No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
مغرور محبت 3
رائیٹر ۔۔۔۔انابیہ شاہ
Episode no 3
غازیان درانی بیس مینٹ کی ہی طرف آرہا تھا اس لڑکی کو دیکھا بھی نہیں تھا جس سے نکاح
ہونے والا تھا تو سوچا اس لڑکی سے ایک ملاقات ہوجائے لیکن اس کے اندر سے آنے والی بات پر اس
کی تیوری چڑھی اور لمبے لمبے ڈھنگ بھرتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور ایک زناٹے دار تھپڑ رسید
کیا جس کی وجہ سے وہ کرسی سمیت زمین بوس ہوئی اس کے گیرنے کی وجہ سے سر میں
بہت تیز لگی تھی اور تھپر کی وجہ سے پورا جبڑا ہل کر رہ گیا تھا وہ اس کے قریب دو زانو
بیٹھا ہانیہ بھی جلدی سے کرسی سے اتری اور اپنے کپڑے درست کیا مگر ہاتھ ہنوز گال پر تھا
اب غازیان درانی نے اس کا جبڑا اپنی آہنی گرفت میں لیا
کیا بکواس کی تھی تم نے ابھی وہ اتنی شدت
سے ڈھاڑا اس کو اپنے کان کے پردہ پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے
بولو کیا بکواس کی ھے تم نے ابھی تمھارا باپ
بہت غصہ والا ھے مجھے چھوڑے گا نہیں وہ ایک بار پھر اپنی پوری قوت سے چیکا
وہ تو اس کی دہشت سے ہی کانپ کر رہ گئی تھی
پ۔۔۔۔۔۔پلی۔۔۔۔پلیز م۔۔مجھ۔۔مجھے می۔۔۔میرے گھ۔۔۔گھر ج۔۔۔جا۔۔۔جانے دے م۔۔۔می۔۔۔میرے بابا مجھ۔۔۔مجھے ج۔۔۔جا۔۔۔جان سے ماردے گے اگ۔۔۔
اگر می۔۔۔میں ٹائم س۔۔سے گھ۔۔۔گھر نہ۔۔نہیں پہ۔۔پہنچی تو اس نے اپنی بات قدرے اٹک اٹک کر
کہی اس کا کان ابھی بھی اس کے تھپڑ کی وجہ سے سائیں سائیں کررہا تھا
غازیان درانی کو ایک دم اس معصوم لڑکی پر
رحم آیا اور وہ پیچھے ہوکر کھڑا ہوگیا ہانیہ اب گھٹنوں میں سر دیکر رورہی تھی عزت کے دائرے
میں اماں بی کے ساتھ خود کو ریڈی کر کے باہر آؤ ابھی اور اسی وقت تمھارا نکاح مجھ سے ہوگا اس نے اپنی سرد آواز میں کہاں ہانیہ نے بے
ساختہ اپنا سر اٹھایا
وہ واپس اس کے قریب ہوا اور اس کا جبڑا اپنی آہنی گرفت میں لیا وہ بیچاری اتنی تیز پکڑ پر
کرہ کر رہ گئی مولوی جب نکاح کا پوچھے گا تمھارا سر ہاں میں ہلانا چائیے ورنہ میں غازیان
درانی تمھیں مار کر کہی بھی پھینک دو گا اور تمھارا باپ کتے کی طرح تمھیں مارا مارا ڈھونڈے
گا اس کے بعد بھی اس کو نہیں ملوگی اس لئے عزت کے دائرے میں اماں بی کے ساتھ باہر آؤ اس
کو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر تیز تیز قدم سے واپس مینشن کے اندر چلا گیا
اب وہ اماں بی کے ساتھ لاونج کے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی سفید کالج یونیفارم اور سر پر
لال دوپٹہ آوڑھے اور سر جھکائے اماں بی کا ہاتھ سختی سے پکڑا ہوا تھا اور ٹھیک سامنے غازیان
درانی اس کو بہت گہری نگاہوں سے تک رہا تھا وہ لڑکی اس کو کافی چھوٹی لگی اور اسی کے
برابر میں داؤد تھا اور کچھ لوگ اور بھی تھے جو گواہوں کےطور پر موجود تھے غازیان نے مولوی
صاحب کو نکاحِ شروع کرنے کا اشارہ کی تو انہوں نے ہانیہ سے پوچھا
ہانیہ خاور مالک آپ کا نکاح غازیان درانی والد
رحمن درانی سے کیا جاتا ھے کیا آپ کو قبول ھے اس نے کوئی جواب نہیں دیا داؤد کو اس وقت
ایان پر بے حد غصہ آرہا تھا نہ وہ خاور مالک سے پنگا لیتا نہ وہ اس کو اریسٹ کرتے نہ یہ معصوم
