No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
مغرور محبت38
رائٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 38
ہانم ایان اور داؤد تینوں کچن میں کھانا بنانے کی تگ دو میں تھے ہانم نے اوپر سے ایپرین پہنا
ہوا تھا لیکن یہ سراسر جھوٹ تھا کہ ایان اور ہانم بھی کھانا بنارہے تھے کھانا صرف ہمارا
اسپیشل کوک داؤد ہی بنارہا تھا داؤد بھائی ایک بات بتائیں ہانم نے اشتیاق سے چکن کڑاہی میں جھانکتے ہوئے پوچھا جی بھابھی کھانا کب تک
بن جائے گا اتنی دیر سے تو ہم بنارہے ھے بس تھوڑی دیر اور اس کے بعد بن جائے گا اور ابھی تو
بھائی بھی نہیں آئے ھے ویسے ایان زین بھائی ائے گے آج داؤد نے ہانم کو جواب دیکر ایان سے سوال
کیا ایان جو خاموشی سے کھیرا کھانے میں مصروف تھا ایک دم ہڑبڑا کر نیچے رکھا ایان
انسان بن جاؤ کھانے کے ساتھ کھائے گے آرے میں کھ تو نہیں رہا تھا ہاں تو اس کی گولائی چیک
کررہا تھا کیا ہانم ان کی بات سن کر کھلکھلائی یار بھابھی آپ میری ٹیم میں ھے میری بیستی
ہوں گی تو آپ کو ہنسنا نہیں ھے یار ایان شیلف پر بیٹھ کر بولا کیوں بہی کس نے بول دیا بھابھی
صرف تیری ٹیم میں ھے وہ میری ٹیم میں بھی ھے داؤد نے بھی ایان کے مقابل آتے ہوئے کہاں
کوئی نہیں آپ کی ٹیم میں الریڈی میمو جان زوئی زین بھائی اور گرین مونسٹر سب ھے مجھ
غریب کی ٹیم میں بس یہی ھے ان کو بھی آپ چھین لے داؤد نے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا اور
واپس کڑاھی کی طرف متوجہ ہوا ایان نے ہانم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا تو وہ پہلے تو
سر کے اشارہ سے منع کرنے لگی پھر جب وہ ذیادہ فورس کرنے لگا تو داؤد کے قریب ہوئی بھائی آپ
سے ایک بات پوچھوں مجھے تو سچ بتائے گا نہ کیونکہ میں نے سنا ھے بھائی اپنی بہنوں سے
جھوٹ نہیں بولتے امید کرتی ہوں آپ بھی نہیں بولے گے جو جو ایان نے اس کو رٹوایا تھا سب
بولنے لگی داؤد نے داد طلب آئی برو اٹھائی اور سنگ میں برتن رکھ کر ہانم کی طرف متوجہ ہوا
جی بھابھی آپ جو بھی پوچھے گی میں سب سچ بتاؤ گا ہانم نے سن کر مسکرا کر ایان کی
طرف دیکھا تو داؤد یہی سمجھ گیا یہ ساری پٹی اس میسنے کی پڑھائی ہوئی ھے لیکن پھر
بھی خاموش رہا آپ کسی لڑکی کو پسند کرتے ھے مس روحہ نام ھے ان کا داؤد نے مسکراتے ہوئے
گردن اثبات میں ہلائی بس یہ کرنے کی دیر تھی ایان تو اچھلتے کودتے نیچے اترا دیکھا دیکھا میں
نہیں بولتا تھا کہ دال میں کچھ کالا ھے میری بات پر کوئی یقین ہی نہیں کرتا تھا ایان بھائی
ایک سیکنڈ ہانم نے اس کے بیچ میں انٹرپ کرنے پر جھنجلا کر اس کو خاموش ہونے کوکہاں بتائے
نہ بھائی کیا سچ میں آپ کسی کو پسند کرتے ھے اگر میں بتاتا ہوں آپ کو تو آپ کیا کرے گی یہ
بتائے پہلے داود نے سینے پر ہاتھ باندھ کر اس سے سوال کیا تو میں ایان بھائی غازی جی ہم تینوں
اور میمو جان زویا ہم سب آپ کا رشتہ لیکر جائے گے پھر آپ کی شادی ہوگی تو میں پھر سے پالر
