اٹھی ھے یار اپن اٹھا دیتی تیرے کو وہ بول کر واپس آٹے کی

طرف متوجہ ہوئی روحہ یہ سب کیا ھے یار کیا ہوگیا ھے تیرے کو یہ آٹا ھے اور یہ کچن ھے جس

میں اپن آٹا گوند رہی ھے لیکن دیکھوں یہ سالا ٹوپا گندھنے میں ہی نہیں آرہا میں نے سوچا تھا آج اپنا صدیقی

صاحب بھی آرے لا ھے اور تم بھی اپن سے خفا تھی تو میں نے سوچا سب کے لئے ناشتہ بناتی ھے

لیکن سالا یہ ٹوپا گندھنے میں ہی نہیں آرہا انہوں نے غصہ سے اسے گھورا لیکن اس کی حالت

دیکھ کر ان کو بے ساختہ پیار آیا اور اس کو آٹے کے ساتھ اس طرح جھنجھلاتے دیکھ ہنسی بھی

آئی جس کو کمال مہارت سے چھپاتے ہوئے اندر داخل ہوئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سائیڈ پر کیا اور خاموشی سے پہلے کانچ صاف کیا اور اس

کی طرف دیکھا یہ میرے جہز کا آخری جگ تھا جس کا آج تم نے انتقال کردیا اور آٹے میں اتنا

پانی کون ڈالتا ھے اب سالا میرے کو کیا معلوم کتنا ایچ پانی ڈلتا ھے اس نے آنکھیں گھما کر

کہاں ہاں ہاں بیٹا تمھیں تو صرف یہی معلوم ہوگا نہ کے بائیک میں کون سا تیل ڈالتے ھے کون سا

پیٹرول اور کتنا ڈلتا ھے کس کو پیٹنا ہوتا ھے کس کی بیل بجا کر بھاگنی ہوتی ھے کس کی

گاڑی کے ٹائیر کی ہوا نکلنی ہوتی ھے اب ان کے ہاتھ تیز تیز چل رہے تھے اور طنز کے تیر بھی وہ

بھی ان کی بیٹی تھی ایک کان سے سن رہی تھی دوسرے سے نکال رہی تھی جب تمھاری دوسرے

گھر شادی ہوگی پھر تمھیں احساس ہوگا کتنے کام کرنے ہوتے ھے یہ سب نہیں کرنا ہوتا اس کی

ہڈی توری آس کی ہڈی توری اب ان کا روانی کے ساتھ شادی اور سسرال پر لیکچر شروع ہوچکا

تھا اس لئے اس نے باہر جاکر تیار ہونے میں ہی عافیت جانی کیونکہ اس کو ریسٹورنٹ بھی جانا

تھا جب تک۔صدیقی صاحب نہیں آجاتے اس پر کام کا بہت دباؤ تھا
جاری ھے ❤️