غازیان درانی کے ہتھے چڑھتی مولوی صاحب نے نکاح کے کلمات دوبارہ دہرایا تو اماں بی کی طرف
غازیان نے سخت نگاہوں سے دیکھا تو انہوں نے اس کا کندھا ہلایا تو اس نے کپکپاتی آواز میں
تین بار قبول ھے بول دیا
اور اپنی ساری زندگی اس شخص کے نام کردی
جس سے ملتے ہی اس کو ایک تھپڑ نصیب ہوا تھا اور اس شخص سے اگر اس کے نزدیک کوئی رشتہ
تھا وہ تھا خوف کا غازیان درانی اٹھ کر ہانیہ کے برابر میں بیٹھا اور اس کا گھونگھٹ اٹھایا چہرے
پورے آنسوں سے تر تھا اب فوٹوگرافر کو پیکچر کلیک کرنے کا کہاں
اس نے بھی چار پانچ پیکچر کلیک کی اور غازیان
درانی نے ہاتھ کے اشارہ سے اسے روک دیا اور وہاں سے سب کو چلتا کیا اور اماں بی کو اس کو
روم میں لیجانے کا اشارہ کیا اور یہ پیکچر اس نے نیوز چینل والو کو بھیج دی تھی جو ساڑھے تین بجے ٹی وی پر چلنی تھی
ایان قدرے جھنجلایا ہوا تھا اس کو اب غازیان درانی سے شدت سے قوف محسوس ہورہا تھا
پوری رات ہونے کو آئی تھی اس کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں تھا اس نے داؤد سے بھی
بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے اس کی آواز سنتے ہی کال کاٹ دی تھی اب وہ بلکل
پاگلوں کی طرح پورے جیل میں گھوم رہا تھا اندر بیٹھا ہوئے شخص بھی خاصے بیزار ہوچکے
تھے اب تو یہ شدت سے غازیان درانی کا ویٹ کرہا تھا اتنے میں ایک کانسٹبل آیا اے آجاؤ
تمھاری بیل ہوگئی ھے وہ بھی اپنی بلیک جیکیٹ
اٹھا کر جیل سے بھاگا باہر آیا تو افتخار صاحب
سامنے ہی کھڑے ہوئے تھے وہ بھاگتے ہوئے ان کے گلے لگا افتخار صاحب اللہ آپ کو بہت خوش
رکھے اللّٰہ اپکو تین چھوٹی چھوٹی بیویاں اور ایک بچہ دے آمین افتخار صاحب حیرت سے اس
کی دعا سن رہے تھے مگر اس کو بھی اپنی دعا تھوڑی خراب لگی آرے آرے غلط بول دیا جزبات
میں آکر اللہ اپکو ایک بیوی اور تین بچے دے آمین انہوں نے بھی اس کی آب صیحح دعا پر اپنا سر
ہلایا مگر اگلے ہی پل دوبارہ افتخار صاحب نے ٹوکا آرے میں شادی شدہ ہوں دو بچوں کا باپ
ہوں افتخار صاحب بولے تو اس نے اپنی آنکھیں گھومائی آرے بہی میری ساری دعائیں واپس دے
اور گھر چلے گرین مونسٹر سے بھی جوتے کھانے ھے وہ بول کر باہر کی طرف نکلا وہ بھی پولیس
افسر سے ہاتھ ملا کر نکلا خاور مالک ابھی تک پولیس اسٹیشن نہیں آیا تھا
انو بیٹے چیک کرو آپی آئی تمھاری یہ ٹائم ہوگیا ھے امی دس بار دیکھ چکی ہوں آپی ابھی تک
نہیں آئی ھے انوشے نے بھی تھوڑا گھبراکر کہاں کیونکہ ہانیہ آیک یہ دو بجے تک آجاتی تھی لیکن
اب چار بجے کا ٹائم ہوگیا تھا اتنے میں خاور ملک کی گاڑی کا ہارن ہوا تو ان دونوں نے گھبرا کر ایک
دوسرے کی طرف دیکھا انو تمھارے بابا ہانیہ کا پوچھے تو بول دینا وہ کمرے میں ھے اور نماز
پڑھ رہی ھے انہوں نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہاں اور انوشے بھی سمجھ کر باہر
چلی گئی جہاں ایک بار پھر ہارن بجا تھا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول دیا کہاں تھی سو گئی تھی
اور تم نے دروازہ کیوں کھولا ہانم کہاں ھے انہوں نے گھستے ہی ہانیہ کا پوچھا تو انوشے