سے تیار ہوگی چوڑیاں اور مہندی لگاؤ گی اور ہم تو برات بھی لیکر جائے گے اور ڈانس بھی کرے
گے اور ڈھولک بھی رکھے گے اس نے تو پوری لسٹ ہی بتادی سن کر دونوں نے بے ساختہ قہقہ
لگایا بھابھی آپ بہت کیوٹ ھے ایان نے ہنستے ہوئے کہاں آپ بتائے نہ ایسا ھے کہ نہیں ایان نے
ٹوپک دوسری طرف جاتے دیکھا تو واپس ان دونوں کو اسی طرف لیکر آیا وہ اچھی لگتی ھے
مجھے داؤد نے جان چھڑوانے والے انداز میں بول کر اپنا رخ واپس چکن کڑاہی کی طرف کرلیا
مطلب اچھی کیا محبت کا بھی سین ھے نہ کوئی ایان نے کندھے سے کندھا مارتے ہوئے کہاں ایان
یہاں تو اب مار کھائے گا ایان واپس ہانم کی طرف گھوم کر ایا دیکھے نہ ان کو بتا بھی نہیں
رہے یہ اچھی لگتی ھے بس یہ بول کر بات ہی ختم کردی ھے آپ تو بڑا بول رہی تھی کہ آپ
پوچھے گی تو یہ بتادے گے میں نے ایسا کب کہاں ہانم نے معصومیت سے کہاں تو آیان نے اپنا ماتھا
پیٹا داؤد نے جاندار قہقہہ لگایا تیرا کچھ نہیں ہوسکتا ایان ویسے میں بھابھی کو تو بتاؤ گا
لیکن تجھے تو نہیں بتاؤ گا کیونکہ تو ایک پھٹا ہوا ڈھول ھے جو سارے جہان میں پیٹے گا ایان
نے آنکھیں گھمائی داؤد بھائی تھوڑی دیر تو ہوگئی ھے کھانا تو نہیں بنا ہانم کو بھوک نے ستایا تو مری ہوئی آواز میں کڑاھی بننے میں ٹائم
لگتا ھے سنجیدہ سی آواز پر تینوں نے مڑ کر دیکھا پیچھے غازیان جیب میں ہاتھ ڈالے اپنی
روب دار پرسنیلٹی کے ساتھ کھڑا تھا اس کی شخصیت ہی بہت مختلف تھی کوئی بھی ہوں
اس سے بات کرتے ہوئے گھبراہ جاتا تھا وہ دونوں بھی ایک دم گھومے اسلام علیکم بھائی داؤد اور
ایان نے تقریباً ساتھ ہی سلام کیا جس کا جواب اس نے ہلکی سی آواز میں دیا کیا ہورہا ھے یہاں
نظر پورے کچن میں گھماتے ہوئے اور نظر جب ہانم پر پڑی تو ماتھے پر بے تحاشا بل پڑے تم
یہاں کیا کررہی ہوں پسینہ کتنا آرہا ھے تمھیں پاگل ہو جو گرمی میں کھڑی ہوئی ھوں اس نے
ہانم کی طرف دیکھا تو چولحے کی گرمی کی وجہ سے وہ پسینہ پسینہ ہورہی تھی لیکن کڑاھی
بنانے کی ایکسیٹمینٹ میں سب بھولے بس وہی کھڑی ہوئی تھی ہم تو کڑاھی بنارہے ھے اس وجہ
سے پسینہ آگیا ہوگا اس نے آنکھیں پٹپٹا کر کہاں غازیان نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کو
دیا صاف کرو اس کو لیکن یہ تو آپ کا ھے میں یوز کرو گی تو گندھا ہوجائے گا پھر آپ کیا کرے
گے ایک بار پھر وہ اپنی معصوم آواز میں بولی تم استعمال کرلو میرے پاس اور ھے میں وہ
استعمال کرلو گا اس نے رسانیت سے کہاں اوکے آپکی مرضی بول کر چہرے پر سے پسنیہ صاف
کرنے لگی ویسے یہ بتاؤ تم دونوں کل چلو گے
اس نے ہانم کو جواب دیکر داؤد اور ایان سے پوچھا کہاں پر بھائی داؤد نے چمچہ کڑاھی میں
چلاتے ہوئے پوچھا کل زرنش کا نکاح ھے وہاں کس کے ساتھ ہماری خوبصورت چڑیل کا نکاح
ہورہا ھے ایان نے مزہ لیتے ہوئے کہاں ایان غازیان نے اس کو تنبیہہ پکارا سوری بھائی میں تو بس
خاموش کسی لڑکی کے لئے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتے یہ بتاؤ چلو گے تم دونوں نہیں بھائی
میری کل نائیٹ ڈیوٹی ھے میں نہیں جا پاؤ گا وہ واپس غازیان کی طرف مڑتا ہوا بولا لیکن آپ
میری طرف سے انکل عالم کو مبارک باد دے دینا ہممم اور تم بھائی میں بھی نہیں جاؤ گا زوئی کے
ساتھ مل کر ایک پروجیکٹ پر کام کرنے ھے اس نے بھی صاف انکار کیا تو میں چلو ہانم نے جھٹ
سے کہاں پھر میں جو زویا نے مجھے سی گرین کلر کی فراق دی ھے وہ پہنو گی اس کے ساتھ
چوڑیاں بھی اور زویا سے ہی میک اپ بھی کروالو گی بریک پر پاؤں مارو لڑکی تم نہیں جاؤ
گی کہی بھی صبحِ تمھارا کالج ھے اور پھر تم سے اٹھا نہیں جاتا ھے اس لئے یہ بات دماغ سے
بلکل نکال دو کہ آپ جائے گی کیونکہ کالج کی چھٹی اب ہر گرز کسی صورت برداشت نہیں
کرونگا ایان اور داؤد نیچے منہ کرکے ہنسنے میں مصروف تھے ہانم نے ان دونوں کی طرف دیکھا
اور آنکھیں چھوٹی کر کے گھورا پھر غازیان کی طرف کمر پر ہاتھ رکھ کر بلکل لڑاکا خاتون کی
طرح بولی میں اٹھ جاتی ہوں یہ غلط الزام ھے غازیان نے داد طلب آئی برو اچکائی آپ کو پتہ
ھے مس ہانم ھے جب سے آپ یہاں آئی ھے روز میں آپ کو اٹھاتا ہوں کب آپ خود سے اٹھی ھے
اس کی بات سن کر وہ جو شیرنی بنی ہوئی تھی پوری گڑبڑائی ایسی تو بات نہیں ھے میں تو
بس اس لئے آپ کے ساتھ جانا چاہ رہی تھی کہ جب آپ کے ساتھ کوئی نہیں جارہا تھا تو ایسے
اکیلے نہیں جانا چائیے کسی کو اس لئے میں نے کہاں کے مجھے لے چلے ورنہ ایسا میرا کوئی
انٹینشن نہیں ھے کے میں کالج نہیں جاؤ آپ سے کس نے کہاں بیگم کے میں اکیلا جارہا ہوں میرے
ساتھ زین جارہا ھے اس کو بھی خود سر عالم نے انوائیٹ کیا ھے وہ بھی جائے گا اس لئے آپ بلکل
ٹینشن نہ لے کے میں اکیلے جاؤ گا اور ہاں داؤد کھانا لگواو جلدی مجھے سونا بھی ھے اور اس
کو بھی کیونکہ صبح کالج ھے اس کا یہ بات تھوری جتاتے ہوئے بول کر اوپر کی طرف بڑھا وہ
کچن سے نکلا تو ہانم خود سے بڑبڑاہی گرین مونسٹر کہی کے آئے بڑے جلتے ھے میں ان سے
زیادہ پیاری لگتی ہوں نہ تیار ہوکر اس لئے بھابھی آپ ویسے بھی بہت پیاری لگتی ھے داؤد
نے اس کی بڑبڑاہٹ سن کر ہنسی دبائی اور مسکراتے ہوئے سامنے سے اس کی تعریف کی میں
آپ دونوں سے بات نہیں کرو گی آپ دونوں بولتے ھے آپ میرے بھائی ھے لیکن جب بھی وہ مجھے
ڈانٹتے یہ کچھ بھی بولتے ھے آپ دونوں کچھ نہیں بولتے میں جارہی ہوں آرے بات تو سنے
کھانا تو کھالے ایان نے جلدی سے بولا مبادا وہ اوپر ہی نہ چلی جائے ہاں تو کھانا تو میں کھاؤ
گی اتنی محنت سے بنایا ھے میں ڈائیٹنگ ٹیبل پر انتظار کرو گی دونوں نے پیچھے سے قہقہ لگایا
وہ بھی خود اپنی بات پر کھلکلاتی ہوئی ٹیبل پر بیٹھی ان کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہسپتال سے نکل کر تھوڑی دور جاکر اس نے اپنی بائیک بند کرکے ادھر ہی کھڑی ہوگئی تھی تھوڑی
دیر بعد اس کو ایک گاڑی آتی دیکھائی دی تو وہ تھوڑا اٹینشن ہوگئی گاڑی بلکل اس کے پاس آکر
روکی تھی شیشہ اترا تو اندر ایمان تھی تم ہمیں فالو کرو اوکے اس نے انگوٹھے سے اشارہ کیا اور