کےباقاعدہ ہاتھ کانپ گئے تھے و۔۔۔۔وہ بابا ہانم آپی نماز پڑھ رہی ھے انہوں نے تھوڑی جانچتی نگاہوں
سے انوشے کو دیکھا اور اندر کی طرف بڑھ گیا وہ بھی گہری سانس خارج کر کے اندر کی طرف
بڑھ گئی خاور ملک کھانا لگانے کا بول کر سیدھا اپنے کمرے کی طرف چلے گئے انو کچن میں آئی
تو وہ اسی کا انتظار کررہی تھی کیا ہوا انو کچھ کہاں کیا ہانم کا تو نہیں پوچھا نہ انہوں نے
روبینہ بیگم نے پریشانی سے استفسار کیا
جی ماما پوچھا تھا انہوں نے لیکن میں نے ان کو
بول دیا آپی نماز پڑھ رہی ھے
شکر بس اب یہ لڑکی گھر اجائے مجھے لگ رہا ھے
کہ وہ فائزہ کی طرف گئی ھے آنے دو بتاتی ہوں پتہ ھے جب بابا نے منع کردیا تھا لیکن نہیں
کچھ کہوں تو فوراً رونا شروع کردیتی ھےمگر آجائیں بتاتی ہوں اس کو چلو اب یہ کھانا
لگواو جلدی جلدی انوشے بھی اپنی۔اپی کے لئے دعا کرتے ہوئے جلدی سے کھانا لگا کر اپنے کمرے
میں چلی گئی اتنے میں خاور صاحب بھی کھانے کی میز پر اچکے تھے روبینہ بیگم بار بار دروازے
کی طرف کررہی تھی اور ہانیہ کے جلدی آنے کی دعا مانگ رہی تھی باہر کیا دیکھ رہی ھوں انہوں
نے نیپکین سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے پوچھا تو وہ پوری گڑبڑا گئی نہیں نہیں ایسے ہی دیکھ رہی
تھی آج موسم اچھا ہورہا ھے انہوں نے تھوڑی گردن ٹیڑی کرکے برآمدہ کی طرف دیکھا تو اچھی
خاصی دھوپ ہورہی تھی دماغ زیادہ چل گیا ھے کیا اتنی تیز دھوپ میں تمھیں موسم اچھا لگ رہا
ھے لگتا ھے علاج کی ضرورت ھے اور یہ آج انو نے کیوں دروازہ کھولا ہانم کہاں ھے انہوں نے ماتھے
پر بل ڈال کر پوچھا و۔۔۔۔وہ نم۔۔۔نماز پڑ۔۔۔۔پڑھ رہی ھے اور بول کر ماتھے پر سے پسینہ صاف کیا
اس وقت کون سی نماز پڑھ رہی ھے انہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا ساڑھے چار کا ٹائم ہورہا
تھا وہ شاید نفل پڑھ رہی ہوگی پتہ تو ھے نہ آپ کو کتنی معصوم ھے ٹیسٹ وغیرہ میں پھس گئی
ہوگی اسی کے لیئے دعا کررہی ہوگی پتہ تو ھے نہ آپ کو پڑھی کی کتنی چور ھے ہمممم میں ٹی وی
دیکھ رہا ھوں چائے بنا کر لاؤ پھر پولیس اسٹیشن کے لیے نکلو گا جی جی میں لیکر آئی
بول کر جلدی سے کچن میں گم ہوگئی انہوں نے تھوڑا حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور اپنا وہم
سمجھ کر ٹی وی پر چینل سرچینگ کرنے لگے پھر ایک چینل پر غازیان درانی کی پکچر چل
رہی تھی تو وہی لگالی ایک اینکر بول رہا تھا غازیان درانی نے ایک کالج کی لڑکی سے شادی
کرلی زرایعہ سے معلوم ہوا ھے کہ۔لڑکی کوئی اور نہیں ایس پی خاور مالک کی بیٹی ہانیہ خاور
مالک سے ہوئی ھے وہ جو ریلکس سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوا تھے ہانیہ کی تصویر دیکھ کر سیدھا
ہوکر بیٹھا ٹی وی کی آواز سن کر انوشے اور روبینہ بیگم بھی لاونج میں آگئی ایس پی خاور
مالک نے اس وجہ سے غازیان درانی کے چھوٹے بھائی کو ڈرگز سپلائے کے جھوٹے کیس میں پھسا
دیا ھے ہم آپ کو بتاتے چلے ایس پی خاور مالک کی بیٹی ہانیہ خاور مالک نے غازیان درانی کے
ساتھ بھاگ کر شادی کرلی ھے بس یہ سننا تھا انہوں نے پاس رکھا ہوا واز آٹھا کر ٹی وی پر مارا
اور وہی ٹی وی چکنا چور ہوگیا تھا
جاری ہے ❤️