اس کے پیچھے اپنی بائیک لگالی کم ازکم بیس منٹ بعد گاڑی روکی تو اس نے بھی اپنی بائیک
کو روکا جہاں وہ لوگ روکے تھے وہ کوئی پوش علاقہ تھا اور ایک گیراج کے سامنے گاڑی روکی
تھی وہ اپنی بائیک سے اتری اور ہیلمیٹ اتار کر ایمان کی طرف بڑھی جو کسی لڑکے کے ساتھ
تھی شاید اس کو لگا ڈرائیور ہوگا آجاؤ اس نے وہی سے اس کو اشارہ کرکے بولائے وہ چلتی ہوئی
اس کے ہمقدم ہوئی دیکھوں روحہ بوس بہت غصہ والے ھے میں نے جب تمھارا زخر کیا تھا تو
انہوں نے منع کردیا تھا لیکن میری جان پہچان زیادہ ھے اس لئے وہ مان گئے لیکن تم کچھ گڑبڑ
مت کرنا اس نے سرگوشی نما انداز میں کہاں روحہ نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا ویسے
یہ دیکھتا کیسا ھے یہ لوگ گیراج کے اندر داخل ہوئے آج تک میں نے بھی نہیں دیکھا وہ کیسے ھے
بس ہم سب ایک سکرین کے سامنے کھڑے ہوجاتے ھے وہ خود ایک ماسک میں ہوتے ھے لیکن ان کے
بندے ہمارے آس پاس ہی موجود ہوتے ھے زرہ سی غلطی اور وہی سر ڈھڑ سے الگ روحہ نے
سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا تم ڈرنا مت تم سے ابھی وہ بات کرے گے اگر تم ان کو ٹھیک
لگی کام میں پروفیشنل لگی تو وہ تمھیں کام دے دے گے دیکھتے ھے کیا چیز ھے تیرا بوس ویسے
یہ ساتھ میں لڑکا کون ھے پہلے دیکھا نہیں یہ انہیں کا بندہ ھے باہر سے دیکھنے والوں کے لئے وہ
ایک گیراج تھا لیکن اندر کا نقشہ بہت الگ تھا سامنے ایک سکرین دیوار میں نصب تھی جگہ
جگہ بڑے بڑے ٹین کے ڈبے رکھے ہوئے تھے جس میں آگ جل رہی تھی وہ دونوں سکرین کے
سامنے کھڑے ہوگئے روحہ بلو شرٹ اور نیچے وائٹ پینٹ میں تھی اور بال پونی میں قید تھے
آنکھیں تھکن کی وجہ سے لال ہورہی تھی وہ بہت باریک بینی سے ارد گیرد کا جائزہ لے رہی
تھی دس منٹ بعد سکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوا لیکن اس چہرے پر جوکر کا ماسک تھا اور
خود وہ کسی چئیر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا روحہ جو ارد گیرد دیکھنے میں مصروف
تھی ایمان کے کہنی مارنے میں ہوش میں آتے سامنے دیکھا اسلام علیکم بوس ایمان نے سلام
کیا ہمم کون ھے یہ اس نے بینا سلام کا جواب دیئے سیدھا مدعے پر آیا سر میں نے آپ کو بتایا
تھا نہ کہ ایک لڑکی یہ کام کرنا چاہتی ھے روحہ
ہممم تو یہ ھے وہ نام کیا ھے تیرا اپنے ہاتھ میں ایک گول سی چیز تھی جس کو وہ گھما رہا تھا
روحہ کی تیوری چڑھی او تمیز سے بات کر آپ بول کر سامنے بھی روحہ تھی عزت کیسے کرواتے
ھے خود کی اس کو اچھے سے اتا تھا روحہ ایمان نے اس کے ہاتھ کو ہلایا روحہ نے ایک نظر
اس کی طرف دیکھا اور سکرین کے مزید قریب ہوئی چہرہ ہر احساس سے عاری تھا بلکل سپاٹ
چہرے کے ساتھ اس ماسک کے اندر سے جھانکتی آنکھوں میں دیکھا نام پوچھ دوبارہ لیکن تمیز
سے اندر بیٹھے شخص اس کے روب سے متاثر ہوا اور داد طلب آئی برو اٹھائی نام کیا ھے تمھارا
روحہ صدیقی اس فیلڈ میں کام کیا ھے پہلے بہت ایک لفظی جواب یہاں کام کرنے کی آفر ایمان نے
دی ھے اس نے ایمان کی طرف دیکھا نہیں اپن خود کرنا چاہتی ھے یہ کام کوئی مقصد اس
شخص نے ایک بار پھر سوال کیا نہیں صرف پیسہ کی وجہ سے ہمم پہلے کسی کے ساتھ کام
کیا ھے ہاں کیا ھے اور ابھی بھی کررہی ھے کس کے ساتھ اس انسان نے تھوڑا حیرت سے پوچھا
میرے کام کا اصول ھے اپنے گینگ کا نام نہیں بولتی ھے اگر کام دینے کا ھے تو بتا باقی تیری
مرضی ھے وہ انسان محفوظ ہوا اتنی اکڑ کس بات کی ھے تم میں ابھی میرے ایک اشارہ پر
تیرے سر دھڑ سے الگ ہوگا اپن کا فرق نہیں پڑتا ھے اگر تیرے کسی ایک بندہ نے بھی اپن کو ہاتھ
لگایا تو اس کا ہاتھ اگر میں نے جسم سے الگ نہیں کیا تو میرا نام روحہ فاروق صدیقی نہیں
اس نے اپنی پشت پر ہاتھ باندھ کر ایک عزم سے کہاں آیک دم سکرین بلینک ہوگئی ایمان جلدی
سے اس کے قریب ہوئی روحہ کیا کررہی ہوں یار یہ تم اپنے ساتھ کیا مجھے بھی مروانے کا دل چاہ
رہا ھے تمھارا کسی کو علم بھی نہیں ہوگا ہمیں
مار کر یہی کہی پھینک وا دے گے اور تم ہوکے وہ ابھی اپنا جملہ مکمل کرتی پیچھے سے وار کرنے
والے انسان کا ہاتھ پکڑ کر گھما کر سامنے کیا اور زور دار لات پیٹ میں ماری ہاتھ ابھی اس کے
ہاتھ میں قید تھا گھما کر لات اس کے پیر میں ماری جس سے وہ گھٹنے کے بل بیٹھا ہاتھ کو
مزید موڑ کر ایک لات ہاتھ میں ماری جس ٹک کر کے آواز آئی جس طریقے کی آواز آئی تھی یقیناً
ہڈی ٹوٹ گئی تھی ایمان نے ڈر کر کان پر ہاتھ رکھا ابھی بولا تھا تیرے کو مجھے کسی نے ہاتھ
لگانے کی کوشش کریں ہاتھ دھر سے الگ کردے گی اپن ایک اور بندہ کہی سے چاکو لے کر اس پر
وار کرتا اس پہلے وہ نیچے جھکی اور گردن میں ہاتھ ڈال کر گردن کو صرف ایک جھٹکا مارا گردن
ایک طرف ڈھلکی اور وہ زمین دوز ہوا روحہ نے مسکرا کر اس نیچے گیرے انسان کو دیکھا ایمان
نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی ایک دم سکرین پر واپس وہ بندہ نمودار ہوا
امیزنگ تم بولتی نہیں ہوں لڑکی کرتی بھی ہوں ایمپریسو روحہ نے انکھیں اٹھا کر سکرین کی
طرف دیکھا اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوئی تم پاس ہوئی ہوں اپنے امتحان میں لیکن تمھاری زرہ
سی بھی ہوشیاری تمھیں موت تک لے جائے گی تمھارا پورا بیک گراؤنڈ جانتا ہوں میں سب کچھ
نکال لیا ھے میں نے ایک بات یاد رکھنا تمھاری زرہ سی ہوشیاری تمھارے خاندان کو برباد کردے گی
ابے او کام اپن کرے گی میرے خاندان کو کائے کو بیچ میں لارہا ھے اپن تیرے کو سو فیصد کام
کرکے دے گی اس کے بدلہ میں اپن کو تو پیسہ دینا تیرا اور میرا رابط ختم ہممم تم جاسکتی ہوں
کام تمھیں تمھارے فون پر بتادیا جایا گا کہ تمھیں کیا کرنا ھے اپنا نام بتا کیا نام ھے تیرا روحہ نے جاتے جاتے اس شخص سے اس کو نام
پوچھا مجھے جوکر کہتے ھے دی اسمارٹ جوکر ایک مکرو قہقہ لگایا اور سکرین واپس بلینک
ہوگئی چل ایمان اس کو بول کر وہ واپس اپنی بائیک پر بیٹھی اور گھر کی راہ لی ۔۔۔۔۔۔
جاری ھے ❤️
